ککڑی، انڈے اور کٹے پر ایک کہنہ مشق سیاسی کارکن کا اظہار خیال

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہفتے کے اختتام پر کبھی کبھار دوستوں کی محفل جم جاتی ہے تو جہاں ایک دوسرے کے حال احوال جاننے سننے کا موقع ملتا ہے، وہیں وطن عزیز کی سیاسی فضا کے اور حکومتی کارکردگی کے حوالے سے بھی شرکائے محفل اپنی اپنی آراء اور تجزیے سے ایک دوسرے کو نوازتے ہیں۔ جب سے وزیر اعظم نے ملکی معیشیت کو سہارا دینے کے لیے اور غربت کی سطح سے نیچے رہنے والے پاکستانیوں کو دیسی ککڑی، انڈے اور کٹے پال کر اور ان کو فروخت کرکے دولت کمانے کا گر بتایا ہے۔ تبدیلی کے حامی سیاسی کارکنان بھی وزیر اعظم کی تقلید میں دن رات خوابوں میں ککڑی اور انڈے بیچ کر دولت کما رہے ہیں۔

ہمہ وقت تبدیلی کے حامی ہمارے ایک دیرینہ دوست جو کہ ایک عرصے سے قریباً ہر مرکزی سیاسی جماعت کے کارکن رہے ہیں، ان سے جب شرکائے محفل نے پوچھا کہ وزیر اعظم نے حکومت کے سو دن مکمل ہونے کے بعد ککڑی، انڈے اور کٹے کے ذریعے دولت کمانے کا جو گر عوام کو بتایا ہے، آپ ان کے اس گراں قدر مشورے پر عمل اور اس سے استفادہ حاصل کرنے کا آغاز کب سے کر رہے ہیں؟ تو انہوں نے خفگی و شرمندگی کے ملے جلے جذبات کے ساتھ شرکائے محفل پر نظر ڈالی اور کہا مجھ کو پہلے سے ہی اندازہ تھا کہ ککڑی، انڈے اور کٹے کی بابت آج کی محفل میں مجھ سے سوال ضرور پوچھا جائے گا۔

بہرحال میں نے کیوں کہ پرانے پاکستان کو نیا پاکستان بنانے کے لیے تبدیلی جماعت کا دعوی کرنے والی جماعت کا بھرپور ساتھ دیا تھا، تو اس لیے آپ حضرات کے مشترکہ سوال کا جواب دینا میرا فرض بنتا ہے۔ تو دوستو جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ مجھ میں اخلاص کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے، لیکن بچپن سے ہی قناعت پسندی میرا شعار ہے۔ اس لیے ہمیشہ اخلاص کا دائرہ اپنی ذات گرامی تک ہی محدود رکھا ہے۔ اس لیے میں اپنی ذات کی حد تک ایک نہایت مخلص سیاسی کارکن ہوں۔ اور اس امر سے بھی آپ سب بخوبی واقف ہیں کہ میں نے ہمیشہ اس سیاسی جماعت میں شامل ہونے کو ترجیح دی، جس کو اوپر والوں کا آشیرباد بھی حاصل ہو۔ اس لیے نوجوانی میں روٹی، کپڑا اور مکان کو ایک سیاسی جماعت میں شرکت کرکے اپنا مقصد حیات بنایا اور دن رات سیاست کرکے روٹی، کپڑا اور مکان بقدر ضرورت تو حاصل کرلیا، لیکن حکومت کا تختہ الٹ جانے کے بعد برے دن بھی دیکھنے پڑے۔

روٹی، کپڑا اور مکان کے حصول کے بعد رزق میں برکت اور وسعت کے لیے میں نے ایسی سیاسی جماعت میں شمولیت کا فیصلہ کیا، جس پر جہاں اوپر والوں کا ہاتھ تھا، وہیں اس جماعت کے قائدین روحانی طور پر اونچے درجے پر فائز علامہ کی خدمت کو اپنے کاروبار میں اور اقتدار میں برکت کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ اس سیاسی جماعت کے ایک کارکن نے پرائز بانڈ خرید کر بھی خوب انعام جیتے، میں نے بھی پرائز بانڈ خریدے اور میرے بھی انعام نکلے لیکن اتنی رقم نہیں جیت سکا کہ وزیر بن سکوں یا اپنی کوئی رہائشی سوسائٹی بنا سکوں۔

جب میں نے سنا کہ ایک سیاسی جماعت نیا پاکستان بنا رہی ہے اور بچپن کے دیکھے بھالے عظمی و وقار کی تائید اور مدد نیا پاکستان بنانے میں اس سیاسی جماعت کے شامل حال ہے، تو ترنت اس سیاسی جماعت میں شمولیت کا فیصلہ کیا اور اس جماعت کے ایک ایسے سیاسی رہنما کی قربت کا فیصلہ کیا، جو اسٹاک ایکسچینج میں ان سائڈ ٹریڈنگ کے ذریعے خطیر رقم کما چکے ہیں۔ ارادہ یہی تھا کہ ان سے قربت بڑھا کر ان کے مشورے سے شیئرز کا کاروبار کروں گا، لیکن نیا پاکستان بنتے ہی اسٹاک مارکیٹ کا بیڑا غرق ہو گیا۔ اب کچھ نیا کرنے کا سوچ ہی رہا تھا، تو وزیر اعظم صاحب نے دیسی ککڑی، انڈے اور کٹے کا نیا کٹا کھول دیا۔ اگر یہی کاروبار کرنا ہوتا تو میں سابق خادم اعلی اور ان کے فزند ارجمند کی جماعت سے کیوں کنارہ کشی اختیار کرتا۔ سابق خادم اعلی کے فزند ارجمند تو ایک عرصے سے اس کاروبار سے وابستہ ہیں اور ایک عرصے سے ککڑی اور انڈے کے کاروبار کی طرف قوم کو راغب کرنے میں مصروف رہے ہیں۔ سابق حکومت پنجاب تو باقاعدہ اخبارات میں ککڑی اور انڈے کی ہوش ربا تصاویر کے ساتھ اشتہار میں ایک نعرہ بھی شائع کرواتی تھی، ‘ سنڈے ہو یا منڈے روز کھائو دو انڈے۔ ‘

بس کچھ سمجھ نہیں آرہا کہ بندہ اس نئے پاکستان میں کیا کرے اور کیا نہ کرے، کیوں کہ کل کلاں وزیر اعظم نئے پاکستان کی مذید بہتری کے لیے کوئی یوٹرن لے کر عوام کی خدمت میں کسی نئے کاروبار کا شگوفہ چھوڑ سکتے ہیں۔ اس لیے میرا تو آپ سب کو مشورہ ہے کہ اپنے موجودہ کاروبار اور نوکریوں سے ہی منسلک رہو اور نئے پاکستان میں کوئی نیا کاروبار کرنے سے باز رہو۔ کیوں کہ وزیر اعظم بعض یو ٹرن فورا سے پیشتر بھی لے لیتے ہیں اور بندہ منہ تکتا رہ جاتا ہے۔

اپنے دیرینہ دوست کی سیاسی داستاں اور مشورے سن کر شرکائے محفل نے یہی فیصلہ کیا، کیوں کہ نیا پاکستان سو روز میں نہیں بن سکا ہے اور تبدیلی حکومت نے نیا پاکستان بنانے کے لیے قوم سے مزید وقت مانگ لیا ہے۔ اس لیے جس کاروبار یا پیشے سے جو شخص منسلک ہے، نیا پاکستان بننے تک اسی سے منسلک رہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں