لڑکے روتے نہیں ہیں، تم لڑکی ہو کیا؟ مرد بنو

میرا بیٹا دانیال جو اس وقت پندرہ سال کاہے اور پیدائش سے لے کر آج تلک ہر دن مجھے ایک چونکا دینے والی بات ضرور سکھاتا ہے۔ تقریباً دو سال پہلے جب وہ بچپن کو خدا حافظ کہ کر لڑکپن کی دہلیز پر قدم رکھ رہا تھا تو ایک دن اسکول سے کچھ افسردہ لوٹا۔ بچے عموماً بچے اس عمر میں اپنے ہارمونز کی تبدیلیوں کی وجہ سے تھوڑے موڈی اور تیزی سے جذباتی اتار چڑھاو کا شکار رہتے ہیں۔ اس لیے میں نے کچھ زیادہ توجہ نہیں دی۔ مگر جب رات کو ہوم ورک کرتے ہوتے اس کی آنکھوں میں آنسو دیکھے تو تشویش ہوئی اور اس سے میں نے پوچھنے کی کوششیں کی کہ معاملہ کیا ہے۔ مگر اس نے بجائے مجھ سے اپنے دل کی بات شیر کرنے کے بے رخی سے کہا کہ میں ٹھیک ہوں۔

بہرحال کمرے سے باہر جاتے ہوئے جب میں نے اس سے کہا کہ اگر تم بہتر سمجھو تو اپنی اداسی کی وجہ مجھے بتا دینا میں انتظار کروں گی۔ اور بچے نے تقریباً جھنجھلاتے ہوئے مجھے کہا کہ ”ہاں ہاں مجھے پتا ہے کہ لڑکے روتے نہیں ہیں اور مرد اپنا خیال خود رکھ سکتے ہیں“ ۔

Read more

کیا بچے کے آٹیزم سے لڑنا ہے یا اسے قبول کرنا ہے؟

کچھ عرصہ پہلے ایک دوست کے توسط سے مجھے ایک صاحب نے پاکستان سندھ کہ کسی چھوٹے شہر سے فون پر رابطہ کیا جن کی بچی آٹیزم کی حامل تھی۔مجھے یہ سن کر بہت افسوس ہوا کہ ان کے شہر میں آٹیزم کے حامل بچوں کے لیے کوئی تعلیمی اور تربیتی سہولیات موجود نہیں تھی۔ بچی کی آٹیزم کی تشخیص کے لیے بھی کراچی جا نا پڑا تھا اور تھراپی یا تعلیمی سہولیات کے مشورے لینے بھی کسی بڑے شہر کا رخ کرنا پڑتا ہے۔

میں ایک پاکستانی نژاد کنیڈین اسپیشل ایجوکیٹر ہوں اور ٹورنٹو کینیڈا میں مقیم ہوں۔ پچھلے دس سالوں سے ڈسٹرکٹ اسکول بورڈ کے لیے بطور اسپیشل ایجوکیٹر اپنے فرائض انجام دے رہی ہوں۔

Read more

بچوں سے جنسی زیادتی اور تشدد

بچپن میں تو بد قسمتی سے، یقیناً کسی نہ کسی طرح کم و پیش، ہم سبھی تھوڑی بہت جنسی زیادتی کا شکار ہو چکے ہیں اور بہت سے خواتین اور مرد ایسے بھی ہیں، جو اپنی نو جوانی اور بڑھاپے میں بھی اس ٹرامے کا اثر رکھتے ہیں۔

اکثر افراد جنسی زیادتی سے جڑی شرم اور تذلیل کو لا شعوری طور سے اپنا قصور مان کر اپنی یاد داشت سے ان واقعات کو نا صرف مٹا چکے ہیں، بلکہ اس سلسلے میں ”می ٹو موومنٹ“ کی اہمیت کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔

Read more

جنسی بے حرمتی: آخر قصور کس کا ہے؟

بہت سے لوگ جنسی بے حرمتی کے بارے میں بات کرنے سے کتراتے ہیں، کچھ لوگ اپنے ساتھ ہوئی جنسی بے حرمتی کو اپنے آپ سے بھی چھپاتے ہیں۔ وہ یا تو دل ہی دل میں اپنے آپ کو اس کا ذمہ دار سمجھتے ہیں اور شرمندہ محسوس کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے ساتھ جنسی بے حرمتی کیسے ہونے دی یا ان کا کامل یقین ہوتا ہے کہ وہ اتنے کم اہم ہیں کہ جنسی زیادتی یا بے حرمتی

Read more

لاک ڈاؤن کے دوران بچوں سے برتاؤ کیسا رکھیں

جب کینڈا کی انتہائی تیز رفتار زندگی میں صبح سویرے بھاگ دوڑ کرکے ملازمت پر پہچنے اور دن بھر شدید جسمانی اور ذہنی مشقت کی بجائے ہلکی سردی میں بستر میں بیڈ ٹی کے مزے لیتے، آن لائن ٹیچنگ کرتے اور موسیقی سنتے ہوئے کھڑکی میں سے ہری ہری گھانس پر بارش کے قطروں کی نمی دیکھنے کو میسر آئے تو عابدہ پروین کی آواز میں گائی ہوئی ضیاء جالندھری کی غزل ”رنگ باتیں کریں اور باتوں سے خوشبو آئے“

Read more

کرونا وائرس، بے حیائی اوراللہ کا عذاب

لاوڈاسپیکر پر چیختے چلاتے مقامی مسجد کے پانچویں پاس مولوی صاحب ہوں یا پھر ٹی وی چینلز، یوٹیوب اور فیس بُک پرہزاروں دینی کتابیں پڑھ کر بیٹھے علماء دین، سب سائنس کی ترقی سے فائدہ اُٹھا کر اُسے معاشرتی بے راہ روی کا مرتکب ٹھہراتے ہیں۔ یوں تو یہ مولوی حضرات سال میں کئی بار ہوائی جہاز اور تیزرفتار کاروں میں دُنیا بھر کا سفر شان سے کرکے چند ہی گھنٹوں میں دُنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تبلیغ

Read more

وبا کے دنوں میں سفر

اگر اُس روز فون پر امی کی آواز میں یہ پوچھتے ہوتے اتنی اُداسی نہ ہوتی کہ ”کیا اب تم کرونا وائرس کی وجہ سے پاکستان نہں آؤ گی؟ تو میں کبھی بھی کینیڈا سے پاکستان جانے کا ارادہ کم از کم اُس وقت نہ کرتی جب دنیا کو ایک مہلک وبا نے اپنے جال میں پھنسا رکھا ہے۔

امی دسمبر 2019 میں شدید بیمار رہنے کے بعد اب تھوڑی تھوڑی صحت یاب ہورہی تھیں اورمیرا بہت شدت سے دل چاہ رہا تھا کہ میں اُن سے ملنے پاکستان جاؤں۔
ملازمت سے چھٹی لے کر فلائیٹ بُک کرواتے ہی کرونا وائرس کی خبریں آنا شروع ہوگئیں اور میرے ارادے کمزور پڑنے لگے۔

Read more

کیا محبت میں جنگ جائز ہے؟

پاکستان اور بھارت مسئلہ کشمیر پر پچھلے ستر سالوں سے ایک دوسرے پر بندوقیں تانے کھڑے ہیں۔ اوراس ہفتے ایک بار پھر یہ خطہ اس مسئلے کو لے کر پُرآشوب ہے۔ اس تنازعے پر دونوں ممالک کے درمیان دوجنگیں 1947 اور 1965 میں ہوچکی ہیں اور 1989 سے لیکرآج تک مستقل ہونے والے تشدد میں ایک اندازے کے مطابق 47,000 لوگوں کی جانیں جا چکی ہیں۔ یاد رہے کہ اس اعداد و شمار میں گمشدہ افراد اور انسانی حوق کی

Read more

کیا آپ بھی اپنے شوہر کو مجازی خدا سمجھتی ہیں؟

بچپن میں بزرگ خواتین سے سُنتے آئے تھے کہ شوہراپنی بیوی کا مجازی خدا ہے۔ اگر بیوی کو خدا کے بعد کسی تو سجدہ کرنا جائز ہو تا تو وہ اُسکا شوہر ہوتا۔ نوجوانی میں میرے ذہن میں بارہا یہ سوال اُٹھتا تھا کہ شوہر کے حقوق اور اختیارات بیوی سے زیادہ کیوں ہیں؟ اور جواب دیا جاتا کیونکہ اُس پر معاشی ذمہ داری کا فریضہ ہے۔ میں اکثر یہ سُن کر سوچ میں پڑجاتی تھی کہ کیا بچہ پیدا

Read more

کیا صرف خوبصورت عورت ہی مردوں کے لئے قابل قبول ہوتی ہے؟

نئے سال کی آمد آمد ہے اور ہر سال کی طرح اس سال بھی دنیا میں ہزاروں لوگ یقیناً وزن کم کر کے اچھا نظرآنے کا عظم کررہے ہیں۔ جم والے ممبر شپ بیچنے کے لئے ریڈیو، ٹیلی وژن اور انڑنیٹ پر چلا چلا کر بتا رہے ہیں کہ نئے سال میں آپ کا اچھا دکھائی دینا کیوں ضروری ہے۔ وہ تمام افراد جو 2018 میں اپنا وزن کسی بھی طرح سے کم کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے یا کم از کم کمپیوٹر ٹیکنیک کے ذریعے دکھانے میں کامیاب تھے، اشتہارات میں اپنے پرانے ایکسٹرا لارج کپڑوں کے ساتھ فخر سے سینہ تانے کھڑے کچھ نہ کچھ بیچتے نظر آتے ہیں۔

صحت مند رہنے کے لیے وزن کا خیال رکھنا انتہائی ضروری ہے مگربڑھے ہوئے وزن کے ساتھ اچھا نہ لگنے والے نظریے کا براہ راست تعلق ہماری نفسیات سے ہے۔ اچھا لگنے کی اس جدوجہد میں عورتیں یقیناً مردوں سے آگے ہیں کیونکہ بچپن سے ہی پوری دنیا ملکر ہمیں یہ بتا رہی ہے کہ تمھارے اچھا محسوس کرنے کے لئے اچھا دکھائی دینا ضروری ہے۔ شادی شدہ عورتوں کے شوہر اگر بے وفائی کے مرتکب ہوں یا دوسری عورتوں میں دلچسپی لیں تو پورا معاشرہ مردوں کو مورد الزام ٹھہرانے کے بجائے بیویوں کو یہ کہتا نظر آتا ہے کہ تم اپنے آپ کو بنا سنوار کے نہیں رکھتیں یا وزن کنڑول میں نہیں رکھا تو یہ تو ہونا ہی تھا۔

Read more

کیا ہم معذور افراد کے لئے مہذب زبان استعمال کرتے ہیں؟

تین دسمبر معذور افراد کے حقوق کا عالمی دن ہے۔ اس وقت پوری دنیا میں معذور افراد کے حقوق کے لئے چلائی جانے والی تمام تحریکوں میں یہ بات زیر بحث ہے کہ اُنہیں معاشرے میں برابری کا درجہ کیسے حاصل ہو۔

معذور افراد اور میرا چولی دامن کا ساتھ ہے، میں نہ صرف پچھلے 12 سال سے کینیڈا میں اسکول بورڈ اور کمیونیٹی سرویس ایجنسیوں میں معذور بچوں اور ان کے والدین کے ساتھ کام کرہی ہوں بلکہ اپنی رشتے داروں اور دوستوں میں موجود معذور افراد کی مدد کرنا میری زندگی کا سب سے بڑا اعزاز ہے۔

Read more

لڑکی اچھا انسان بنے یا تابعدار عورت؟

پردیس کی 20 سالہ زندگی میں خود کے بارے میں جاننے اور خود کو بہتر انسان بنانے کے بہت مواقعے میسر آئے یا پھر یوں کہیں کہ میں نے حالات سے لڑجھگڑ کر چھینے۔ اور اب اگر پیچھے مڑ کر دیکھتی ہوں تو خود کو ہی نہیں پہچان پاتی ہوں۔ کمیونٹی میں رضا کارانہ کام، کنیڈین تعلیم اور تعلیمی ادارے میں ملازمت نے مجھے اس طرح کنیڈین معاشرے کا حصہ بنا دیا ہے کہ اب تو ہجرت کے دُکھ سُکھ بھی کم لگنے لگے ہیں۔ ہمارے یہاں ذاتی دلچسپیوں اور کامیابیوں پر فخر کرنا، صلاحیتوں کو اُجاگر کرنا اور اس کے بارے میں بات کرنا خاصا معیوب سمجھا جاتا ہے۔

Read more