بجنگ آمد: اردو مزاح کی بے نظیر کتاب
کورس مکمل ہونے سے چند روز پہلے محمد خان سے پوچھا گیا کہ وہ کس سٹیشن پر پوسٹنگ چاہیں گے تو انھوں نے لاہور اور پشاور کا نام لیا۔ لاہور جانے کی خواہش اس واسطے تھی کہ ”جس دیار کے کوچوں کی ہم نے خاک چھانی تھی، اب اس خاک کو افسرانہ شان سے روندنا چاہتے تھے۔ “ لاہور پوسٹنگ نہ ہوسکی اور وہ پشاورسدھارے جہاں سے کچھ عرصہ بعد انھیں سمندر پار جانے کا حکم ملا۔
کتاب میں کئی ایسے واقعات بیان ہوئے ہیں جنھیں پڑھ کر قاری شاد ہوتا ہے، جیسا کہ اوپر ڈرل کے عمل سے جڑا واقعہ آپ نے پڑھا۔ ایک اور مزے کا قصہ جس سے ہم محظوظ ہوئے وہ ایک شکایتی ٹٹو کے بارے میں ہے۔ بغداد کے شمال میں ڈیڑھ سو میل کے فاصلے پر صحرائے کیارہ میں جب ان کا برگیڈ خیمہ زن ہوا تو اس میں اینگلو انڈینکیپٹن ہرلی تھے جو کیپٹن مہتہ کو ایک آنکھ نہ بھاتے۔ کرنل محمد خان نے انھیں بی جمالو کا نام دیا ہے، جس نے ہرلی کے خلاف افسروں کو بھڑکایا، جب وہ برگیڈ میں آیا تو اس سے اچھا برتاؤ روا نہیں رکھا گیا لیکن ہرلی نے اپنے طرز عمل سے سب کا دل جیت کر مہتہ کو غلط ثابت کردیا۔
بریگیڈئیر صاحب کہیں گئے ہوئے تھے، واپس آئے تو مہتہ ان کے پاس گیا تو انھوں نے پوچھا:
” ہرلی میں کیا خرابی ہے؟ “
مہتہ بولے ”بے شمار خرابیاں ہیں“
” مثلاً“
” جوا کھیلتا ہے! “
” اور“
” شراب پیتا ہے! “
” اور؟ “
” عورتوں کے پیچھے بھاگتا ہے! “
بریگیڈئیر صاحب بولے : ”بڑا خوش مذاق آدمی معلوم ہوتا ہے۔ جائیں ان سے کہیں، آج شام چائے میرے ساتھ پیے۔ “
یہ سن کر مہتہ کو سخت مایوسی ہوئی۔
” سر آپ کچھ ہی کہیں، میری چھٹی حس کہتی ہے کہ ہرلی اچھا آدمی نہیں ہے۔ “
بریگیڈئر صاحب زور سے ہنسے اور بولے :
” مہتہ تمھاری چھٹی حس تو بہت تیز ہے، مگر معلوم ہوتا ہے تمھاری باقی پانچ حسیں خاصی سست ہیں۔ دیکھتے نہیں، یا کم از کم سونگھتے نہیں کہ ہرلی کس قدر زندہ دل آدمی ہے؟ جاؤ تم بھی ایک چھوٹا وسکی پی لو۔ “
جنگ میں لڑنے سے کنی کترانے والوں کا ذکر بھی ہے۔ ایک کپتان صاحب، مراد آبادی معشوقہ کو بصرے میں لانے کا منصوبہ گانٹھ رہے تھے کہ انھیں محاذ پر جانے کا حکم ہوا، جسے ٹالنے کے لیے انھوں نے مزے مزے کے بہانے تراشے، پر بات نہ بنی۔
عراق میں برہنہ پا حسیناؤں کو دیکھ کر دل پسیجا تو با پاپوش خواتین کے جوتوں کا مصرف بھی دیکھا اور یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ”جوتے کا جارحانہ استعمال ہندوستانی خواتین ہی کا اجارہ نہیں، بلکہ یہ حوا کی بیٹی کا عالمگیر ہتھیار ہے۔ “
برصغیر اور عرب کے رقص کا موازنہ بڑے چٹے پٹے انداز میں کیا ہے۔ ”ہمیں اپنے وطن کے رقص اور عربی رقص میں وہی فرق محسوس ہوا جو ستار نوازی اور ڈھول بجانے میں یا گلاب اور گوبھی کے پھول میں ہے، لیکن یہ ہمارا نقطہ نگاہ ہے۔ ممکن ہے عرب حضرات ہمارے لطیف اور رمزیہ رقص کو دیکھیں تو کہیں“ کیا واہیات چیز ہے، نہ کولہا ہلتا ہے، نہ چھاتی پھڑکتی ہے، یہ تو مساکین اور یتامی کا رقص ہے۔ ”
کتاب میں شگفتگی غالب ہے، لیکن جنگ کا احوال ہونے کے باعث بیچ میں حزن کی لہر بھی ہے اور جہاں جنگ ہو اس کے جلو میں موت بھی آتی ہے۔ مصنف کا برگیڈ سیدی رزیغ سے سلوم کی طرف پسپائی کرتے ہوئے دشمن کی زد میں آگیا اور ”تقریباً نصف سے زیادہ برگیڈ تباہ ہوگیا۔ سینکڑوں جوان مارے گئے یا قید کرلیے گئے۔ “
ڈھائی برس برصغیر سے باہر رہنے کے بعد مصنف جب وطن لوٹتا ہے تو گاؤں میں اس کا کچھ زیادہ ہی والہانہ سواگت ہوتا ہے۔
” کپتان آگیا ہے۔ محمد خان آگیا ہے۔ کتنا دبلا پتلا تھا، اب دیکھو، کیا جوان نکلا۔ صاحب بن گیا۔ سرگٹ بھی پیتا ہے۔ مسکوٹ میں کھانا کھاتا ہے۔ نوکری پہرہ بھی معاف ہے۔ “ دو دن میں کرنل محمد خان کوایک ہزار معانقے کرنے پڑے کہ بقول ان کے، گاؤں میں مردانہ آبادی ہی اتنی تھی۔
گھر واپسی پر ماں نے بیٹے سے کہا :
” بیٹا، اب ساری فوج میں تم ہی بڑے افسر ہو نا؟ “
”میں والدہ کو دیکھتا اور سوچتا کہ اگر اس پیکر محبت کا وجود نہ ہوتا تو کیا مجھے وطن کی واپسی کایہی اشتیاق ہوتا؟ بغیر کسی جھجک کے جواب دیا : ’جی ماں! ایک آدھ کو چھوڑ کر سب میرے ماتحت ہیں۔ ‘ اور ماں کی دنیا آباد ہوگئی۔ ویسے سچ یہ تھا کہ ایک آدھ نہیں، بلکہ ایک لاکھ چھوڑ کر بھی ہمیں اپنے ماتحت ڈھونڈنے کے لیے چراغ بلکہ سرچ لائٹ کی ضرورت تھی۔ لیکن وہ سچ کس کام کا جس سے ماں کا دل دکھے؟ “


