فرانس جرمن تعلقات: انڈیا پاکستان کے لیے سبق


وزیر اعظم عمران خان نے 28 نومبر کو کرتار پور راہداری کی بنیاد رکھ کر انڈیا پاکستان تعلقات میں بہتری لانے کے لیے ایک مثبت سوچ کی عکاسی کی ہے۔ دونوں ملکوں کی عوام 70 سالوں سے اس امید پر زندگی گزار رہے ہیں کہ کب دونوں ملک اپنی دشمنی ختم کر کے دوست بنیں گے۔ دونوں ایٹمی ملکوں کی دشمنی پورے خطے کی امن کے لیے خطرہ ہے۔ آخر کب تک عوام کو یر غمال بنا کر رکھیں گے۔ اس حوالے سے پاکستان اور ہندوستان کو فرانس اور جرمنی کے تعلقات سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔

فرانس اور جرمنی نے 1870 سے 1945 تک تین بڑی جنگیں لڑی۔ جنگ عظیم اول اور جنگ عظیم دوئم جیسی جنگیں ان دونوں ممالک کی دشمنی کا نتیجہ تھی، ان مہلک جنگوں سے کروڑوں معصوم لوگ قتل ہوئے، کروڑوں زخمی اور لاپتہ ہو گئے، لاکھوں بے گھر ہو گئے، تعلیمی ادارے، ہسپتال، انڈسٹریاں، روڈ، لاتعداد دولت اور سارا نظام زندگی بربادہوگئے۔ ان دونوں کی دشمنی سے پورا یورپ تباہ ہوا، ہر جگہ خوف کا ماحول، غربت، جہالت، تنگ د ستی، بے روزگاری، بیماریاں اور وبائی امراض کا راج تھا۔

اس حال تک پہنچانے کے ذمہ دار یہ دونوں ملک تھے۔ آخر کیا وجہ تھی کہ یہ دونوں ملک اس حال تک پہنچے۔ اس کی کئی وجوہات تھیں، جابر و تنگ نظر حکمران، ایک دو سرے پر سبقت حاصل کرنے کی خواہش، اور سب اہم وجہ وہ علاقے تھے جن پر یہ دونوں قابض ہونا چاہتے تھے۔ وہ علاقے الساس اور لورین تھے جو فولاد، تانبا اور کوئلے کے خزانوں سے مالا مال تھے۔ دونوں کی کوشش ہوتی کہ یہ ان کے قبضے میں آجائیں، کیونکہ ان چیزوں سے ہی جنگی ہتھیار بناتے تھے۔

1870 سے پہلے یہ علاقے فرانس کے پاس تھے، 1870 کی جنگ میں جرمنی کے پاس آئے پھر ان علاقوں کو حاصل کرنے کے لیے فرانس نے اپنے حامی ممالک کا بلاک بنایا، جرمنی نے اپنا بلاک بنایا۔ اسی وجہ سے جنگ عظیم اول جیسی تباہ کن جنگ ہوئی۔ 1919 سے 1940 تک یہ علاقے پھر فرانس کے پاس گئے کیونکہ جرمنی کو شکست ہوئی۔ اسی طرح جرمنی نے حاصل کرنے کے لیے دوسری جنگ عظیم شروع کی جو تاریخ کی سب سے مہلک ترین جنگ ثابت ہوئی۔ 1940 میں جرمنی نے قبضہ کیا اور یوں 1948 میں پھر فرانس کے قبضے میں چلے گئے۔

جنگ عظیم دوئم کے بعد کیا وجہ تھی کہ اتنی نفرت، دشمنی، اور تباہ ہی کے بعد دونوں ملک دوستی کی طرف آ ئے۔ اس کی اہم وجہ فرانس اور جرمنی کی لیڈرشب کی سوچ میں تبدیلی تھی۔ ان کے پاس دور اندیش حکمران آئے ان کو احساس ہوا کہ جنگ سے تباہ ہی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ اب عوام کو ذلت، خوف، جہالت اور غربت سے نکال کر خوشحال زندگی دینی ہے۔ ان کو امن، تعلیم، روزگار دینا ہے۔ اور یہ ثابت کیا کہ 1945 سے اب تک یورپ میں خوشحالی ہی خوشحالی، امن ہی امن، ترقی ہی ترقی، اور انسانی حقوق کی معمولی سی خلاف ورزی بھی نہیں ہوئی۔ فرانس اور جرمنی کو اب یورپی امن کے رہنما، یورپی اتحاد کے انجن، یورپی دفاع، یورپی خوشحالی، یورپی ترقی کی موٹر کہا جاتا ہے۔ انہوں نے تباہ کن جنگوں کے بعد سیکھا ہے۔ کیا انڈیا پاکستان بھی ایک دوسرے کو تباہ کرنے کے بعد سیکھنا چاہتے ہیں؟ یا ان کو ابھی سیکھنے کی ضرورت ہے؟

انڈیا پاکستان نے چار جنگیں لڑی ہیں لیکن وہ تباہی نہیں دیکھی ہے جو یورپ نے دیکھی۔ انڈیا پاکستان کی دشمنی کی اہم وجہ مسئلہ کشمیر ہے۔ الساس اور لورین جس قدر اہم فرانس جرمنی کے لیے تھے اس قدر کشمیر پاکستان اور انڈیا کے لیے اہم ہے۔ لیکن کشمیریوں کو جس چیز کی ضرورت ہے وہ امن، آزادی اور خوشحالی ہے۔ کب تک ان کے ساتھ ظلم ہوتا رہے گا آخر اس ظلم سے دونوں ملکوں کو کیا ملتا ہے؟ صرف نفرت، عداوت، اپنے اپنے دفاع کو مضبوط کرنے کے لیے کھربوں ڈالر کا نقصان اور کچھ نہیں۔

دونوں ملکوں کے مشترکہ دشمن، دونوں ملکوں کی کروڑوں عوام کی بھوک، افلاس، غربت، جہالت اور بے روزگاری ہے۔ ان کے خلاف جنگ کی ضرورت ہے، ان کو مٹانے کی ضرورت ہے۔ دونوں طرف عوام کو امن، تعلیم، روزگار اور خوشحالی کی ضرورت ہے۔ اور یہ سب تب ہی ممکن ہوگا جب دونوں طرف عقلمند، دردمند اور وژنری لیڈرشب آئے گی۔ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان ایک دور اندیش، درد مند، عقلمند اور امن کے داعی انسان ہیں۔ دونوں ملکوں کی امیدیں ان سے وابسطہ ہیں۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ انڈیا کی طرف سے بھی ایسی لیڈرشب سامنے آئے اور فرانس جرمن امن ماڈل کو سمجھے اور سبق سیکھے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

نظام الدین، نلتر کی دیگر تحریریں
نظام الدین، نلتر کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں