کیا پاکستان ایک بار پھر امریکی کیمپ کا حصہ بننے جارہا ہے ؟


عمران خان اور ڈونلڈ ٹرمپ اس زمین پر ایک دوسرے کے بہترین دوست ثابت ہوسکتے ہیں۔ دونوں کے حالات زندگی اور سیاسی چال چلن تقریبا ایک جیسا ہے۔ دونوں یوٹرن لینے کوایک عظیم صلاحیت سمجھتے ہیں اور دنیا کے تمام رہنماؤں میں سب سے زیادہ ٹویٹربازی کا مظاہرہ کرتے بھی نظرآتے ہیں۔ دونوں لیڈروں میں ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ جب وہ بول رہے ہوتے ہیں تو بس بولتے چلے جاتے ہیں اور پھر اب کی اس بول چال پر مہینوں تبصرے اور تجزیے ہوتے رہتے ہیں۔ مجھے یقین ہوتا جارہا ہے کہ وہ وقت قریب ہے جب یہ دونوں رہنما ایک دوسرے کے وفادار دوست ہوں گے۔

کچھ دنوں پہلے کی بات ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انٹرویو کے دوران فرمایا تھا کہ پاکستان نے ہمارے لئے آج تک کچھ بھی نہیں کیا لیکن ہم نے پاکستان پر اربوں ڈالرز نچھاور کر دیے۔ سب جانتے ہیں کہ اسامہ بن لادن کو کس نے پناہ دی ہوئی تھی؟ میاں ٹرمپ نے دل کھول کر پاکستان پر طنز کے نشتر برسائے۔ امریکی صدر کے ان خیالات کے بعد سب کو یقین ہوچلا تھا کہ اب امریکا اور پاکستان کے تعلقات خوفناک حد تک خراب ہوگئے ہیں۔ لیکن ہمیشہ کی طرح یوٹرن کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹرمپ میاں نے اپنے خان صاحب کو محبت بھرا لو لیٹر لکھا دیا ہے۔

موصوف نے فرمایا ہے کہ وہ پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف قربانیوں کو سرہاتے ہیں۔ انہوں نے پاکستان سے اپیل کی کہ پاکستان طالبان کو مذاکر ات کی میز پر لانے کے لئے اپنا کردار ادا کرے اور اس طرح امریکا کی مدد کرے۔ صاف ظاہر ہے کہ پاکستان امریکا کے کہنے پر ضرور سہولت کاری کا کردار ادا کرے گا۔ اب سوال یہ ہے کہ امریکا کے دوحہ میں طالبان کے ساتھ براہ راست مذاکر ات پہلے ہی سے چل رہے ہیں، ان مذاکر ات میں پاکستان امریکا کی مدد کررہا ہے۔

ایسی صورتحال میں لو لیٹر لکھنے کی ضرورت کیوں پیش آگئی تھی؟ کہیں ایک بار پھر ٹرمپ انتظامیہ کا بیانیہ تبدیل تو نہیں ہورہا؟ کہیں ایک بار پھر امریکا پاکستان کو اسٹریٹجک پارٹر تو نہیں بنانے جارہا ہے؟ کہیں امریکا کو پاکستان کی اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو امریکا کی ضرورت تو نہیں پڑ گئی؟ ویسے ہماری اسٹیبلشمنٹ جس گھمبیر صورتحال کا شکار ہے امریکی اخلاقی، سیاسی اور امدادی مدد ان کے بہت کام آسکتی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ اب تک سعودی عرب، چین، دبئی اور ملائشیا وغیرہ نے حکومت پاکستان اور اسٹیبلشمنٹ کو مایوس کیا ہے؟

افغانستان میں تعینات سخت گیر امریکی خصوصی ایلچی جناب زلمے خلیل زاد جو پاکستان کے حوالے سے نرم رویہ نہیں رکھتے آج پاکستان میں پہنچ چکے ہیں۔ زلمے بھائی عمران خان کے علاوہ باجوہ صاحب سے بھی ملاقات کریں گے۔ مجھے تو ایسا لگ رہا ہے کہ وہ عمران خان صاحب کو امریکا کے دورے کی دعوت بھی دے سکتے ہیں۔ ممکن ہے کہ ٹرمپ صاحب کو عمران خان کی یاد ستا رہی ہو اور وہ دیکھنا چاہتے ہوں کہ پاکستان میں ان جیسا حکمران کیسا ہے؟ دو ایک جیسی روحوں کو ہمیشہ ایک دوسرے سے ملنے کی خواہش تو رہتی ہے۔

یہ تو ایک حقیقت ہے کہ افغانستان کا زیادہ تر علاقہ اب بھی طالبان کے کنٹرول میں ہے۔ امریکا کھربوں ڈالرز خرچ کرچکا ہے لیکن افغانستان کا مسئلہ حل ہونے کی بجائے مزید بگڑتا چلا جارہا ہے۔ ایک بار پھر امریکی فوجیوں کی لاشیں امریکا جارہی ہیں۔ دوحہ مذاکر ات میں کوئی بڑا بریک تھرو بھی دیکھنے کو نہیں مل رہا۔ ایسبی صورتحال میں امریکا کو پاکستان کی جادو کی جپھی کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے لئے بھی صورتحال خطرناک ہے۔ نئی حکومت اپنے پاوں پر کھڑی نہیں ہورہی جس کی وجہ سے عمران خان صاحب پریشان ہیں۔ آئی ایم ایف بھی پاکستان کو قرضہ دینے میں ہچکچا رہا ہے۔ چین، سعودی عرب وغیرہ بھی حکومت کومالی مدد نہیں دے رہے۔ ہماری اسٹیلشمنٹ کوبھی عالمی نیک نامی کی ضرورت ہے۔ امریکی یاری سے پاکستان کے بہت سارے معاملات بہتر ہوسکتے ہیں۔ دونوں کے پاس ایک دوسرے کودینے کے لئے بہت کچھ ہے۔

پاکستانی نیوز چینلز کے سقراطی قسم کے اینکرز سے اجتماعی انٹرویو کے دوران اپنے خان صاحب نے کہہ دیا ہے کہ وہ طالبان کومذاکر ات کی میز پر لانے کی کوشش کریں گے کیونکہ جنگ سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ اپنے خاص صاحب نے اجتماعی انٹرویو کے دوران فرمایا ہے کہ پاک فوج پی ٹی آئی کے منشور کے ساتھ کھڑی ہے۔ یہ ہمارا ہی منشور تھا کہ تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ امن قائم کریں گے۔ اچھی بات ہے کہ بھارت، افغانستان اور امریکا کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے ملٹری سول ڈسکورس ایک ہے۔ ملٹری سول ڈسکورس کی بہترین مثال کرتارپور راہداری کا معاملہ ہے۔ کرتارپور راہداری کھل رہی ہے تو اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ باجوہ صاحب اور کان صاحب ایک پیج پر ہیں۔

شکر ہے اب بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات قائم کرنے والے رہنماؤں کو غدار نہیں کہا جائے گا۔ پاکستان کی طرف سے بھارت اور افغانستان کے ساتھ امن کی باتیں کرنا اور دوبارہ امریکی کیمپ کا حصہ بننے کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کا بیانیہ ایک بار پھر بدل رہا ہے۔ اچھی بات ہے کہ ٹرمپ اور عمران خان صاحب طالبان کے ساتھ ملکر افغانستان میں امن قائم کریں گے۔ امید ہے کہ اس مرتبہ دونوں ملک ایک دوسرے کو دھوکا نہیں دیں گے۔ یہ اور اچھی بات ہے کہ بھارت کے ساتھ امن قائم ہواور تجارتی روابط بڑھیں۔ بظاہر لگتا ایسے ہے کہ پاکستان اس مرتبہ تعلقات کے حوالے سے پرامن بیانیہ لارہا ہے۔ اندر کی کہانی کیا ہے، فی الحال کچھ نہیں کہا جاسکتا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں