کیا آپ نے کبھی اپنے شوہر کو تھپڑ مارا ہے؟


 

آج جب میری مریضہ جینیفر مجھ سے ملنے میرے کلینک آئی تو کرسی پر بیٹھنے سے پہلے اس نے ٹیشو باکس اٹھایا اور اپنے پاس رکھ لیا اور پھر اس کے منہ سے الفاط نکلنے سے پہلے اس کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے اور ٹپ ٹپ اس کی گود میں گرنے لگے۔

میں نے پوچھا ’خیریت

اس ایک لفظ نے جیسے بند توڑ دیا ہو اور وہ زار و قطار رونے لگی۔

مجھ سے بہت بڑی غلطی ہو گئی

وہ کیا؟‘ میں متجسس تھا

میں نے اپنے شوہر کو کل تھپڑ مار دیا

وہ کیوں؟

اس نے جھوٹ بولا تھا

کس قسم کا جھوٹ

وہ اکثر گیراج میں جا کر سگریٹ اور شراب پیتا ہے۔ کل میں اس سے بات کرنے گیراج میں گئی تو وہ وہاں نہیں تھا۔ مجھے اندازہ ہو گیا کہ وہ نیا سگریٹ کا پیکٹ اور چھ بیر کا پیکج لینے گیا ہے۔ میں ایک گھنٹے کے بعد پھر گئی تو وہ وہاں موجود تھا۔

میں نے پوچھا ’کہاں گئے تھے؟

کہنے لگا ’کہیں نہیں

کتنی بیر کے کین پیے ہیں؟

کہنے لگا ’صرف دو کین پیے ہیں۔ اس نے مجھے باقی چار دکھائے۔ مجھے پتہ تھا کہ وہ نیا پیکیج ہے۔ اس نے دو نہیں آٹھ کین پیے تھے

مجھے سخت غصہ آیا۔ میں نے قریب جا کر کہا ’تم جھوٹ بولتے ہو

نہیں میں جھوٹ نہیں بولتا۔ تم میری بیوی ہو یا پادری۔

اس کی آنکھوں میں ایک شیطانی مسکراہٹ تھی جو میں نے پہلے کبھی نہ دیکھی تھی۔ میرا غصہ اتنا بڑھا کہ میں نے اسے ایک زور کا تھپڑ مارا اور کہا ’کمینے کتے ذلیل مرد ہو تو سچ بولو

اس کی آنکھوں کی شیطانی مسکراہٹ تو غائب ہو گئی لیکن اس نے فون اٹھا کر ۹۱۱ کال کر دیا اور چند ہی منٹوں میں پولیس آ گئی

جب پولیس افسر نے مجھ سے پوچھا ’کیا تم نے اپنے شوہر کو تھپڑ مارا ہے؟‘ میں کہا ’ہاں مارا ہے‘ میں جھوٹ نہیں بولنا چاہتی تھی۔

پوچھنے لگا ’کیا کام کرتی ہو؟

میں نے کہا ’ہسپتال میں نرس ہوں

کہنے لگا’ اگر میں تمہیں جیل لے گیا اور تم پر مقدمہ چلا تو تم اپنا لائسنس کھو سکتی ہو

تب مجھے اپنی غلطی کا احساس ہوا اور میں نے معافی مانگی۔

پولیس افسر نے کہا ’ مین تمہیں وارننگ دیتا ہوں۔ اگر دوبارہ ایسا ہوا تو میں تمہیں ہتھکڑی لگا کر لے جائوں گا

آج کی مریضہ کی کہانی سن کر مجھے دو سال پہلے کا ایک واقعہ یاد آ گیا جب ایک جمیکا کی بیوی نے غصے میں بے قابو ہو کر پہلے اپنے شوہر کو تھپڑ مارا تھا پھر ایک فرائی پین اٹھا کر اس زور سے اس کے سر پر مارا تھا کہ خون بہنے لگا تھا۔

شوہر نے جب پولیس کو کول کیا تو آتے ہی پولیس افسر نے شوہر کو پولیس کی گاڑی کے ساتھ لگا کر ہتھکڑیاں لگا دی تھیں۔ جب شوہر نے پولیس افسر کو بتایا کہ اس نے فون کیا تھا اور اس کی بیوی نے اسے مارا تھا تو پولیس افسر بہپت شرمندہ ہوا تھا۔ کہنے لگا ’اکثر اوقات شوہر بیویوں کو مارتے ہیں

لیکن معاملہ بالکل الٹا ہے‘ شوہر نے کہا۔

اس کے بعد پولیس افسر نے بیوی کو ہتھکڑی لگائی اور اسے جیل میں لے لگا تا کہ اگلےدن اسے جج کے سامنے عدالت میں پیش کیا جائے۔

ان دونوں کہانیوں سے مجھے بچپن کا وہ واقعہ یاد آ رہا ہے جب میں پشاور میں رہتا تھا۔ ایک دن میں نے دیکھا کہ محلے کا ایک فیکٹری میں کام کرنے والا ہمسایہ اپنی بیوی کو سرِ عام ایک لکڑی سے مار رہا ہے۔ مجھے اس پر بہت غصہ آیا۔ میں نے ایک اور ہمسایے سے کہا کہ اس عورت کو بچائو تو اس شخص نے کہا ’یہ ان کا ازدواجی معاملہ ہے

کینیڈا میں بھی ایک دور میں جب شوہر بیوی کو مارتا پیٹتا تھا تو اسے ازدواجی معاملہ سمجھا جاتا تھا۔ لیکن پھر ایسا ہوتا تھا کہ بیوی شوہر کو معاف اور عدالت شوہر کر بری کر دیتی تھی۔ لیکن اب قانون بدل گئے ہیں۔ اب پولیس شوہر پر مقدمہ چلاتی ہے اور اسے سزا ملتی ہے۔ اسی طرح اگر بیوی ظلم کرے تو اسے عدالت میں پیش کیا جاتا ہے۔

کینیڈا کے قانون کے مطابق چاہے شوہر بیوی کو مارے یا بیوی شوہر کو مارے دونوں پر مقدمہ چلتا ہے اور سزا ہوتی ہے۔دونوں جیل جا سکتے ہیں۔

میں نے اپنی مریضہ سے کہا کہ اسے محتاط رہنا چاہیے کیونکہ اگر اس نے اپنے شوہر کو پھر تھپڑ مارا تو وہ جیل جا سکتی ہے۔ ایک مہذب دنیا میں نہ تو بیوی شوہر کو تھپڑ مارتی ہے اور نہ ہی شوہر بیوی کو۔ میاں بیوی کا رشتہ تو محبت کا رشتہ ہے نفرت کا نہیں۔ عزت کا رشتہ ہے ذلت کا نہیں۔ اپنائیت کا رشتہ ہے غیریت کا نہیں۔ لیکن نجانے کتنی شادیاں ہیں جہاں محبت کب کی مر چکی ہے لیکن دونوں میاں بیوی اس لاش کو لیے لیے پھرتے رہتے ہیں اور اس وقت تک اس موت کا اقرار نہیں کرتے جب تک انہیں کسی بحران کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

 

 

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 182 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail