کیا ان چاہی ٹیلی اور سائبر مارکیٹنگ سے بچاؤ ممکن ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج کل ہر جگہ ٹیلی مارکیٹنگ، ای کامرس اور سائبر کسٹمر ریلیشن شپ کا بہت دوردورہ چل رہا ہے۔ راقم کا استدلال یہ ہے کہ ان سہولتوں کے آنے سے پہلے بھی تو تجارت کی دنیا قائم و دائم تھی اور ان کے آنے کے بعد بھی تجارت تو دنیا کے کسی نہ کسی خطہ میں ہر وقت چلتی ہی رہتی ہے۔ کیا ہم اتنے ہی بے بس ہو چکے ہیں کہ سیدھا سادا بزنس کرنے کی بجائے اپنے بزنس کو صرف ٹیلی فون، ای میل اور انٹرنیٹ ذرائع کے علاوہ سوچنا ممکن ہی نہیں سمجھ رہے۔ مصیبت کی بات یہ نہیں کہ ٹیلی فون، موبائل، ای میل یا انٹرنیٹ بزنس کے لئے برا ہے بلکہ مصیبت یہ ہے کہ ان ذرائع کا غلط استعمال غیر متعلقہ لوگوں کی زندگی اجیرن بنا رہا ہے۔ اس بات کی وضاحت کے لئے مثال کے طور پر اپنی زندگی کے کچھ دن پہلے گزارے ایک دن کا حال آپ کو سناتے جاؤں :۔

** کراچی قیام کے دوران ایک صبح جب میں ناشتہ سے فارغ ہوا تو سٹاربکس کافی والوں نے ایک فارم آگے رکھ دیا کہ اگر مجھے کافی اچھی لگی ہے ”If you loved it۔ ۔ ۔ “ تو اسے ضرور پر کر دوں۔ اب ظاہر ہے علی الصبح کافی تو اچھی ہی لگا کرتی ہے۔

** میٹنگ شروع ہونے سے ذرا پہلے ویب سائیٹ سروسز والوں نے مختلف ممالک سے سارے گروپ میٹنگ ممبران کو آن لائن منسلک کیا تو اس کے نمائندہ نے فرمائش کر ڈالی کہ اس کی سروسز کے بارے میں اس کی کمپنی کو کچھ الفاظ لکھ دیے جائیں۔

** میٹنگ کے دوران موبائل بجا تو وہ ایک نامعلوم کالر آئی ڈی سے تھا جو بنکاک میں ہونے والی فائبر گلاس سے متعلق ایک نمائش میں شرکت کے لئے یاد دہانی کے لئے تھا جس کے لئے راقم نے کبھی بھی حامی ہی نہیں بھری تھی۔

** میٹنگ میں آن لائن کال کے بعد لنچ کے دوران ایک نامعلوم نمبر سے کال آئی جس میں پچھلے دن بھائی کی گاڑی میں کیے آئل کی تبدیلی کے بارے میں رائے پوچھی جا رہی تھی۔

** سہ پہر میں ایک ای میل موصول ہوئی جس میں مشورہ دیا گیا تھا کہ ہمیں چاہیے کہ اپنی کمپنی کے سارے کام کاج چھوڑ کر دنیا کی اس اہم ترین ای میل پیغام پر توجہ دیں۔ اس ای میل کے مطابق اگر راقم اور اس کی کمپنی نے ان کی انشورنس پالیسی کو قبول نہیں کیا تو اگلے دن ممکنہ طور پر راقم اور اس کا کوئی نا کوئی کولیگ مر سکتا ہے اور اس کے بچے سڑک پر بھیک مانگتے نظر آئیں گے (شاید اس انشورنس ایجنٹ کی نظر میں اللہ پاک کا رازق ہونا غیر یقینی جبکہ اس کی انشورنس پالیسی کا دنیا میں سب سے قابل اعتماد ہونا یقینی تھا) ۔

** سارے دن کی شدید ترین تھکاوٹ کے بعد جب گھر کی طرف روانگی ہوئی تو فیس بک اور ٹویٹر کے کچھ سائبر دوستوں کی طرف سے درجن بھر مطالبات منتظر تھے کہ ان کی پوسٹوں کو لائک اور کمنٹ کیوں نہیں کیا گیا۔

** گاڑی میں ہی جلدی جلدی سب کے لئے داد و تحسین کے ڈونگرے برسانے کے بعد اپنی مرضی سے کچھ ذاتی اور استاد جیسے دوستوں کی پوسٹوں کو پڑھ کر روحانی ٹانک حاصل کیا اور اپنے اگلے کالم کے لئے کچھ لفظوں کو ترتیب دینے کی کوشش کی۔

** جیسے ہی گھر پہنچا تو میزبان دوست نے پوچھا، ”شاہ جی، کیسا رہا آج کا دن“۔ ”How was your day؟ “۔ اب کوئی بتائے تو کہ کیسے اپنے دوست کو سمجھاؤں کہ ٹیلی مارکیٹنگ، سائبر ریلیشن شپ، اور سروسز فیڈ بیک پر مبنی سارا دن کیسا رہا۔ !

یہ معاملہ صرف راقم کے ساتھ ہی نہیں بلکہ ہر مصروف شخص کے ساتھ روزمرہ زندگی میں ہے۔ سارا دن ہمیں ان ٹیلی فون کالز، سپیم/جنک ای میلز اور ایس ایم ایس کو بھگتنا پڑتا ہے جو بعض اوقات ایسے اوقات میں موبائل فون سکرین پر نمودار ہوتے ہیں جو اس دن کے اہم ترین اوقات ہوں۔ ہم کہاں ہیں، کیا کر رہے ہیں، یہ ان ٹیلی فون کالز کرنے والوں، ایس ایم ایس/ ای میل بھیجنے والوں کے لئے رتی برابر حیثیت نہیں رکھتا۔

یقیناً یہ ہماری نجی زندگی میں کھلی مداخلت ہے اور ہماری پرائیویسی پر کھلا حملہ ہے۔ ہماری اجازت کے بغیر انجان آدمی کیوں ہم سے رابطہ کرے؟ جب ہماری زندگی، ہمارا کام اس سے متعلق ہے بھی نہیں۔ ہمارا موبائل نمبر، ہمارا ای میل ایڈریس اس تک پہنچا کیسے؟ سب سے زیادہ حیران کن یہ ہے کہ موبائل فون کمپنیوں کے فراہمکیے ہوئے 4 ہندسہ نمبروں سے ہر تیسرے، چوتھے دن کیوں کمپیوٹرائزڈ فون کال آتی ہے جس میں کال ٹیون منتخب کرنے کے لئے یا لائیو کرکٹ میچ اسکور ایس ایم ایس سروس لگانے کے لئے“ ترغیب ”دی جاتی ہے۔

بدقسمتی سے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ایک بھی قانون نہیں ہے جو اندھی ٹیلی و سائبر مارکیٹنگ فون کالز، ایس ایم ایس اور ای میلز سے ہماری نجات کروا سکے اور ہماری پرائیویسی اور نجی زندگی پر حملہ کرنے والے ان ظالموں کے خلاف کارروائی کر سکے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ وہ کمپنیاں جو ہمارے نجی و ذاتی فون نمبر اور ای میل ایڈریس ان حملہ آوروں کو فروخت کرتی ہیں، انہیں باقاعدہ قانونی تحفظ بھی حاصل ہے کہ وہ بغیر ہماری اجازت کے ہمارا فون نمبر اور ای میل ایڈریس کسی کو بھی فروخت کرکے پیسہ کما سکیں جبکہ ہم ان ٹیلی فون/ ایس ایم ایس مارکیٹنگ اور اندھا دھند مارکیٹنگ ای میل بھیجنے والوں کا ترلہ منت کرتے رہیں کہ وہ ہمارے مندرجات اپنی لسٹ سے نکال دیں۔ ٹیلی مارکیٹنگ، اندھا دھند ایس ایم ایس اور بے تحاشا ای میلز بھیجنے والے کال سنٹرز ملک کے لئے زرمبادلہ کمانے کے دعوی دار ہیں مگر یہ کون سی کمائی ہے جس کے لئے وہ اپنے ہم وطنوں کی زندگی اجیرن کیے رکھنے کا فوجداری استحقاق رکھتے ہیں؟

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں