پاکسان کے چند معزز مہمان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے مذہب اور ہماری روایات میں مہمان کو ایک خاص حیثیت حاصل ہے۔ مہمان کے بارے میں چند اقوال زریں۔ مہمان رحمت ہے۔ کہ مہمان کے آنے سے گھر میں برکت آتی ہے۔ مہمان آجائے تو قرض لے کر تکلف کرو اور مہمان اپنا رزق خود لے کر آتا ہے۔ لیکن پاکستان میں دوسرے ملکوں سے زیادہ مہمانوں کو پذیرائی حاصل ہوتی ہیں۔ شاید اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ وہاں تکلفات اتنے نہیں جتنے اس سرزمین میں ہے۔

مرحوم میر معین قریشی۔
26 جولائی 1930 کو لاہور میں آنکھ کھولنے والے سابق نگران وزیراعظم معین الدین قریشی عرصہ چالیس برس سے امریکہ میں مقیم تھے۔ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی اور امریکا کی انڈیانا یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی’ معین الدین قریشی مشہور ماہر اقتصادیات اورسول سرونٹ تھے۔ بعد میں امریکہ میں مقیم تھے ، اور انہوں نےورلڈ بینک میں سینئرنائب صدر برائے فنانس کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔۔ وہ پاکستان کے اعلی مہمان تھے، ستم ظریفی یہ ہے کہ حلف لیتے وقت وہ امریکی شہری تھے، انہیں پاکستان کا شناختی کارڈ بعد میں بنا کر دیا گیا۔ وہ چند ماہ سرکاری مہمان رہے۔ میر معین قریشی 8 جولائی 1993 سے 19 اکتوبر 1993 تک وزیر اعظم رہے۔

شوکت عزیز

شوکت عزیز پاکستان میں پلے بڑھے، پاکستان میں ہی انھوں نے تعلیم پائی اور وہ بینکاری میں ایک اعلی عہدے تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔ یہ مہمان وزارت اعظمی کے عہدے پر اس دوران فائز رہے جب کئی اہم اور ڈرامائی واقعات پییش آئے، لال مسجد کے عسکریت پسندوں کا حکومت سے تصادم، ملک بھر میں وکلا تحریک، تباہ کن زلزلہ، جلا وطن اہم سیاسی رہنماؤں کی وطن واپسی، تحریک طالبان پر پاکستان کے شمالی علاقوں میں امریکی ڈرون حملوں میں تیزی وغیرہ وغیرہ۔ یعنی وہ پاکستان کی تاریخ کے ایک اہم دور میں مہمان رہے۔ وہ اپنے مہمان نوازی کے انتظامات کے بارے میں بلا جھجک اور بلا شرمندگی لکھتے ہیں کہ ان کے لیے دو حلقوں پر انتخاب کا بندوبست کیا گیا، ایک حلقے (اٹک) کا بندوبست چوہدری شجاعت حسین نے کیا تو دوسرے (تھرپارکر) کا انتظام ارباب غلام رحیم نے، یعنی دونوں حلقے ان کے لیے خالی کروائے گئے اور وہاں سے ان کو منتخب کروایا گیا (ان کو اس سے پہلے سینیٹر بنا دیا گیا تھا)۔

گورنر پنچاب۔ چوہدری سرور

موجود مہمان کا تعلق فیصل آباد سے۔ جو ستر کے دہائی میں برطانیہ منتقل ہوئے اور وہاں مستقل رہائش پذیر ہوئے۔ چوہدری سرور ان لوگوں میں شامل ہے جس نے بہت جلد ترقی کے منازل طے کئے۔ ہر پاکستانی ڈی این اے میں یہ بات شامل ہے۔ دولت مند ہونے کے بعد سیاستدان بننا۔ چوہدری سرور نے سیاستدان بننے کے لئے کمر کس لی ۔پاکستان کی طرح مغرب میں بھی سیاست امیر اور طاقت ور ہی کرتے ہیں۔ پاکستان کے ایم این ایز اور ایم پی ایز کا ریکارڈ اٹھا کر دیکھ لیجئے سب امیر بھی ہے اور طاقت ور بھی، دنیا کے سب سے بڑے سپر پاور ملک، امریکا کا صدر بھی امیر شخص ہے۔خیر تو ہمارے مہمان 1997 سے 2010 تک لیبر پارٹی کی طرف سے برٹش ایم پی رہے۔ چوہدری سرور برطانوی پارلیمان کے پہلے مسلمان ایم پی ہونے کا ‘اعزاز’ حاصل تھا۔ پاکستان مسلم لیگ نواز نے چوہدری سرور صاحب کو گورنر پنجاب لگادیا تو موصوف نے اپنی برطانوی شہریت ختم کر لی۔
‏پاکستان ایک مہمان نواز ملک ہے۔ دنیا سے جو بھی آیا ہے پاکستان وہ واپس جاکر ہماری مہمان نوازی کے گن گاتا ہے۔ بھارت کو یہ برکت اور رحمت نصیب نہیں ہوئی ۔ کیونکہ وہ خود مہمان نواز نہیں ہے۔ نوجت سنگھ سدھو مہمان بنے یا زلفی بخاری ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کیونکہ ہم ایک مہمان نواز قوم ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں