سیاست اور منٹو۔ بشکریہ روزنامہ جنگ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سعادت حسن منٹو کے افسانوں کا مجموعہ ’رتی، ماشہ، تولہ‘ ان کی وفات کے بعد 1956 ء میں شائع ہوا۔ اس مجموعے میں ایک دلچسپ افسانہ ’گاف گم‘ کے عنوان سے شامل ہے۔ منٹو عمر کے آخری برسوں میں علامتی اظہار کی طرف مائل تھے۔ عام طور سے اس ضمن میں ان کے افسانے ’پھندنے‘ کا ذکر کیا جاتا ہے لیکن ’گاف گم‘ کی علامتی معنویت بھی قابل غور ہے۔ اس افسانے میں حامد نامی ایک ادیب اپنے ٹائپ رائٹر سے الجھ رہا ہے۔ لکھتے لکھتے بار بار کی بورڈ پر اس کی انگلیاں گاف نہیں ڈھونڈ پاتیں۔

اس دوران اس کا ایک بے تکلف دوست سلیمان داخل ہوتا ہے۔ جب اسے حامد کی زبانی گاف گم ہونے کی خبر ملتی ہے تو دونوں میں بظاہر ایک لایعنی مکالمہ شروع ہو جاتا ہے۔ سچ پوچھیے تو منٹو کے ہاں ایسے مکالمے سیموئیل بیکٹ اور ہیرلڈ پنٹر سے بہت پہلے لکھے گئے۔ ہم لیکن اپنے چراغوں کی حفاظت کرنا نہیں جانتے۔ انہیں سنکی، شرابی اور فحش نگار قرار دے کر عدالتوں میں گھسیٹتے ہیں۔ ہماری عدالتیں انصاف کی فراہمی میں کوتاہی کی قائل نہیں چنانچہ ہمارے منٹو کا گاف گم ہو جاتا ہے۔

ادھر مغرب میں ایک پوری نسل سیموئل بیکٹ کے اشارے (Waiting for Godot) پر گوڈو کی تلاش میں نکل کھڑی ہوتی ہے۔ ہیرلڈ پنٹر کے ڈرامے چوکیدار (Caretaker) میں تین کرداروں کے درمیان طول و طویل مکالموں کا حاصل ایک تین لفظی سوال ہے، گھر کا ملازم اپنے مالکوں سے پوچھتا ہے، میرے بارے میں کیا سوچا ہے؟ (What about me؟ ) ان تین لفظوں میں طبقاتی کشمکش کی پوری تاریخ سمٹ آتی ہے۔ منٹو کے افسانے ’گاف گم‘ میں بھی ایسا ہی ایک مکالمہ موجود ہے۔ پینسٹھ برس قبل لکھے گئے اس مکالمے پہ ہم نے توجہ نہیں دی لیکن آج کی صورت حال کا خلاصہ تو منٹو کے کردار سلمان نے بیان کر دیا تھا۔ اس نے کہا، ’آپ دوسرے پاکستانیوں کی طرح جذبات میں الجھ کر اپنا صحیح راستہ بھول جاتے ہیں اور نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بعض اوقات آپ کا گاف گم ہو جاتا ہے‘ ۔

گاف کی گمشدگی کا یہ ذکر ان دنوں ہمارے سیاسی مکالمے کی بدلتی ہوئی ترکیب نحوی سے چلا ہے۔ سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے ایک ٹیلیوژن انٹرویو میں فرمایا کہ ’عمران خان کو لایا گیا ہے‘ ۔ دیکھیے اس جملے میں فعل بھی موجود ہے اور مفعول بھی، لیکن فاعل کا کوئی ذکر نہیں۔ اگرچہ کچھ صاحبان حال کہتے ہیں کہ اس بلیغ جملے کے نامعلوم فاعل کو چوہدری نثار علی خان سے بہتر کون جانتا ہے۔ کراچی سے تعلق رکھنے والے پانی کے وفاقی وزیر فیصل واوڈا نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہمارے پاس حکومت ہے اقتدار نہیں۔

ارے یہ بات تو ڈاکٹر مبشر حسن نے چالیس برس پہلے سمجھ لی تھی۔ ان کی کتاب اقتدار کا سراب(Mirage of Power) کے عنوان سے چھپ چکی ہے۔ ایک ہی دن میں ڈالر کی قیمت میں آٹھ روپیہ اضافے پر بھی فیصل واوڈا ہی نے فرمایا کہ کچھ مخالف عناصر نے سازش کر کے روپے کی قیمت گرائی ہے۔ یکم دسمبر کو جب یہ سانحہ وقوع پذیر ہوا تو کراچی ایکسچینج میں کل بیس لاکھ ڈالر کا کاروبار ہوا۔ اتنے معمولی حجم کی رقم سے تو معیشت کے پیندے میں سوراخ نہیں ہوتا۔

مشکل مگر یہ ہے کہ فیصل واوڈا اپنی تمام تر دلیری کے علی الرغم یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ اگر اقتدار حکومت کے پاس نہیں تو پھر کس کے قبضے میں ہے؟ فیصل واوڈا کا گاف بھی موقع محل کی مناسبت سے گم ہو جاتا ہے۔ پنجاب کے صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان ایک ٹی وی پروگرام میں رونق افروز ہوئے، فرمایا کہ ایک ماہ میں چھتیس گمشدہ افراد بازیاب کیے گئے ہیں۔ یہ افراد اگر واقعی گمشدہ تھے تو کوئی گم کرنے والا بھی ہو گا۔ اس کی نشاندہی فیاض الحسن چوہان نے نہیں کی۔

اب آپ خود دیکھ سکتے ہیں کہ ہمارے اجتماعی مکالمے میں فاعل غائب ہو چکا ہے۔ اخبارنویس تو یہ نکتہ بہت پہلے سمجھ گئے تھے۔ انہوں نے جارج ارویل کے اتباع میں کئی برس پہلے ایک نئی زبان (نیو اسپیک) ایجاد کی تھی۔ ’کیا جا رہا ہے‘ ، ’سوچا جا رہا ہے‘ ، ’بھیجا جا رہا ہے‘ ، ’فیصلہ کیا گیا ہے‘ وغیرہ۔ اس طرز کلام میں فاعل کی ضرورت ہی پیش نہیں آتی۔ فاعل کی گمشدگی دراصل جوابدہی کے امکان کو دھندلانے کا حربہ ہے۔

بات چونکہ ادب عالیہ کے پیرائے میں ہو رہی ہے تو نامناسب نہیں کہ اینٹی ہیرو کے تصور پر بھی کچھ بات کی جائے۔ اینٹی ہیرو کسی ادبی فن پارے کا وہ مرکزی کردار ہوتا ہے جو ہیرو کی عمومی خصوصیات مثلاً بہادری، کردار کی بلندی اور فراست سے عاری ہوتا ہے۔ لیکن واقعات کی بھول بھلیوں میں الجھ کر، نادیدہ رکاوٹوں سے ٹکراتا اور بار بار راستہ بدلتا بالآخر وہاں جا پہنچتا ہے جہاں ہیرو کی خوبیوں سے عاری ہونے کے باوجود وہی بیانیے کا ہیرو قرار پاتا ہے۔

اینٹی ہیرو کا یہ تصور ادب میں نیا نہیں۔ دوستوئیفسکی کے ناولوں میں اس کے اشارے ملتے ہیں۔ تاہم بیسویں صدی میں سارتر اور کامیو وغیرہ نے اینٹی ہیرو کو باقاعدہ ارادہ باندھ کے ایک فلسفیانہ موقف کی صورت دی۔ ہمارے میر تقی میر نے بھی ’یاں کے سیاہ و سفید‘ میں دخل نہ ہونے کا شکوہ کیا تھا۔ حساس اہل قلم کا یہ گلہ دراصل مطلق العنان ریاست، گھٹن زدہ معاشرے اور فرد کی بے بسی کا نوحہ ہے۔ پچھلے سو برس کی تاریخ اٹھا کر دیکھیے، غیر جمہوری سیاسی بندوبست علم، لفظ اور خبر سے خوفزدہ ہوتا ہے۔ علم کے ہاتھ پاؤں کاٹ کے نظریے کے ڈبے میں بند رکھنا چاہتا ہے۔ خبر کا گلا گھونٹنے کی خواہش رکھتا ہے اور لفظ کا معنی خود متعین کرنا چاہتا ہے۔ کہنے والے کو تو بہرصورت اپنی بات کہنا ہے۔ تری گلی کو نہ جاتا تو جادہ کیا کرتا۔ ۔ ۔

ہم سے فرمایا گیا تھا کہ ’ہم نے تمہیں زبان دی کہ کلام کر سکو‘ ۔ کلام خاموش نہیں رہ سکتا۔ زبان کی اکھاڑ پچھاڑ سے اپنا درد دل بیان کر دیتا ہے۔ ہمارے ملک میں بحران صرف اینٹی ہیرو کا نہیں، اینٹی سیاست کا بھی ہے۔ ستر برس سے ہم جمہوریت کے نام پر غیر جمہوری تجربہ کر رہے ہیں۔ سیاست کی ساکھ بگاڑ کر اپنے لیے سیاسی مقام پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ تاریخ کو جھٹلاتے ہیں اور تاریخ بنانے کی خواہش رکھتے ہیں۔ یہ خیال خام پال رکھا ہے کہ کسی طرح جوڑ توڑ کر کے حکومت تک پہنچ جائیں پھر اقتدار بھی جیب میں آ جائے گا۔ جان لیجیے کہ اقتدار فاعل کی مٹھی میں بند ہے۔ اگر ہم فاعل کی نشاندہی کا حوصلہ نہیں رکھتے تو حکومتیں قومی تعمیر کے ہدف ترک کر کے انڈوں کی آئندہ شماری پہ اتر آتی ہیں۔ اقتدار بے چہرہ رہتا ہے اور قوم منفعل ہو جاتی ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
––>