عقیدت کی کن پٹیاں

کن پٹیاں! ایک ایسا پہناوا یا اوزار ہے کہ جس سے ریڑھی بان اپنے گدھے کو راہ راست پہ رکھنے کے لئے استعمال کرتا ہے۔ وہ گدھا اردگرد کے ماحول سے بے خبر و بے پرواہ ناک کی سیدھ میں چلتا رہتا ہے اور تب تک چلتا رہتا ہے جب تک کہ مالک مڑنے کا حکم نہ دے۔ کہاں جانا ہے اور کس راستے سے جانا ہے اس کا فیصلہ گدھے کا مالک ہی کرتا ہے۔ مالک کے بتائے ہوئے

Read more

چائے کی کہانی

ایسا ہر گز نہیں ہے کہ سارے ہی لوگ مہمان نوازی کے روپ میں چائے سے لطف اندوز ہوتے ہیں کچھ ایسے بھی دنیا میں ہیں جن کے لئے چائے کسی چرس سے کم نہیں۔ اور کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو چائے کو بطور ہاضمہ پھکی استعمال کرتے ہیں جب تک پی نہ لیں ان کا نظام انہضام درست ہی نہیں ہوتا۔ میرا ایک دوست جو کہ چائے کا اتنا ٹھرکی تھا کہ وہ بیس کلومیٹر کا سفر طے کر کے ہمارے پاس صرف چائے پلانے کی غرض سے ہی آتا تھا۔ جب ہم پوچھتے کہ چائے پلانے سے تجھے کیا حاصل ہوتا ہے تو وہ اپنا جواب کچھ یوں پیش کرتا کہ۔
” گرم چائے کا ایک گھونٹ آپ کے مخالفین کے دلوں میں بھڑکنے والی آگ پہ پانی کی طرح اثر کرتا ہے“

Read more

ہمارے باپ

بزرگوں سے سنا ہے کہ انسان کے تین باپ ہوتے ہیں۔ ایک وہ جس کا نام ب فارم پہ لکھا ہوتا ہے دوسرا استاد اور تیسرا سسر۔ ان تینوں ہی کی محنتوں اور کاوشوں سے ایک انسان مکمل اور خوشحال زندگی گزارنے لائق ہوتا ہے۔ اور سچ پوچھیں تو کامیاب آدمی کے پیچھے انہی باپوں کا ہاتھ ہوتا ہے۔ کوئی یہ بات سمجھے یا نہ سمجھے لیکن حقیقت یہی ہے۔ کچھ لوگ اس کا کریڈت عورت کو بھی دیتے ہیں۔ یہ ان کے اپنے وچار ہیں اور وچاروں سے صرف اختلاف کیا جاسکتا ہے ان کو رد نہیں۔ خیر میرا ویسے اس موضوع پہ لکھنے کا کوئی ارادہ نہیں فی الحال تو میں ان باپوں کا تذکرہ کروں گا جن میں بعض کو ہم باپ کہتے اور سمجھتے ہیں۔ اور بعض کو باپ کی جتنی عزت دیتے ہیں۔

Read more

ٹوائلٹ۔۔۔۔ایک تبدیلی کتھا

سن 1992 ء میں میرا ملک ورلڈ کپ جیتنے کی اور میرے گھر والے میری پیدائش کی خوشیاں منا رہے تھے۔ جب آنکھ کھلی تب تو کوئی ہوش نہ تھا لیکن جب ہوش سنبھالا تو یہ جانا کہ میری پیدائش کہ ایک ایسے گاؤں میں ہوئی ہے کہ جس کی طرف کوئی پکی سڑک نہیں جاتی۔ گیس کی تو بس شکایت ہی ہوتی تھی البتہ جلانے والی گیس کے بارے صرف سن رکھا تھا۔ گھروں میں گوبر کے اپلے بطور

Read more

اماں کی چپل

ویسے تو ہر علاقے میں اس علاقے کے لحاظ سے چپل ہوا کرتی ہے لیکن ایک چپل جس کو کچھ لوگ ہوائی چپل تو کچھ قینچی جوتی بھی کہتے ہیں تقریبا ہر علاقے میں پائی اور کھائی جاتی تھی۔ اس کا رنگ کالا اور نیچے میز رنر کی گیم جیسا نقشہ بنا ہوتا تھا۔ میری عمر کے تقریبا ہر بزرگ نے اپنے بچپن میں یہ چپل ضرور چکھی ہوگی۔ کیوں کہ اس وقت کی اماں حضور یہ چپل استعمال کم

Read more

جزاکم الله خیرا و احسن الجزاء ۔۔۔۔

سن 2007ء میں مڈل بغیر امتحان کے پاس کرنے کے بعد آگے داخلہ لینے کا سوچ ہی رہا تھا کہ میرے ایک دوست جو کہ کلاس فیلو بھی تھا نے آکر مجھے بتایا کہ وسیم میں آگے پڑھنے کیلئے ڈسکہ کے قریب سیالکوٹ روڈ پہ ایک سکول ہے وہاں داخلہ لینے لگا ہوں۔ بہت اچھا سکول ہے اور ساتھ دینی تعلیم بھی دیتے ہیں۔ میں نے اس کی بات پہ واہ بھئی کے الفاظ ادا کیے اور گھر لوٹ آیا اور گھر آ کر

Read more

باقی کام چھوڑو، بس حلوا پکاو

ایک لوک کہانی کچھ یوں ہے، کہ کسی ملک کا بادشاہ وفات پاگیا۔ اس کی تدفین کے بعد رعایا کو اپنا ایک بادشاہ چننا تھا۔ ان کے بادشاہ کے انتخاب کا طریقہ کار کچھ یوں تھا، کہ تمام لوگ جو کہ بادشاہ بننے کے خواہش مند ہوتے تھے، وہ ایک وسیع میدان میں اکٹھے ہو جاتے اور ایک پرندہ ہوا میں چھوڑ دیا جاتا تھا۔ وہ پرندہ جس کے سر پہ آ کر بیٹھ جاتا، وہ ان کا اگلا بادشاہ

Read more

بابوں کیلئے نصیحت

کہتے ہیں کہ بابیوں بغیر بکریاں نئیں چردیاں لیکن عجیب معاشرہ ہے انہی بابوں کو گھر کا بوجھ سمجھا جاتا۔ تقریبا ہر گھر میں بابوں کی ایسی ہی حالت زار ہے کہ ان کو گھر کی نئی مالکن طعنوں سے روزانہ مار دیتی ہے لیکن اتنے صابر اور باہمت ہیں کہ پل پل مر کر بھی زندہ رہتے ہیں۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم تو اپنے بابے کیساتھ ایسا سلوک نہیں کرتے تو وہ سفید جھوٹ بولتے ہیں۔

Read more

بابے ۔۔۔ اور ان کی اقسام

عورتوں اور والدین کے بعد میں جن کی تہہ دل سے عزت کرتا ہوں وہ بابے ہیں۔ کیونکہ جس عمر میں وہ لوگ ہوتے ہیں ان کا دل ایک چھوٹے بچے کی طرح کا ہوتا ہے جو ہر چھوٹی بات پہ روٹھ جاتا ہے۔ ان سے باتیں کر کے یا ان کی زندگی کے متعلق کہانیاں سن کر آپ زندگی کا وہ سبق حاصل کر سکتے ہیں جو عموماً آپ کسی بھی کالج یا یونیورسٹی سے حاصل نہیں کر سکتے۔

Read more