صوبائی اسمبلی کا حلف اٹھا کر الیکشن 2018 کی شفافیت پر مہر ثبت نہیں کرنا چاہتا: چودھری نثار علی خان


جیو نیوز کے پروگرام میں منیب فاروق سے بات کرتے ہوئے سابق وزیر داخلہ چوہدری نثارعلی خان نے کہا ہے کہ میں صوبائی اسمبلی کا حلف اٹھا کر جولائی 2018 کے انتخابات کی شفافیت پر مہر تصدیق نہیں لگانا چاہتا۔

الیکشن میں شکست کے حوالے سے سوال پر چودھر ی نثار نے کہا کہ اس الیکشن پر ایک پورا افسانہ لکھا جا سکتا ہے۔ میرا دل اس پر بات کرنے کو کرتا ہے لیکن اتنا ابہام ہے کہ اس پر با ت کیا کروں؟ میر ے دونوں قومی اسمبلی کے حلقوں میں ایک لاکھ 33 ہزار ووٹ مجھے ملے اور صوبائی اسمبلی میں مجھے 53 ہزار ووٹ ملے جو کسی بھی حلقے میں سب سے زیادہ حاصل کردہ ووٹوں کی تعداد ہے۔

میں صوبائی اسمبلی کاحلف اس لئے نہیں لے رہا کہ اگر میں نے یہ حلف اٹھا لیا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ میں قومی اسمبلی کے الیکشن کی شفافیت پر مہر ثبت کر رہا ہوں۔ انہوں نے کہا میں اپنے صوبائی اسمبلی کے حلقہ میں 36 ہزار ووٹوں کی اکثریت سے جیتا ہوں۔ اگر قومی اسمبلی کے لئے تحریک انصاف کی ہوا چل رہی تھی تو یہ نیچے صوبائی حلقے تک کیوں نہیں آئی؟ لوگ جہاں قومی اسمبلی کیلئے ووٹ دیتے ہیں وہاں صوبائی اسمبلی کے لئے بھی ووٹ دیتے ہیں، اتنا زیادہ فرق نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ میرے علاقے میں سو بندے بھی ایسے نکال دیں کہ جو یہ کہیں کہ ہم نے صوبائی اسمبلی میں تو چودھری نثار کو ووٹ دیا لیکن قومی اسمبلی کے لئے نہیں دیا تو میں الیکشن کو شفاف تسلیم کر لوں گا۔

Facebook Comments HS