کمراٹ نیشنل پارک؛ مقامی لوگوں کے لیے وبال


ہماری اجتماعی اور انفرادی ذہنیت میں ابھی تک ایک نوابادیاتی سوچ باقی ہے جو ہمیں نوابادیاتی ورثے میں ملی ہے۔ یہ سوچ سکول کے کمرہ جماعت سے لیکر اداروں اور واقعات میں اشکارہ ہوجاتی ہے۔ اس کا اظہار اس وقت بھی ملتا ہے جب ہم کسی دور دراز پہاڑی علاقے میں لوگوں اور دھرتی کی سیر کرنے جاتے ہیں۔کئی دانشور اس سوچ کو colonial mentality کہتے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ سوچ ثقافتی اور تمدّنی کمتری کے احساس کو اپنی نفسیات میں شامل کرنے کا عمل ہے جہاں وہ لوگ خود کو کمتر ماننے لگتے ہیں جن کو کسی نوابادیاتی طاقت نے زیر کیا ہو۔ یہ عمل تہہ دار ہوتا ہے۔ یہ سماجی تفاوت کی عمودی تشریح کرتی ہے اور اونچ نیچ کا تصّور اس کا بنیادی فلسفہ ہوتا ہے۔ نفسیات کے ماہرین کے نزدیک کمتری کے احساس سے اس کا اُلٹ یعنی برتری کا احساس جنم لیتا ہے ج۔ یہ دُوئی ساتھ ساتھ چلتی ہے۔ ایسی سوچ کا شکار انسان سماجی ڈھانچے کو عمودی خط میں اوپر نیچے کے طور پر دیکھتا ہے۔

دنیا میں نوابادیت “جدیدت” کی پیداوار ہے۔ جدیدت کے مقاصد میں بڑا مقصد “دوسرے” کو اپنی طرح “مہذب”، “نیک”، “ترقی یافتہ” بنانا ہوتا ہے۔ جدیدیت نے دنیا کو بظاہر”ہمدردی” کے احساس کے تحت نئے تصّورات بھی دیے ہیں۔ ان تصّورات میں ایک ہمہ گیر تصّور “ترقی” کا بھی ہے جو اپنی زات میں ایک عمودی طرز فکر ہے۔ ترقی کا یہ تصّور اگرچہ مختلف مراحل سے گزرا ہے لیکن اب تک اپنے اندر وہ نقشہ سمویا ہوا ہے جس میں ترقی سے مراد محض “معیشت کا بڑھاوا” لیا جاتا ہے۔ ترقی کے اس تصّور نے اکثر بنیادی انسانی حقوق، شخصی آذادیوں اور خوشیوں کو پائمال کیا ہے۔ یہ ترقی مساوی نہیں ہے بلکہ کسی ایک قوم کی ترقی دوسری کی تنزلی ہے ایسے ہی جیسے جدیدت میں کسی ایک قوم کی “تہذیب” دوسری کی “بربریت” ہوا کرتی ہے۔

ترقی کے اس تصّور اور اس پرعمل در امد نے دنیا کو کئی مسائل سے دوچار کیا ہے جن میں جنگ و جدل اور موسمیاتی تبدیلی Climate Change سر فہرست ہیں۔

عملی نوابادیت کے دور یعنی گذشتہ دو صدیوں کے دوران جب کوئی نوابادیاتی محقیق، مصنف یا اہلکار کسی دوسری قوم کے بارے میں لکھتا تو وہ ان کو اپنے زاویے سے دیکھتا یا یوں کہے یورپی بالادستیت Eurocentrism کے تناظر میں دیکھتاہیں۔ اسی پس منظر کی وجہ سے وہ اکثر ان لوگوں کو وحشی، پسماندہ اور ان جیسے دوسرے القابات سے نوازتے رہے ہیں۔

ہمارے معاشرتی رویّے جن کو ایک نوابادیاتی تعلیمی ورثے نے پروان چڑھایا ہے اب بھی اسی سوچ کے شکار ہیں۔ ہم اب بھی ہر سطح پر کمتری و برتری کی دُوئی میں پھنسے ہوئے ہیں۔ مثال کے طور پر جب کوئی شہری بابو پہاڑوں میں بسنے والوں کو دیکھتا ہے تو اس کے ذہن میں پہلا خیال پسماندگی اور وحشت کا اتا ہے ۔ پہاڑوں کے باسی ہوں یا پھر فاٹا کے باشندے ان کا نام سنتے ہی شہروں میں بسنے والوں کے ذہن میں پسماندگی، وحشت، خوف، خون خرابہ کی تصویر ابھرتی ہے۔ وہ فوراً ان لوگوں کو سدھارنے کی فکر میں لگ جاتے ہیں۔ بظاہر یہ فوری خیال منفی نہیں ہوتا لیکن ایک منفی فکر سے ہی پھوٹتا ہے۔

پاکستان کے شمالی خظے میں پہاڑی علاقے قدرتی حسن، وافر قدرتی وسائل اور کلچرل تنّوع و تفاوت سے بھرے پڑے ہیں۔ ان میں سے ایک خوب صورت وادی کمراٹ بھی ہے جو ضلع اپر دیر کے پنجکوڑہ وادی ، جسے دیر کوہستان بھی کہا جاتا ہے ، کا ایک بہشتی تکڑا ہے۔پنجکوڑہ دریا کے ساتھ ساتھ اس پورے علاقے میں گاؤری لوگ اکثریت میں ہیں جن کے ساتھ کلکوٹی، گجر اور دوسری قومیں کم تعداد میں یہاں اباد ہیں۔ یہ وادی ماضی میں اتنی مشہور نہیں تھی۔ عام سیّاح یہاں نہیں جاتا یا اسکو اس کا پتہ نہیں تھا۔ صرف وہ لوگ یہاں کا رخ کرتے جو سیّاحت اور کوہ پیمائی سے محبت رکھتے ہیں۔ جب مئی 2016ء میں عمران خان صاحب نے پہلی مرتبہ کمراٹ کی سیر کی تو یہ علاقہ مشہور ہوتا گیا اور عام سیِاح اُدھر جانے لگے۔ اس وقت بھی صوبے میں پی ٹی ائی کی حکومت تھی اور عمران خان “نجی” حیثیت میں بذریعہ ہیلی کاپٹر وہاں تشریف لے گئے تھے۔

کمراٹ وادی کے حسن سے مسحور ہوکر عمران خان صاحب نے اس وادی کو نیشنل پارک بنانے کا اعلان کیا تھا۔ فرط جذبات میں اکر اپ نے یہ اعلان بغیر مقامی لوگوں کے مشورے کے کیا تھا۔ اس اعلان پر اس وقت مقامی لوگ حیران ہوئے تھے کہ کمراٹ وادی ان کے جنگلات ، زمین اور چراگاہوں پر مشتمل ہے ۔ یہ محض وہ جگہ نہیں جہاں تک خان صاحب گئے تھے ۔ اسکی سرحد بالائی چترال سے ملتی ہے اور بہت وسیع و عریض وادی ہے۔ مقامی لوگوں نے اس پر حیرت کے ساتھ ساتھ اعتراض بھی کیا کہ وہ اس پورے علاقے کو اپنی ملکیت مانتے ہیں اور ان کی ذندگی کا دارمدار ذیادہ تر اس وادی کے جنگلات پر ہی ہے۔ ایک اخباری انٹرویو میں مقامی رہنما حاجی گل شیر نے پوچھا تھا کہ کیسے ایک حکومت ایک ایسے علاقے پر نیشنل پارک کا اعلان کر سکتی ہے جو مقامی لوگوں کی ملکیت ہو۔

کمراٹ وادی کی سیر کے دوران اپنے ویڈیو انٹرویو میں عمران خان صاحب نے سیّاحوں کو یہاں انے کی دعوت دی ۔ اس کے بعد یہ وادی عام سیّاحوں کی توجّہ کا مرکز بن گئی۔ مقامی لوگوں نے یہاں خیمہ ہوٹلز بنانے شروع کیے کیوں کہ علاقے کے مالکان مختلف قبیلوں نے اس وادی میں پختہ تعمیرات کرنے پر ازخود پابندی لگادی۔ راقم کو بھی اسی سال کمراٹ کی سیر کرنے کا موقع ملا ۔ میں یہ دیکھ کر خوش ہوا کہ مقامی لوگوں نے اس وادی میں پختہ تعمیرات پر پابندی لگا کر اس کے حسن اور جنگلات کو بچانے کو کوشش کی ہے۔ میرے خیال میں یہ مقامی انصرام ایسے دوسرے علاقوں کے لیے مشعل راہ ہے اگر وہ اپنے علاقے بچانا چاہتے ہیں۔ ان لوگوں نے کمراٹ کی زمین غیر مقامیوں کو بیچنے پر بھی پابندی لگا رکھی ہے۔

عمران خان کے مئی 2016 ء کے اعلان کی پیروی کرتے ہوئے خیبر پختونخوا کے موجودہ سنیئر وزیر برائے سیّاحت محمد عطیف خان نے 4 نومبر 2018 ء کو کمراٹ وادی کو نیشنل پارک بنانے کا اعلان کیا۔ پہلے کی طرح اس بار بھی مقامی لوگوں سے کوئی رائے مانگی اور نہ ہی ان کو اس منصوبے کے خدوخال سے اگاہ کیا۔ احکامات کو بروئے کار لاتے ہوئے ضلع اپر دیر کے انتظامیہ نے سیدھا جاکر لوگوں کو دھمکایا کہ وہ کمراٹ وادی میں سے اپنے خیمہ ہوٹلز اکھاڑ دیں۔

مقامی لوگوں میں غم و غصّہ بڑھ گیا۔ ان کو اس منصوبے کے بارے میں کوئی دستاویز بھی نہیں دی گئی تاکہ وہ کوئی مشورہ کرسکے۔ ان کے پاس کوئی اور راستہ نہیں تھا اور وہ سیدھا عدالت چلے گئے۔ ساتھ ساتھ انہوں نے وزیر اعلی سے ملاقات کرنا چاہی کہ اس بارے ان سے بات کی جاسکے۔ علاقے کے مقامی رہنما پشاور گئے مگر تاحال وزیراعلی سے نہیں مل سکے کہ بقول حاجی گل شیرموصوف کے پاس اگلے دو ہفتوں تک وقت نہیں ہے۔

دوسرے کئی پہاڑی علاقوں کی طرح دیر کوہستان میں بھی جنگلات کا انتظام و انصرام روایتی قانون customary law کے تحت ہوتا ہے۔ مقامی لوگ ان کا تصرّف بھی کرتے ہیں اور اپنے تئیں ان جنگلات کو بچاتے بھی ہیں کہ ان ہی پر ان کی ذندگی کا ذیادہ تر انحصار ہے۔

تسلیم کہ دیر کوہستان میں جنگلات کی بڑی کٹائی ہوتی ہے۔ لیکن اس کٹائی کے اسباب پر بھی سوچنا چاہے اور اس کا سدّباب کرنے کے لیے دیرپا اقدامات اٹھائے جائے نہ کہ لوگوں کو ان کی زمینوں، چراگاہوں اور جنگلات سے بے دخل کیا جائے۔ 2014ء میں کی گئی ایک تحقیق کے مطابق دیر کوہستان میں جنگلات کی کثیر کٹائی یعنی 87 فی صد ایندھن کی لکڑی fuel wood کے لیے کی جاتی ہے۔ یہاں موسم سرما طویل اور شدید ہوتا ہے اور توانائی کا کوئی متبادل ذریعہ نہیں ہے۔

لوگوں کو اگر توانائی کے متبادل ذرئع فراہم کیے جائے تو یہ جنگلات بچائے جاسکتےہیں۔ ایک وادی کو نیشنل پارک بنانے سے جنگلات نہیں بچ سکیں گے۔ لوگ اس صورت میں ایندھن کی لکڑی ظاہر ہے دوسرے جنگلات یعنی لاموتی کے جنگلات سے لائیں گے۔ اس طرح یہاں کا جنگل ختم ہوگا جو پہلے سے حکومت اور مقامی لوگوں کے بیچ تنازعہ کی وجہ سے کافی برباد ہوچکا ہے۔

وادی کمراٹ اور دیر کوہستان کے دوسرے علاقوں میں پانی وافر مقدار میں موجود ہے۔ حکومت یہاں چھوٹے چھوٹے پن بجلی گھر بناکر ان کی بجلی کو سستے داموں مقامی لوگوں کو فراہم کرے تاکہ وہ اسانی سے اس کو اپنے گھروں کو موسم سرما میں گرم کرنے کے لیے استعمال کرسکے۔ اس سے جنگلات بچ جائیں گے۔ ذندگی اسان ہوگی۔ بچّوں اور عورتوں کو خصوصی فائدہ ہوگا۔ وہ دھوئیں سے بچ جائیں گے۔ گھر کا ماحول روشن اور صاف ہوگا۔ بچّوں کو گھر میں پڑھنے کا اچھا ماحول مل جائے گا۔ خواتین اور بزرگ آنکھوں کی بیماریوں سے بچ جائیں گے۔

حکومتوں کو نمائشی منصوبے کرنے کی بجائے لوگوں کے اصل اور بنیادی مسائل حل کرنے چاہئے۔ اسی طرح صحیح معنوں میں جنگلات بچائے جاسکتے ہیں۔ ایسے پارک تو محض متعلقہ شعبے کی خوشماشی کے لیے ہوتے ہیں۔ یہ پارک اور اس طرح کے دوسرے نمائشی منصوبے ان خوب صورت وادیوں میں افسر شاہی ، سیاسی شاہی اور ان کے امیر کبیر دوستوں کو زمینیں فراہم کرنے کے لیے ہوتے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں