سانحہ ساہیوال اور شہری تحفظ مارچ

سانحہ ساہیوال حالات حاضرہ کا ایسا دل دہلا دینے والا واقعہ ہے جس نے ہر صاحب انسانیت کے دل پر کاری ضرب لگائی۔ معصوم بچوں کی اپنے والدین اور بہن کے خون میں دھلے کپڑوں کی تصاویر دیکھ کر ایک بہت بڑا جذبہ انسانیت دیکھنے کو ملا تو احساس ہوا یہ معاشرہ اس قدر بے حس نہیں جیسا میں تصور کرتا ہوں، مگر چند ہی دنوں میں اس واقعے پر چپ سادھ لی گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے جب پشتون تحفظ موومنٹ کے ارمان لونی کو شہید کر دیا گیا تو ان تمام فیس بکی مظاہرین کی طرف سے بھی خاموشی دیکھنے کو ملی جنہوں نے جذبات میں آکر ساہیوال واقعے پر اپنی ڈی پی سیاہ کی۔ گو کہ ایک واقعہ چند دنوں پہلے ہوا مگر چونکہ اس کی لوکیشن پنجاب تھی بہت واویلا مچایا گیا، مگر اس خاموش ریاستی قتل پر تمام مظاہرین کے منہ پر تالے لگ گئے اور ایسا محسوس ہوا کہ شاید ان کے فیس بک اور ٹوئٹر کے تمام ایم بیز بھی ختم ہوگئے۔

Read more

ففتھ جنریشن وار فئیر، ایک افسانہ ۔۔۔

پاکستان حالت جنگ میں ہے، یہ جملہ پیدائش سے لے کر آج تک ہمارے کانوں میں گونج رہا ہے۔ اسی جملے کی پاداش میں ملک دوٹکڑوں میں بٹ گیا اور اسی کے تحت ایک اور تابناک تفریق کی جانب گامزن ہے۔ ففتھ جنریشن وار بھی اسی جنگ کی ایک کہانی ہے۔ جو بلا وجہ ہم…

Read more

سیاسی جمود اور طلبا تحریک کی خوشگوار لہر

پاکستان اس وقت سیاسی جمود کا شکار ہے۔ ایک نئی جماعت کے حکومت میں آنے کی بدولت اس پر تنقید الٹا تنقید کا باعث بن رہی ہے۔ 6 ماہ تک مثبت خبریں چلانے کی تنبہیہ کی جارہی ہے اور حالات کا سارا ملبہ پرانی حکومتوں پر ڈالا جارہا ہے۔ سیاسی جماعتیں، جن کا کام حزب اختلاف میں بیٹھ کر تنقید کرنا ہے وہ اپنی ذاتی فکر میں مبتلا ہیں۔ وہ جماعتیں روزانہ کی بنیاد پر سپریم کورٹ، ہائی کورٹ اور نیب کورٹ کے چکر لگاتے اپنے کیسز میں الجھی ہوئی ہیں۔ مہنگائی، بے روزگاری، صحت، تعلیم، و دیگر ایشوز پر اختلاف کرنے والے خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔ صرف ایک نقطہ نظر لوگوں تک پہنچایا جارہا ہے۔ سنسرشپ کی انتہا ہے کہ سوال کرنے والوں کو نا صرف دبایا بلکہ اٹھایا جارہا ہے۔ اس ساری صورت حال کو سیاسی جمود کا نام دیا جاسکتا ہے۔

Read more

فیض فیسٹیول اور دستور زباں بندی

فیض گھر کے زیر اہتمام اس سال بھی فیض انٹر نیشنل فیسٹیول بھر پور جوش و خروش سے منایا گیا۔ اس فیسٹیول میں شرکت کے لئے پاکستان کے مسافت بعیدہ حتی کہ بیرون ملک سے بھی نامور شخصیات نے شرکت کی۔ جاوید اختر اور شبانہ اعظمی جیسے فنکاروں نے فیسٹیول کو چار چاند لگا دیے…

Read more

منشور کہاں ہے؟

عام انتخاب ایک ماہ کی دوری پر ہیں۔ تمام سیاسی جماعتیں ابھی بھی اسی کشمکش میں مبتلا ہیں کہ کسے ٹکٹ دیا جائے کسے نا دیا جائے۔ لوٹوں کے حصارمیں مبتلا جماعتوں نے  ابھی تک منشور دینا گوارا نہیں کیا۔  جو سیاسی لیڈران کیمپین پر نکل چکے ہیں ووٹرز کی طرف سے انہیں کھری کھری…

Read more

“پاکستان میں جاگیردارانہ سیاست کی اجارہ داری”

پاکستان کی سیاسی تاریخ کا بغور جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اس ملک کی حکمرانی چند وڈیروں، جاگیرداروں، سرمایہ داروں اور خاندانوں کی اجارہ داری سے عبارت ہے۔ اس تاریخ کا آغاز 1937 کے انتخابات سے شروع ہوگا جس میں مسلم لیگ کو شکست فاش کا سامنا کرنا پڑا اور تمام وڈیروں اور…

Read more