میڈیا پر وزیر اطلاعات اور وزیر داخلہ کی بیک وقت کرم فرمائی
وزیر اطلاعات فواد چوہدری اور وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار خان آفریدی نے اسلام آباد میں ایک میڈیا کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے میڈیا کو نشانے پر لیا ہے۔ وزیر اطلاعات نے پاکستانی میڈیا کو بہتر طریقے سے ریگولیٹ کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی میڈیا کا بزنس ماڈل ناکارہ اور فرسودہ ہے۔ انہوں نے عالمی میڈیا اداروں کی مثالیں دیتے ہوئے واضح کیا کہ عالمی میڈیا خود تحقیق و جستجو کرتا ہے اور اپنا بوجھ خود اٹھاتا ہے جبکہ پاکستانی میڈیا حکومت کے وسائل پر چلنا چاہتا ہے۔
وزیر اطلاعات کا مؤقف تھا کہ حکومت پہلے ہی مالی دباؤ کا شکار ہے۔ وہ میڈیا کے اخراجات پورے کرنے کی ذمہ داری نہیں اٹھا سکتی۔ اسی طرح وزیر مملکت برائے داخلہ امور نے بھی میڈیا کو قومی سلامتی کے معاملات میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ میڈیا کو حکومت میں کیڑے نکالنے کی بجائے اس کے اچھے کاموں کی توصیف بھی کرنی چاہیے۔
اسلام آباد میں ’قومی سلامتی، قومی تعمیر اور ماس میڈیا‘ کے عنوان سے منعقد ہونے والی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اطلاعات نے یہ خبر بھی سنائی ہے کہ حکومت سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کے لئے اقدامات کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقت کے ساتھ قومی ضابطے عالمی قواعد و ضوابط کے محتاج ہوجائیں گے۔ فواد چوہدری کی ان باتوں سے حکومت کے ارادوں کے بارے میں کوئی واضح تصویر بنانا ممکن نہیں ہے لیکن یہ ضرور پتہ چلتا ہے کہ حکومت میڈیا اداروں کو مسلسل دباؤ میں رکھنا چاہتی ہے اور مالکان کو یہ دھمکی دی جارہی ہے کہ حکومت سرکاری اشتہارات کی مد میں اگر میڈیا کو کثیر رقوم فراہم کرتی ہے تو میڈیا پر بھی اس ’احسان‘ کا بدل دینے کے لئے کچھ ’فرائض‘ عائد ہوتے ہیں۔
اس طرح ملک کے وزیر اطلاعات یہ بتانے کی کوشش کررہے ہیں کہ حکومت میڈیا کو اشتہارات عوام کو معلومات فراہم کرنے کے لئے نہیں دیتی بلکہ اس کے سیاسی مقاصد ہوتے ہیں۔ موجودہ حکومت میڈیا سے زیادہ وفاداری کا مطالبہ کررہی ہے۔ وزیر اطلاعات نے یہ باتیں بالواسطہ طور سے کہی ہیں لیکن میڈیا ادارے جس طرح تند و تیز آواز والے مبصرین اور خود مختار رائے رکھنے والے تجزیہ نگاروں سے گلو خلاصی کی پالیسی پر عمل کررہے ہیں، اس سے یہ قیاس کرنا مشکل نہیں ہونا چاہیے کہ میڈیا مالکان کو حکومتی نمائیندوں کی باتیں بہت واضح انداز میں پہنچائی جاچکی ہیں۔ اب وزیر اطلاعات علی الاعلان میڈیا پر پابندیاں عائد کرنے اور سرکاری اشتہارات کے وسائل بند کرنے کی دھمکی دے کر قومی میڈیا کو مزید ہراساں کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
میڈیا کے لئے سرکاری اشتہارات کا معاملہ ہمیشہ متنازعہ رہا ہے۔ حکومت اپنے وسائل اور ضرورتوں کے مطابق اس حوالے سے بجٹ بنانے اور اشتہارات تقسیم کرنے میں آزاد ہونی چاہیے۔ وزیر اطلاعات کی یہ بات بھی درست ہے کہ کمرشل میڈیا کو خود اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی ضرورت ہے اور اسے حکومت کے وسائل کا محتاج نہیں رہنا چاہیے۔ لیکن یہ مطالبہ کرتے ہوئے حکومت کو بعض معاملات کو درست کرنے کی ضرورت ہوگی۔ میڈیا کو خود مختار اور آزاد بنانے کے لئے صرف سرکاری اشتہارات بند کرنا ہی کافی نہیں ہے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ حکومت ان اشتہارات کو میڈیا پر دباؤ کے لئے استعمال کرنے کا طریقہ بھی بند کرے۔ وزیر اطلاعات نے میڈیا کانفرنس میں جو باتیں کی ہیں، ان سے صرف یہی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ حکومت اس معاملہ کا بار بار ذکر کرکے دراصل میڈیا مالکان پر یہ جتانا چاہتی ہے کہ وہ کمرشل میڈیا ہاؤسز کو ملنے والے ان وسائل کا سلسلہ کسی بھی وقت بند کرسکتی ہے۔ میڈیا اشتہارات کے ہی حوالہ سے یہ بات بھی اہم ہے کہ ان کی تقسیم کا طریقہ کار بھی شفاف ہونا چاہیے۔ ایک واضح اور طے شدہ طریقہ کے مطابق اخبارات اور ٹی وی چینلز کو ان کی اشاعت اور دیکھنے والوں کی تعداد کے لحاظ سے اشتہارات فراہمکیے جائیں اور ان کی نگرانی کوئی سرکاری یا سیاسی کمیٹی نہ کرے بلکہ پروفیشل صحافیوں پر مشتمل کوئی خود مختار ادارہ ان معاملات کو دیکھے۔
آزاد میڈیا اور قومی معاملات میں اس کے کردار کے حوالے سے تاہم سب سے اہم بات یہ ہے کہ حکومت پی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان جیسے بھاری بھر کم اداروں پر اجارہ داری کے ذریعے معلومات کی ترسیل پر اپنا اختیار ختم کرے۔ جن ملکوں کے میڈیا اداروں کا حوالہ دے کر وزیر اطلاعات پاکستانی میڈیا کو مالی لحاظ سے خود مختار ہونے کی ہدایت کررہے ہیں، وہاں سرکاری مواصلاتی ذرائع پر حکومتوں کا کنٹرول نہیں ہوتا۔ جدید جمہوری ریاست میں ایسے میڈیا اداروں کا تصور بھی محال ہے جن پر حکومت کا مکمل کنٹرول ہو اور جو بھاری بھر کم بیورو کریسی کی صورت میں حکومت وقت کی خوشامد اور کاسہ لیسی میں مصروف رہیں۔
اسی طرح حکومت کو پیمرا و پریس کونسل اوردیگر اداروں کے ذریعے میڈیا کو ہدایا ت دینے اور کنٹرول کرنے کی حکمت عملی بھی تبدیل کرنا ہوگی۔ سپریم کورٹ میں دھرنا 2007 کے بارے میں ہونے والی سماعت کے دوران یہ بات سامنے آچکی ہے کہ پیمرا کے علاوہ بعض خفیہ ادارے بھی کسی قانونی اختیار کے بغیر میڈیا کو ہدایات دینے اور اپنے فیصلوں کے مطابق نشریات کو ترتیب دینے یا منظم کرنے کی ہدایات جاری کرتے ہیں۔ یہ بات بھی سب کے علم میں ہے کہ اگر کوئی میڈیا ان ہدایات کو ماننے سے انکار کرنے کا حوصلہ کرلے تو کیبل آپریٹرز کے ذریعے اس چینل کو سامعین تک پہنچنے سے روکنے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ ان ہتھکنڈوں کو ترککیے بغیر کوئی حکومت ملک میں میڈیا سے خود مختار ہونے یا ذمہ داری قبول کرنے کا مطالبہ نہیں کرسکتی۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


