مرغی والا گاؤں کا چودھری کب بنے گا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک گاؤں میں غربت کا دور دورہ تھا۔ اس گاؤں کا ہر شخص مقروض تھا۔ اکثریت کا پیشہ کھیتی باڑی تھا لیکن گاؤں کے پاس سے گزرے والی نہر کا پانی کھیتوں تک آتے آتے سوکھ جاتا تھا کیونکہ شدید گر می پڑتی تھی۔ اس کا ایک حل گاؤں کے دانشور بابے نے یہ بتایا تھا کہ نہر کو پکا کیا جائے اور اس کو کور کر دیا جائے لیکن اس بڑے پراجیکٹ کے لئے کسی کے پاس پیسے نہیں تھے ہر بندہ مشکل سے اپنا خرچ چلاتا تھا۔

گاؤں کا چودھری بڑا خدا ترس آدمی تھا وہ لوگوں کو روز کاروبار چلانے اور پیسہ کمانے کی ترکیبیں بتاتا تھا لیکن کم فہم گاؤں والے اس کے مشوروں پر ہنستے تھے اور سنجیدگی سے عمل کا راستا اختیار نہیں کرتے تھے اسی لئے ان کا یہ حال تھا۔

اسی گاؤں میں ایک غریب مرغی والا تھا اس کے پاس چار مرغیاں تھیں۔ انہی مرغیوں کے انڈوں پر اس کی گزر بسر کا مدار تھا۔

وہ بے چارہ صبح سویرے آٹھ کر ان مرغیوں کے ڈربے کے پاس بیٹھ جاتا اور ان کی منت سماجت شروع کر دیتا کہ خدارا انڈے دے دو تاکہ گلشن کا کاروبار چلے۔ اس مرغی والے کا نام گلشن تھا.

ایک دن چودھری نے اسے منہ لٹکائے دیکھا تو چودھری کا دل بھر آیا۔ چودھری نے اسے آفر کی کہ وہ چودھری کی حویلی سے ایک سو دیسی مرغیاں لے جائے اور اپنے کاروبار کو چار چاند لگائے۔

مرغی والے کا دل خوشی سے رقص کرنے لگا۔ پھر اس نے اپنے دل کو اس غیر شرعی حرکت پر سرزنش کی اور چودھری کی شان میں قصیدے پڑھے۔ چودھری نے خوش ہو کر کہا کہ تم آج ہی کسی وقت ہماری حویلی میں آ کر مرغیاں لے جانا۔

مرغی والے نے کہا۔ حضور بس آج کا مال بیچ کر آتا ہوں۔ اپنی جھونپڑی میں گیا تو اس کی بیوی منہ پھلائے بیٹھی تھی۔ مرغی والے کو دیکھ کر پھٹ پڑی، میں مہینوں سے پراٹھے کے ساتھ آملیٹ کھانے کو ترس رہی ہوں اور تم دانت نکالتے ہوئے چلے آ رہے ہو۔

مرغی والا اپنے بچے کھچے دانت نکالتے ہوئے باقاعدہ ہنس پڑا۔ آج سے تم ناشتے میں کیا دوپہر اور شام کو بھی دیسی انڈے ہی کھاؤ گی.وہ سمجھی کہ غربت کی وجہ سے مرغی والے کا دماغ چل گیا ہے۔ مرغی والا اسے حیران پریشان چھوڑ کر ڈربے کے پاس آبیٹھا اور مرغیوں کی منتیں کرنے لگا کہ جلد انڈے دو تاکہ وہ چودھری کی حویلی جا سکے۔

وہ جانتا تھا کہ دیسی مرغیوں کے انڈوں کی کیا قدر و قیمت ہے۔ مرغیوں نے انڈے دیئے تو وہ چودھری کے پاس گیا۔ سو مرغیاں لے کر لوٹا تو اس کے پاؤں زمین پر نہ پڑتے تھے۔ اب میں اپنے سارے سپنے پورے کروں گا اس نے سوچا۔

سو مرغیوں کے انڈے بیچنے شروع کئے تو پیسہ اس پر برسنے لگا۔ اس نے سو سے دو سو اور پھر ہزاروں مرغیاں خرید لیں۔ مرغیوں کی تعداد لاکھ تک پہنچی تو انڈوں کی تعداد کروڑوں میں تھی۔ اب تو وہ چودھری سے زیادہ امیر ہو چکا تھا۔

ایک دن لاکھوں کا کاروبار کر کے اپنی عظیم الشان جھونپڑی میں آیا تو حسب معمول بیوی کا منہ سوجا ہوا تھا۔

کیا ہوا بیگم کیا داڑھ میں درد ہے؟ اس نے بڑے پیار سے پوچھا۔ انڈے کھا کھا کر تنگ آگئی ہوں۔ اس کی بیوی نے منہ بنا کر کہا۔

تم کبھی خوش نہیں ہوگی، دیکھو آج میں لاکھوں مرغیوں کا مالک ہوں۔ اتنے میں مرغی کی آواز بلند ہوئی۔ دیکھا مرغی بھی میری بات کی تائید کر رہی ہے۔ یہ کہتے ہوئے سامنے دیکھا تو ڈربے میں وہی چار مرغیاں تھیں ایک نے انڈہ دیا تھا اور اب اپنے کارنامے کا اعلان کر رہی تھی۔

مرغی والے کو احساس ہوا کہ وہ خواب دیکھ رہا تھا تو اس انڈے کو بھی چھوڑ کر چودھری کی حویلی کی طرف بھاگا تاکہ لاکھوں مرغیوں کا مالک بن سکے۔

مرغی والے کو حویلی سے باہر ہی روک دیا گیا۔ اس نے لاکھ کہا کہ اسے چودھری نے مرغیاں دینے کے لئے بلایا ہے مگر چودھری کے کارندوں نے اس کی ایک نہ سنی۔ آخر ان سے لڑ جھگڑ کر وہ اندر جا نے میں کامیاب ہوا۔ تو اس کی بات سن کر چودھری ہنسنے لگا۔

بھئی میں تو مذاق کر رہا تھا ویسے تمہاری غربت دور کرنے کے لئے میرے پاس پلان بی اور پلان سی بھی ہے۔ مرغی والا یہ سنتے ہی روتے ہوئے حویلی سے بھاگ نکلا۔ ارے بھئی سنو تو، اچھا پلان ڈی تو سنتے جاؤ۔ مگر مرغی والا چودھری کے یو ٹرن پر تلملاتا سوچ رہا تھا کہ یہ مرغی والا کب گاؤں کا چودھری بنے گا۔ کب اس کی تقدیر بدلے گی۔ اس نے اپنے بزرگوں سے سنا تھا کہ مرغی والے خاک نشین ہی گاؤں کے اصل وارث ہیں سوچتا جاتا تھا اور روتا تھا کہ مرغی والا کبھی چودھری نہیں بن سکے گا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں