میڈیا پر وزیر اطلاعات اور وزیر داخلہ کی بیک وقت کرم فرمائی


یہ بات درست ہے کہ کسی بھی دوسرے ادارے اور کسی دوسرے پیشہ سے وابستہ افراد کی طرح میڈیا کے اداروں اور ان کے ساتھ کام کرنے والے صحافیوں کو خصوصی رعایت نہیں ملنی چاہیے۔ ان پر بھی ملکی قوانین کا اطلاق اسی طرح ہونا چاہیے جیسے کہ عام شہری ان کے پابند ہوتے ہیں۔ ملک کی عدالتیں قانون کی خلاف ورزی کرنے والے میڈیا ہاؤس یا صحافی کے خلاف جرم کی نوعیت کے اعتبار سے کارروائی کرنے میں آزاد ہوں۔ لیکن نہ تو کسی جرم کی دو سزائیں ہو سکتی ہیں اور نہ ہی ان پر عمل درآمد کے لئے مختلف ہتھکنڈوں اور اداروں کو استعمال کیا جاسکتا ہے۔

اگر میڈیا کو عدالتوں کے سامنے جوابدہ ہونا ہے تو حکومت کے بنائے ہوئے ریگولیٹری ادارو ں کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا۔ یہ ستم ظریفی تو ضرور موجود ہے کہ میڈیا اداروں کے علاوہ عدالتیں بھی میڈیا کو ’کنٹرول‘ کرنے کے لئے پیمرا ہی کو مؤثر بنانا چاہتی ہیں یا دوسرے سرکاری اداروں پر ذمہ داری عائد کرنا ضروری سمجھتی ہیں۔ مالی لحاظ سے خود مختار اور رائے سازی میں اپنی صوابدید کے مطابق کام کرنے والے میڈیا کے لئے اس قسم کی حدود و قیود کو قبول کرنا ممکن نہیں ہو سکتا۔ اس مقصد کے لئے صحافیوں اور میڈیا سے وابستہ لوگوں کو بھی اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرکے اخلاقی ضابطوں کی تیاری پر توجہ مرکوز کرنا پڑے گی۔ لیکن جب تک مواصلات کے اہم ترین ادارے حکومت کے کنٹرول میں رہیں گے، نجی اداروں سے مالی خود مختاری کا مطا لبہ کرنا درست نہیں ہو سکتا۔

اسی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے امور داخلہ شہر یار خان آفریدی نے بھی ملکی میڈیاکو آڑے ہاتھوں لیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ حکومت پر تنقید کرنے سے پہلے اسے کام کرنے کا موقع دینا چاہیے۔ اسی طرح انہوں نے یہ شکوہ بھی کیا ہے کہ میڈیا حکومت پر نکتہ چینی میں تو بہت آگے ہے لیکن اس کی کارکردگی کے بارے میں بات کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔ یہ شکایت اس ملک کی ہر حکومت کو رہی ہے کہ اس کے اچھے کاموں کی تشہیر نہیں ہوتی۔ حالانکہ پی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان کی صورت میں مواصلاتی نظام پر مکمل کنٹرول کے ہوتے انہیں ایسا شکوہ کرنے سے پہلے اپنے الفاظ پر غور کرلینا چاہیے۔

شہریار آفریدی نے میڈیا کی جانبداری اور غیر متوازن رپورٹنگ کی مثال دینے کے لئے آسیہ بی بی کیس کا عافیہ صدیقی کیس سے موازنہ کرنا ضروری سمجھا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ میڈیا نے آسیہ بی بی کے معاملہ کو غیر معمولی طور پر اچھالا ہے اور عافیہ صدیقی کی رہائی کے بارے میں حکومت کی کوششوں کا اتنی شدت سے ذکر نہیں ہوتا۔ داخلہ امور کا نگران ہونے کے باوجود شہریار آفریدی یہ سمجھنے سے قاصر دکھائی دیتے ہیں کہ آسیہ بے گناہ ہونے کے باوجود آٹھ برس تک پاکستانی جیلوں میں قید رہی ہے۔

ان میں سے سات برس اس کے سر پر سزائے موت کی تلوار لٹکتی رہی تھی۔ ملک کی زیریں عدالتیں جن میں ہائی کورٹ بھی شامل ہے آسیہ بی بی کو انصاف فراہم کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی تھیں۔ بالآخر سپریم کورٹ نے اس کے خلاف بے بنیاد مقدمہ کو خارج کرکے اسے اس الزام سے بری کیا ہے۔ لیکن حکومت ابھی تک آسیہ کے خلاف کوئی دوسرا الزام نہ ہونے کے باوجود سیاسی کم ہمتی کی وجہ سے اسے ملک سے باہر جانے کی اجازت دینے کے لئے تیار نہیں ہے۔

آسیہ بی بی کے وکیل سیف الملوک نے فرینکفرٹ میں اس بارے میں بات کرتے ہوئے جرمنی کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آسیہ بی بی اور ان کے اہل خاندان کو جرمنی کے پاسپورٹ فراہم کرے تاکہ وہ پاکستان سے باہر نکل سکے۔ اس مطالبہ کی وجہ بھی صاف ظاہر ہے کہ پاکستانی حکومت آسیہ بی بی کو اپنے ہی ملک میں عام شہری کے طور پر امن سے زندگی گزارنے کی ضمانت فراہم کرنے کے قابل نہیں ہے۔

ایک ایسی خاتون کا عافیہ صدیقی کے معاملہ سے کیوں کر مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ عافیہ کے بارے میں پاکستان میں ایک خاص رائے بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس کے معاملہ کو امریکہ مخالف جذبات کے ساتھ ملا کر ایک خاص طرح کا مذہبی سیاسی مزاج اجاگر کیا گیا ہے۔ لیکن اس بحث میں پڑے بغیر بھی شہریار خان آفریدی کو یہ جاننے میں دقت نہیں ہونی چاہیے تھی کہ آسیہ کی بے گناہی سپریم کورٹ میں ثابت ہوئی ہے جبکہ عافیہ صدیقی کو ایک امریکی عدالت نے دہشت گردی کے الزامات میں سزا دی ہے۔

آسیہ ایک سادہ لوح دیہاتی خاتون ہے جس پر پانی پینے پلانے کے تنازعہ پر توہین رسالت کا جھوٹا الزام عائد کیا گیا تھا۔ جبکہ عافیہ صدیقی ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ خاتون ہیں جن کی زندگی کے بہت سے گوشوں کے بارے میں پاکستان میں بات کرنا مذہبی حساسیت کے منافی سمجھا جاتا ہے۔ اسی قسم کے مقبول سیاسی بیانیہ پر عمل کرتے ہوئے پاکستان کی بیشتر حکومتیں شدت پسند مذہبی گروہوں کی سرپرستی کا موجب بنتی رہی ہیں۔ اب تحریک انصاف کی حکومت بھی نئے پاکستان میں اسی پرانے بیانیہ کو اپنے سر کا سہرا بنا کر پیش کرنا چاہتی ہے۔

وزیر اطلاعات اور داخلہ امور کے نگران وزیر کو خبروں کی ترسیل کے حوالے سے میڈیا کو دھمکانے اور آزادی رائے کی صورت حال کو مسدود کرنے کا باعث بننے کی بجائے، جمہوری حکومت کے نمائیندوں کے طور پر آزادی رائے اور مضبوط میڈیا کی حوصلہ افزائی کے لئے کام کرنا چاہیے۔ ملک میں میڈیا کو جس مشکل صورت حال کا سامنا ہے وہ کسی ہوش مند سے پوشیدہ نہیں ہے۔ اس کا اعتراف کرنے کی بجائے حکومتی نمائیندے جب میڈیا کو سرکاری مطالبات کی فہرست فراہم کریں گے تو ایسی حکومت کی جمہوریت پسندی اور عوام دوستی کے بارے میں شبہات قوی ہوں گے۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali