زینہ اور پاؤں میں پڑی زنجیریں
ایک عشرہ کم، صدی ہونے کو آئی، جب شاعر مشرق علامہ اقبالؒ نے یہ اشعار قرطاس پر اتارے اور قلم توڑ دیا۔ ایک ایک شعر، پُورا پُورا نوحہ ہے، گربیان سلامت ہو تو آئینہ ہے، حوصلہ و ہمت ہو تو تصویر کے دونوں رخ عیاں کرتا ہے۔ ماضی اور حال کا عکس، مستقبل سے غرض ہو تو کھلا پند و پیغام۔ آئیے، دیکھتے ہیں کہ کیا کہتے ہیں۔
دین حق از کافری رسوا تر است
زانکہ ملا مؤمن کافر گر است
آج دینِ حق کفارکے دین سے زیادہ رسوا ہے
کیونکہ ہمارا ملا مومنوں کو کافر بنانے پر لگا ہوا ہے
کم نگاہ و کور ذوق و ہرزہ گرد
ملت از قال و اقولش فرد فرد
یہ کم نگاہ، کم سمجھ اور ہرزہ گرد ہے
جس کی وجہ سے آج ملت فرد فرد میں بٹ گئی ہے
مکتب و ملا و اسرارِ کتاب
کورِ مادر زاد و نورِ آفتاب
مکتب، ملا اور اسرار قرآن کا تعلق ایسا ہی ہے
جو کسی پیدائشی اندھے کا سورج کی روشنی سے ہوتا ہے
دین کافر فکر و تدبیر و جہاد
دین ملا فی سبیل اللہ فساد
آج کافر کا دین فکراور تدبیرِجہاد (جہد مسلسل) ہے
جبکہ ملا کا دین فی سبیل اللہ فساد ہے
آج معاملہ اس سے کہیں زیادہ گمبھیر ہوچکا ہے، کسی بھی معاشرے پر زوال آئے تو اس کی زَد سے بچنا ایسے ہی ہے جیسے برہنہ پا، پانی پر چلنا اور طراوت نہ آنا۔ یقیناً، زوال ہمہ گیر ہوتا ہے مگرداد دیجئے، بھلے وقتوں میں بھی حضرت مُلا نے تغیر سے کنارہ کیے رکھا اور آج تک اُسی روش پر قائم ہے۔ مذہب کی چھتری تلے کیا کیا گُل، اس چمن میں اس نے نہیں کھلائے۔ ادھر ہمیں ستر برس ہوگئے، اوّل اوّل، ترقی و کامرانی کے دو چار زینے ہم نے ضرور چڑھے پھر جیسے پاؤں میں رنجیریں ڈال دی گئیں ہوں۔ ذمہ دار کوئی ایک گروہ یا ادارہ نہیں بلکہ کئی گروہ اور ادارے ہیں مگر ایک بات ہویدا ہے کہ ریاست نے اپنی ذمہ داری ٹھیک ٹھیک نہیں نبھائی، فر د سے کیا گیا ریاست کا معاہدہ سربریدہ ہے۔
جہادِ کشمیر، ”جہادِ افغانستان“، سقوطِ ڈھاکہ، آمریت کے چار سیاہ ادوار، جوڑ توڑ کی سیاست، حکومتوں کی بدلی، آئین کی پامالی سے لے کرقبلہ مولوی خادم رضوی کے دھرنے تک، ہمارے لئے سوچ و بچار کے کئی مواقع آئے مگر خدا لگتی یہ ہے کہ کسی ایک سے بھی ہم نے سبق نہیں سیکھا۔ ان تمام واقعات میں اسٹیبلشمنٹ کا کردار کلیدی و با اقتدار رہا ہے۔ یہ اب کوئی راز نہیں رہا کہ ریاست چاہے تو انتہاپسندی کے بے لگام گھوڑے کو لگام ڈال سکتی ہے، چاہے تو اپنے مقاصدکی تکمیل تک اس کی رسی دراز کرسکتی ہے۔
حالیہ تاریخ کے اوراق میں حافظ سعید، خادم رضوی، الطاف حسین، صوفی محمد ایسے ستاروں کی ایک ”کہکشاں“ ہے جواس کی غمازی کرتی ہے۔ ایوب خان کے ”عہد زریں“ کوکچھ مرد بزرگ آج بھی سراہتے ہیں مگر نئی پُود کو اس سے آگاہ نہیں کرتے کہ ایوب خان تخت سے اتر کر ابھی انگڑائی بھی نہ لینے پائے تھے کہ ملک ٹوٹ چکا تھا۔ اسلامی دنیا کی سب سے بڑی سپاہ خاک چاٹ چکی تھی۔ سیاستدانوں کی کج فہمی اور نرگسیت بے نقاب ہوچکی تھی۔ معجزہ مگر یہ ہوا، کوئی ذمہ دارکٹہرے تک بھی نہ پہنچ سکا۔
ذرائع ابلاغ پر قدغن کا ہم سنتے آئے ہیں، دیکھ بھی رہے ہیں۔ مگر آج مسئلہ یہ ہے کہ وہ سرمایہ دار طبقے کی لونڈی بن کر رہ گیا ہے۔ سرمایہ دار کا تعلق سرمایے سے عمیق اور سماج سے بے نام سا ہوتا ہے۔ اس کی ترجیحات میں سرمایہ کاری سے مزید سرمایے کا حصول ہے، ذرائع ابلاغ، اس کی ترجیحات میں معاون و مددگار ثابت ہوتے ہی۔ صاحبانِ ذی وقار کے لئے، ان سرمایہ داروں کو ہانکنا قدرے آسان ہے۔ صحافی کی ترجیح سرمایہ نہیں، سماج ہوتا ہے۔ اس کا کام خبر کی ترسیل ہے۔ اس کے ہاتھ میں ترازو ہوتا ہے، وہ حقائق کو اسی میں تولتا ہے۔ اس دشت میں کچھ ایسے اخبار نویس بھی در آئے ہیں جو تو ناپ تول میں کمی پر یقین رکھتے ہیں۔ خود کو برتر اور دوسروں کو کم تر سمجھتے ہیں۔ دربارداری ان کا پیشہ ہے، قصیدہ گوئی ان کا ہنر!
بات مُلا سے چلی تھی اور کہاں پہنچ گئی۔ چند دن پہلے تک، وہ جنہوں نے آسمان سر پہ اٹھا رکھا تھا، آج کہیں بھی نظر نہیں آرہے، شاہراہیں کھلی ہیں، شہری بغیر خوف و خطر نقل و حرکت کرر ہے ہیں۔ خادم رضوی اور ان کے ہم نوا، ریاست کی تحویل میں ہیں، چند جو بچ نکلے، وہ سوشل میڈیا پر دشنام طرازی کے فرائض سرانجام دینے میں مشغول ہیں۔ گروہ بندی نے، امت کا شیرزاہ بکھیر رکھا ہے۔ کسی گروہ کی پہچان اونچے پائنچے ہیں، کسی کی ریشِ دراز تو کسی کی رنگ برنگی دستاریں۔ یہ حرم کے ”رکھوالے“ حرم کو ہی بیچ رہے ہیں، وہی کہ ”امتی باعث ِرسوائی پیغمبرﷺ ہیں“۔ وہ جنیدؒبغداد، امام غزالیؒ، شیخ ہجویرؒ، جیلان کے عبدالقادرؒ اور اجودھن کے فرید الدینؒ ایسے لوگ کیا ہوئے؟ واللہ، ’کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں‘ ۔


