فیض فیسٹیول اور دستور زباں بندی
فیض گھر کے زیر اہتمام اس سال بھی فیض انٹر نیشنل فیسٹیول بھر پور جوش و خروش سے منایا گیا۔ اس فیسٹیول میں شرکت کے لئے پاکستان کے مسافت بعیدہ حتی کہ بیرون ملک سے بھی نامور شخصیات نے شرکت کی۔ جاوید اختر اور شبانہ اعظمی جیسے فنکاروں نے فیسٹیول کو چار چاند لگا دیے اور پاکستان سے ڈھیروں پیار سمیٹ کر اپنے وطن واپس لوٹ گئے۔
یہ فیسٹیول پچھلے فیسٹیولز کی نسبت اس دفعہ مختلف نوعیت کا رہا۔ نئے موضوعات، نئے مقررین، اور نئے انداز فکر کے ساتھ ساتھ اپنے ساتھ کچھ ایسی تبدیلیاں لایا جنہوں نے فیض صاحب کی فکر کو بھی تبدیل کر کے رکھ دیا۔ یہ واحد فیسٹیول تھا جہاں ترقی پسند نظریات کی بات کی جا سکتی تھی۔ بہت سارے بائیں بازو کے کامریڈ مل بیٹھ کر اپنا تزکیہ نفس کر لیتے تھے۔ مگر صد افسوس یہ فیسٹیول بھی ضرورت سے زیادہ کمرشلائز ہونے کے ساتھ ساتھ سامراجی قوتوں کے دباوؑ میں آکر فیض صاحب کے اصل نظریے کو ہی بھول گیا۔ جہاں ان طاقتوں کے آگے گھٹنے ٹیکے گئے جو ہمیشہ فیض صاحب کا ہدف تنقید رہے۔
فیض صاحب کی شاعری، افکار اور عملی جدوجہد آزادی اظہار کا عملی نمونہ پیش کرتی ہے۔ مگر انہی کے نام سے منسوب اس فیسٹیول میں ان کے نظریے کی دھجیاں بکھیری گیئں جب بائیں بازو کے پڑھے لکھے دانشور ڈاکٹر عمار علی جان اور ڈاکٹر تیمور رحمن، پشتونوں کی آواز علی وزیر اور انسانی حقوق کے علمبردار راشد رحمن کو ( پینل میں نام ہونے کے باوجود) بغیر کوئی ٹھوس دلیل، آخری وقت میں پینل سے نکال دیا گیا۔ یہ عالم دیکھ کر یقینا فیض صاحب کی روح تڑپ اٹھی ہوگی اور اسی اثنا میں اس سارے فیسٹیول کا مقصد رایئگاں ہو گیا ہوگا۔
پاکستان کا بایاں بازو با امر مجبوری رجعت پسندی سے نکل کرسرمایہ دارانہ نظام کی چند ایک چیزوں پر اکتفاٗ کر چکا ہے۔ فیض صاحب کی اس کمرشلائزیشن کو بھی کافی حد تک قبول کر لیا گیا ہے مگر فیض صاحب کے نظریے اور افکار پر کسی صورت بھی سمجھوتہ ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس فیسٹیول میں بولنے والے دیگر مقررین مثلا محمد حنیف، عائشہ احمد، جبران ناصر و دیگر نے با شگاف الفاظ میں اس کی مذمت کی اور اس اقدام پر فیض فیسٹیول انتظامیہ کو آڑے ہاتھوں لیا۔
بقول فیض گھر انتظامیہ انہوں نے یہ فیصلہ با امر مجبوری لیا اور ان شخصیات کے پینل میں موجودگی کی صورت میں فیسٹیول ختم کرنے کی دھمکیاں دی گئیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ آخر فیض صاحب اپنے دور جدوجہد میں ایسی دھمکیوں کو کیونکر خاطر میں نا لائے؟ اور سنگین نتائج کی دھمکیوں کے باوجود وقت کے سامراجوں کے خلاف لکھتے رہے حتی کہ ان کو قیدو بند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں
فیض صاحب کے افکار جنہیں نمایاں کر کے جگہ جگہ لکھا گیا آخر ان پر سمجھوتہ کیوں کر کیا گیا؟ عمار جان، تیمور رحمن، علی وزیر اور راشد رحمن فیض کے نظریات کے ابھرتے ہوئے جانشین ہیں۔ ماضی میں بھی بے حد صعوبتیں برداشت کرنے کے باوجود وہ فیض کے نظریات کے ساتھ کھڑے رہے اور گلی کوچوں، یونیورسٹیوں، کالجوں، مزدور کسانوں اور عورتوں تک ان کا پیغام پہنچاتے رہے۔ عمار جان کے خلاف ملک دشمن پروپیگنڈا رچایا گیا، کیمبرج یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی ہولڈر اس نوجوان کو گورنمنٹ کالج یونیورسٹی سے طلباٗ میں سیاسی شعور پیدا کرنے اور پنجاب یونیورسٹی سے طلباٗ میں سوال کرنے کی جرات پیدا کرنے کی مد میں نکلا گیا۔ اگر ایسا فرد اتنا کچھ ہوجانے کے باوجود ڈٹا رہا توفیض صاحب کے پسران نے کیونکر ان کا ساتھ نا دیا اور معمولی سی دھمکی پر ذرا سی بھی مذاحمت نا کی۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ فیض صاحب کی ذات کے بعد ان کے افکار کی کمرشلائزیشن نا کی جائے۔ وگرنہ یہی سامراجی قوتیں اپنے لئے نئے فیض و جالب عمار، تمیور، علی وزیر اور راشد رحمن کی صورت پیدا کریں گی۔ یہی وجہ ہے کہ مجھ جیسے نالائق لکھاری بھی ان شخصیات کی مدح سرائی کرنے پر مجبور ہوگئے اور وہ سامراجی قوتیں جنہوں نے ان افراد کو بولنے سے روکا ایک دفعہ پھر ان کو شکست ان کا مقدر بنی۔
بقول فیض،
زباں پہ مہر لگی ہے تو کیا کہ رکھ دی ہے۔
ہر ایک حلقئہ زنجیر پہ زباں میں نے۔ !



