بلوچستان بازی لے گیا۔۔۔
حالیہ عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں غربت کی لسٹ جاری کی گئی جس میں پاکستان پچھلے 5 سالوں سے کافی بہتر یعنی کے غربت کی شرح کم ہوئی ہے مگر پھر بھی پاکستان کا صوبہ بلوچستان غریب ترین صوبہ قرار، واشک ملک کا غریب ترین جبکہ ایبٹ آباد امیر ترین ضلع قرار دیا گیا۔ بلوچستان کے ضلع واشک کی 72 فیصد آبادی انتہائی غربت کا شکار ہے۔
42.2 فیصد شرح کے ساتھ بلوچستان ملک کا غریب ترین صوبہ نکلا۔ جہاں غربت کی شرح 34.2 فیصد ہے دکھ کی بات ہے بالکل اور اسی صوبہ کا علاقہ واشک غریب ترین علاقہ قرار۔ اب سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کہ جس صوبے سے اربوں روپے کے ذخائر نکل رہے ہیں اس صوبہ کی یہ حالت کی کیا وجہ کسے قصور وار ٹھہرائیں، کیا وفاق قصور وار ہے یا پھر صوبائی حکومت۔ جس شہر سے سونے کی کانیں دریافت ہوں اس کے لوگ اج بھی زندگی کی بنیادی چیزوں سے محروم ہیں۔
سوال بہت سے دماغ میں اٹھتے ہیں جب بلوچستان کی اس حالت کے بارے میں پتہ چلتا ہے مگر سوال یہ ہے کہ آخر قصور وار ہے کون؟ جس سے سوال کیا جائے وہ بلوچستان کے سرداروں کو اس کا ذمہ دار ٹھراتا ہے۔ جو کہ کافی حد تک درست بھی ہوگا مگر جناب واشک جو پاکستان کا غریب ترین علاقہ ہے وہ تو مکران میں آتا ہے جہاں کسی سردار کی کوئی خاص اجارہ داری نہیں۔ پھر بات ہوتی ہے حکومت کی جی بالکل ٹھیک کہ ان ہی سرداروں نے ہمیشہ حکومت سنبھالی اور بلوچستان اسمبلی کو رونق بخشی مگر کچھ سال قبل مکران کے ایک مڈل کلاس ڈاکٹرر مالک صاحب نے حکومت سنبھالی اور واشک ان کے گھر سے زیادہ دور نہیں۔ جناب پھر اس حالت کا قصور وار کون؟ کیا ان سیاست دانوں کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں اگر واقعی یہ بلوچستان کے سیاست دان اتنے مجبور ہیں تو انہوں نے سیاست کی نوکری کیوں اپنائی ہوئی ہے؟
بلوچستان کے ایک اسکول کی تصویر کون بھول سکتا ہے جس کی تصویر پچھلے دنوں پورے سوشل میڈیا کی زینت بنی تھی۔ ہمارے حکمران ہر دفعہ ایک نیا لولی پوپ بلوچستان کے لوگوں کے لئے لے کر آجاتے ہیں جیسے کہ ”آغاز حقوق بلوچستان“۔ مگر دکھ کا مقام کہ حالات وہی کے وہی ہیں۔ خان صاحب نے پورے ملک میں درخت لگانے کی کوشش کی مگر بلوچستان اس سے بھی محروم رہا۔ ’کیا سونے اور چاندی سے بھری اس زمین کے عوام کا کبھی کوئی فائدہ ہوگا بھی یا نہیں!
’ یہ سوال اپنی جگہ حالیہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے ) نے اپنی جاری کردہ رپورٹ میں سندھ اور بلوچستان کے مختلف علاقوں کے خشک سالی سے متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کردیا۔ اس کے ساتھ خبردار کیا ہے کہ آنے والے وقت میں صورتحال مزید سنگین نوعیت اختیار کرسکتی ہے کیوں کہ ملک کے کئی حصوں میں خشک سالی کا اندیشہ ہے۔ اور سونے پر سہاگہ کہ صوبہ بلوچستان میں قحط سالی کے سبب غذائی قلت خطرناک شکل اختیار کر گئی ہے اور صوبے میں 52 فیصد بچوں کی صحیح نشوونما نہیں ہو سکی جبکہ بچوں کی اموات کی شرح بھی باقی صوبوں کے مقابلے میں بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔
اس صوبہ کے حالات کی بہتری وہاں کے سردار یا سیاست دانوں سے ضرور مشروط ہے مگر جناب اگر یہ اپنے علاقوں سے اس قدر سنجیدہ نہیں تو سیاست کے میدان چھوڑ کیوں نہیں دیتے؟ سوال تھوڑا مشکل ہے مگر اس کا جواب تلاش کرنا ضروری ہے۔


