درسگاہوں میں جنسی ہراسانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خواتین کو جنسی ہراساں کرنے کی خبریں گزشتہ کئی دن سے مین اسٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا کی زینت بنی ہوئی ہیں۔ دیکھا جائے تو جنسی ہراسانی کے واقعات محض ہالی یا بالی ووڈ تک محدود نہیں، دنیا کے ہر ملک، ہر شہر اور ہر قصبے میں ایسے واقعات معمول کی بات ہے، اگر زہریلی مردانگی کو سائیڈ پر رکھ کر اپنے معاشرے کا بغور جائزہ لیں تو حقیقت سامنے آجائے گی۔

ہمیں واضح طور پر نظر آئے گا کہ چاہے پانچ سالہ بچی ہو یا نوجوان لڑکی، یا پھر عمر رسیدہ خواتین ہی کیوں نہ ہوں، ہمارے معاشرے میں مردوں کی نظریں ان پر ٹکی ہوتی ہیں، ہر گھڑی موقعے کے منتظر گندے لوگ موقع ملتے ہی اپنے وحشی پن اور درندگی کا مظاہرہ کر بیٹھتے ہیں۔ یقین نا آئے تو روزانہ کے اخبارات اٹھاکے دیکھیے، معلوم ہو جائے گا کہ اس قسم کے واقعات کتنی بڑی تعداد میں ہوتے رہتے ہیں۔

یہاں تعلیمی ادارے ہوں یا پبلک اور پرائیوٹ سیکٹر کے دفاتر، ہر جگہ جنسی ہراسانی پائی جاتی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ ایسے واقعات رپورٹ نہیں ہوتے۔

آج کل تعلیمی اداروں میں فیمیل سٹوڈنٹس کو ہراساں کرنے کے واقعات بڑی تعداد میں رپورٹ ہو رہے ہیں۔ حال ہی میں شہید بینظیر بھٹو یونیورسٹی نوابشاہ کی طلبہ سے ہراسانی کا واقعہ منظر عام پر آیا۔ کسی یونیورسٹی میں ہراسانی کا یہ پہلا واقعہ نہیں۔ سندھ یونیورسٹی بھی ایسے کئی کیسز کی وجہ سے کافی عرصے سے خبروں میں رہی ہے۔ گذشتہ سال ایک ہراسانی کیس تو ایوان بالا تک جا پہنچا، سوشل میڈیا سمیت کئی پلیٹ فارمز سے لوگوں نے مذمت کرتے ہوئے یونیورسٹی انتظامیہ سے مؤثر اقدامات اٹھانے کے مطالبات کیے۔

مگر متاثرہ لڑکیوں کو مختلف حربوں سے دباؤ ڈال کر ایشو کو ہمیشہ کے لیے دبا دیا گیا۔ کراچی یونیورسٹی میں جنسی ہراسانی کے خلاف آواز بلند ہوئی، بلاگ لکھے گئے، چند طالب علموں نے تحرک لیا، مگر تعداد کم ہونے کی وجہ سے اتنا احتجاج نہ اٹھ سکا جو بہروں کو سنائی دے۔ کے پی کی یونیورسٹیوں بھی اس ایشو سے دوچار ہے۔ حتیٰ کہ بی بی سی جیسے میڈیا اداروں نے بھی کے پی کے تعلیمی اداروں میں ہونے والے ہرانسانی کے مسائل کے حل کے لیے کوریج دی، مگر نتیجہ نکلا صفر!

تعلیمی اداروں میں بڑھتے ہویے جنسی ہراسانی کے واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے 2011 میں ان واقعات کے تدارک کے لئے انسداد جنسی ہراسانی پالیسی بنائی گئی تھی، تاہم ایک اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق تاحال پاکستان کے بیشتر اداروں میں یہ پالیسی نہیں اپنائی گئی۔

منظوری کے بعد انسداد جنسی ہراسانی کے خصوصی قانون کے تحت ”جنسی ترغیبات، جنسی پیش قدمی، جنسی استدعا اور جنسی تذلیل کی تمام ناپسندیدہ صورتیں خواہ وہ تحریری، زبانی یا جسمانی نوعیت کی ہوں قابل تعزیر جرم قرار دی گئی ہیں“۔ اس قانون کی موجودگی اور نفاذ کے باوجود تعلیمی اداروں میں ملازمت کرنے والی خواتین اور طالبات کی اکثریت کسی نہ کسی صورت میں جنسی ہراسانی کا شکار ہو تی ہے۔

ماضی کے اور حالیہ واقعات سے ثابت ہوتا ہے کہ تعلیمی اداروں میں جنسی ہراسانی کے زیادہ تر واقعات کا شکار طالبات ہوتی ہیں، جنہیں ساتھی طلبہ، اساتذہ، غیر تدریسی عملہ یا دوسرے افراد کے ہاتھوں مختلف نوعیت کی جنسی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سب سے بڑا مسئلا یہ ہے کہ زیادہ تر خواتین انسداد جنسی ہراسانی کے قوانین سے ناواقفیت، بدنامی کے خوف یا معاشرتی دباؤ کے باعث خاموشی رہتی ہے۔ اور ہراساں کرنے والے لوگ کارروائی سے محفوظ رہتے ہیں اور پھر سے اپنا دھندا (جنسی ہراساں کرنا) جاری رکتھے ہیں۔

ایسی صورتحال میں بھی شہید بینظیر یورنیورسٹی نوابشاہ میں پڑھنی والی نڈر لڑکی فرزانہ جمالی نے ہمت نہیں ہاری۔ فرزنہ اور اسے کے خاندان کو وڈیروں، با اثر لوگوں اور کابینہ کے وزرا کی طرف سے بھی چپ رہنے کو کہا گیا، کئی طریقوں سے دباؤ ڈالا گیا مگر فرزانہ نے ٹھان لی کہ چاہے کچھ بھی ہو جب تک انصاف نہیں ملتا، تب تک لڑتے رہنا ہے۔

اہمیت کے حامل بات یہ ہے کہ فرزانہ کو پوری سندھ سے مختلف تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے طالب علموں سے مضبوط حمایت حاصل ہوئی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر مہم چلائی، پریس کلبز کے سامنے مظاہرے کیے۔ جس وجہ سے جنسی ہراسانی کے الزام میں آنے والے وائس چانسلر اور لیکچرر استیعفے دینے پر مجبور ہویے۔

اب سوال یہ ہے کہ جنسی ہراسانی کے واقعات کیوں ہوتے ہیں؟

دراصل جنسی ہراسانی کے واقعات کی کئی ساری وجوہ ہیں۔ جس میں سے مردانہ برتری اور طاقت کا اظہار ہے، جس کے سبب خواتین پر مختلف اقسام کے مظالم ڈھائے جاتے ہیں۔ دوسری جانب صنفی امتیاز، عورتوں کو کم تر سمجھ کر محض کموڈٹی کے طور پر استعمال کر کے جینے کا حق بھی چھین لیا گیا ہے۔ سماج میں اختیارات کی تقسیم میں عورت کی کم تر نمائندگی سمیت کئی سارے اسباب ہے۔ پدری سری نظام میں عورت کو کم تر سماجی حیثیت قبول کرنے پر مجبور کیا گیا ہے، اسے ہوس کا سامان اور کم تر صنف تصور کیا جاتا ہے، جس پر مرد اپنی حاکمیت اور طاقت کا اظہار جنسی ہراسانی اور تشدد کے ذریعہ کرتے آ رہے ہیں۔

ہمارے یہاں عورت کے رویہ کو جنسی ہراسانی کی وجہ سمجھا جاتا ہے۔ جب بھی کسی عورت کو ہراساں کیا جاتا ہے یا انہیں زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے تو اس کا ذمے دار عورت کو ہی قرار دیا جاتا ہے۔

درحقیقت ہمارے یہاں شعور اور آگہی کا فقدان ہے۔ اسی وجہ سے مرد اپنی طاقت کا اظہار کر کے اپنی حاکمیت جاری رکھتا ہے۔ اس ماجرا کی اصل وجہ مردانہ برتری کا تصور ہے۔

جنسی ہراسانی سے کون سے اثرات مرتب ہوتے ہیں؟

جنسی ہراسانی کا شکار ہونے والی طالبات میں سے اکثر کے لیے یہ تجربہ خوف، شرمندگی اور احساس جرم کا باعث بنتا ہے۔ اس کے ساتھ انہیں مختلف نفسیاتی اور سماجی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ماہرین نفسیات کے مطابق جنسی ہراسانی کا شکار خواتین ذہنی دباؤ، تناؤ، کم خوابی، بے سکونی اور اعتماد کی کمی کا شکار ہو سکتی ہیں۔ جنسی ہراسانی کا شکار خواتین ہراسانی کے واقعات دوسروں کو بتانے میں دقت محسوس کرتی ہیں، جس کے باعث انہیں خود پر اعتماد نہیں رہتا اور اگر یہ سلسلہ زیادہ دیر تک چلتا رہے تو نفسیاتی اور جسمانی عوارض بھی لاحق ہو سکتے ہیں۔

مذکورہ اثرات کے ساتھ ساتھ متاثرہ طلبات پڑھائی چھوڑ دیتی ہیں۔ سکول، کالج یا یونیورسٹی جانا چھوڑنے کے سبب آگے نہ پڑھ پانے کے خیالات کی وجہ سے زیادہ ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتی ہیں۔ جس کے خطرناک نتائج نکلتے ہیں۔

جنسی ہراسانی کے واقعات کیوں رپورٹ نہیں ہوتے؟

بچوں کو بچپن سے کنٹرول کیا جاتا ہے۔ یہ کام کرنا ہے، اس چیز کے بارے میں سوچنا بھی نہیں۔ سوالات نہیں کرنے۔ صرف بڑوں کی سننی ہے۔ اگر حکم نہیں مانا تو مار پڑے گی وغیرہ۔ یہ سارے ضابطے تب اور سخت ہو جاتے ہیں، جب وہ بچہ اگر بیٹی ہے، جیسے ہی وہ بچہ بڑا ہوتا جاتا ہے تو ضابطے اور بھی سخت ہو جاتے ہیں۔ خاندان کی عزت کے بھاشن دیے جاتے ہیں، نام نہاد غیرت کی خاطر عورت کا سانس بھی مرد کے ضابطے میں ہوتا ہے۔ اگر وہ جنسی ہراسانی کا شکار ہوتی ہیں تو وہی نام نہاد عزت، غیرت اور سماج کیا کہے گا جیسے تصورات اس کی راہ میں رکاوٹ بن کر اسے خاموش رہنے پر مجبور کرتے ہیں۔

دوسری طرف ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ طلبات کی بڑی تعداد جنسی ہراسانی کے شکایات درج کرانے کے مراحل سے نا آشنا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ اگر وہ یہ سارا پراسیس جانتی بھی ہو، تو کیا بنا ہوا قانون اسے انصاف کی رسائی دے پائے گا؟ تعلیمی اداروں میں ایسی مثال خال خال ہی ملتی ہے جس سے پتہ چلے کہ فلاں لڑکی نے شکایت درج کروائی اور حکومت کے قانون کے مطابق ہراساں کرنے والے کو سزا ملی ہے۔ اگر قانون پر عملدارآمد کیا جاتا تو تعلیمی اداروں سمیت کئی ساری ورکنگ پلیسز پر جنسی ہراسانی کا ایشو کب کا ختم ہو چکا ہوتا۔

حل کیا ہے، کیا کرنا چایے؟

سب سے پہلے عورت کے بارے میں اپنی سوچ تبدیل کرنی ہو گی، اور عورت کو یہ بتانا بند کرنا پڑے گا کہ ”چپ رہو، صبر سے کام لو، معاملے کو نظرانداز کرو تو اسی میں تمہاری اور تمہارے خاندان کی بہتری، عزت ہے۔ “ ہمیں بطور طلبہ، دوست، بھائی، باپ یا کوئی اور رشتہ دار یہ بتانا چاہیے کہ ”ظلم اور جبر کے خلاف اٹھو، ہم تمہارے ساتھ ہیں“۔

جیسا کہ فرزانہ جمالی کا کیس ہمارے سامنے ہے کہ سوشل میڈیا کے استعمال اور سٹوڈنٹ پاور سے یہ مسئلہ منطقی انجام تک جا پہنچا۔ ہم طالب علموں کو ترقی پسند سوچ رکھنے والے حلقوں سے جڑت پیدا کرنا ہوگی۔ اور یہ جاننا اشد ضروری ہے کہ طلب علموں کے مسائل کا حل بھی طالب علموں کے پاس ہے۔ اگر ہم سارے اکٹھے ہو کر جدوجہد کرتے ہیں تو جنسی ہراسانی اور درپیش کئی مسائل کا حل ممکن ہو جایے گا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
رحمت علی تونیو کی دیگر تحریریں
رحمت علی تونیو کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں