لڑکے روتے نہیں ہیں، تم لڑکی ہو کیا؟ مرد بنو
میرا بیٹا دانیال جو اس وقت پندرہ سال کاہے اور پیدائش سے لے کر آج تلک ہر دن مجھے ایک چونکا دینے والی بات ضرور سکھاتا ہے۔ تقریباً دو سال پہلے جب وہ بچپن کو خدا حافظ کہ کر لڑکپن کی دہلیز پر قدم رکھ رہا تھا تو ایک دن اسکول سے کچھ افسردہ لوٹا۔ بچے عموماً بچے اس عمر میں اپنے ہارمونز کی تبدیلیوں کی وجہ سے تھوڑے موڈی اور تیزی سے جذباتی اتار چڑھاو کا شکار رہتے ہیں۔ اس لیے میں نے کچھ زیادہ توجہ نہیں دی۔ مگر جب رات کو ہوم ورک کرتے ہوتے اس کی آنکھوں میں آنسو دیکھے تو تشویش ہوئی اور اس سے میں نے پوچھنے کی کوششیں کی کہ معاملہ کیا ہے۔ مگر اس نے بجائے مجھ سے اپنے دل کی بات شیر کرنے کے بے رخی سے کہا کہ میں ٹھیک ہوں۔
بہرحال کمرے سے باہر جاتے ہوئے جب میں نے اس سے کہا کہ اگر تم بہتر سمجھو تو اپنی اداسی کی وجہ مجھے بتا دینا میں انتظار کروں گی۔ اور بچے نے تقریباً جھنجھلاتے ہوئے مجھے کہا کہ ”ہاں ہاں مجھے پتا ہے کہ لڑکے روتے نہیں ہیں اور مرد اپنا خیال خود رکھ سکتے ہیں“ ۔
Read more

