طویل دشمنی کے بعد پیدا ہوتی دوستی اور جان لیوا قاتل
دونوں سرداروں نے اپنے سامنے اپنی ممکنہ شکست اور موت کے سائے منڈلاتے دیکھے۔ دونوں یہ سمجھتے تھے کہ اس کے آدمی دیر سے اس کی مدد کو پہنچیں گے جبکہ اس کے دشمن کے آدمیوں کے وہاں پہنچنے کے امکانات بھی موجود ہیں۔ یہ صرف ایک موہوم سی امید ہی تھی کہ کس کے آدمی پہلے وہاں پہنچ کر دوسرے کے لئے سبکی کا سامان پیدا کر دیں۔ لہذا کافی دیر کوششوں کے بعد دونوں نے درخت کے بھاری شکنجہ سے نکلنے کی اپنی کوششوں کو ترک کر دیا اور خود کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ کر چپ سادھ لی۔ سلطان گھائنچا نے اپنے بائیں ہاتھ کو حرکت دی اور اپنی سائیڈ ہولسٹر میں لگے نیم گرم قہوہ سے بھری بوتل کو کھینچ لیا۔ اگرچہ قہوہ کی بوتل تو وہ نکالنے میں کامیاب ہو ہی گیا تھا مگر اپنے حلق میں اس کے گھونٹ ڈالنے کے لئے اسے کافی دیر تک سخت محنت اور درد کی شدت سے گزرنا پڑا۔
قہوہ کے گھونٹ جسم میں اترتے ہی اسے کچھ توانائی محسوس ہوئی۔ یکایک اس کے منہ سے نکلا، ”اگر میں بوتل تمہاری طرف پھینکوں تو کیا تم ہاتھ بڑھا کر اسے پکڑ سکتے ہو۔ اس میں بہت ہی شاندار قہوہ ہے اور اسے پی کر کچھ توانائی ملے گی اگرچہ موت ہم میں سے کسی ایک کا مقدر تو بننے والی ہی ہے“۔ امین چُھٹا نے جواب دیا کہ، ”نہیں، میری آنکھوں میں خون جمع ہے۔ میرے ہاتھ بہت بری طرح پھنسے ہوئے ہیں۔ مگر ان کے باوجود بھی میں اپنے دشمن کے ساتھ قہوہ پینے میں بالکل بھی دلچسپی نہیں رکھتا“۔
سلطان گھائنچا کافی دیر تک خاموش رہا اور سرد، تاریک رات میں آوازیں سننے کی کوشش کرتا رہا۔ اپنے دشمن کو شدید بے بسی میں مبتلا دیکھ کر مگر پھر بھی اپنے لئے اس قدر نفرت محسوس کرتے ہوئے اس کے دماغ میں لمحہ لمحہ تقویت پاتا ایک خیال آہستہ آہستہ جاگزیں ہو رہا تھا۔ اس کے دل سے نفرت ختم ہو رہی تھی اور دشمنی کے جذبات ختم ہو رہے تھے۔ اس نے امین چُھٹا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ، ”پڑوسی، اگر تمہارے آدمی پہلے پہنچ گئے تو جیسے تمہارا دل کرتا ہے ویسے ہی کرنا۔
مگر میں نے اپنا ذہن بدل لیا ہے اور فیصلہ کیا ہے کہ میرے آدمی اگر پہلے پہنچ گئے تو میں انہیں حکم دوں گا کہ وہ میرے مہمان کی حیثیت سے پہلے تمہیں اس بوجھ سے نجات دلا کر طبی امداد دینا شروع کریں اور بعد میں مجھے اس بوجھ سے نکالیں۔ ہم ساری زندگی جنگل کے اس چھوٹے سے حصہ کی ملکیت کے لئے شیطانوں کی طرح لڑتے رہے ہیں جبکہ یہاں کے درخت تو تھوڑی سی تیز ہوا کا مقابلہ تک نہیں کر سکتے اور اپنے مالک کے اوپر ہی آ گرتے ہیں۔
اس بھاری درخت کے نیچے زخمی حالت میں لیٹے ہوئے مجھے یہ لگ رہا ہے کہ جنگل کے اس چھوٹے سے حصہ کے لئے لڑنا بہت ہی احمقانہ کام ہے جبکہ کرنے کے لئے زندگی میں بہت ہی اچھے اور کئی دوسرے کام ہیں۔ پڑوسی، اگر تم میری مدد کرو تو ہم دشمنی کا یہ سلسلہ ہمیشہ کے لئے دفن کر سکتے ہیں اور ایک دوسرے کے اچھے دوست بھی بن سکتے ہیں“۔
امین چُھٹا یہ سن کر کافی دیر تک خاموش رہا اور سلطان گھائنچا کو لگا کہ اپنے زخموں کی شدت سے شاید وہ بے ہوش ہو چکا ہے۔ پھر وہ آہستگی سے کراہتے ہوئے بولا، ”اگر ہم اکٹھے ہو کر شہر کی طرف جائیں تو سب لوگ کس قدر حیران رہ جائیں گے۔ اس علاقہ میں جتنے بھی لوگ زندہ ہیں انہوں نے کبھی ایک گھائنچا کو چُھٹا کے ساتھ دوستوں کی طرح اکٹھے نہیں دیکھا۔ اگر ایسا ہو جائے تو تین نسلوں سے جاری خون خرابہ بند ہو جائے گا۔ لڑائی اور جنگ کے لئے سامان خریدنے کی بجائے ہم اپنے لوگوں کی فلاح و بہبود اور ترقی کے لئے خریداری کریں گے۔
اگر ہمارے یہاں امن قائم ہو جائے تو کوئی تیسرا دخل اندازی کرنے کی جرأت نہیں کر سکے گا۔ تم اور تمہارے لوگ آسانی سے ہمارے علاقوں سے بغیر معاوضہ اداکیے شہر جا کر اپنی خریداری کر سکیں گے اور ہمارے لوگوں کو تمہارے گھنے جنگلوں میں شکار اور لکڑی کے لئے مزید علاقہ مل سکے گا۔ ہماری آپسی لڑائی سے فائدہ اٹھانے والے انگریز بھی تو ہمیں کوئی ہتھیار مہنگے داموں بیچ نہیں سکیں گے۔ میں تمہیں اپنے یہاں جشن نوروز منانے کی دعوت دیا کروں گا اور عید کے موقع پر میں اور میرے لوگ تمہاری مہمان داری کا لطف اٹھایا کریں گے۔ ہاں سلطان، مجھے بھی یہی صحیح لگتا ہے کہ ہم دشمنی بھول کر نئی اور پائیدار دوستی کی بنیاد رکھیں۔ “
دونوں سرداروں کو یہ بول اور سن کر بہت اچھا لگا اور وہ دشمنی کی بجائے امن اور محبت کے آنے والے دنوں کے خوشیوں بھرے لمحات کے تصورات میں کھو گئے۔ وہ حیران تھے کہ جس خونی دشمنی کو تمام قبائل کے جرگے بھی ختم نہ کروا سکے آدھا گھنٹہ پہلے ہونے والے ایک حادثہ نے اسے کیسے بھلا دیا اور دوستی میں تبدیل کر دیا۔ جنگل کی ٹھنڈی زمین پر یخ بستہ ہواؤں میں درخت کے نیچے زخمی حالت میں پڑے ہوئے انہیں اس امدار کا انتظار تھا جو انہیں درخت کے بوجھ سے نکال کر دوستی کے حسین رشتہ میں کھڑا کر دیتی۔
دونوں اپنے طور پر خاموش دعائیں بھی کر رہے تھے کہ اس کے آدمی پہلے اس مقام تک پہنچیں تاکہ وہ دوسرے کو درخت کے نیچے سے پہلے نکلوا کر دوستی کے اس نئے رشتے میں زیادہ حصہ ڈال سکے۔ کچھ دیر بعد سلطان گھائنچا نے کہا کہ، ”کیوں نہ ہم مدد کے لئے اپنے لوگوں کو پکاریں تاکہ وہ ہماری آواز سن کر سیدھا ہماری طرف ہی آئیں“۔
امین چُھٹا نے کہا کہ ”ہم دونوں کو پھر مل کر آواز دینی چاہیے تاکہ ہماری اکٹھی آواز دور تک پہنچ سکے اور اگر ہمارے ساتھی دور ہوں تو وہ فوراً اسے سن کر ہماری طرف آ سکیں“۔
دونوں نے مل کر جنگل میں شکار کرنے کے دوران ساتھیوں کو متوجہ کرنے والی ہوک جیسی آواز نکالنا شروع کی مگر کافی دیر تک بھی یہ آوازیں دینے کے باوجود بھی انہیں کوئی جواب نہیں سنائی دیا۔
سلطان گھائنچا نے کہا، ”مجھے تو جنگل کی تیز ہوا کے علاوہ کچھ نہیں سنائی دے رہا۔ کہیں ہمارے ساتھی شدید ٹھنڈ کی وجہ سے اپنے گھروں میں جا کر سونے تو نہیں چلے گئے“۔
امین چُھٹا نے کہا، ”ایسا نہیں ہو سکتا۔ ایک دفعہ پھر کوشش کرتے ہیں۔ ہمارے ساتھیوں میں سے کوئی نہ کوئی ضرور ہماری آواز سن کر اس طرف بھاگا چلا آئے گا“۔
دونوں نے پوری طاقت سے پھر آواز لگائی۔ سلطان نے کہا کہ ”میں نے بھاگتے قدموں کی آوازیں سنی ہیں۔ آہ، مجھے اپنا سر اونچا کر کے ان آوازوں کی سمت دیکھنا ہوگا۔ ارے ہاں، میں دور سے کچھ ہیولے دیکھ سکتا ہوں جو اسی طرف سے ہماری جانب بھاگتے آ رہے ہیں جس طرف سے میں یہاں آیا تھا“۔
یہ سن کر دونوں میں جوش بھر گیا اور دونوں زور زور سے چلانے لگے کہ اس طرف آؤ، ہم یہاں گرے ہوئے درخت کے نیچے پھنسے ہوئے ہیں۔
سلطان گھائنچا نے کہا کہ، ”ہاں میں اب انہیں دیکھ سکتا ہوں“۔ امین چُھٹا نے پوچھا کہ وہ کتنے ہیں۔
سلطان نے کہا، ”وہ بہت دور سے دھول اڑاتے ہوئے آ رہے ہیں۔ شاید وہ 11 / 12 تک ہیں“۔ امین چُھٹا نے کہا کہ، ”پھر وہ تمہارے ہی ہو سکتے ہیں کیونکہ میرے ساتھ تو صرف 5 ہی تھے“۔
سلطان گھائنچا نے کہا کہ، ”وہ بہت تیز رفتاری سے ہماری طرف ہی بھاگ رہے ہیں“۔
امین چُھٹا نے پوچھا، ”تم نے اتنے آدمی پہرے کے لئے رکھے ہوئے ہیں۔ واہ، یہ بہادر آدمی فوراً ہی ہمیں اس مصیبت سے نجات دلا دیں گے۔ واہ، میرے دوست یہ تمہارے بہادر آدمی، واہ“۔
سلطان گھائنچا نے یکایک خوفزدہ اور ہسٹریائی انداز میں ہنسنا شروع کر دیا اور کہا کہ، ”نہیں یہ میرے آدمی نہیں ہیں“۔
بہتے خون کی وجہ سے بند آنکھوں کی وجہ سے دیکھ نہ سکنے والے امین چُھٹا نے حیرانگی سے پوچھا، ”تو پھر یہ کون ہیں“۔
سلطان گھائنچا نے ہسٹریائی آواز میں جواب دیا، ”مم“
پس تحریر نوٹ:۔
اس مضمون کو پڑھنے والے اگر حالیہ پاک، بھارت تعلقات میں جنبش برپا کرنے والے کرتار پور بارڈر کھولنے کے واقعہ سے منسوب کرنا چاہیں تو یہ غلط نہیں ہو گا۔ اس کہانی میں انسانوں کو چیر پھاڑ کر شکار کرنے والے ”مم“ کا کردار ہمارے حقیقی و زمینی حالات میں امن دشمن طاقتیں اور سیاسی مفادات حاصل کرنے کے لئے اختلافات کو اچھالنے والے سشما سوراج اور اس جیسے دوسرے کئی لوگ ادا کر رہے ہیں۔

