مرگ کے کھانے میں بوٹیاں ڈھونڈتے لوگ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


ہم بہت ظالم لوگ ہیں۔ کسی کی خوشی میں ہم سج سنور کر نہیں جارہے ہوتے بلکہ حسد کا لبادہ اوڑھ کر کینہ پرور مسکراہٹ سجائے لوگوں کی خوشی میں شریک ہوتے ہیں ۔جب تک اس تقریب میں رہیں ہم کڑھتے رہتے ہیں کوئی نہ کوئی خامی تلاش کرتے رہتے ہیں اور پھر ہم اس میں کا میاب ہو کر ہی گھر کو لو ٹتے ہیں۔ یہی حال غموں میں ہوتا ہے وہاں ہم شریک تو ہوتے ہیں لیکن احسان کر کے۔ دنیا داری ہے نبھانا ذرا مشکل ہے کیونکہ ہم کسی کو مسکراتا ہوا تو دیکھ نہیں سکتے لیکن اگر کوئی رو رہا ہو تو ضرور اسے دیکھنے کے خواہشمند رہتے ہیں اور اگر سامنے کوئی ایسا ہو جس کو روتا دیکھنا ہماری سب سے بڑی خواہش ہو تو ایسا موقع ہم کیسے ہاتھ سے جانے دیں جب وہ چٹان ٹوٹ کر بکھرنے ہی والی ہو۔ لیکن ان سب میں کئی ایسے بزدل لوگ بھی ہیں جو کہتے نہیں لیکن احساس نام کی کمزوری ان میں ضرور موجود ہوتی ہے۔ جو ہمیشہ تب ہی ظاہر ہوتی ہے جب کوئی مشکل میں ہو۔ تماشہ دیکھنے و الی عظیم ہستیوں کے احسانات اور مثالوں سے یہ دنیا بھری پڑی ہے ۔ خوشی اور غم کے دور سے ہر کوئی گزرتا ہے اور جو دو کہانیاں اب میں بتانے جارہی ہوں اس سے تو ہر کوئی ہی گزرا ہوگا اب یہ تو آپ ہی بتائیں گے کہ ان میں سے آپ کا شمار کن میں ہوتا ہے یا آپ خود بھی ان سب کا سامنا کرچکے ہیں۔

دسمبر کا مہینہ شادیوں کا ہے۔ مایوں کی تقریب تھی، مہمانوں سے گھر کھچاکھچ بھر چکا تھا لڑکیاں سج دھج کر تیار بیٹھی تھیں اور ساتھ ہی یہ طے کرنے میں مصروف تھیں کہ ڈھولک کس نے بجانی ہے اور ٹپے کون گائے گا۔ گھر کی تقریب تھی تو رنگ برنگے شامیانے سے گلی کے اندر ہی یہ تقریب سجادی گئی۔ گیندے کی مہکتی لڑیاں اور ابٹن کی خوشبو نے تقرب کا حسن ہی بڑھا دیا تھا۔ دلہن کو پنڈال میں لایا گیا، سکھیوں نے شور مچایا اور پھر شروع ہوگیا ہلاگلا ابھی ڈھولک کی تھاپ پر پہلا ہی گانا شروع ہوا کہ لڑکی کا بھائی اچانک پریشانی میں نمودار ہوا اور بڑی بہن کو ا یک کونے میں لے گیا۔ سنو یہ ناچ گانا بند کروادو ابھی ک ے ابھی۔ اور کسی بھی طور پر ساونڈ سسٹم پر گانے نہیں بجنے چائیے۔ کیا مطلب؟ یہ کیا بات ہوئی مایوں کی تقریب ہے یہ سب ہوتا ہے۔ اور تم نے ہی تو یہ سب اہتمام کروایا اب عین وقت پر یہ پابندی کیوں عائد ہے۔ کیونکہ محلے میں احمد کے والد کی حالت خاصی خراب ہوگئی ہے اور ابھی ایمبولینس آر ہی ہے تو اخلاقی تقاضہ یہی ہے کہ اپنی خوشی کو اس انداز سے نہ منایا جائے کہ کسی کو تکلیف پہنچے ا نھوں نے ایسا کچھ نہیں کہا لیکن ہمیں خود ہی ا حساس کرنا چائیے ۔ اس بات کے بعد ڈھولک نہیں بجی لیکن تقریب ایسی ضرور رہی کہ سب خوشی سے گھر لوٹے۔
رات گئے دانتوں سے خلال کرتے ہوئے سفیان صاحب نے بیگم سے کہا یہ زبیر صاحب کی بیٹی کی شادی کا کھانا مجھے کچھ ٹھیک نہیں لگا ۔ لگتا ہے گوشت ٹھیک سے گلا ہوا نہیں تھا۔ ابھی تک دانتوں میں پھنسا ہوا ہے۔ اگر کھانا اچھا نہیں تھا تو اتنی پلیٹیں بھر بھر کر کیوں کھا رہے تھے؟ کچھ خدا کا خوف کریں بیٹی کی شادی کوئی آسان نہیں ہوتی والدین تو کئی سالوں سے یہی توڑ جوڑ کر رہے ہوتے ہیں۔ لاکھوں کا کھانا ہوتا ہے اور آپ جیسے لوگ کیڑے نکال کر سمجھتے ہیں کہ آپ سے زیادہ سمجھدار کوئی نہیں۔ ابھی چند سالوں میں آپ کی بیٹی کی شادی کا وقت بھی آجائے گا تب پو چھوں گی کہ گوشت گلا ہوا تھا یا چاولوں میں کسر رہ گئی تھی۔ مسز سفیان نے شوہر کی بے جا تنقید پر بھڑاس نکال ہی دی۔
اسپتال کی ایمر جنسی میں وہ وہ لوگ بھی کھڑے تھے جو کئی برسوں سے دکھائی نہیں دئیے تھے۔ نہ جانے آج کیوں آ پہنچے تھے ۔ جس خبر کا بے چینی سے انتظار تھا وہ آ ہی گئی۔ مقصود صاحب کا انتقال ہوگیا لیکن آپس میں برسوں بعد ملنے والے ایکدوسرے کو یا تو اپنے نمبر دینے لینے میں مصروف رہے یا پھر اپنی اولادوں کی کامیابیوں کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنے میں ۔ کسی کو یاد نہ رہا کہ مقصود کی بیوہ کو تسلی دے دی جائے یا پھر انکے بچوں کے سر پر دست شفقت رکھا جائے۔ میت کو آنے میں وقت تھا لیکن محلے میں اطلاح پہنچ چکی تھی۔ محلہ باہر ہی کھڑا تھا۔ مقصود صاحب کی بیٹی جب گھر کے دروازے پر پہنچیں تو اسکے سر پر ہاتھ رکھنے والا پہلا شخص اسکے باپ کا وہ محلے دار دوست تھا جو ہر لمحے بیماری میں ساتھ کھڑا رہا اور جینے کا حوصلہ بڑھاتا رہا۔ چند لمحے میں گھر بھر چکا تھا۔ میت کا آخری دیدار کرنے والوں میں رشتے دار حق جتاتے آگے رہے اور اولاد، بیوہ ابھی بھی اپنی باری کے منتظر ٹھہرے۔ ایک محلے دار کو خیال آیا اور با آواز بلند کہا گیا کہ مقصود صاحب کی بیگم اور بیٹیوں کو جگہ د ی جائے کہ وہ آخری دیدار کرلیں۔ آخری بار بیٹیوں نے باپ کا چہرہ دیکھا ماں سے لپٹ کر روئیں ۔ چھوٹی بہن نہ رو رہی تھی نہ کچھ کہہ رہی تھی بس اس دروازے کو تک رہی تھی جہاں سے باپ ابھی ابھی رخصت ہوا تھا ۔ بڑی بہن نے جب اپنی بہن کو اس حالت میں دیکھا تو آگے بڑھی ہی کہ ایک جملہ سماعت سے ٹکرایا جو سکتے میں کھڑی بہن کا کاندھا ہلا کر کہا گیا تھا۔ حنا یا تو میرے بیٹے کو گود میں لے لو یا پھر یہ بیگ اندر رکھ آو اس میں میرے اور بچوں کے کپڑے ہیں سوئم تک تو اب رکنا ہی پڑے گا۔ حکم کی تعمیل ہوئی اور اس نے بیگ اٹھایا اور اند ر چلی گئی۔ ابھی تدفین نہیں ہوئی تھی نہ ہی مرد واپس لوٹے تھے کہ تب تک سپارے پڑھنے و الے جن میں محلے دار شامل تھے۔ لاونج میں بیٹھ چکے تھے جبکہ وہ رشتے دار جو مرحوم سے محبت کرنے کے سب سے بڑے دعویدار تھے وہ ڈرائنگ روم میں ایک گروہ کی صورت میں بیٹھ چکے تھے۔ ہر تھوڑی دیر بعد سب اپنی اپنی بیماریاں اور مجبوریا ں بتاتے کہ وہ کیوں سپارہ نہیں پڑھ سکتے لیک ن انھیں یہ ضرور بتانا نہ بھولتے کہ مرحوم کی بیوہ کا دوپٹہ مکس اینڈ میچ سوٹ کا ہے سفید چادر اوڑھنا اب ضروری ہے۔
فتوی، احکامات جاری تھے کہ مرحو م کی بڑی بیٹی کو بلایا گیا اور کہا گیا کہ امی کو سفید دوپٹہ دو اور ہاں اب وہ عدت میں ہیں تو دروازے پر مت جانے دینا۔ وہ خاموشی سے سنتی رہی جب جانے کو مڑی تو بات بے بات ہنسنے والے گروہ نے آپس میں کہا ۔ اف دوپہر کے آئے ہو ئے ہیں اسپتال گئے ہمیں تو معلوم بھی نہیں تھا کہ ما موں اتنے بیمار ہیں ۔اب یہاں بیٹھے ہیں تھکان ہوگئی خالہ چائے پئیں گی۔ کچھ کھا پی لیں آپ کا بھائی چلا گیا صدمہ بہت بڑا ہے لیکن اپنا خیال رکھیں خاندان کی سب سے امیر بزرگ رشتے دار کے پہلو سے جڑی خواتین نے دلجوئی بھی کرلی اور تجویز بھی دے ڈالی ۔ سنو لڑکی ذرا اپنی پھپو کے لئے چائے بنادو بلکہ ہمارے لئے بھی۔ جب مرد قبرستاں سے واپس آ جائیں تو دوبارہ بنا لینا۔ اس نے حکم سنا اور روبوٹ کی طرح چلتی ہوئی کچن میں جا پہنچی ابھی چولہا جلا کر کیتلی ڈھونڈ ہی رہی تھی کہ پڑوسن نے چیختے ہوئے ہاتھ سے برتن کھینچا اور کہا کیا کر رہی ہو؟ اور کیو ں؟ چائے کی فرمائش کس نے کی ہے؟ انھیں خیال نہیں تمہارا با پ مرا ہے اور انہیں چائے پینی ہے۔ اگر زیادہ ہی طلب تھی تو کسی اور کو کہہ دیتیں تم کو ہی کیوں کہا؟ جاو اپنی بہن کے پاس دیکھو اسکی کیا حالت ہے ابھی تک نہیں روئی میں گھر سے چائے بنا کر لا دیتی ہوں ۔ اب کام نہیں کرنا۔
رات مردوں کی واپسی ہوئی تھوڑی دیر بعد مرگ کا کھانا آگیا۔ کون لایا کس کی طرف سے تھا مرحومین کے اہل خانہ بے خبر تھے ۔ دسترخوان بھی محلے داروں نے لگایا برتن بھی خود ہی نکالے لیکن ڈرائنگ روم میں بیٹھے رشتے داروں کو شاید ہتک محسوس ہوئی کہ وہ سب کے ساتھ د ستر خوان پر بیٹھ کر کھانا کیوں کھائیں ۔ ایک بار پھر آواز لگی اور بتایا گیا کہ چونکہ تمہاری پھپھو ایک امیر گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں ان کا رشتہ مرحوم سے تم سب کے رشتوں سے افضل تھا تو احترام کو آج بھی ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے کوئی غفلت نہ برتی جائے۔ یہ عام سے برتن ان کی شان کے خلاف ہیں کسی اچھے سے ڈنر سیٹ کو نکال کر کھانا اس میں سرو کیا جائے تاکہ وہ کھا سکیں۔ حکم کی تعمیل پھر سے ہوئی۔ اندر سے ڈنر سیٹ جو مہمانوں کے آنے پر نکالا جاتا تھا اس نے نکال کر صاف کیا بریانی سے ڈش کو بھرا ٹرے میں پلیٹیں کھانا رکھ کر وہ اندر گئی جہاں ماضی کی یادیں تازہ تھیں ہنسی مذاق جاری تھا ۔ وہ میز پر کھانا لگا آئی کہ پیچھے سے ایک آ واز آئی کہ ما موں کیا گئے اس گھر کے لوگ تو آداب بھی بھول گئے کیا اس گھر میں پلیٹوں کے ساتھ چمچ رکھنے کا رواج نہیں؟
اس نے پھر چھوٹی بہن کو تسلی دینے کا سوچا کہ کہیں سے جملہ سماعت سے ٹکرایا لو بھئی ڈش میں تو بوٹیاں ہی نہیں ہیں اور چاول بھی ٹھنڈے ہیں میں ذرا خود ہی دیگ سے نکال لاوں انھیں تو بڑوں کا احساس ہی نہیں۔
رات کا سنا ٹا تھا سب جا چکے تھے ڈرائنگ روم میں بچھی سفید چاندنی پر سر پکڑے اس کا چھوٹا بھائی جو ابھی یونیورسٹی میں پڑھ رہا تھا ایک کونے میں بیٹھا ایک دیوار کو گھور رہا تھا اسکے قریب سب سے چھوٹی بہن اور اسکے برابر میں کئی گھنٹوں سے ایک بھی آنسو نہ بہانے والی بہن بیٹھی تھی کہ ثنا نے بھائی کو مخاطب کرتے ہوئے خاموشی توڑی۔ سنو آج کا کھانا کس نے دیا تھا؟ پتہ نہیں میں تو ابو کی تدفین کے انتظامات میں لگا ہوا تھا پھر دماغ پر زور دیتے ہوئے کہا شاید خالہ نے۔۔۔ کیوں؟ سوئم ہو یا چالیسواں اب کھانا تم خود بنوا لینا۔ آج رشتے داروں کو شکایت رہی ہے کہ کھانا ٹھیک نہیں تھا اور انھیں بو ٹیاں بھی کم ملیں۔ یہ جملہ ادا ہونا تھا کہ اسکی پتھر بنی بہن نے اس کی جانب دیکھا اور چیخ چیخ کر رونے لگی۔ باجی۔۔۔ ابو چلے گئے، اب ہمارا کیا ہوگا؟ کس پر چھوڑ گئے ہم سب کو؟ ابو کیوں چلے گئے؟
بتاو کیوں چلے گئے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سدرہ ڈار

سدرہ ڈارنجی نیوز چینل میں بطور رپورٹر کام کر رہی ہیں، بلاگر اور کالم نگار ہیں ۔ ماحولیات، سماجی اور خواتین کے مسائل انکی رپورٹنگ کے اہم موضوعات ہیں۔ سیاسیات کی طالبہ ہیں جبکہ صحافت کے شعبے سے 2010 سے وابستہ ہیں۔ انھیں ٹوئیٹڑ پر فولو کریں @SidrahDar

sidra-dar has 71 posts and counting.See all posts by sidra-dar