بلیو ٹوتھ سے محبت میں اضافہ


میں اکثر سوچتی ہوں جو لوگ خاموشی، سکون اور تحمل سے پوری بات سنتے ہیں۔ اگلے بندے کو اظہار کا پورا موقعہ دیتے ہیں کتنے صبر والے ہوتے ہیں۔ یہاں تو حال یہ ہے کہ ابھی الفاظ منہ میں ہوتے ہیں اور جواب مل بھی جاتا ہے۔ ویسے تو میں بھی بڑے سکون سے بات سنتی ہوں بس بلیو ٹوتھ ہیڈ فون کان میں لگا ہوتا ہے اور سمجھ نہیں آتا کہ بات سامنے والے کی سن رہی ہوں یا جو کان میں چنگھاڑ رہا ہے اس کی۔ بس اسی کنفیوژن میں کان والا اور سامنے والا دونوں میری سکون سے سننے کی صلاحیت کے قائل ہو جاتے ہیں۔ چوں کہ میرے پلّے کچھ نہیں پڑا ہوتا لہٰذا اس بات کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ کوئی جوابی مشورہ بھی دوں لہٰذا کان والے اور سامنے والے دونوں پر میرے مہذب ہونے کی بھی دھاک بیٹھ جاتی ہے۔

بس جی یہ بلیو ٹوتھ ہیڈ فون بڑی ہی کرشماتی چیز ہے۔ ایک روز ایلی ویٹر کے انتظار میں کھڑی تھی، جب دروازہ کھلا تو ایک صاحب بر آمد ہو ئے اور بڑی گرم جوشی سے السلام و علیکم کہا۔ اب مسلمان سب بھائی بہن ہیں، سلام کا جواب دینا ویسے بھی ثواب کا کام ہے۔ میں نے بھی کھٹاک سے و علیکم السلام کہہ دیا۔ اب نیکی کمانے کا موقعہ کیسے ہاتھ سے جانے دیا جا سکتا تھا۔ لیکن پھر تھوڑا سا غور سے دیکھنے پر پتہ لگا کہ صا حب کے کان میں بلیو ٹوتھ لگا ہے اور وہ بھی میری طرح سامنے والی اور کان والی کی کنفیوژن میں الجھے ہیں۔

سچ پوچھیں تو خوش گوار ازدواجی زندگی کا راز بھی اسی چھو ٹے سے ڈیوائس میں پنہاں ہے جب تک ہم اس سے محروم تھے دونوں میاں بیوی جو ایک دوسرے کی شان میں زیر لب گستا خی کرتے تھے وہ بخوبی سن لیا کرتے تھے اور جوابی کا ر وائی بھی لازم ہوتی تھی جس سے کچھ گرم سرد جملوں کا تبادلہ بھی ہو جایا کرتا تھا لیکن جب سے ہم دونوں کے کانوں میں بلیو ٹوتھ آیا ہے زندگی بڑی پر سکون ہو گئی ہے۔ ہم دونوں ایک دوسرے کو دیکھتے ضرور ہیں، سنتے نہیں۔

سکون ہی سکون ہے۔ میرا تو تمام لڑکیوں کو مشورہ ہے کہ اپنے جہیز کے سامان میں اچھا سا بلیو ٹوتھ ضرور رکھیں۔ سسرال میں جاتے ہی ہمہ وقت اسے کان میں لگائے رکھیں۔ نہ کسی کی کوئی تنقید کان میں پڑے گی، نہ آپ کا دل میلا ہو گا اور نہ ہی آپ کوئی نہ گفتنی منہ سے نکالیں گی۔ ہر کوئی آپ کی کم گوئی کا قائل ہو جائے گا۔ ایسی لڑکی تو چراغ لے کر ڈھونڈے نہیں ملتی۔ ویسے تو چراغ کا زمانہ نہیں رہا چلیں اسے ایمر جنسی لائٹ کر لیں۔

کوئی ایمر جنسی لائٹ لے کر بھی ڈھونڈے تو ایسی بہو نہ ملے جو سب کچھ سن کر ان سنی کر دیتی ہو۔ بس کمال کان میں لگے بلیو ٹوتھ کا اور راوی ہر طرف سکون ہی سکون لکھے گا۔ ویسے موجودہ بلیو ٹوتھ ہیڈ فون کی جگہ اگر امپلانٹ کرنے کی سہولت میسر آ جائے تو کیا ہی اچھا ہو۔ بار بار کان میں لگانے نکالنے سے نجات مل جائے اور جھنجھٹ ہی ختم ہو۔

بلیو ٹوتھ مائیکرو فون آنے سے بھی زندگی نے نئی کروٹ لی ہے۔ اگلے وقتوں میں انٹر ٹینرز کی مجبوری ہوتی تھی کہ ان کی پرواز، ان کے ما ئیکرو فون کی تار کی لمبائی کے مر ہون منت ہوتی تھی۔ ٹیکنا لوجی نے انٹر ٹینرز کے ساتھ ساتھ نئی نسل کے مو ٹیو یشن سپیکرز کی بھی دنیا بدل دی ہے۔ میں تو جب بھی عمیر جالیا والا کا ٹریننگ سیشن دیکھتی ہوں بلیو ٹوتھ ما ئیکرو فون کی افادیت کی قا ئل ہو جاتی ہوں۔ اکثر او قات بات تو پیچھے رہ جاتی ہے عمیر آگے نکل جاتا ہے۔ بس د عا دیں بلیو ٹوتھ کو جس کی بدولت یہ حضرات اچھل کر اسٹیج سے اتر کر پبلک میں آ کر اپنی اچھل کود کا بھر پور مظاہرہ کر کے کچھ ہی لمحوں میں ہائی جمپ لگا کر دوبارہ اسٹیج پر اپنی لسانی قوت سے ہمیں مسحور کرنے لگتے ہیں۔

کینیڈا کی روڈ ٹریفک ڈویژن مسافروں کے بلیو ٹوتھ ڈیوایسز سے جمع شدہ ڈیٹا کی مدد سے سفر کا دورانیہ اور سڑکوں پر رش کی پیش گوئی بھی کرتی ہے۔ اگر یہی عمل پاکستان میں آزمایا جائے راستے میں جلسے جلوسوں کا وقت بھی آسانی سے شامل کیا جا سکتا ہے۔

کچھ میاں بیوی بھی بلیو ٹوتھ ڈیوایسز کی طرح پیئر بھی بنا لیتے ہیں، کنکٹ بھی ہو جاتے ہیں لیکن کبھی کبھی کنکشن میں خلل بھی آ جاتا ہے۔ وجہ کچھ بھی ہو سکتی ہے۔ کبھی باہمی سگنل زائل ہونے سے کبھی کسی اور طاقتور سگنل کی موجودگی کی وجہ سے۔

کبھی سوچتی ہوں اگر انسان کے بس میں ہوتا تو اپنے من پسند انسان کے دماغ میں بھی کوئی ایسا ہی ڈیوائس لگا دیتا۔ کچھ کہنا ہی نہ پڑتا اور خیالات ٹرانسفر ہوتے رہتے۔ کتنی آسانی ہوتی فون کے پیکج بھی بچ جاتے۔ انٹرنیٹ کی بھی ضرورت نہیں، ڈائریکٹ ڈیٹا ٹرانسفر، واہ کتنا مزہ آتا۔ چلو کیا پتہ کبھی ایسا ہو ہی جائے تب تک ہم سوچ کر رکھتے ہیں کہ جب یہ ٹیکنالوجی آئے گی تو کس پر آزمانی ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں