امید کا قتل
میں اکیس گھنٹے پہلے پیدا ہوئی ہوں۔ میری ماما نے میرا نام امید رکھا ہے۔ میرے بابا نے میرے کان میں اذان دی تھی۔ میرے دوسرے کان میں بابا نے کہا تھا کہ وہ مجھے پاکستان کے اچھے مسقتبل کی امید سمجھتے ہیں۔
اکیس گھنٹے پہلے جب میں نے پہلی مرتبہ آنکھ کھولی تھی تو ایک سفید کپڑوں والی پیاری سی آنٹی نے مجھے دیکھ کر کہا تھا کہ پاکستان میں بہت خوبصورت بچے پیدا ہوتے ہیں۔ جبھی ساتھ کھڑی دوسری آنٹی نے کہا تھا کہ اس لڑکی کے لیے دنیا میں آنا ایک عذاب ہے۔ اس پر پہلی والی آنٹی کی آنکھوں میں آنسو آ گئے تھے۔ اس وقت مجھے سمجھ نہیں آئی تھی کہ ایسی کون سی بات ہو گئی تھی کہ وہ آنٹی رو پڑی تھیں۔ مگر مجھے وہ دوسری والی آنٹی اچھی نہیں لگی تھیں۔
میں اب اپنی ماما کے پاس لیٹی ہوئی ہوں۔ میری ماما بہت پیاری ہیں۔ ویسے تو میرے بابا بھی بہت ہینڈسم ہیں مگر ماما کی تو بات ہی کچھ اور ہے۔ مگر میں نے دیکھا کہ میری ماما خوش ہونے کے ساتھ ساتھ پریشان بھی لگ رہی ہیں۔ پتا نہیں وہ کیا سوچ رہی ہیں۔ میں چاہ رہی ہوں کہ ماما مجھے پیار کریں۔ مجھ سے باتیں کریں مگر وہ تو اپنی ہی سوچ میں گم ہیں۔ مجھے ماما کی توجہ کھینچنی پڑے گی۔ یہ سوچ کر میں نے جھوٹ موٹ رونا شروع کر دیا۔ ماما اپنی سوچ بھول کر میری طرف متوجہ ہو گئیں۔ میں سمجھ گئی کہ اگر مجھے توجہ چاہیے تو مجھے اداکاری کرنی پڑے گی۔ مجھے یہ سوچ کر بہت مزہ آیا اور میں ہنسنے لگی۔
میری آوازیں سن کر بابا بھی ہمارے پاس آ گئے تھے۔ تھوڑی دیر بعد جب میرا جی بھر گیا تو میں خاموش ہو گئی۔ تب ماما اور بابا نے باتیں کرنا شروع کر دیں۔ میں نے خاموشی سے سننا شروع کیا۔ ماما بابا کو بتا رہی تھیں کہ ایک نرس نے ان سے بیٹی کے پیدا ہونے پر باقاعدہ افسوس کیا ہے۔ بابا نے ماما کو تسلی دی کہ ایسی باتوں پر پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ جاہل لوگ ایسی باتیں کرتے رہتے ہیں۔ کچھ دیر کے بعد محلے کی ایک خاتون ماما سے ملنے آ گئیں۔
ان کی باتوں سے مجھے معلوم ہوا کہ ماما نے بابا سے محبت کی شادی کی تھی اور یہ بھی پتا چلا کہ ماما اور بابا دونوں کے گھر والے اس شادی کے سخت خلاف تھے اسی لیے ماما اور بابا اپنے شہر سے بھاگ کر یہاں کراچی آ گئے تھے۔ اور چھپ کر زندگی گزار رہے تھے کیونکہ میرے ماموں اور میرے تایا دونوں میرے ماما اور بابا کو ڈھونڈ کرمارنا چاہتے تھے۔
میں جو تھوڑی دیر پہلے بہت خوش تھی اور ماما سے اٹکھیلیاں کر رہی تھی ایک دم ڈر گئی۔ مجھے یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ میرے اپنے ماموں اور تایا مجھے یتیم کر سکتے ہیں۔ میں نے خود کو تسلی دی کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ ماما بابا اور آنٹی خواہ مخواہ میں گھبرا رہے ہیں۔ جب میرے ماموں اور تایا آئیں گے تو میں ان کے سامنے کھلکھلاؤں گی اور شرارتیں کروں گی تو وہ اپنا غصہ بھول کر میرے ساتھ کھیلنا شروع کر دیں گے۔ یوں سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔
گھر جاتے ہوئے ماما بہت ڈر رہی تھیں مگر بابا ان کو تسلی دے رہے تھے۔ میں کبھی ماما تو کبھی بابا کے چہروں کو دیکھ رہی تھی۔ میں جلدی سے گھر جانا چاہتی تھی تاکہ اپنا گھر دیکھ کر خوش ہو سکوں۔ تھوڑی دیر کے بعد ہم گھر کے لیے روانہ ہو گئے۔ ماما کی طرح بابا نے بھی خود کو پوری طرح چھپایا ہوا تھا تاکہ کوئی دیکھ کر پہچان نہ سکے۔ تھوڑی دیر میں ہم گھر پہنچ گئے۔ ہمارا گھر چھوٹا سا تھا اور گلیوں کے اندر کر کے واقع تھا۔ مگر یہ ہمارا گھر تھا۔ گھر دیکھ کر میں نے خوشی سے قلقاری ماری۔ میری خوشی کا کوئی ٹھکانہ ہی نہیں تھا۔ میں پہلی مرتبہ اپنے گھر آئی تھی۔
ابھی گھر پہنچ کر ہم سکون کا سانس ہی نہ لینے پائے تھے کہ گھر کا دروازہ زور سے دھڑدھڑایا گیا۔ ماما بری طرح اچھل پڑیں۔ میں ان کے ہاتھ سے گرتے گرتے بچی۔ بابا کا رنگ بھی ایک دم سے اڑ گیا اور وہ گھبرا کر باہر کی طرف بھاگے۔ تھوڑی دیر میں میرے بابا کو دھکا دیتے ہوئے چار لوگ کمرے میں داخل ہوئے۔ میری ماما کے منہ سے چیخ نکل گئی۔ ان میں ایک میرے تایا، دوسرے میرے ماموں، تیسرے میرے خالو اور چوتھے میرے نانا تھے۔ میرے تایا نے مجھے میری ماما کے ہاتھ سے چھین لیا۔ اور میرے خالو نے کمرے کا دروازہ زور سے بند کر دیا۔ میں اتنا ڈر گئی تھی کہ کھلکھلانا اور شرارتیں کرنا مجھے یاد ہی نہیں رہا۔
میرے بابا نے تایا سے بات کرنے کی کوشش کی تو میرے نانا نے ان کے چہرے پر زور سے تھپڑ مارا۔ میں نے یہ دیکھ کر اونچی اونچی رونا شروع کر دیا۔ اس پر میرے تایا نے میرے منہ پر زور سے ہاتھ رکھ دیا۔ جس ہاتھ سے میں محبت کی توقع کر رہی تھی وہی ہاتھ میری سانس روکے ڈال رہا تھا۔ مجھے بہت درد ہو رہا تھا۔
میرے ماموں اور میرے خالو کے ہاتھوں میں پستول تھے اور انہوں نے انہی سے میرے ماما اور بابا کو مارنا شروع کر دیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے میرے بابا اور میری ماما زمین پر گر گئیں۔ ان کے سروں سے خون بہہ رہا تھا۔ میری آنکھیں خوف اور درد سے پھٹی ہوئی تھیں۔ میرے منہ پر میرے تایا کا ہاتھ مضبوطی سے جما ہوا تھا جس کی وجہ سے مجھے سانس لینا بھی مشکل ہو رہا تھا۔
اور پھر میرے دیکھتے ہی دیکھتے میرے ماموں او ر میرے خالو نے میرے بابا کے گلے پر چھری چلا دی۔ خون کا ایک فوارہ بابا کے گلے سے نکلا اور میرے منہ پر آ کر گرا۔ میں رونا بھی بھول گئی تھی۔ میرے تایا کا ہاتھ میرے منہ پر اور سخت ہو گیا تھا۔ بابا کے بعد ماما کا گلا بھی کاٹ دیا گیا۔ کمرے کے فرش پر خون کا تالاب سا بن گیا تھا۔
اسی وقت میری نظر میرے نانا پر پڑی۔ وہ میری ہی طرف آ رہے تھے۔ میرے تایا نے میرے منہ پر سے ہاتھ ہٹا دیا مگر میں نا تو رو سکی اور نا ہی ہل سکی۔ میرے نانا شدید غصے میں تھے۔ انہوں نے مجھے تایا کے ہاتھوں سے کھینچ لیا۔ ایک نظر میرے چہرے پر ڈالی۔ میں لرز کر رہ گئی۔ ان نظروں میں میرے لیے شدید نفرت تھی۔ ان کی نظروں نے مجھے آدھا تو مار ہی دیا تھا۔ باقی آدھا انہوں نے مجھے زور سے زمین پر ماما کے قریب پھینک کر مار ڈالا۔
میں صرف اکیس گھنٹے دنیا میں رہی مگر وہ کچھ دیکھ لیا جو لوگ اکیس برسوں میں بھی نہیں دیکھ پاتے۔ میں دنیا میں اپنا ایک دن بھی پورا نہ کر سکی۔ اچھا ہی ہوا۔ اگر میں اکیس گھنٹوں کی بجائے اکیس دن یا اکیس برس زندہ رہ جاتی تو کیا معلوم رشتوں کے بعد انسانیت سے بھی میرا اعتبار اٹھ جاتا۔ پتا نہیں اس دنیا میں انسان بستے ہیں یا درندے!


