کرکٹ کے تین کھلاڑی اور امن کی خواہش


 

کرکٹ سے مقبولیت حاصل کرنے والے عمران خان کرکٹ میں کامیابی کے فوری بعد جب انیس سو بانوے میں وطن واپس آئے تو کسی کو یہ شائبہ بھی نہ تھا کہ وہ سیاست میں کود جائیں گے بلکہ انہوں نے اپنی وکٹری سپیچ میں صرف اپنے ماں کے نام پر شوکت خانم ہسپتال قائم کرنا اپنا مشن قرار دیا تھا جو انہوں نے حاصل کر کے دکھایا۔

سیاست کے بارے میں شاید اس وقت انہوں نے کبھی سوچا نہ تھا، ہاں انیس سو چھیانوے میں جب بینظیر بھٹو کی دوسری حکومت کے آخری دنوں میں نواز شریف کے دوبارہ حکومت سمبھالنے کے چرچے شروع ہوئے تو عمران خان بھی تحریک انصاف بنا کر سیاست میں کود پڑے۔ اور لوگوں کو انصاف، غربت کا خاتمہ، موروثی سیاست کو قبر میں دفنا دینے کا نعرہ بلند کیا اور میدان میں کود پڑے۔

ستانوے کے انتخابات جن میں سب کو پتہ تھا کہ میاں محمد نواز شریف کو بھاری میڈیٹ دے کر پھر سے حکومت حوالے کی جانی ہے، اور یہی ہوا کہ میاں صاحب بھاری مینڈیٹ کے ساتھ جیت کر یا جتوائے جانے کے بعد وزیرآعظم کی کرسی پر بیٹھے، جبکہ عمران خان اپنے شہر میانوالی جہاں ان کا اپنا ووٹ بھی درج نہیں تھا، وہاں ینہوں نے نہ صرف شکست کھائی بلکہ ضمانت بھی ضبط کرا بیٹھے۔

خیال یہ تھا کہ وہ ہمت ہار جائیں گے پر وہ دو ہزار دو دو کے انتخابات میں دوبارہ میدان میں اتر پڑے، اس بار انہوں نے میانوالی کی دوسری نشست جو عیسی خیل، کالا باغ، قمر مشانی کے علاقوں پر مشتمل ہے، سے ایک سیٹ جیت سکے، ان کے باقی تمام امیدوار ہار گیے۔ وہ خود پہلی بار اسمبلی میں پہنچے، علاقے کے لئے تو کچھ نہ کر سکے، نہ آج تک کچھ کیا، پر وہ پارلیمان میں داخل ہو گئے۔

بائیس سال کے انتظار اور گاؤں گاؤں، قصبہ قصبہ، شہر شہرتقریروں، جلسوں اور دوروں کے بعد دوہزار اٹھارہ میں پہلی بار برتری لے کر یا برتری حاصل کروا کر میدان مارا اور اگست میں وزیر اعظم کا عہدہ سمبھال لیا۔ ان کی حلف برداری کی تقریب بہت سے حوالوں سے اخبارات کی زینت بنی، پر جس خبر نے جنوبی ایشیا میں ہلچل مچا دی، وہ عمران خان سے تو نہ ملی بلکہ ایک تین سیکنڈ کی جھپی یعنی بغلگیری اور اس دوران ہونے والی گفتگو سے ملی۔

عمران خان نے اپنی تقریب حلف برداری میں جہاں اور بہت سے لوگوں کو بلا رکھا تھا ان میں پاکستان اور بھارت کے کرکٹر بھی شامل تھے۔ ، اور ان بھارتی کرکٹرز میں سے نوجوت سنگھ سدھو سرفہرست تھے۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور نوجوت سنگھ سدھو کی جھپی کے دوران جنرل باجوہ نے اشارہ دیا کہ سکھوں کے مقدس مقام ڈیرہ بابا نانک کو سکھوں کے لیے کھول دیا جائے گا جو نارووال ضلع میں راوی کنارے بھارتی سرحد سے صرف چار کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔ سدھو نے جوں ہی اس بات چیت کی تفصیلات کا اعلان میڈیا میں کیا، بھارت میں ان کے خلاف طوفان کھڑا ہو گیا اور ان کے پاکستان کے دورے اور اور آرمی چیف سے ملاقات پر پورے بھارت میں شدید تنقید ہوئی۔ پر سدھو ڈٹے رہے اور کہا کہ کرتار پور کا راستہ کھولنا سکھوں کا دیرینہ خواب ہے جو بہتر سال بعد پورا ہو رہا ہے اور یہ راہداری یا بقول سدھو لانگھا دونوں ملکوں کے درمیان امن اور دوستی کی علامت ثابت ہوگا۔

اس مختصر ملاقات پر یہاں بھی تنقید ہوئی اور کہا گیا کہ یہ اعلان گو کہ اچھا ہے پر اس کا اعلان عمران خان کو خود کرنا چاہے تھا۔

ابھی یہ طوفان تھما ہی تھا کہ ایک اور کرکٹر، شاہد آفریدی میدان میں اترے اور ایک تقریب میں کہہ ڈالا کہ کشمیر کامسئلہ کوئی مسئلہ ہی نہیں ”پاکستان کو کشمیر نہیں چاہیے، نہ بھارت کو کشمیر دو، کشمیر اپنا ایک ملک بنے، کم از کم انسانیت تو زندہ رہے انسان جو مر رہے ہیں وہ تو نہ مریں“، شاہد آفریدی کا یہ کہنا تھا کہ انہیں بھی ہر طرف سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ ہو سکتا ہے کہ تین کھلاڑیوں کے دل میں امن کی آشا ایک ساتھ پیدا ہونا اتفاق ہو، پر میں تو ہمیشہ سے کہتا رہا ہوں کہ دونوں ملک کشمیریوں کہ اپنا مستقبل کا فیصلہ خود کرنے دیں، کہ انہوں نے الگ رہنا ہے یا پاکستان کے ساتھ یا پھر بھارت کے زیر سایہ۔

دونوں ملکوں کے درمیان ٹریک ٹو یا بیک دور ڈپلومیسی ہمیشہ سے ہوتی رہی ہے، کرکٹ ڈپلومیسی بھی اختیار کی گئی، سمجھوتہ ٹرین بھی چلی، اور دوستی بس بھی سڑکوں پر دوڑی، امن کی آشا بھی جلی، اور اداکاروں اور گلوکاروں نے نے اپنے فن اور سروں سے دوستی کے رنگ جمانے کی کوشش کی پر دل ابھی تک جڑ نہ سکے۔

شمالی کوریا اور جنوبی کوریا کے درمیان اگر برف پگل سکتی ہے تو یہاں کیوں برف جمی رہے، برلن کی دیوار گر سکتی ہے اور متحدہ جرمنی پورے یورپ میں اقتصادی ترقی کے لئے کردار ادا کر سکتا ہے تو پاکستان اور بھارت جنوبی ایشیا میں یہ کردار کیوں ادا نہیں کر سکتے؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے جوابات ملنے میں شاید اب بھی بہت وقت لگے۔

اس بار کرتار پور راہداری کھولنے کا اعلان کر کے منفرد طریقہ اپنایا گیا۔ کرتار پور بابا گرو نانک کی آخری آرام گاہ ہے، اور بابا گرو نانک کی تعلیمات، امن آشتی بھائی چارہ ہے، نوجوت سنگھ سدھو کرکٹر ہونے کے علاوہ شاعر اور سیاست دان بھی ہیں اور وہاں کی شاعری کے علاوہ بابا فرید اور بھلے شاہ کو بھی اپنی تقریروں اور جملوں میں بھرپور طریقے سے بیان کرتے ہیں، بھلے شاہ اور بابا فرید بھی اپنی شاعری میں امن آشتی، بھائی چارہ اور دوستی کا درس دیتے ہیں۔ دوستی کا وہ درس جو یہاں اولیا کرام چاہے وہ سرحد کے اس طرف ہوں یا سرحد کو اس پار وہ بھی دیتے رہے۔ اجمیر شریف والے خواجہ ہوں یا دلی والے نظام الدین اولیا، یا پھر داتا گنج بخش ہوں یا پھر پاک پتن کے بابا فرید گنج شکر، سب نے امن محبت اورشانتی کا درس دیا۔

لگتا ہے اب وقت آگیا کہ، بابا گرو نانک، بابا فرید، بھلے شاہ یا پھر بابا اجمیر شریف والے، یا حضرت داتا گنج بخش کا امن آشتی بھائی چارے اور دوستی کے پیغام کو عملی جامہ پہنانے کا وقت آپہنچا ہے۔ یہ دونوں طرف کے عوام کی وہ خواہش ہے جو یہاں بھوک افلاس اور ننگ ختم کر سکتی ہے۔ کرتار پور راہداری یا لانگھے کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھا جا چکا جا چکا ہے، جس کے بعد بی جے پی کی حکومت نے جو رویہ اختیار کیا وہ قابل تعریف نہیں قرار دیا جا سکتا، پر امید کی جاسکتی ہے کہ انہیں بھی اپنا رویہ تبدیل کرنا ہوگا۔ اس وقت کی پاکستانی حکومت اور ایسٹیبلشمنٹ پاک بھارت معملات کو درست سمت پر ڈالنے کے لیے ایک پیج پر لگ رہے ہیں، بھارت کو بھی اس کا مثبت جواب دینا ہوگا۔

Facebook Comments HS