بھٹو ازم کی تشکیل نو


پاکستان پیپلزپارٹی نے گلگت بلتستان میں اپنی دھاک بٹھادی، گلگت شاہی پولوگراؤنڈ میں تاریخ ساز جلسہ کرکے مخالف سیاسی جماعتوں کے لئے خطرے کی گھنٹیبجادی ہے، بلامبالغہ کہاجاسکتا ہے کہ پیپلزپارٹی کا جلسہ ماضی کے کسی بھی جلسے سے بڑا تھا، اور شرکاءکا جوش و خروش دیدنی تھا، پیپلزپارٹی کے کارکنوں کو اس بات پر بھی مبارکباد دی جاتی ہے کہ جلسے کے دوران بدنظمی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا، جو کہ دیگر جماعتوں کے جلسوں میں اکثر ہوتا ہے۔ بڑی تعداد میں خواتین بھی شریک ہوئیں اور خواتین کو آگے لانے کے نعرے کا عملی مظاہرہ بھی کیا۔

پیپلزپارٹی کا یہ جلسہ اس لحاظ سے بھی اہمیت کا حامل تھا کہ گزشتہ چار سالوں میں پیپلزپارٹی اپنے تاریخ کے کمزور ترین پوزیشن میں رہی ہے۔ 2014 کے آخر میں حکومت کے اختتام کے ساتھ ہی پیپلزپارٹی کا سورج ڈوبتا ہوا نظر آیا، 2015 کے الیکشن میں پیپلزپارٹی ناگفتہ بہ حالت میں اتری، پیپلزپارٹی کی صوبائی کابینہ موجود نہیں تھی اور نامز د امیدواران تن تنہا اپنی سیاسی انتخابی مہم چلارہے تھے، یہ کسی آفت سے کم نہیں تھی کہ پیپلزپارٹی کے پاس 5 سال حکومت کرنے کے بعد اگلے معرکہ انتخاب میں بعض حلقوں سے امیدوار تک نہیں ملا۔

اکثر حلقوں سے ایسے امیدوار اتارے گئے جن کی سیاسی شہرت محدود تھی، صرف چند حلقے ایسے تھے جہاں پر پیپلزپارٹی کا امیدوار اچھی پوزیشن کے ساتھ اچھی شہرت رکھتاتھا۔ انتخابات میں بدترین شکست کھانے کے بعد پیپلزپارٹی نے تنظیم نو پر توجہ دی کئی مہینوں تک صوبائی صدارت کے لئے مہم چلائی گئی جس میں کئی قدآور شخصیات بھی شامل تھیں تاہم قرعہ نوآمدہ امجد ایڈوکیٹ کے نام نکل آیا۔

پیپلزپارٹی کی نوجوان قیادت پر کارکنوں کا اعتماد تھا، 2015 کے الیکشن میں امجد حسین ایڈوکیٹ ان چند امیدواروں میں شامل تھا جو نہ صرف حلقے میں اچھی پوزیشن رکھتا تھا بلکہ پارٹی پر اٹھنے والے سوالات اور اعتراضات کی وضاحت دے سکتا تھا۔ امجد حسین ایڈوکیٹ نے ابھی ذمہ داریاں سنبھالی نہیں تھی کہ پیپلزپارٹی کا خیمہ ایک سائیڈ سے گر گیا، پیپلزپارٹی کے سابق صوبائی صدرجسٹس (ر) جعفرشاہ نے امجد ایڈوکیٹ سے اختلافات کی بنیاد پر اور انہیں صوبائی صدر تسلیم نہ کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کردیا، چند ہی روز میں جسٹس (ر) جعفرشاہ کو عمران خان میں بھٹو کی اصل شکل نظر آنے لگ گئی۔

پیپلزپارٹی کے لئے یہ نقصان ناقابل تلافی تھا، جسے بالآخر برداشت ہی کرنا تھا جسے کرلیا گیا۔ اگلا مرحلہ پیپلزپارٹی کی تنظیم سازی کا تھا، جس میں پارٹی امور کے حوالے سے ناتجربہ کار امجد ایڈوکیٹ کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، پیپلزپارٹی کی ذیلی تنظیموں کے ذمہ داران کا تعین کرنا بھی ایک مشکل فیصلہ تھا، اس ساری صورتحال پر پیپلزپارٹی پر بڑی مشکلات آئیں، اور بعض فیصلوں کو پارٹی کے اندر غیر مقبول بھی تصور کیا گیا۔

لیکن چونکہ پارٹی کی ساکھ جس حالت میں تھی ایسے میں ان کے پاس کھونے کے لئے کچھ بھی نہیں تھا، اسی وجہ سے ان فیصلوں کی غیر مقبولیت کو اہمیت نہیں مل سکی۔ اسی اثناءمیں پیپلزپارٹی کے صوبائی صدر امجد حسین ایڈوکیٹ نے ’حق حاکمیت و حق ملکیت‘ تحریک چلانے کا اعلان کردیا، اور گلگت بلتستان اسمبلی میں اس کو بل کی شکل میں پیش بھی کردیا گیا۔ جسے سپیکر صاحب کی اجازت نہ ملنے کی وجہ سے ابھی تک پیش نہیں کیا گیا ہے۔ لولی لنگڑی پیپلزپارٹی نے یہاں سے جارحانہ رخ اختیار کرلیا اور دیکھتے ہی دیکھتے ’حق حاکمیت و حق ملکیت‘ تحریک کو بھرپور پذیرائی ملی۔

گزشتہ دو سالوں کے اندر پیپلزپارٹی نے گلگت، سکردو اور غذر میں کامیاب جلسے کرکے اپنی ساکھ کو بحال کرنے کی کوشش کی۔ 18 نومبر کا جلسہ بھی اسی جلسے کی ایک کڑی تھی، جسے مرکزی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے آمد کی وجہ سے نمایاں کامیابی ملی، جلسے کو بغیر کسی مبالغے کے سب سے بڑا جلسہ کہا جاسکتا ہے، حتیٰ کہ بعض مخالفین بھی اس بات کو ماننے پر مجبور ہوگئے۔

پیپلزپارٹی کے جلسے کو نمایاں کامیابی ملنے اور سب سے بڑا جلسہ کا اعزاز حاصل کرنے کی کئی وجوہات ہوسکتی ہے ں، سب سے پہلی وجہ یہی ہے کہ بلاول بھٹو زرداری اور گلگت بلتستان کا تین نسلوں سے رشتہ قائم ہے، زوالفقار علی بھٹو کے اصلاحات اور اقدامات کو آج بھی قدر کی نگاہ سے دیکھاجاتا ہے اور اعتراف بھی کیا جاتا ہے۔ بینظیر بھٹو صاحبہ نے بھی اپنے دور میں اس علاقے کے لئے عملی اقداماتکیے، پھر 2009 میں پیپلزپارٹی نے ہی گلگت بلتستان کو صدارتی حکمنامے کے ذریعے صوبائی سیٹ اپ دے کر اپنے اس نعرے کو عملی جامہ پہنایا کہ پیپلزپارٹی پسے ہوئے طبقات کی نمائندہ جماعت ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی کو یہاں پر سب سے زیادہ سیاست کرنے کا موقع ملا ہے، گلگت بلتستان کے مقامی سیاستدانوں کی نا اہلی کی وجہ سے ایک وفاقی جماعت کو ابھرنے کا موقع ملا جس نے مقامی سیاستدانوں کی جانب سے پیداشدہ خلاءکو پر کرلیا اور بڑی حد تک پیپلزپارٹی گلگت بلتستان سطح پر مقامی جماعت کے طور پر بھی ابھری، جس کا ماضی میں مذہبی جماعتوں سے آمنا سامنا ہوتارہتاتھا۔

پیپلزپارٹی کے جلسے کو ملکی سطح پر بھی بھرپور پذیرائی ملی، جس کی وجہ بلاول بھٹو کی شرکت اور موجودہ ملکی صورتحال میں پیپلزپارٹی کی حیثیت ہے۔ دو متضاد سیاسی جماعتوں کے درمیان بیٹھ کر پیپلزپارٹی کا ہر قدم اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ چاہے وہ آئی ایم ایف تک رسائی ہو یا پھر حالیہ افراتفری میں حکومت کی حمایت کا اعلان ہو، ہر مرحلے میں پیپلزپارٹی کا موقف اہمیت کا حامل بن گیا ہے، شاید یہی وجہ تھی کہ پیپلزپارٹی کے مرکزی چیئرمین نے صوبائی حکومت سے زیادہ وفاقی حکومت پر سخت تنقید کی، تاہم صوبائی حکومت پر صرف دو ہی جملے بول دیے جو یقینا خطرناک ترین بھی ہیں۔

جلسے میں مرکزی خطاب کرنے والے بلاول بھٹو زرداری نے لکھی ہوئی تقریر کی، الفاظ کا چناؤ بہت خوبصورت تھا، بالخصوص اس کا ابتدائیہ جس میں انہوں نے سامعین کو مخاطب کیا۔ ”دنیا کے بلند ترین پہاڑوں کے سائے میں بسنے والو، ہمالیہ کا حوصلہ رکھنے والو، ہندوکش کی مضبوطی رکھنے والو، قراقرم کی استقامت رکھنے والو، شاہراہ ریشم کی ثقافت کے محافظو، پر امن تہذیب کے وارثو، جمہوریت کے جانثارو، شہید ذوالفقار علی بھٹو کے جیالو، شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے وفاداروں، پیپلزپارٹی کے نظریاتی علمبردارو، آپ کو بلاول بھٹو کا سلام۔ تقریر کی خوبصورتی اور مفہوم کی گہرائی اپنی جگہ تاہم بعض مقامات پر بالکل غلط معلومات فراہم کی گئی تھی جس سے شرکاءخود حیرت میں ڈوب گئے۔

پیپلزپارٹی کا جلسہ مقامی سطح پر پیپلزپارٹی کے لئے بھٹوازم کے تشکیل نو کی حیثیت رکھتا ہے۔ سیاسی ناقدین کا ماننا ہے کہ یہ جلسہ گلگت بلتستان میں 2020 کے انتخابات کے لئے پہلا قدم ہے۔ اور یقینا پیپلزپارٹی کی صوبائی قیادت نے اس مرحلے تک آنے میں بہت محنت کی ہے، ایک مرحلے میں صرف پیپلزپارٹی ہی واحد جماعت تھی جو صوبائی حکومت کے ہر اچھے برے قدم اور اعمال پر تنقید کے نشتر برساتی تھی۔ پیپلزپارٹی نے جی بی گزشتہ دو سالوں میں مزاحمتی سیاست کی ہے اور لوگوں کی توجہ حاصل کرنے میں یقینا کامیاب بھی ہوگئی ہے۔ جس پر صوبائی قیادت مبارکباد کی مستحق ہے، اور یہ امید بھی رکھی جاسکتی ہے جن غیر روایتی نعروں کا سٹیج سے بذبان بلاول بھٹو اعلان کرایا گیا ان کے حصول کے لئے بھی جدوجہد کریگی۔

Facebook Comments HS