ہمارے باپ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بزرگوں سے سنا ہے کہ انسان کے تین باپ ہوتے ہیں۔ ایک وہ جس کا نام ب فارم پہ لکھا ہوتا ہے دوسرا استاد اور تیسرا سسر۔ ان تینوں ہی کی محنتوں اور کاوشوں سے ایک انسان مکمل اور خوشحال زندگی گزارنے لائق ہوتا ہے۔ اور سچ پوچھیں تو کامیاب آدمی کے پیچھے انہی باپوں کا ہاتھ ہوتا ہے۔ کوئی یہ بات سمجھے یا نہ سمجھے لیکن حقیقت یہی ہے۔ کچھ لوگ اس کا کریڈت عورت کو بھی دیتے ہیں۔ یہ ان کے اپنے وچار ہیں اور وچاروں سے صرف اختلاف کیا جاسکتا ہے ان کو رد نہیں۔ خیر میرا ویسے اس موضوع پہ لکھنے کا کوئی ارادہ نہیں فی الحال تو میں ان باپوں کا تذکرہ کروں گا جن میں بعض کو ہم باپ کہتے اور سمجھتے ہیں۔ اور بعض کو باپ کی جتنی عزت دیتے ہیں۔

والد محترم پہلی قسم کا باپ ہے جس کا نام ب فارم پہ درج ہوتا ہے۔ انسان کی پیدائش و پرورش اس کے ہی ذمہ ہوتی ہے۔ اور کہا جاتا ہے کہ یہ ذمہ داری وہ بے لوث ہو کر نبھاتا ہے۔ بغیر کسی مال و متاع کے۔ یہ ہمارا کہنا ہی نہیں بلکہ ماننا نھی ہے۔ لیکن میں ٹھہرا بابوں میں بیٹھنے والا (وہ بھی اخر کسی کے باپ ہوں گے ) تو جو مجھے ان کی بیٹھک سے بات ملی وہ یہی کہ پترا اج کسے دھی پتر نوں چنگی تربیت داں گے تے کل نوں ساڈی وی کوئی خدمت کرے گا۔ نئیں تے سارا بڑھاپا دھکے کھاندے پھراں گے۔ بیٹا اگر آج اولاد کی صحیح تربیت کریں گے تو کل کو ہمیں سنبھالیں گے نہیں تو بڑھاپا در در دھکے کھانے میں گزرے گا۔ یہ بات سن کر میرا ایمان نہیں ڈگمگایا اور قسم اٹھوا لیں میرا آج بھی ماننا ہے کہ والدین اپنی ذمہ داریاں بے لوث ہو کر نبھاتے ہیں۔

اسی قسم میں اگلی ایک قسم اس باپ کی ہے جو ہماری روزمرہ کی ضرورتوں کے پیش نظر ہمیں اس طعنہ کے ساتھ پیسے دیتا ہے کہ پتر پیسے درختوں پہ نہیں اگتے۔ (یہ قسم باپ تو نہیں کہلوا سکتی لیکن اس کو باپ جتنی عزت ضرور دی جاتی ہے۔ ) زیادہ تر کے تو پیسے دینے والا ب فارم والا ہی ہوتا ہے۔ لیکن بعض بوڑھے بابے کو پیسے دینے والا باپ وہ بیٹا بھی ہو سکتا ہے جو کلی طور پر اپنی ہمسفر کے نیچے ہو یا بعض اوقات وہ بھائی کہ جس کی آمدن قابل رشک ہو اور باقی ماندہ بھائی پان کھانے والے ہوں۔ اسی قسم میں آپ اس وڈے پائن کو بھی نہیں بھول سکتے جو کہ باڑلے ملک رہتا ہے۔

کسی گاؤں کا زمیندار اپنے مزارعوں اور چودھری اپنے چیلوں اور قرض داروں کے بھی باپ سمان ہوتا ہے۔ اس کی زندہ مثال کچھ یوں ہے کہ گزشتہ جنرل الیکشن میں ایک بندے سے میں نے پوچھا کہ بھائی کس کو ووٹ کاسٹ کرنے کا ارادہ ہے تو اس کا جواب کچھ یوں تھا کہ جس کا چودھری صاحب کہیں گے اس کو ہی ووٹ دے دیں گے۔ مجھے بہت تعجب ہوا میں نے اپنے دوست سے اس بات کا تذکرہ کیا تو اس نے بتایا کہ ان کے گھر کا چولہا اس چودھری کی بدولت ہی چلتا ہے۔ اس لیے وہ ان کی بات کو یا فیصلے کو باپ کا فیصلہ سمجھتے ہیں۔

اس کے بعد دوسرا باپ ہوتا ہے ”استاد“ جس کو روحانی باپ کہا جاتا ہے۔ استاد ا ب پ والا بھی ہو سکتا ہے۔ خادم رضوی والا بھی ہوسکتا ہے۔ ویسے بزرگ کہتے ہیں کہ استاد وہ ہوتا ہے کہ جس کے تجربہ اور علم کی بدولت ہم میں شعور بیدار ہوتا ہے۔ سیانے کہتے ہیں اگر آدمی کو نیک بیوی اور اچھا استاد مل جائے تو اس کی دنیا ہی جنت بن جاتی ہے۔ یہ قسمت کی بات ہوتی ہے۔ کسی کو میر حسن جیسے استاد مل جائیں تو وہ شاعر مشرق بن جاتے ہیں اور کسی کو خادم رضوی جیسے مل جائیں تو وہ ملک کی ہی پین دی سری کر دینے ہیں۔ قسمت پہ کسی کا کوئی زور نہیں۔

مجھے یاد ہے کہ ایک دوست کو ہم امر با المعروف و نہی عن ا المنکر کے جذبہ سے سرشار ہو کر تبلیغ کر رہے تھے۔ غالبا میٹرک کی بات ہے تو جو وہ کام کرتا تھا ہمارے مطابق شرک تھا۔ ہم نے بہتیرا سمجھایا لیکن وہ نہ سمجھا جب ہماری دعوت ذرا شدت اختیار کر گئی تو وہ ہمین کہنے لگا کہ مجھے بتاؤ اگر تمہارے استاد تمہیں ایک کام کرنے کو کہیں تو کیا تم منع کر دو گے۔ کیا تم اپنے استاد کو کہو گے کہ نہیں استاد جی آپ غلط فرما رہے ہیں۔ اس کی یہ بات سن کر ہمارے سب کے سر ہاں میں ہل گئے۔ تو اس نے کہا کہ میں نہیں کہہ سکتا مجھے میرے استاد جو پڑھایا ہے میں نے وہی کرنا ہے۔ ہم نے یہ بات سنی اور اس کو اس کے حال پہ چھوڑ دیا۔ کیونکہ میں جانتا ہوں کہ ہم اپنے باپ کے علاوہ اپنے استاد کا انتخاب بھی خود نہیں کر سکتے۔

کہتے ہیں کہ بعض اوقات وقت بھی استاد بن کر رہنمائی کرتا ہے۔ وہ آپ کو اپنے حقیقی دوستوں اور خیرخواہوں کے بارے بتلاتا ہے۔ شاید اسی لیے ہمیں جیسے باپ کی عزت کرنے کا حکم ہے ویسے ہی وقت کی قدر کرنے کابھی حکم ہے۔

سسر کی بات کریں تو اس کے بارے میں بہت کم سن رکھا ہے۔ یاں یوں کہہ لیں کہ ابھی اس باپ سے کوئی واسطہ نہیں پڑا۔ کیونکہ جن بزرگوں کے ساتھ میرا بیٹھنا ہے وہ اپنی قسمت کا زیادہ اور سسرال والوں کا رونا کم روتے ہیں۔ خود تو سسرال والوں کے تحفے کی تعریف کم ہی کرتے ہیں لیکن بعض اوقات ساتھ بیٹھے دوسرے بابے اتنا ضرور کہتے ہیں کہ بھائی اس کے گھر والی اچھی ہے چائے پانی پوچھتی رہتی ہے۔ ہمیں تو کوئی سادہ پانی بھی نہیں پوچھتا۔ بعض تو میری حوسلہ شکنی کرتے ہیں کہ اس چکر میں پڑنا ہی مت۔ پچھتاؤ گے۔ کیونکہ اس باپ کی زبان نرم اور تحفہ زبان کا گرم ہوتا ہے۔

ان سب کے علاوہ ایک خودساختہ باپ بھی ہوتا ہے جس کو حالات کے تناظر میں انسان خود بناتا ہے۔ اس کو ہم وقتی باپ بھی کہہ سکتے ہیں۔ اور اس تھوڑے وقت میں ہم اس کو سگے باپ سے بھی زیادہ عزت سے نوازتے ہیں۔ یہ ہماری کم عقلی سمجھیں یا کوئی انسانی فطرت کہ عموما ہم ایسے حالات میں باقی ساری مخلوق کو چھوڑ کر ایک گدھے کو باپ بناتے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •