لیڈی ریڈنگ ہسپتال، ایک تجربہ ایک مشاہدہ!
جن کی حالت تشویشناک نہ ہو انہیں ٹریاج سینٹر سے گزرنا ہوتا ہے۔ ٹریاج سسٹم کے تحت طبی ماہرین مریض کو ابتدائی معائنے کے کچھ مرحلوں سے گزارتے ہیں۔ تشخیص کے بعد ٹریاج طے کرتا ہے کہ مریض کو کس ڈپارٹمنٹ میں جانا چاہیے۔ بالفاظِ دیگریہ طے کرتا ہے کہ مریض کو ایمرجنسی میں جانے کی ضرورت ہے یا نہیں۔ ہر ڈپارٹمنٹ کی نشاندہی کے لیے ٹریاج کے باہر فرش پرمختلف رنگوں کے ساتھ لکیر یں کھنچی ہوئی ہیں۔ لکیرکا رنگ مریض کو بتادیا جاتا ہے جس کی مدد سے وہ براہ راست متعلقہ ڈپارٹمنٹ میں پہنچ جاتا ہے۔
یو ں ٹریاج سسٹم ہسپتال کے مجموعی وقت کو کار آمد بناتے ہوئے ایمرجنسی کے دباؤ کو کم کررہا ہے۔ تیماردار اپنے مریض کے لیے فوری علاج کے طلبگار ہوتے ہیں اس لیے ابتدائی معائنہ جات کا بوجھ بھی ایمرجنسی کے عملے پرپڑجاتا ہے۔ نتیجتاً ایک طرف ایمرجنسی اہلکاروں کا قیمتی وقت غیرمتعلقہ امور میں ضائع ہوجاتا ہے دوسری طرف فوری توجہ کے مستحق مریض نہ صرف یہ کہ نظرانداز ہوجاتے ہیں بلکہ ان کی زندگیوں کو لاحق خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ ایمرجنسی میں آنے والے شخص کو اگر ڈاکٹر کسی اور ڈپارٹمنٹ کی طرف رہنمائی کردے تو تیماردار اسے جان خلاصی کی کوشش سمجھتے ہیں۔ نوبت بحث و تکرار اور گالم گفتار سے ہوتے ہوئے تشدد تک پہنچ جاتی ہے۔ ٹریاج سسٹم نے ایمرجنسی کے دباؤ اوروقت کے ضیاع کے ساتھ ساتھ تشدد کے واقعات میں بھی کمی پیدا کر دی ہے۔
تشدد کا روایتی عنصر مستقل المیہ ہے۔ المیہ اس لیے کہ سرکاری ہسپتالوں میں تشدد کیا ہی نہیں جاتا بلکہ اس کو جائز روایت کے طور پر بھی لیا جاتا ہے۔ ہسپتالوں کے اندر مسلح حفاظتی دستوں کا کھڑا ہونا کچھ اچھا منظر نہیں ہے۔ اس سے ہمارے اخلاقی المیے کی ایک کربناک تصویر بنتی ہے۔ لیڈی ریڈنگ ہسپتال پر تو وہ وقت بھی گزرے کہ جب طبی عملے کی حفاظت کے لیے آرمی کے دستے بلوانے پڑے۔ ابھی گزشتہ عرصے میں پشاور میں کچھ ایسے حادثے ہوئے کہ لیڈی ریڈنگ کا احاطہ سیاسی جلسہ گاہ بن گیا۔
دل دہلا دینے والے نعروں سے ایمرجنسی ڈپارٹمنٹ گونج اٹھا۔ شہرمیں ہونے والے ان حادثات کا ذمہ دار طبی عملہ نہیں تھا۔ موقع پر ہی کسی کے جاں بحق ہونے میں ہاتھ کسی ڈاکٹر کا نہیں تھا۔ یہ حادثات لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں بھی پیش نہیں آئے تھے۔ مگر اس کی قیمت لیڈی ریڈنگ کے طبی عملے جات اور وسائل کو ادا کرنی پڑرہی تھی۔ کسی نے مشتعل افراد کو سمجھانے کی کوشش کی تو اس کے گال لال کردیے گئے۔ یہ ہر ہسپتال کی داستان ہے اور ہر ڈاکٹر کا دکھ ہے جو ہم آئے روز دیکھتے ہیں۔
سیکیورٹی مینیجر عمر سیاب کہتے ہیں ”ایک وقت تو یہ آیا کہ ہم نے طے کیا کہ سیکیورٹی سسٹم ہی ختم کردیتے ہیں۔ ایک تو وسائل کی کمی دوسرا لوگوں کو یہ سمجھانا مشکل کہ جو کیا جارہا ہے زندگیوں کو تحفظ دینے کے لیے ہی کیا جارہا ہے۔ “ بین الاقوامی ریڈکراس کمیٹی نے لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے عملے کے لیے سیکیورٹی کی تمام ضروریات پوری کرنے کی کوشش کی تو ہے، مگر اس بات کا ادراک بھی کیا ہے کہ تشدد کے جو طریقے اور اسباب ہمارے ہاں رائج ہیں ان کا حل محض سیکیورٹی اقدامات کی صورت نہیں نکل سکتا۔ کیونکہ معاملے کا تعلق حفاظتی اقدامات سے زیادہ ہمارے رویوں سے۔
ہسپتال آنے والے کسی درد کے مارے سے کیا گلہ، ایک اخبار نویس بھی وسائل کی کمی کا ذمہ دارطبی عملے کو قرار دے تو کس دیوار سے سر پھوڑیے۔ ایک تجزیہ کار جب مریض کی تاخیر کو بھی ڈاکٹر کی غفلت بتاتا ہے تو اسے احساس نہیں ہوتا کہ وہ براہ راست تشدد میں کتنا حصہ ڈال رہا ہے۔ ڈپارٹمنٹ میں مریضوں کے لیے مزید گنجائش نہ ہونے کی بجائے جب رپورٹر ”جب فلاں مریض کی حالت خراب تھی تو ڈاکٹر سموسا کھارہا تھا“ جیسی رپورٹ کرتا ہے تو دوسروں کی زندگی کی بجائے ڈاکٹر کو اپنی زندگی کی فکر لاحق ہوجاتی ہے۔ اس غیرذمہ دارانہ رویے کے نتائج طبی عملے کو بھگتنے ہوتے ہیں جس کا اثرہماری زندگیوں پر پڑتا ہے۔ انہی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے طے ہوا کہ تشدد کے واقعات کو کم سے کم سطح پرلانے کے لیے آگہی کی دو طرفہ مہم چلائی جائے۔
اس جانب بڑھنے کے لیے اس بات کا جائزہ لینا ضروری تھا کہ تیمارداروں کو ڈاکٹروں اور ڈاکٹروں کو تیمارداروں سے کیا شکایت ہے۔ اس بات کی نشاندہی بھی ضروری تھی کہ کون سے معاملات ثقافتی پہلو سے حساس ہیں اور کون سے مذہبی حوالوں سے۔ تیماردار جس ذہنی کرب اور ڈاکٹر جس پیشہ ورانہ دقتوں سے گزررہے ہوتے ہیں تب برداشت کی سطح کہاں کھڑی ہوتی ہے۔ ان حالات میں کون سے الفاظ ہیں یا بدن بولی کے کون سے زاویے ہیں جو عام حالات میں تو معمول کی بات ہوتے ہیں مگر کربناک حالات میں وہ سنگین ہوجاتے ہیں۔
تمام پہلووں کے جائزے کے بعد لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں ہی بین الاقوامی ریڈکراس کمیٹی کے تعاون سے معیاری تربیت گاہ قائم کی گئی۔ دیگر ممالک میں عالمی معیار کے ہسپتالوں کا تجربہ رکھنے ڈاکٹر توصیف جیسے ماہرین تربیت گاہ کے لیے اپنی صلاحیتیں وقف رکھتے ہیں۔ تربیت گاہ میں جدید تقاضوں کے پیش نظر ایمرجنسی کے عملے اور دیگرطبی عملے کے استعدادِ کار کو بڑھانے کے لیے تربیتی سرگرمیاں بھی انجام دی جاتی ہیں۔ ایک اہم مضمون البتہ یہ ہے کہ ذہنی کرب سے گزرنے والے تیمارداروں کی نفسیات سے عملے کو آگاہ کیا جائے۔
ان کو بتایا جائے کہ معمول کے معاملات خاص حالات میں کس قدر حساس ہوجاتے ہیں اور ان سے نمٹنے کے کون سے عملی طریقے ہوسکتے ہیں۔ اور یہ کہ طبی عملہ خود جس ذہنی دباؤ سے گزر رہا ہوتا ہے اس کی شدت پر قابو پانے کے لیے وقتی اور مستقل حربے کیا ہوسکتے ہیں۔ دوسری طرف ”بھروسا کریں“ کے عنوان سے ایک ایسی مہم کا آغاز بھی کیاجارہا ہے جس کا تعلق مریضوں تیمارداروں کے ریوں اور رجحانات کے ساتھ ہے۔ یہ رویے وہ ہیں جو منفی ہیں مگر ان کو جائز تصور کرلیا گیا ہے۔ اور یہ رجحانات وہ ہیں جو حقیقت کے بالکل برعکس ہیں، مگر کچھ واقعات کی بنیاد پر ان کی جڑیں پختہ ہوگئی ہیں۔ یہ مہم لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں مدت سے جاری ہے، مگر مستحکم منصوبہ بندی کے ساتھ اس کے دائرے کو ملک بھر میں پھیلایا جارہا ہے۔ رات دن گردش میں ہیں سات آسماں۔ ہورہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا!


