موجودہ بحران میں لال لال تحریک کا کردار

’سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے‘ اور ’جب لال لال لہرائے گا تو ہوش ٹھکانے آئے گا‘ کے نعروں سے مقبول ہونے والی طلبہ تحریک نے بائیں بازو کی سیاست کو اک نئی جلا بخشی۔ یقیناً ہماری اس تحریک نے نوجوانوں کے بڑھتے ہوئے سیاسی جمود کو توڑا اور ان میں ایک نئی انقلابی روح پھونک دی۔ جس کا عملی مظاہرہ طلبہ یکجہتی کے دوران دیکھنے کو ملا جب ملک کے 55 شہروں میں ہزاروں کی تعداد میں طلبہ اپنا بنیادی حق مانگنے کے لئے سڑکوں پر نکلے۔

گزشتہ سال نومبر میں ہونے والے طلبہ مارچ پہ لال لال کیا لہرایا کہ حکمرانوں کے ایوان میں لرزہ طاری ہو گیا تو ریاست نے ہمیشہ کی طرح جبر کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو کچلنے کی سر توڑ کوشش شروع کر دی۔

Read more

فیض کا انتساب: محسن ابدالی کی "گمشدگی” کے نام

یہ مضمون چھ دن قبل لکھنا شروع کیا جس میں نظریاتی سیاسی کارکنان کے حالات و واقعات اور ان کو در پیش مسائل موضوع قلم تھے۔ ابھی مضمون نصف مرحلے میں ہی تھا کہ اسی دن علی الصبح تقریباً سوا چار بجے کامریڈ حیدر کا میسج آیا کہ محسن کے بھائی کی کال آئی ہے اور اس نے بتایا کہ سادہ کپڑوں میں ملبوس چند افراد محسن کو گھر سے اٹھا کر نا معلوم مقام پر لے گئے۔ میں کامریڈ

Read more

سوشلزم: ایک زندہ و جاوید نظریہ

لال لال کیا لہرایا کہ سماج کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں مدہوش طبقے کے ہوش ہی اُڑ گئے ہیں۔ اس نے لال کے نظریۂ مساوات کو سوچے، سمجھے اور پڑھے بغیر ہی رد کرنا شروع کر دیا۔ یہ اس 100 سالہ پراپیگنڈا کے اثرات ہیں جنہیں تادیم کرنا بحثیت سماج وادی ہمارا فرض ہے۔ یقیناً معاشرے کے اندر پائی جانے والی عدم مساوات اس نظام کو ہی متبادل بنا کر ختم کی جا سکتی ہے کیونکہ ایسا مفصل اور جامع

Read more

میں پنجاب یونیورسٹی میں کسی ناانصافی کے خلاف آواز کیوں نہ اٹھا سکا؟

تعلیمی اداروں میں حصولِ علم کے لئے آنے والے طلباء کی طرح مجھے بھی اپنی یونیورسٹی سے والہانہ محبت اور دلی لگاؤ ہے میرا پنجاب یونیورسٹی کے ساتھ ایک گہرا تعلق ہے۔ اس کے درو دیوار، گراؤنڈز، ہاسٹل، کلاس رومز، ہاسٹل کے کمرے، مسجد اور میس ہال سے میرا ایک روحانی رشتہ قائم ہے۔ اس جامعہ میں ملازمت کرنے والے اساتذہ، کلرک، خاکروب، مالی، سیکیورٹی گارڈز اور کینٹینوں پر کام کرنے والے محنت کشوں سب کے ساتھ ایک خوبصورت اور

Read more

نظام تعلیم پر انگریزی زبان کی اجارہ داری

میں تیسری جماعت میں تھا کہ میرے والد صاحب ایک یونین کونسل کے ناظم منتخب ہوگئے۔ ان کا خیال تھا کہ سرکاری اداروں کے نظام تعلیم میں خرابی کی اہم وجہ حکومتی نمائندوں کی ان اداروں میں عدم دلچسپی ہے کیونکہ ان کے بچے ان اداروں کی بجائے پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں زیرِ تعلیم ہیں لہذا انہوں نے اعلان کیا کہ آج سے میرے تمام بچے سرکاری سکولوں میں پڑھیں گے۔ اسی مد میں انہوں نے مجھے اور میرے دیگر

Read more

بہشتی دروازہ اور افکارِ بابا فرید

پاکپتن شریف، حضرت بابا فریدالدین مسعود گنجشکر کی درگاہ کی نسبت سے پوری دُنیا میں منفرد اور مقدس مقام رکھتا ہے۔ حضرت بابا فریدؒ برِصغیر پاک و ہند کے بہت بڑے ولی، دانشور اور صوفی شاعر تھے۔ سلسلہِ چشتیہ کے ایک بلند پایہ صوفی کے ساتھ ساتھ انسانیت کے بامِ عروج پر فائز ایک دُنیا دار شخصیت بھی تھے۔ انہیں پنجابی کا پہلا شاعر ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ آپ کے وصال کے بعد خواجہ نظام الدین اولیاؒ نے

Read more

سپہ سالار کی توسیع پر ہونے والے تبصروں پر تبصرہ

آئینِ پاکستان کی روح سے کوئی بھی سرکاری ملازم 60 سال کی عمر کے بعد اپنے عہدے پربرقرار نہیں رہ سکتا اسی مد میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ صاحب کو نومبر میں ریٹائرڈ ہونا تھا۔ مقبول صحافی ارشاد بھٹی صاحب کے مطابق ریٹائرمنٹ کے بعد باجوہ صاحب کو اپنا سارا وقت اپنے اہلِ خانہ، اپنے پوتے پوتیوں کے ساتھ گزارنا تھا، گالف کھیلنا تھا اور بیرونِ ملک سیر و تفریح کے لئے جانا تھا مگر وزیراعظم نے انہیں

Read more

آرٹیکل 35 اے اور کشمیر کی معاشی صورت حال کا جائزہ

بھارتی آئین کے آرٹیکل 35 اے اور 370 کے خاتمے کے بعدریاست جموں و کشمیرکی خصوصی حیثیت ختم کر دی گئی اور کشمیرایک غیر آئینی صدارتی آرڈیننس کے ذریعے بھارتی یونین کا باقاعدہ حصہ بنا دیا گیا۔ یہ بات ہر صاحبِ عقل پرعیاں ہے کہ اس زبردستی کے الحاق کے لئے بھارتی مقتدر جماعت نے اپنے ہی آئین سے غداری کی۔ مودی نے پنڈت نہرو اور گاندھی جی کے نظریات کا انتم سنسکار کر دیا۔ اس غیر آئینی ترمیم میں

Read more

قومِ لوط کا نیا جنم

قومِ لوط نہایت بے حِس، مغرور، حاسد، نافرمان اور بد تہذیب تھی۔ یہ جس مقام پرمقیم تھی وہ جگہ انتہائی دلکش، خوبصورت اور سر سبز و شاداب منظر پیش کرتی تھی۔ اس علاقے کی خوبصورتی کے پیش نظر دیگر اقوام نے یہاں آکر بسنا شروع کر دیا۔ یہ اقوام، قومِ لوط سے روایات، اقدار اور نظریات میں مختلف تھیں جو انہیں ایک آنکھ نا بھاتی تھیں۔ اسے ان سے ہمیشہ اختلاف رہتا مگراسکی اختلافِ رائے برداشت کرنے کی قوت صفر

Read more

سانحہ ساہیوال اور شہری تحفظ مارچ

سانحہ ساہیوال حالات حاضرہ کا ایسا دل دہلا دینے والا واقعہ ہے جس نے ہر صاحب انسانیت کے دل پر کاری ضرب لگائی۔ معصوم بچوں کی اپنے والدین اور بہن کے خون میں دھلے کپڑوں کی تصاویر دیکھ کر ایک بہت بڑا جذبہ انسانیت دیکھنے کو ملا تو احساس ہوا یہ معاشرہ اس قدر بے حس نہیں جیسا میں تصور کرتا ہوں، مگر چند ہی دنوں میں اس واقعے پر چپ سادھ لی گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے جب پشتون تحفظ موومنٹ کے ارمان لونی کو شہید کر دیا گیا تو ان تمام فیس بکی مظاہرین کی طرف سے بھی خاموشی دیکھنے کو ملی جنہوں نے جذبات میں آکر ساہیوال واقعے پر اپنی ڈی پی سیاہ کی۔ گو کہ ایک واقعہ چند دنوں پہلے ہوا مگر چونکہ اس کی لوکیشن پنجاب تھی بہت واویلا مچایا گیا، مگر اس خاموش ریاستی قتل پر تمام مظاہرین کے منہ پر تالے لگ گئے اور ایسا محسوس ہوا کہ شاید ان کے فیس بک اور ٹوئٹر کے تمام ایم بیز بھی ختم ہوگئے۔

Read more

ففتھ جنریشن وار فئیر، ایک افسانہ ۔۔۔

پاکستان حالت جنگ میں ہے، یہ جملہ پیدائش سے لے کر آج تک ہمارے کانوں میں گونج رہا ہے۔ اسی جملے کی پاداش میں ملک دوٹکڑوں میں بٹ گیا اور اسی کے تحت ایک اور تابناک تفریق کی جانب گامزن ہے۔ ففتھ جنریشن وار بھی اسی جنگ کی ایک کہانی ہے۔ جو بلا وجہ ہم پر مسلط کر دی گئی ہے۔ ففتھ جنریشن کو تفصیلاً جاننے کے لئے جنریشن آف وار کی دیگر چار حالتوں کو سمجھنا ناگزیر ہے۔ مختلف

Read more

سیاسی جمود اور طلبا تحریک کی خوشگوار لہر

پاکستان اس وقت سیاسی جمود کا شکار ہے۔ ایک نئی جماعت کے حکومت میں آنے کی بدولت اس پر تنقید الٹا تنقید کا باعث بن رہی ہے۔ 6 ماہ تک مثبت خبریں چلانے کی تنبہیہ کی جارہی ہے اور حالات کا سارا ملبہ پرانی حکومتوں پر ڈالا جارہا ہے۔ سیاسی جماعتیں، جن کا کام حزب اختلاف میں بیٹھ کر تنقید کرنا ہے وہ اپنی ذاتی فکر میں مبتلا ہیں۔ وہ جماعتیں روزانہ کی بنیاد پر سپریم کورٹ، ہائی کورٹ اور نیب کورٹ کے چکر لگاتے اپنے کیسز میں الجھی ہوئی ہیں۔ مہنگائی، بے روزگاری، صحت، تعلیم، و دیگر ایشوز پر اختلاف کرنے والے خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔ صرف ایک نقطہ نظر لوگوں تک پہنچایا جارہا ہے۔ سنسرشپ کی انتہا ہے کہ سوال کرنے والوں کو نا صرف دبایا بلکہ اٹھایا جارہا ہے۔ اس ساری صورت حال کو سیاسی جمود کا نام دیا جاسکتا ہے۔

Read more

فیض فیسٹیول اور دستور زباں بندی

فیض گھر کے زیر اہتمام اس سال بھی فیض انٹر نیشنل فیسٹیول بھر پور جوش و خروش سے منایا گیا۔ اس فیسٹیول میں شرکت کے لئے پاکستان کے مسافت بعیدہ حتی کہ بیرون ملک سے بھی نامور شخصیات نے شرکت کی۔ جاوید اختر اور شبانہ اعظمی جیسے فنکاروں نے فیسٹیول کو چار چاند لگا دیے اور پاکستان سے ڈھیروں پیار سمیٹ کر اپنے وطن واپس لوٹ گئے۔ یہ فیسٹیول پچھلے فیسٹیولز کی نسبت اس دفعہ مختلف نوعیت کا رہا۔ نئے

Read more

منشور کہاں ہے؟

عام انتخاب ایک ماہ کی دوری پر ہیں۔ تمام سیاسی جماعتیں ابھی بھی اسی کشمکش میں مبتلا ہیں کہ کسے ٹکٹ دیا جائے کسے نا دیا جائے۔ لوٹوں کے حصارمیں مبتلا جماعتوں نے  ابھی تک منشور دینا گوارا نہیں کیا۔  جو سیاسی لیڈران کیمپین پر نکل چکے ہیں ووٹرز کی طرف سے انہیں کھری کھری سننا پڑ رہی ہیں ۔ ان کت ساتھ جو ہورہا ہے اس کی ذمہ دار بھی سیاسی جماعتیں ہیں جو اپنے ووٹر کوابھی تک یہ

Read more

"پاکستان میں جاگیردارانہ سیاست کی اجارہ داری”

پاکستان کی سیاسی تاریخ کا بغور جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اس ملک کی حکمرانی چند وڈیروں، جاگیرداروں، سرمایہ داروں اور خاندانوں کی اجارہ داری سے عبارت ہے۔ اس تاریخ کا آغاز 1937 کے انتخابات سے شروع ہوگا جس میں مسلم لیگ کو شکست فاش کا سامنا کرنا پڑا اور تمام وڈیروں اور جاگیر داروں نے انتخابات لڑنے کے لئے کانگریس کا انتخاب کیا۔ 1946 کے انتخابات سے قبل مسلم لیگ اور کانگریس نے جو منشور دیا اس

Read more