موجودہ بحران میں لال لال تحریک کا کردار
’سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے‘ اور ’جب لال لال لہرائے گا تو ہوش ٹھکانے آئے گا‘ کے نعروں سے مقبول ہونے والی طلبہ تحریک نے بائیں بازو کی سیاست کو اک نئی جلا بخشی۔ یقیناً ہماری اس تحریک نے نوجوانوں کے بڑھتے ہوئے سیاسی جمود کو توڑا اور ان میں ایک نئی انقلابی روح پھونک دی۔ جس کا عملی مظاہرہ طلبہ یکجہتی کے دوران دیکھنے کو ملا جب ملک کے 55 شہروں میں ہزاروں کی تعداد میں طلبہ اپنا بنیادی حق مانگنے کے لئے سڑکوں پر نکلے۔
گزشتہ سال نومبر میں ہونے والے طلبہ مارچ پہ لال لال کیا لہرایا کہ حکمرانوں کے ایوان میں لرزہ طاری ہو گیا تو ریاست نے ہمیشہ کی طرح جبر کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو کچلنے کی سر توڑ کوشش شروع کر دی۔
Read more




