اللہ تیرے نام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 1
  •  

شاید ہم بدل گئے ہیں یاخود نمائی کے خود غرض نما کلچر نے مذہبی لبادہ اڑھ لیا ہے، ہمیں گیارہویں کی دیگیں، ہر سال عمرہ، حج، پانچ کی جگہ سات نمازیں پڑھنے کا شوق ہے کہ ماتھے کا محراب اللہ کو بہت پسند ہے، آقا دو جہاں ﷺکی محبت میں میلاد کی محافل سجانے، نعت خواں پر لاکھوں لٹانااچھا لگتا ہے۔عید قرباں پرلاکھوں کی قربانیاں کرتے ہیں کہ جی اللہ کوقربانی پسند ہے مگر کسی کی معاشی مجبوریاں، فاقے، دکھ اور چہرے کی فاقہ کشی نظر نہیں آتی۔ ہم خودغرض ہیں، ہمارے نزدیک جو ہم کر رہے ہیں، وہی سچ ہے، ہماری کمائی کا پر صرف ہمارا حق ہے جبکہ اسلامی نقطہ نظر سے حقیقی مالک صرف اللہ ہے، ہر چھوٹی سے چھوٹی چیز اور بڑی سے بڑی چیز اس کی ملکیت میں داخل ہے، چنانچہ اُس نے مال کی نسبت اپنی ذات کی طرف دیتے ہوئے فرمایا:”خدا کے مال میں سے جو اُس نے تمہیں دیا ہے، اُن کو بھی دو”۔

ہمارے ارد گرد رلا دینے والی کہانیاں اور ایسے ایسے افسردہ وجود ہیں جن کو محسوس کرنے کے لیے شاید ہمارے پاس نہ آنکھیں ہیں اور نہ ہی دل۔ جواس درد کو محسوس کر سکیں، جس سے صرف ایک فرد نہیں بلکہ پورا ایک خاندان گزر رہا ہوتا ہے۔ پھر جب وہ خاندان سمیت خودکشی کرتے ہیں تو ہمارا پہلا فقرہ یہی ہوتا ہے ”کاش ہم سے کہا ہوتا”۔ مگر ایسا نہیں ہے یہ انتہائی قدم وہ انسان ہرجگہ سے ناکامی کے بعد ہی اٹھاتا ہے۔ تاہم یہ بھی ممکن ہے اس نے کسی سے کچھ کہا ہی نہ ہو، دباؤ اور گھٹن ہی اس قدر زیادہ ہو گیا کہ اس نے بغیر کچھ کہے، سنے اتنابڑا قدم اٹھا لیا، کہ کس نے میرا ساتھ دینا ہے۔

بے شک خودکشی حرام ہے، قرآن مجید فرقانِ حمید میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے واضح طور پر اپنی جانوں پر ظلم کرنے سے منع فرمایا ہے۔ مگر بے بسی، لاچاری، یاسیت اور کسمپرسی کی ایک اسٹیج ایسی آجاتی ہے جو انسان کو اپنے گھیرے میں لے لیتی ہے کہ وہ اللہ کے سارے کرم اور عنایتوں کو بھول جاتا ہے، اور لمحہ موجود کی ان اذیتوں اور اداسیوں کو سوچتا ہے، جن سے وہ گزر رہا اور جن کا بوجھ اس کے لیے ناقابلِ برداشت ہو چکا ہے۔ ان کمزور لمحوں میں وہ زندگی سے جان چھڑانے کی سوچتا ہے۔

کوئی خودکشی کی طرف چل دیا
اداسی کی محنت ٹھکانے لگی

مایوسی خالق اورمخلوق کے تعلق کے درمیان ایسی کیفیت کانام ہے جو اس کا اپنے خالق سے تعلق توڑ کر اسے حرام راہوں پر لے جاتی ہے، پھر وہ چاہیے خود کشی کرے یاچوری ڈکیتی اسے فرق نہیں پڑتا، اور مایوس لوگوں کو خدا کے ہونے اور نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا، اسی لیے اسلام نے مایوسی کو کفر قرار دیا ہے۔

اس نے کہا میرے لیے یہ بوجھ ناقابل برداشت ہو چکا ہے، کوئی حل نظر نہیں آ رہا، کوئی راستہ نہیں رہا۔ وجود ہر امنگ سے خالی ہو رہا ہے۔سانسیں حیات پر بھاری پڑنے لگی ہیں۔ ایسے حالات سے، یوں لگ رہا ہے جیسے جسم کسی شکنجے میں کسا ہوا ہے اورہر گزرتے لمحے کے ساتھ اس کی گرفت سخت سے سخت ہو تی جا رہی ہے۔ میں کیا کروں، مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا۔ ہر جگہ سے مسلسل انکار ہورہا ہے، جن سے اپنے پیسے لینے ہیں، وہ دے نہیں رہے اور جنہوں نے ہم سے لینے ہیں، وہ جینے نہیں دے رہے۔اس لیے اب حالات سے فرار کا ایک ہی راستہ ہے، میں جانتی ہوں وہ حرام ہے مگر مجھے قبول ہے۔

وہ کہتی ہے انسان کب تک لڑسکتا ہے اور وہ بھی میرے جیسی ایک کمزور سی لڑکی ۔جس نے کبھی سرد ہواؤں کا سامنا بھی نہ کیا ہو، مگر گذشتہ دس برس سے مسلسل کر ب سے گزر رہی ہو۔وہ ناتواں لڑکی اب ہار نہیں رہی تھی بلکہ مکمل طور پر ہار چکی تھی ۔ زندگی ہر حوالے سے مجھے مکمل طور پر توڑ چکی ہے، اورمیں اب زیست کے کناروں سے نکل جانا چاہتی ہوں۔ اس کے سوا کوئی چارہ نہیں رہ گیا ۔ مجھے اب زندگی سے رخصت لینا ہی ہے۔نہ میری محبت مکمل ہو سکی اور نہ ہی میری زندگی۔

وہ ان دنوں بدترین ذ ہنی، معاشی، قلبی اور روحانی زبوں حالی کا شکار ہے، اس کا دامن امید کے جگنوؤں سے خالی ہو چکا ہے، وہ خود کو زندگی کے دائرے سے نکالنا چاہ رہی ہے ۔وہ روز ایک آس کے ساتھ اپنے دن کا آغاز کرتی ہے اور ہر رات ناکامیوں کے ساتھ اشک بہاتے بہاتے، سوجاتی ہے، ہ بہت مایوس ہے۔وہ کہتی ہے، میری خواہش ہے کہ اللہ جی میرے پا س آ جائیں، مجھے ان کی گود میں سررکھ کررونا ہے۔

کسے خبر تھی کہ یہ دور خود غرض اک دن
جنوں سے قیمت دار و رسن چھپائے گا

بدترین حالات میں ثابت قدم رہنے والی حالات کی موجودہ سختیاں برداشت نہیں کر پارہی ۔ اس نے دنیاوی کوششوں میں کسر نہیں چھوڑی تھی۔ ہر اس در پر جا چکی تھی جہاں سے انکار ممکن نہیں تھا مگر ہر گزرتا دن اسے تہی دامن کر رہا ہے اور زندہ رہنے کی خواہش سے دور بہت دور لے جا رہا ہے۔وہ کہتی ہے دعائیں شاید عرش تک پہنچ ہی نہیں پارہی یا رد ہو رہی ہیں۔ اسے دعاؤں کی قبولیت پر یقین نہیں رہا۔

کسی کے دکھوں کو اپنا کالم کا حصہ بنانا، مشکل کام ہے کہ اب کون یہ سب پڑھتاہے۔ فوٹو سیشن، اور اسیٹس پوسٹ کرنے کے اس دور میں کسی کے اندر کا حال جاننے کی خواہش کس کوہے۔ ہما رہ معاشرے جس میں نااہلیت ہی کامیابی کی ضمانت ہے، کیونکہ کچھ لوگ لوگوں کے نزدیک کامیابی اہم ہے، کامیابی کی طرف جانے والا راستہ نہیں، تو پھر وہ یہ نہیں دیکھتے کہ کون ان کے راستے کی دھول بنااور کس کے حصے میں اندھیرے آئے۔

خود اپنی محبت میں گرفتار ہیں ہم لوگ
بس اپنی محبت کے وفادار ہیں ہم لوگ

کیا صورت وسیرت ہے ہمیں اس سے غرض کیا
بس دولت و حشمت کے طلبگار ہیں ہم لوگ

ریشم سے ملائم ہیں تو ہم کانچ سے نازک
لگتے ہیں سبھی پھول مگر خار ہیں ہم لوگ۔۔۔۔

اپنے ارد گرد نظررکھیں، ہو سکتا ہے کسی کو ہماری ضرورت ہو، ہماری دعاؤں کی، لفظوں کی، کاندھے کی اور شایداس سے زیادہ ہمارے پاس جو اللہ کا دیا ہے اس کی۔ کون سااپنے مال میں سے شیئر کرنا ہے۔ اس کا ہے اور اس کے بندوں پرلگانا ہے۔ اس کا وعدہ ہے کہ اس کی راہ پر خرچ کرو، دس گنازیادہ ملے گامگر ہمارے لیے تو شاید دکھاوے کی عبادتیں اہم ہیں جو ہم صرف دنیا کے لیے کرتے ہیں، جس سے دنیابنانے والے کو کوئی سروکار نہیں ہے۔ بقول خواجہ میر دردؔ

درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کر و بیاں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 1
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں