لڑکی اچھا انسان بنے یا تابعدار عورت؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پردیس کی 20 سالہ زندگی میں خود کے بارے میں جاننے اور خود کو بہتر انسان بنانے کے بہت مواقعے میسر آئے یا پھر یوں کہیں کہ میں نے حالات سے لڑجھگڑ کر چھینے۔ اور اب اگر پیچھے مڑ کر دیکھتی ہوں تو خود کو ہی نہیں پہچان پاتی ہوں۔ کمیونٹی میں رضا کارانہ کام، کنیڈین تعلیم اور تعلیمی ادارے میں ملازمت نے مجھے اس طرح کنیڈین معاشرے کا حصہ بنا دیا ہے کہ اب تو ہجرت کے دُکھ سُکھ بھی کم لگنے لگے ہیں۔ ہمارے یہاں ذاتی دلچسپیوں اور کامیابیوں پر فخر کرنا، صلاحیتوں کو اُجاگر کرنا اور اس کے بارے میں بات کرنا خاصا معیوب سمجھا جاتا ہے۔

البتہ دوسروں کی کامیابیوں پر دل ہی دل میں جلنا اور اُن کی غیر حاضری میں برملا اپنی جلن کا اظہار کرنا بہت معمولی بات ہے۔ لڑکیوں کی پڑھائی کو نا صرف لڑکوں کی پڑھائی کے مقابلے میں اہمیت نہیں دی جاتی بلکہ گھریلو کام کاج کے علاوہ دیگر مشاغل میں دلچسپی کی بھی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی۔ میرے خیال میں اس بات کا براہ راست تعلق معاشرے میں عورتوں کی کم وقعت سے ہے۔ بچپن سے ہی لڑکیوں کے دماغ میں ڈال دیا جاتا ہے کہ لڑکے تم سے بہتر ہیں کیونکہ تمھاری آبرو دنیا کی سب سے قیمتی چیز ہے اور تم خود اس کی حفاظت نہیں کرسکتیں، اس لیے گھر کے مرد تمھارے آبرو کے رکھوالی کریں گے۔ وہ تمھیں روٹی اور کپڑا گھر پر ہی مہیا کریں گے اورباہر کے مردوں سے محفوظ رکھیں گے۔ اس کے عوض اُن کی خدمت کرنا اور اُن کے فیصلے کو تسلیم کرنا تمھارا فرض ہے۔

البتہ اس کے برعکس اعداد و شمار سے ثابت ہوتا ہے کہ مجرمانہ جنسی حملے یا جسمانی تشدد کی شکار زیادہ تر بچیوں پر یہ مظالم گھر کے افراد یا قریبی رشتے داروں کے ہاتھوں ہی ہوتے ہیں۔ شادی شدہ زندگی میں تو گھر، شوہر اور بچوں کی ذمہ داری کو ہی عورت کا دین ایمان سمجھا جاتا ہے۔ چونکہ عورتیں بچپن کی تربیت کے باعث ذہنی طور سے مردوں کے دست نگر ہوتی ہیں لہٰزا وہ صبر و شکر سے اپنے گھر کے مردوں کی کامیابیوں میں ساتھ دینے اور اُس پر ہی فخر کرنے میں راحت پانے لگتی ہیں۔ یوں تو میں بچپن سے ہی پاکستان میں لڑکیوں کے لئے متعین کیے گئے روایتی کردارمیں کبھی فٹ نہیں بیٹھی۔ سجنا سنورنا تو چھوڑ ڈھنگ سے لڑکیوں کی طرح اُٹھنا بیٹھنا اوربات چیت تک کرنا نہیں آتی تھی۔

البتہ ضدی، لڑاکا اور زبان دراز بلا کی، ہر دم بھائیوں سے برابری پر تُلی رہتی۔ گویا ایک تو اچھی لڑکی بننے کے کوئی گُن نہیں اوپر سے اپنے آپ کو لڑکوں کے بالکل برابر سمجھنا۔ پھر نتیجہ کیا نکلتا۔ اُس وقت جب لڑکیاں اپنے رشتے کے بھائیوں اور محلے کے لڑکوں کے ساتھ عشق کے قصے سُناتی تھیں تو دل دُکھی ہوتا کہ مجھے کوئی ڈھنگ کا لڑکا گھاس کیوں نہیں ڈال۔ میں پڑھنے میں بھی کافی کمزور تھی مگر نوعُمر ی میں یہ پتا چل گیا تھا کہ لڑکیوں کے لئے گھر سے باہر نکلنے کا صرف یہی ایک راستہ ہے۔

میڑک جیسے تیسے پاس کیا تو کافی سوچ بچار کے بعد مجھے صرف لڑکیوں کے کالج میں داخلہ دلایا گیا تاکہ میں مزید ہاتھوں سے نہ نکل جاؤں میری آزاد خیالی اور خود مختاری کا یہ عالم تھا کہ گرلزکالج کا بوڑھا چوکیدار روزانہ میرے ڈوپٹہ سر پر نہ پہنے کی یاد دہانی کراتا اور میں روزانہ سُنی ان سُنی کردیتی۔ اُس وقت جب لڑکیاں اپنے رشتے کے بھائیوں اور محلے کے لڑکوں کے ساتھ عشق کے قصے سُناتی تھیں تو بڑا دُکھ ہوتا تھا۔ مگراس نارسائی کا فائدہ یہ ہوا کہ ساری توجہ پڑھائی پر ہی رہی اور کالج عزت سے پاس ہوگیا دو سال کالج کے مکمل کرنے کے بعد جب گھر میں یونیورسٹی میں داخلہ لینے کی بات کی تو سوال پھر مخلوط تعلیم پر آن کھڑا ہوا اور جواب میں پھر وہی انکار ملا اور میں نے گھر والوں کی نہیں کو ہاں میں بدلنے کے لئے پورا زور لگا دیا۔ حتی کہ پورے ایک دن بھوک ہڑتال تک کی۔

جب گھر میں بہت زیادہ بچے ہوں تو اُس کے بہت سارے نقصانات ہوتے ہیں مگر اس کا سب سے بڑافائدہ بچوں کو یہ ہوتا ہے کہ کسی کو اتنا وقت نہیں ملتا کہ بس ایک بچے کی پرورش کے پیچھے ہی پڑجائے۔ میری بے پناہ ضد نے مجھے کراچی یونیورسٹی میں ایڈمیشن دلادیا۔ مجھ پر یہ انکشاف ک کم عمری میں ہی ہوچکا تھا کہ لڑکیوں کے لئے گھر کے کام کے ساتھ ساتھ باہر کام کرنا اور پیسے کمانا بہت ضروری ہے۔

میں طالب علمی کے زمانے میں محلے کے بچوں کو ٹیوشن پڑھایا کرتی تھی جس سے یونیورسٹی کی فیس اور خرچے کے بعد ایک سستا سا کیمرہ خریدنے اور کبھی کبھی ریل ڈلوا کر دھلوانے کے پیسے ہوتے تھے جس سے میرے فوٹو گرافی کے شوق کو جلا ملی۔ یونیورسٹی کے ختم ہوتے ہی جب ساری منگنی شدہ سہیلیوں کی شادیاں ہورہی تھیں تو اپنا آپ اچانک سے بہت حقیراور بے مقصد نظر آنے لگا۔ مگر ارینجڈ میرج میرے ضمیر کو پھر بھی گوارا نہ تھی اور اس بے قدری کے احساس سے بچنے اور پیئر پریشر سے نبٹنے کے لئے ایک ہی راستہ نظر آیا کہ نوکری کی جائے۔

اب ٹیوشن کا تجربہ کام آیا اورکچھ عرصہ بچوں کو اسکول میں پڑھا کر بڑوں کو انگریزی زبان سکھانے والے ایک مقامی ادارے میں ملازمت کی جس سے بہت عزت، شہرت اور دولت ملی۔ کچھ عرصے بعد اپنا انسٹیٹوٹ کھولا اور ساتھ ہی اپنا ذاتی مکان بھی خرید لیا۔ مگرگھر میں میری اس کامیابی کو کبھی وہ قدر ومنزلت نہیں ملی جس کی میں ہمیشہ سے متلاشی تھی۔ اور شادی کا دباؤ مستقل قائم رہا۔ پھرایک سیدھے سادھے شخص سے ملاقات ہوئی اور شادی ہوگئی اور ہم سب کچھ چھوڑ چھاڑ کرامریکہ آگئے۔

البتہ شوہر کے ساتھ بھی وہی ہوا جو اب تک بچارے بھائیوں کے ساتھ ہوا کرتا تھا۔ ہر چیز میں برابری۔ شوہر نے کچھ عرصے شوہر گیری کرنے کی کوشش کی مگراس بات کا احساس ہوتے ہی ہتھیار ڈال دیے کہ اُن کی شادی ایک خود مختارعورت سے ہوگئی ہے۔ پانچ سال امریکہ میں رہائش اور ملازمت کرنے کے بعد جب 911 کی وجہہ سے امریکہ میں غیر مُلکیوں کے لئے قوانین بدلے تو ہماری امریکہ میں مستقل رہائش یعنی گرین کارڈ کا خواب صرف خواب ہوتا نظر آنے لگا۔

اُس وقت میں نے فیصلہ کیا کہ کینڈا میں سکلڈ امیگرنٹ کے طور پر درخواست جمع کی جائے اور بمعہ اہل و عیال اپنے یونیورسٹی کی سند اور پڑھانے کے تجربے کی بنیاد پر کینیڈین شہریت حاصل کرلی۔ کینڈا آنے کے بعد بہت ساری مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جس میں ہمارے نومولود بچے کی تربیت اور دیکھ بھال سہرفرست تھی۔ ہمارے بچے کو اُسکی قبل از وقت پیدائیش کی وجہہ سے صحت کے کچھ مسائل درپیش تھے۔ اس سلسلے میں بہت سے طبی سہولیات مہیا کرنے والی سماجی تنظیموں سے رابطہ ہوا جہاں بہت کچھ سیکھنے موقعہ ملا اور مجھے پہلی بار یہ احساس ہوا کہ میری اصل طاقت میری سخت محنت کی عادت ہے۔ میرے شوہر ایک نرم مزاج اور حساس دل کے مالک انسان ہیں اور وہ نہیں چاہتے تھے کہ میں اُس وقت گھر سے باہر نکل کر کام کروں اور مشکلات اُٹھاؤں جب کہ ایک بچے کی ذمہ داری میرے اوپر ہے۔

مگر میرے خیال میں اُن کا اکیلے پردیس کی انتہائی کٹھن زندگی میں 12 گھنٹے روزانہ کی مشقت سے بھرپور ملازمت کرنا اُن کے ساتھ نا انصافی ہے۔ بچے کی پیدائش سے ڈیڑھ سال کی عُمر پہچنے تک میں نے گھر اور بچے کو پوری طرح سنبھالا اور ساتھ ساتھ اپنی تعلیم کو کینیڈین ایجوکیشن سسٹم کے مساوی بنانے کی کوشش کرتی رہی۔ بہرحال بہت جلد یہ بات سمجھ میں آگئی کہ سب کام ایک ساتھ نہیں ہوسکتے۔ لہٰزا پہلے بچے کو ڈے کیر میں داخل کرایا اور ایک جنرل اسٹور میں کیشیر کی ملازمت کی۔ تاکہ شوہر پر سے معاشی ذمہ داریوں کا بوجھ کم کیا جاسکے اور بچے کو کھیلنے کے لئے کچھ بچے ملیں۔

جس کے نتیجے میں شوہر نے اپنی ملازمت کے کچھ گھنٹے کم کرکے بچے کے ساتھ وقت گزارنا اور گھریلو کام کاج میں تھوڑا بہت حصہ لینا شروع کردیا۔ اب زندگی تھوڑی سی آسان ہوگئی تھی ایک سال ملازمت کرنے کے بعد اب میرے پاس ایک استمال شدہ گاڑی تھی جس نے میرے کنیڈین تعلیم کے حصول کو ممکن بنانے میں میری بہت مدد دی۔ میں نے کنیڈین گورنمنٹ سے اسکالرشپ حاصل کرکے کنیڈین تعلیم حاصل کی اور ایک گورنمنٹ اسکول میں پڑھانا شروع کردیا۔

اب میں فُل ٹائم ملازمت، گھر اور بچے کی دیکھ بھال کرتی ہوں اور اس کے علاوہ فلاحی کاموں میں مستقل بڑھ چڑھ کر حصہ لینے اوراپنی دیگر مشاغل جیسے موسیقی، سوئمنگ، شاعری کو بھی وقت دے لیتی ہوں۔ میرے شوہر فُل ٹائم ملازمت کے ساتھ بالکل برابری سے بچے کی پرورش اورگھر کے کام کاج میں حصہ لیتے ہیں۔ آج مجھے یہ اقرار کرنے میں کوئی عار نہیں ہے کہ بچپن سے لے کر آج تک مُنہ پھٹ، لڑاکا اور ضدی پن نے مجھے زندگی کے اس مقام پر پہنچنے میں بہت مدد دی۔

ہم اکثر لڑکیوں کو اچھا انسان بنانے کے بجائے تابع دار عورت بنے کی تربیت دیتے اور اُن کو کہیں کا نہیں چھوڑتے۔ میں شُکر گزار ہوں کہ زندگی مجھ پر کبھی بہت مہربان نہیں رہی اور مجھے لڑتے جھگڑتے آگے بڑھنے کا موقعہ ملتا رہا۔ اس موقعے کی مناسبت سے میرا اپنا ہی شعر ہے
زندگی پھر تمہیں ضرور چاہے گی
پہلے سیکھو کھلانا آگ میں پھول

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں