لفٹ لینے والی عورت، گورا قبرستان اور ہمسائے کی بیٹی
بیگم کوٹ سے گزرتے ہوئے ایک کولڈ ڈرنک کارنر دیکھ کر میں نے کار روک دی. باہر نکلنے کی زحمت نہ کی اور شیشہ نیچے کر کے ایک کولڈ ڈرنک طلب کی. عین اسی وقت میں نے اس نوجوان عورت کو دیکھا. وہ ایک گلی سے نکل کر مین سڑک پر آئی تھی. اس نے ایک بڑی سی چادر اپنے جسم پر لپیٹی ہوئی تھی اور تین چار سال کی بچی کو سینے سے لگائے ہوئے تھی.
غالباً وہ کسی سواری کے انتظار میں تھی. کیوں کہ کچھ بد حواسی اور پریشانی میں ادِھر اُدھر دیکھتی تھی. میں نے کولڈ ڈرنک ختم کی اور گاڑی آگے بڑھائی لیکن اس کے قریب جا کر بریک لگائے بغیر نہ رہ سکا. حالاں کہ یہ میرے جیسے محتاط آدمی کے لیے خاصا مشکل کام تھا کیوں کہ آج کل وارداتیں کرنے والے بھی مدد کرنے والوں کو لوٹ لیتے ہیں.
بہر حال مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ وہ مشکل میں ہے. اس کے سینے سے لپٹی ہوئی بچی شاید بیمار تھی. چناں چہ میں نے نہ چاہتے ہوئے بھی لفٹ کی آفر کر دی، اس کے پاس سے یوں گزر کے جانا بھی غیر انسانی فعل ہوتا.
خلاف ِ توقع اس نے شکریہ ادا کیا اور پچھلی سیٹ پر بیٹھ گئی.
آپ کو کہاں جانا ہے؟ میں نے پوچھا. وہ چند لمحے خاموش رہی پھر بولی. آپ مجھے گورا قبرستان چھوڑ دیں گے ؟ اس کے لہجے میں امید تھی میں نے سوچا کہ جب مدد کا ارادہ کر لیا ہے تو اسے وہیں چھوڑ آتا ہوں. حالاں کہ مجھے ادھر نہیں جانا تھا.
میں نے گاڑی آگے بڑھا دی. دو تین بار آئینے میں اس پر نگاہ پڑی تو مجھے عجیب سا احساس ہوا. وہ کار کے شیشوں سے باہر کے مناظر کو دیکھتی تھی اور بچی کی طرف اس کا دھیان کم تھا. میرے اندازے کے مطابق اس کی بچی بیمار تھی اسے ہسپتال جانا چاہئے تھا لیکن وہ قبرستان جانا چاہتی تھی. کچھ تو گڑ بڑ تھی.
میرا ذہن متضاد خیالات کی آماجگاہ بنا ہوا تھا. کبھی مجھے تمام منفی سوچیں اپنے شکی دماغ کی افسانہ طرازی لگنے لگتیں.
آپ کی بیٹی بیمار ہے کیا ؟ آخر میں نے پوچھ ہی لیا. نہیں تو، بالکل ٹھیک ہے بس ذرا نیند میں ہے. وہ بولی. اب اور کیا بات کرتا خاموش ہو رہا.
قبرستان کے قریب پہنچ کر میں نے پوچھا. آپ کو یہیں اتار دوں یا آپ نے آس پاس کسی اور جگہ جانا ہے میں آپ کو چھوڑ آتا ہوں. بہت شکریہ آپ یہاں تک لائے اللہ آپ کو اس کا اجر دے گا. بس مجھے یہیں اتار دیں.
میں نے سر ہلایا اور گاڑی روک دی.
وہ گاڑی سے اتری اور قبرستان کی طرف بڑھتی چلی گئی. شام کا اندھیرا بڑھ رہا تھا میں نے سر جھٹکتے ہوئے سوچا کہ یہ کس چکر میں پڑ گیا. کافی دیر ہوچکی ہے اب گھر جانا چاہیے لیکن شاید ابھی کچھ باقی تھا. کار اسٹارٹ کر کے یونہی پچھلی سیٹ پر دیکھا تو کوئی چھوٹی سی چیز چمکتی ہوئی دکھائی دی.
وہ چیز ایک بالی تھی اور شاید سونے کی تھی. تھی بھی ایک کان کی، اس کا مطلب یہ تھا کہ اب میں واپس نہیں جا سکتا تھا شاید اس عورت کی بیٹی کے کان سے بالی گر گئی تھی. اسے واپس کرنا ضروری تھا لیکن اب کیا کروں اسے تلاش کرنے قبرستان میں جاؤں یا یہیں رک کر انتظار کروں.
عجیب مشکل آن پڑی تھی اب جلدی گھر جانا چاہتا تھا تو دیر ہوتی جا رہی تھی. کچھ دیر وہیں رکا رہا کہ شاید وہ عورت کسی قبر پر دعا کر کے جلد واپس آ جائے لیکن وہ آتی دکھائی نہ دی تو میں نے سوچا کہ قبرستان میں جا کر اس کو یہ بالی لوٹاتا ہوں کسی غریب کی مدد کی ہے تو پوری مدد ہونی چاہیئے اس بے چاری پر بالی کی گمشدگی کا راز کھلے گا تو اس کا نہ جانے کیا حال ہو.
چناں چہ گاڑی سے ٹارچ نکالی اور اس عورت کی تلاش میں قبرستان میں داخل ہو گیا. اندر خاموشی کا عالم طاری تھا. حیران بھی تھا کہ یہ عورت اس وقت یہاں آئی کیوں ہے.
پہلے تو وہ عورت کہیں نظر نہ آئی لیکن جب مایوس ہو کر لوٹنے لگا تو ایک بڑی قبر کے قطبے کے پیچھے کچھ ہلچل محسوس ہوئی آگے بڑھ کر ٹارچ کی روشنی ڈالی تو ایسا منظر دیکھ لیا کہ دل دھک دھک اور دماغ سائیں سائیں کرنے لگا. وہ ایسا ہی خوفناک منظر تھا. اس عورت کے ہاتھ میں ایک چھری تھی. بے حد ڈری ہوئی بچی اپنے آپ کو اس سے چھڑانے کی کوشش کر رہی تھی اور وہ پیار سے سمجھانے کی کوشش کر رہی تھی. سونی… سونی بیٹا تمہیں کچھ نہیں ہو گا. میرے پاس آؤ. لیکن اس عورت کے ارادے ہرگز نیک نہیں لگ رہے تھے. وہ بچی کی گردن پر چھری چلانے ہی والی تھی کہ ٹارچ کی روشنی اس پر پڑی. اس نے پلٹ کر مجھے دیکھا تو بھوکی شیرنی کی طرح دھاڑنے لگی. چلے جاؤ یہاں سے چلے جاؤ. آج مجھے کوئی نہیں روک سکتا. اس کی آنکھیں سرخ تھیں. اور انداز شیطانی تھا.
ایک لمحے میں سجھ گیا کہ مجھے کیا کرنا ہے. میں نے چلا کر کہا تمہیں پولیس نے چاروں طرف سے گھیر لیا ہے. ذرا بھی حرکت کی تو گولیوں سے بھون دی جاو گی. یہ چھری پھینک دو.
پولیس کا سن کر اوسان خطا ہو گئے فورا چھری پھینک دی گویا عادی مجرم نہیں دی. اب اس پر قابو پانا کیا مشکل تھا میں نے اپنی ٹائی اتار کر اسی سے اس کے ہاتھ پیچھے باندھ دیئے. بچی اب بھی شدید صدمے میں تھی. سونی بیٹا فکر نہ کرو تمہاری ماں کا دماغ ذرا درست کرنا پڑے گا.
یہ میری ماں نہیں ہے، یہ پڑوس کے گھر میں رہتی ہے. سونی نے ڈرے ڈرے انداز میں کہا. پھر سونی کو اس کے گھر اور اس عورت کو پولیس کے حوالے کرنے کے بعد پوری کہانی کا پتا چلا. وہ عورت بے اولاد تھی اور کسی پیر کے کہنے پر اس بچی کو قربان کرنے وہاں لے کر گئی تھی.
وہ عورت پولیس کی لاٹھی میں تھی اور میں غصے سے کھول رہا تھا. تم عورت کے نام پر دھبہ ہو، اس معصوم کے گلے پر چھری چلاتے ہوئے تمہیں خیال نہ آیا کہ سونی بھی کسی کی بیٹی ہے. کسی ماں کو اولاد سے محروم کر کے تمہاری اپنی اولاد ہو بھی جاتی تو تم خوش رہ سکتی تھی.
مگر اس کے چہرے پر نہ پشیمانی تھی نہ افسوس اور نہ ندامت کا کوئی پہلو. آخر وہ اسی توہمات کے مارے ہوئے معاشرے کی ایک فرد تھی.


