انسان کے جسم پر بنے نشان پتھر پر لکیر سے زیادہ جاندار اور دیرپا ہوتے ہیں

دھرتی سے وابستہ لوگ ہی اپنی دھرتی روایات کو ہزاروں برس تک سنبھال کر رکھ سکتے ہیں۔ سندھ میں جو روایات صدیوں سے جوں کی توں زندہ و سلامت رہتی آ رہی ہیں، ان میں جسم پر ٹیٹوز بنوانی والی روایت بھی شامل ہے۔ جسم پر بنائے جانے والے ٹیٹوز کو سندھی میں ’تاجوا‘ کہا جاتا ہے۔ سندھ کی ابتدائی اولاد یعنی سن آف سوائل قبیلوں کولہی، بھیل، ریباڑی، جوگی، میگھواڑ، کبوترا اور دوسری ہندو برادریوں کی یہ خوبی بھی

Read more

شاہ بھٹائی کے کلام سے ’پنجاب‘ اور ’لاہور‘ کا ذکر کیسے گم ہوا؟

سندھ کے سرتاج شاعر شاہ عبداللطیف بھٹائی کے کلام کے مجموعے ’شاہ جو رسالو‘ کی سندھی تاریخ اور سماج میں اہمیت اور اثر کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے سندھ میں عاشق اپنے محبوب کو اپنے پیار کا یقین دلانے اور منانے کے لئے شاہ بھٹائی یا ’شاہ جو رسالو‘ کی قسم اٹھاتا ہے تو اس قسم پر یقین کر لیا جاتا ہے۔ یہ ہی وجہ تھی کہ جب انور مقصود نے سندھی قوم کے بارے نازیبا الفاظ

Read more

”سندھیالوجی“ سندھ کا ثقافتی قلعہ کیوں ہے؟

جامشورو میں سندھ یونیورسٹی کے ساتھ اور سندھی ادبی بورڈ کے قریب ”انسٹیٹیوٹ آف سندھیالوجی“ کا وجود میں آنا کوئی عام روایتی امر نہیں تھا۔ اس کے پیچھے دور رس نگاہ نگاہ رکھنے والے دانشوروں اور اہل علم شخصیات کی اعلیٰ سوچ تھی۔ کوئی شک نہیں کہ سندھیالوجی سندھ کی ثقافت کا قلعہ ہے، اور یہ قلعہ ہر وقت مخالفین کی نظر میں کھٹکتا رہا ہے۔ عقل اور دانش رکھنے والے جانتے ہیں کہ پاکستان بننے کے بعد اقتدار اعلیٰ

Read more

ون یونٹ کے سیاہ دور میں سندھی بولی اور ثقافت کو اپنے قومی ہیروز نے کیسے بچایا؟

قوم کی رہنمائی اس کے قومی ہیروز ہی کرتے ہیں اور تاریخ کے مشکل ادوار میں یہ ہی ہیروز اپنی قوم کی رہنمائی کرتے، ان کو بچاتے، آگے بڑھاتے اور اس کی بقا کی ذمے داری لیتے ہیں۔ یہ ہی وہ ہیروز ہوتے ہیں جو وقت آنے پر اپنی قوم اور دھرتی کے لیے جان بھی قربان کر دیتے ہیں۔ جو قومیں اپنی قومی ہیروز کی قدر نہیں کرتی ان کے ذہنوں پر دوسری اقوام کے ہیروز یا پھر خیالی

Read more

پنجاب کا دانشور اگر مزاحمت نہیں کرتا تو "واریں” کون لکھتا ہے

دھرتی اور وطن سے محبت ایمان کا حصہ اور مظہر ہے. بلاشبہ پاکستان میں بسنے والی اکائیاں اپنی دھرتی، تہذیب، بولی اور ثقافت سے بے لوث محبت کرتی ہیں، اور اپنی شناخت پر فخر کرتی ہیں. یہ ہی فخر ان کو پاکستانیت سے جوڑتا اور آپس میں بھائیوں کی طرح متحد رکھتا ہے. اگر قوم کا اپنی دھرتی اور بولی سے رشتہ کمزور پڑجائے تو سرحدوں پر کھڑے سپاہیوں کے قدم لڑکھڑانے لگتے ہیں. سندھ کے لوگ اپنی دھرتی، بولی اور

Read more

سیالکوٹ : ابھی آپ نے دیکھا ہی کیا ہے؟

ابھی آپ نے دیکھا ہی کیا ہے؟ ابھی تو ٹھہریں آپ! سچ، ابھی آپ نی کچھ نہیں دیکھا۔ آپ کی دھرتی پر تو ہمیشہ پانچ دریاؤں میں بہتے آب حیات زمینوں کی زرخیزی فصلوں کی فراوانی پھلدار باغات اور نخلستان جاہ و دولت کی روانی جنگی مزدوروں کی بہتات سپاہیوں کی منڈی نمک اور کوئلے کی کانوں تجارتی راہداریوں تاجروں کی جنت اور قیمتی چیزوں کی وجہ سے دشمن امڈ آتے رہے۔ آپ تاریخ میں ہمیشہ دشمن کی نظر یا

Read more

پاکستانی نوجوان رب نواز اور پائی نیٹ ورک کی فیس بک جیسی نئی ایپلیکیشن

رب نواز پنہنیار اپنے خوابوں کی تعبیروں اور منزل کی تلاش میں سکھر سے پہلے سنگ میل لاہور پہنچا ہے۔ سماجی ادارے سندھ گریجویٹس ایسوسی ایشن (سگا) کے ”روشن تارا“ کالج سے انٹرمیڈیٹ کرنے کے بعد سکھر کی مشہور آئی بی اے یونیورسٹی سے کمپیوٹر سائنس میں بی ایس کیا۔ آپ اس وقت ایک سرکاری ادارے میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر (انفارمیشن ٹیکنالوجی) کے طور پر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ یہ تو رہی ان کی تعلیم اور نوکری مگر انفرادی طور

Read more

پپو سائیں کو ڈھول ڈھمکوں سے وداع کیا گیا

پاکستان کا مشہور ترین ڈھولچی پپو سائیں پپو سائیں کا انتقال ہوا تو سوگ، غسل، کفن، کاندھا دینے اور جنازے نماز تک وہ تمام روایات پوری کی گئیں جو ہمارے سماج میں مروج ہیں۔ لاہور کے علاقہ اچھرا میں مشہور درگاہ حضرت شاہ جمال میں نماز جنازہ کے بعد پپو سائیں کے سینکڑوں شاگرد اور چاہنے والے اکٹھے ہو کر اپنے محبوب کو ایک اور شاندار انداز سے رخصت کرنے لگے۔ جنازے کے چاروں طرف پپو سائیں کے عاشق اپنے

Read more

پاک بھارت بارڈر پر میلے بھی تو لگ سکتے ہیں

پاکستان اور ہندوستان کے مشہور واہگہ اور گنڈا سنگھ بارڈر پر روزانہ سورج غروب ہوتے ہی دونوں ممالک کے قومی پرچم اتارنے کی تقاریب اب اتنی مقبول ہو چکی ہیں کہ روزانہ دونوں ممالک سے ہزاروں عام لوگ اور سینکڑوں غیر ملکی سیاح بھی صرف وہ تقریب دیکھنے آتے ہیں۔ یقیناً وہ ایک رسمی کارروائی ہوتی ہے جس کو عام لوگوں کے لیے دلچسپ بنانے کے لیے شاندار اسٹیڈیمز، پارک، ریسٹورنٹس اور تھوڑے فاصلے پر دکانیں بھی بنائی گئی ہیں،

Read more

خادم حسین چاکرانی: اچھڑو تھر کے پھول کی لاہور میں پھیلتی مہک

نوجوان خادم حسین چاکرانی کا گاؤں سکھر سے اچھڑو تھر کے کنارے پر تعلقی صالح پٹ میں آتا ہے۔ تھوڑے سے گھروں پر محیط گاؤں ’گلن خان چاکرانی‘ میں کوئی سکول نہیں تھا مگر اس کے والد شہباز ڈنو اور بڑا بھائی کی خواہش تھے کہ خادم حسین پڑھے، اس لئے خادم کو گاؤں کے قریب ایک قصبے کہ سکول میں داخل کروایا گیا۔ اس قصبے کے شروع میں موجود ایک قدآور نیم کا درخت اور اس کا احاطہ پورے

Read more

آخر ہندو لڑکیاں ہی کیوں مسلمان ہوتی ہیں؟

لاڑکانہ کی نوجوان ہندو لڑکی آرتی بائی 5 اپریل بروز پیر اچانک کہیں گم ہو گئی پانچ دنوں کے بعد پتا چلا کہ آرتی اب ”عائشہ“ بن چکی ہے، وہ لاڑکانہ سے کراچی چلی گئی تھی جہاں جاکر اس نے مذہب تبدیل کیا اور ایک مسلمان لڑکے سے شادی کرنا چاہتی تھی۔

اس معاملے پر سندھ میں ہندو برادری میں سخت پریشانی کی لہر دوڑ گئی، سندھ اکثر ہندو اپنی بچیوں کے حوالے سے سخت تذبذب کا شکار ہیں، سندھ کی سول سوسائٹی بھی ہندو لڑکیوں کے اغوا اور ان کے زبردست مذہب کی تبدیلی پر فکرمند ہے۔ یہ ایک نہایت پیچیدہ مسئلہ ہے جس کے کئی عوامل ہیں، ان معاملات کو سلجھانے سے پہلے سمجھنا بھی الجبرا کی طرح مشکل ہے۔

ایسے معاملات چونکہ کافی سالوں سے پے درپے ہوتے رہے ہیں، اس لئے سندھ جیسی صوفیانہ دھرتی کے لئے باعث ننگ و عار سمجھے جاتے ہیں۔ صاف ظاہر ہے اہم ہندو رہنما، دانشور اور ایسے معاملات پر کڑی نظر رکھنے والوں ہندو مکھی اور تاجر طبقہ بھی بہت فکرمند ہے۔

Read more

خود تونے پیدا کیا، کہ میں نے کہا احسان کر

سندھ اور پنجاب کے عام لوگوں میں یہ یکسانیت اتم درجہ پائی جاتی ہے کہ دونوں نثر سے زیادہ نظم کو پسند کرتے ہیں، اور نظم بھی اس کو مانتے ہیں جس کو گایا جائے، موسیقی سے مزین کیا جائے اور ساتھ ساتھ رقص بھی شامل ہو جائے کیا بات ہے۔ رقص زندگی ہے، تمام ملامتی صوفیاء رقص کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے رہے اور یہ شدت پسندوں کے خلاف ایک زبردست جوابی حملہ ہے، بلکہ کاری وار ہے۔

یہ ہی وجہ ہے کہ سندھ اور پنجاب کے تمام صوفیاء کی درباروں پر موسیقی اور رقص لازم ہوتا ہے۔ قوالی کی صورت ہو، دھمال کی صورت ہو یا راگ کی صورت مگر موسیقی ضروری ہے۔ جس طرح پنجاب میں خواجہ غلام فرید، بابا بلھے شاہ اور مادھو لال حسین کی درگاہیں عشاق کا مرکز ہیں ویسے ہی سندھ میں شاہ بھٹائی، سچل سرمست، شاہ عنایت شہید اور بیدل فقیر کی درگاہیں سندھ میں صدیوں سے قائم اہنسا، عشق اور رواداری والی شناخت کو برقرار رکھنے کے لئے کوشاں اور کافی ہیں۔

Read more

کیا کرونا سماج کے ”رانگ نمبرز“ بند کر دے گا؟

سوچنے والے کہتے ہیں کہ انسانی تاریخ میں انسان کو سب سے زیادہ مالی اور جانی نقصان دوسری عالمی جنگ میں اٹھانا پڑا، جس میں ساری عالمی قوتوں نے اپنے دشمنوں کے خلاف سب سے زیادہ طاقت کا مظاہرہ بھی کیا، جو اس وقت انسانی طاقت کی انتہا تھی۔ ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم کا حملہ اس کا کلائمکس تھا، جو پھر کبھی دنیا میں دہرایا نہیں جا سکا۔ کام کی بات یہ ہے کہ انسانی تاریخ میں انسان

Read more

”لاہور قلندرز“ کے لئے سیوہن شریف کے اک مست ملنگ کا پیغام

پاکستان میں جاری پی ایس ایل کرکٹ ٹورنامنٹ میں اس بار بھی لاہور قلندرز کی ٹیم کوئی بہتر کارکردگی دکھانے میں ناکام رہی ہے۔ حالانکہ اسی ٹیم کے کھلاڑی جب کسی اور یعنی اس لاہور قلندرز سے باہر کھیلتے ہیں تو کمال دکھاتے ہیں۔ لاہور قلندرز کے مالک رانا فواد صاحب کے لیے کہا جاتا ہے کہ وہ بھی ایک خوددار شخصیت کے مالک ہیں اور انہوں نے ساری زندگی خود محنت کی ہے۔ وہ دوسری ٹیموں کے مالکان کی

Read more

طاہرہ سرا : شاعری اور بہادری ہی خوبصورتی ہے

چلو مان لیا کچھ لوگ بہادر ہوتے ہیں اور ان میں چند بہت ہی بہادر مگر اتنی بھی بہادری کیا کہ ان کو دیکھ اکھاڑے میں کھڑے پہلوان بھی ایک دوسرے کا منہ تکتے رہ جائیں، کچھ سجادہ نشیں ان کی آواز سے کانپ اٹھیں، پورے محلے کو سر پہ اٹھانے والے مولوی صاحبان کے ایکوساؤنڈ اسٹائل گلے اس کے الفاظ سے خشک ہوجائیں۔ مان لیا کچھ لوگ بولتے ہیں تو ان کی باتوں سے پھول جڑتے ہیں، مگر ایسا

Read more

سندھ اور پنجاب میں ثقافتی پل بنانے کے لئے کوشاں : سگا اور لال ہڑتال تھیٹر

اس بات میں تو کوئی دو رائے ہو ہی نہیں سکتی کہ لاہور ہی پاکستان کا سیاسی اور ثقافتی دارالخلافہ ہے۔ پنجاب تاریخی طور اپنی زرخیز ثقافتی پہچان اور ملک کا سب سے بڑا اور اہم صوبہ ہونے کے ناتے دوسرے صوبوں کے لئے بھی مثالی اہم خطہ رہا ہے۔ جنرل ضیاء کے آمرانہ دور میں جہاں ملک کو جمہوری روایات اور سماجی مسائل اور پریشانیوں کا سامنا کرتے اپنی تاریخی تہواروں اور روایات کی قربانیاں دینا پڑیں وہاں سب

Read more

مانجھی فقیر: سندھ میں صدیوں کی بازگشت

سندھ بھی عجیب خطہ ارض ہے جہاں ہزاروں سالوں میں سینکڑوں قابض اور مذاہب آئے مگر تاریخ گواہ ہے کہ سب اس کی اصل روح اور رنگ میں تحلیل ہوگئے۔ جین، بدہ، سناتن، اسلام، عیسائیت، رہبانیت، صوفی ازم سے لے کر سوشلزم، کمیونزم، قومپرستی، تمام مسالک سے لے کر برادریاں تک اس کی اصل روح سندھیت میں تحلیل ہوگئیں۔ دیگر اقوام اور لوگوں کو یہ بات سمجھانا جتنا مشکل ہے ایک سندھی کو یہ بات سمجھانا اتنا ہی آسان ہے،

Read more

جمرود قلعہ کی مسافت لاہور سے شروع ہوتی ہے۔

پشاور اور خیبر ایجنسی کے سرحدوں پر واقع ”جمرود کا قلعہ“ درہ خیبر کی تاریخ کا واحد سنگ میل ہے جس کی مسافت لاہور سے شروع ہوتی ہے اور جمرود تک ختم ہوتی ہے، ورنہ وقت نے ہمیشہ فاصلے کو کابل سے ناپا ہے۔ جرنیلی سڑک المشہور جی ٹی روڈ کی تاریخ واضع ہے کہ پشاور، لاہور اور دہلی کو فتح کرنے والوں نے ہمیشہ باب خیبر کو کابل سے آتے ہوئے کراس کیا ہے جبکہ لاہور سے خیبر کی

Read more

کرتار پور راہداری: پاکستان کے ہندو تیزی سے سکھ کیوں بن رہے ہیں؟

پہنچے ہوئے ”اولیاء، سنتوں اور گروؤں“ کی مرضی رنگ لائی، بالآخر کرتار پور راہداری بھی ”دونوں طرف سے“ کھل گئی۔ نووجوت سنگھ سدھو کو بھی این او سی مل گئی، اور کرتار پور میں وہ دھواں دار تقریر کرڈالی جو کسی بھارتی سیاستدان سے خود بھارت میں بھی کرنا ممکن نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ اب ہم اور دو قدم آگے آنا چاہتے ہیں، بھارتی پنجاب کے لوگ کیوں نہ امرتسر میں ساگ مکھن سے ناشتہ کرکے دوپھر کا

Read more

گھوٹکی اور مٹھی میں صرف ایک ہی فرق ہے

جس رات گھوٹکی کے تاریخی مندر میں کئی شہروں سے آئے ہزاروں لوگ جاگ کر چوکی (پہرہ) دیتے ر ہے اس رات پورے شہر میں کسی نے کوئی خواب نہیں دیکھا، گھوٹکی شہر میں اک عجب سا سوگ چھایا ہوا تھا، ہر گلی شرمندہ تھی ہر چوراہا آتے جاتے لوگوں سے آنکھیں چرا رہا تھا۔ مندر میں جاگنے والوں میں پی پی پی، جی یو آئی، مسلم لیگ، قوم پرست، کمیونسٹ، ادیب، دانشور، موسیقار، رقاص، طالب علم، گویے، شاعر، سماجی

Read more

کیرتھر پہاڑ کے دامن میں تعلیم کا جلتا ہوا چراغ

سندھ بلوچستان سرحد کو جہاں سے کیرتھر پہاڑوں کی رینج تقسیم کرتی ہے وہاں کی معاشی اور معاشرتی حالت اتنی کمزور اور تباہ حال رہی ہے کہ اگر دھرتی سے محبت آڑے نہ آتی تو یہ نیم پہاڑی علاقہ ”آب گم“ کی طرح ”آدم گم“ کہلاتا۔ سندھ کے ان شمالی علاقہ جات کو ”چانڈکا“ بھی کہا جاتا ہے، جو وہاں کی سب سے بڑی چانڈیو برادری کے نام سے موسوم ہے۔ سندھ کے سمہ حکمرانوں کے دور ( 1351۔ 1524

Read more

مثبت خبر: زیادہ پن بجلی بنانے کا عالمی اعزاز اور واپڈا

واٹر اینڈ پاور ڈولپمینٹ اتھارٹی (واپڈا) کا شمار پاکستان کے اہم ترین اداروں میں ہوتا ہے جس نے خود درجن بھر اداروں کو جنم دیا ہے جو خود آگے بڑھتے اور ترقی کی منازل طے کر رہے ہیں۔ واپڈا نے اپنی تاریخ میں این ٹی ڈی سی، آئیسکو، لیسکو، فیسکو، گیپکو، میپکو، ہیسکو، سیپکو، کیسکو، پیسکو، ٹیسکو، جینکو۔ 1، جینکو۔ 2، جینکو 3۔ ، جینکو۔ 4، حبکو اور کیپکو کوٹ ادو سمیت ”نیسپاک“، ”برق آب“ جیسی طاقتور بجلی بنانے، تقسیم

Read more

سید جلال محمود شاہ نے ”حیدر منزل“ کس وجہ سے بیچی؟

اس بات پر تو کوئی دو رائے ہو ہی نہیں سکتی کہ پاکستان بننے کے لئے جو سب سے زیادہ مضبوط آئینی دستاویزات اور دلیل تھے ان میں سب سے پہلے سندھ اسمبلی سے پاکستان بننے کے حق میں پاس کی گئی قرارداد اور مسلم لیگ کی جانب سے 1940 ع میں پاس کی گئی قرارداد تھی۔ پاکستان کے قائم ہونے کے اسباب اس وقت بھی سینکڑوں تھے اور وقت اب بھی جواز فراہم کرتا جارہا ہے۔ مگر سچائی کے

Read more

رنجیت سنگھ کی واپسی اور پہلی پنجابی قومپرست پارثی کا قیام

گذشتہ دنوں دو اہم واقعات پنجاب کی سیاست اور تاریخ میں اہم تبدیلیوں کا سبب بنے ہیں۔ لاہور کے شاہی قلعے میں پنجاب کے نامور حکمران راجا رنجیت سنگھ کا مجسمہ آویزاں کیا گیا ہے، اور دوسری طرف پنجاب میں پہلی قرمپرست پارٹی ”پنجاب نیشنل پارٹی“ کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ پنجاب جہاں پر صدیوں سے غیر پنجابی حکمران قابض رہے ہیں وہاں پنجاب کے باسی صرف مہاراجہ پورس اور راجہ رنجیت سنگھ کو اس دھرتی کا بیٹا

Read more

پاکستان عالمی سیاحوں کے لئے جنت کیوں نہیں بن سکتا؟

لوگ دن رات محنت کر کے پیسے کماتے ہیں پھر سیاح بن کر وہ ہی دولت دوسرے ملک لٹانے کیوں چلے جاتے ہیں۔ آخر سالوں کی کمائی چند ہفتوں میں لٹانے میں کیا مزہ ہے۔ کہتے ہیں خواہشات اصل میں ضروریات پر حاوی ہوتی ہیں، اور لوگ اس دنیا میں جنت کی خواہش رکھتے ہیں اور نکل پڑتے ہیں کسی حور و قصور والی جنت کی تلاش میں۔ کیا پاکستان سیاحوں کے لئے جنت ہے؟ اس سوال کا جواب خود پاکستانی کیا دیں گے؟

اگر ہم جذباتی نہ بنیں تو درحقیقت پاکستان خود اپنے لوگوں کے لئے بھی سیاحتی جنت نہیں ہے۔ دنیا بھر میں جس ٹرمنالاجی کو ”سیاحت“ کہتے ہیں وہ ضیاء دور کے بعد پاکستان میں ناپید ہو چکی ہے۔ اب ہم اور ہمارے بچے صرف سسرال، میکے، ننہال، ددہال اور دور کے رشتیداروں کے پاس گھومنے تو جاسکتے ہیں مگر کسی ایسے شہر میں جانے سے کتراتے ہیں جہاں ان کو جاننے والا کوئی نہ ہو۔ اس وقت اگر کوئی ملک کے فاٹا اور شمالی علاقاجات گھومنے جاتا ہے تو اس کو بھی پاکستان آرمی کی محنتوں کا شکرگزار ہونا چاہیے۔

Read more

اس کا مطلب ہے اب پنجاب کو تقسیم سمجھیں

اب تو ایسے لگ رہا ہے کہ پنجاب کی قسمت میں دوبارہ تقسیم لکھی جاچکی ہے۔ کوئی احتجاج، تحریک اور طاقت اب اس تقسیم کو روک نہیں سکتی۔ پنجاب میں اس بات پر آنے والا سیاسی رد عمل بھی کوئی زیادہ طاقتور نہیں۔ ایسے لگ رہا ہے کہ جیسے کسی کو پرواہ ہی نہیں کہ پنجاب دو ٹکڑے ہوجائے یا پانچ ہوجائے۔ اس سے زیادہ دلچسپ بات یہ کہ پنجاب کی تقسیم پر عوامی رد عمل اور زیادہ کمزور اور

Read more

لاڑکانو میں ایڈز واقعی بڑی بیماری نہیں ہے

لاڑکانو میں تیزی سے پھیلتی ہوئی خطرناک بیماری ایڈز پر قابو پانے کے لئے سندھ سرکار کی کارکردگی پیش کرنے کے لئے ایم این اے فریال ٹالپور نے پریس سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”لاڑکانہ میں ایڈز کوئی اتنی بڑی بیماری نہیں ہے، سول سوسائٹی خاموش رہے اور صحافی مثبت رپورٹنگ کریں۔ “سندھ کی صحافی اور سماجی رضاکار حضرات یہ دانائی کی باتیں سن کر بھی خاموش رہنے کے بجائے لاڑکانو میں ایڈز کے پھلتے ہوئے خطرے کے بارے عوام الناس کو مطلع کرنے، اسکریننگ کیمپس لگانے کے بعد اب عید کے دن لاڑکانو شہر میں احتجاجی مظاہرہ کرنے کا پلان بنا رہے ہیں۔

Read more

میری ماں، میری محبوب، میری دلربا

میں ساری عمر اس خوش فہمی میں مبتلا رہا کہ میری ماں، میری محبوب، میری دلربا سب سے زیادہ مجھ سے محبت کرتی ہے۔ اور مجھ پر ہی جان چھڑکتی ہے۔ وہ میرے سب بھائی بہنوں کو کھانا کھلا کر آخر میں میرے ساتھ کھانا کھاتی تھی، میں سکول، یونیورسٹی اور آخر میں دفتر سے کتنی بھی دیر سے گھر پہنچوں کھانا نہیں کھاتی تھی۔ عید یا کسی بھی موقعے پر سب کو نئے کپڑے اور جوتے لے کر دیتی

Read more

فقیر ایپی سپاہی اور وزیرستان کی نگہبانی

میرانشاہ اور میر علی سے سپین وام جاتے ہوئے راستے کے دونون طرف پہاڑوں کے سلسلے اپنے مسافر مہمانوں کی آؤ بھگت کے لئے ہمیشہ با ادب کھڑے ہی رہتے ہیں۔ ان پہاڑوں کو کبھی کسی نے سویا ہوا نہیں پایا۔

پہاڑوں کے درمیان بہتے ندی نالوں کے کنارے آباد کھجوروں کے باغات ہی سبب بنے ہوں گے جس کی وجھہ سے اک چھوٹے سے قصبے کا نام ہی ”کھجوری“ پڑگیا ہوگا۔ کجھوری کے مکھیہ دروازے ”باب السلام“ کو کراس کرتے جب پہاڑوں کی چوٹیوں پر بنے مجسمہ نما پتھروں کو دیکھا تو گوادر کے قریب بلوچستان کی ”امید کی دیوی“ (Princess of Hope) کا مجسمہ یاد آیا۔

Read more

پنجاب اپنے ہیروز کو تسلیم کیوں نہیں کرتا؟

پاکستان کی تمام اکائیوں میں ایسی صورتحال صرف پنجاب کے ساتھ ہی لاحق ہے کہ وہ اپنی دھرتی کے خالص پنجابی تاریخی اور اہم شخصیات کو ”قومی ہیروز“ تسلیم کرنے سے انکار کردیتا ہے۔ بات صرف یہ نہیں کہ پنجاب یہاں کے غیرمسلم ہیروز کو نہیں مانتا مگر ستم تو یہ کہ پنجاب میں اپنے مسلمان ہیروز تک کو بھی لفٹ نہیں دی جاتی۔ پنجاب سے تمام تاریخی ہیروز کتابوں سے نکال بھی دیے جائیں تو ”راجا پورس“ کا اک

Read more

اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کی وجہ؟

پاکستان اور اسرائیل کے درمیاں عجیب و غریب قسم کے ایسے مضبوط خیالی رشتے اور معاملات ہیں جو کسی اور ممالک کے درمیاں نہیں ہیں، دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کو تسلیم بھی نہیں کرتے اور ایک دوسرے کے وجود پر باقی ممالک سے زیادہ کڑی نظر بھی رکھتے ہیں اور اک دوسرے کے ہر معاملے پر خبردار بھی رہتے ہیں۔ اس بات میں کون شک کرسکتا ہے کہ پاکستان میں ملک بننے سے لے کر

Read more

بیساکھی: پنجاب کا سب سے بڑا موسمی تہوار

یہ کتنی دلکش بات ہے کہ پنجاب کے جتنے بھی قومی تہوار ہیں سب کے سب خوشیوں اور شادمانیوں کے تہوار اور ثقافتی رنگوں سے لبریز ہیں۔ خوبصورت اور زرخیز پنجاب کے یہ حق ہے کہ اس کے ”لوہڑی“ یا ”بسنت“ یا پھر ”بیساکھی“ سب کے سب خوبصورت اور رنگین تہوار ہوں۔ پنجاب میں جس طرح سے کماند /گنے کی فصل اٹھاتے وقت لوہڑی کا تہوار منایا جاتا ہے اسی طرح پنجاب کی زمینوں میں جب گندم کا فصل پک

Read more

پنجاب واقعی جاگنے لگا ہے

گذشتہ دو ہفتے پاکستان کی تاریخ میں واقعی حیران کن رہے، ہم نے وہ کچھ ہوتے دیکھا جو ہم سے پہلے والوں نے نہیں دیکھا۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری جنگی کشیدگی میں پاکستان سرکار اور افواج پاکستان کی کمال حکمت عملی اور پالیسیوں نے دنیا کو حیران اور بھارت کو جھنجھلا کر رکھ دیا۔ اس سارے معاملے میں اندرونی طور پر پاکستان اور با الخصوص پنجاب کے مجموعی کردار نے تو کمال ہی کردیا، جو تاریخی، شاندار اور

Read more

تیرا ساتھی، میرا ساتھی۔ جام ساقی، جام ساقی

جب سے ہوش سنبھالا ہے، سندھ میں یہ تیسرا سب سے زیادہ لگائے جانے والا نعرہ تھا جو سنتے آئے اور ہمیشہ سماعتوں میں گھونجتا رہا، یقیناً دوسرا نعرہ ”جئے بھٹو“ تھا۔ کامریڈ جام ساقی سندھ کے وہ سماجی کارکن تھے جنہوں نے ہمیشہ انسانی جمہوری حقوق کے لئے زندگی وقف کردی۔ آپ پاکستان میں کمیونسٹ تحریک کے اولین رہنماؤں اور کارکنوں میں ایک تھے۔ سندھ کے صحرائی علاقے تھرپارکر کی تحصیل چھاچھرو کے اک چھوٹے سے گاؤں ”جھنجھی“ سے

Read more

ماں بولی کا عالمی دن اور گونگا پنجاب

لفظ ”قوم“ کا مطلب جاننے کے لئے اسکول میں جو بھی پڑھا تھا وہ امتحانات میں زیادہ نمبر لینے کے لئے رٹ بھی لیا تھا، مگر وقت، تاریخ اور حقائق نے سمجھا دیا کہ اصل میں ”قوم افراد کے ایسے گروہ کو کہتے ہیں، جو ساتھ رہتے ہوں، جہان رہتے ہوں وہ دھرتی ان کی اپنی ہو، اپنی اک بولی ہو جو لکھی، پڑھی اور سمجھی جائے، ان کی ثقافت دوسروں سے منفرد ہو اور باقی شعبہ زندگی میں بھی

Read more

ارشاد رانجھانی کے قتل کی ایف آئی آر

جس وقت کراچی میں اک دیہاتی نوجوان ارشاد رانجھانی کے سرعام قتل کے گھونج سندھ اسمبلی میں وزیر اعلی سندھ کے آواز میں سنی جارہی تھی اسی وقت ہزاروں لوگ شاہراہ فیصل پر کارساز کے قریب اس جگھ پر امن احتجاج کر رہے تھے، جہاں مشرف دور میں نامعلوم شہری لوگوں نے اپنا پرتشدد احتجاج رکارڈ کرواتے بیسیوں لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔

یہ اتنا پر امن احتجاج کرنے والے لوگ کون تھے، کہاں سے آئے تھے، کس کے کہنے پر آئے تھے، اس کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو حیران کن حقائق سامنے آتے ہیں۔ دلچسپ یہ ہے کہ اس احتجاج کی کال کسی بھی سیاسی جماعت نے نہیں دی تھی۔ اور نہ ہی کسی غیر سیاسی جماعت نے، نہ کسی سردار وڈیرے نے بندے بھیجے تھے، نہ ہی کسی سرمایہ دار نے سرمایہ لگایا تھا، کسی سرکاری ادارے کی گاڑی لوگوں کو اکٹھا کرنے پر متعین نہ تھی۔ احتجاج میں شامل لوگوں کے لئے آخر میں کسی نے بھی ”سندھی بریانی“ یا ”بمبئی بریانی“ کے پیکٹ تقسیم نہیں کیے تھے نہ ہی پیسوں والے لفافے۔

Read more

داسو ڈیم اور بابا عبدالقدوس کی نصیحت

”داسو“ کے لوگ داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ مکمل ہونے کا شدت سے انتظار کر رہے ہیں۔ ان کو یقین ہے کہ جس طرح منگلا ڈیم نے میرپور کے لوگوں کی قسمت تبدیل کردی ہے اسی طرح شاید داسو پراجیکٹ بھی ان کی نسلوں کو مالا مال کردیگا۔ داسو۔ کمیلہ برج کے نکڑ پر موجود ہوٹل کے پھٹے پر گاؤ تکیوں پر ٹیک لگائے ضعیف العمر عبدالقدوس خان باقی بیٹھے نوجوانوں پر اپنی دانش کی دھاک بٹھاتے ہوئے بولا کہ ”بس

Read more

بھاڑ میں جائے بسنت، چلو دھرنا لگاتے ہیں

بسنت کیا ہے؟ اس مسلسل عذاب زندگی میں ہر سال بہار کا موسم آنے پر خوش ہونے کا اک خودکار بہانا اور بس۔ دھرنا کیا ہے اس عذاب زندگی میں سیکڑوں، ہزاروں یا ”ملین“ لوگوں کے ساتھ مل بیٹھنے کا موقع، جہاں مفت ٹرانسپورٹ، مفت کھانا، محفل موسیقی، ملک کے مہنگے اور شاندار فنکاروں کے جلوے، گلوکاروں کی پرفارمنس، شاندار لائٹنگ، اعلیٰ قسم کے کارپٹ، آرامدہ کرسیاں، موج مستی علحدہ اور آخر میں جیب خرچ بھی مل جائے۔ واہ واہ۔

Read more

سندھو واس: جہاں لاہور لاڑکانہ سے ملتا ہے

لاڑکانہ کی بات ہوتے ہی اکثر لوگوں کے ذہن میں شہید بھٹو اور المرتضٰی ہاؤس کا آجانا سیاسی نفسیات ہے، جبکہ موئن جو دڑو، سیتا ولاز اور گیان چندانی ہاؤس کا ذہن میں آنا تہذیبی نفسیات ہے۔ اگر ہم اس بات کا تقابلی جائزہ لیں تو پتا چلتا ہے کہ پاکستان کی اکائیوں کے درمیاں سارا روابط کا معاملہ سیاسی ہی لگتا ہے، جبکہ یہ تہذیبی ہونا چاہیے۔ سیاسی معاملات اور روابط ہمارے درمیان اقتدار، اختیارات، سرحدوں اور وسائل کی

Read more

لاہور کے ماتھے کا جھومر: لاہور کینال

(لاہور کے بیچوں بیچ گزرتی نہر کی عہد بہ عہد تصاویر کے لئے تحریر کے آخر میں موجود گیلری ملاحظہ کریں) لاہور میں رہنے والے سندھیوں کے روح رواں سائین گووند رام مالھی لاہور کے ایسے ہی دیوانے نہیں۔ پرائیویٹ اداروں میں نوکری کے سلسلے میں کچھ سال لاہور میں کیا رہے ہر وقت ”لہور“ کے ہی گن گاتے رہتے ہیں۔ جناب آج کل ہم کو داغ مفارقت دے کر کراچی نشین ہوگئے ہیں مگر جب بھی لاہور آتے ہیں،

Read more

لوہڑی: سب توں سوہنڑا پنجابی تہوار

دنیا کی مختلف قومیں اپنی موسموں اور اہم دنوں کے حوالے سے مختلف تہوار مناتی ہیں۔ پاکستان اور بھارت میں پنجاب کا خطہ ہمیشہ سے ترقی یافتہ، زرخیز اور خوشحال خطہ رہا ہے۔ ۔ اس لئے اس سوہنی دھرتی پر ہمیشہ دشمنوں کی نظر رہی ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ پنجاب ہزاروں سالوں سے کسی نا کسی کا غلام ہی رہا ہے۔ پاکستان کی دوسری قومیتوں کے مقابلے میں پنجاب تہوار منانے کے حوالے سے زیادہ آگے اور ثقافتی

Read more

جلال چانڈیو: سندھیوں کی عالم لوہار اور اللہ رکھی سے جان چھڑوانے والا

10 جنوری کو جلال چانڈیو کی 18 ویں برسی ہے۔ ”سندھی قوم کو میرا شکرگذار رہنا چاہیے کہ میں نے ان کی پنجابی فنکاروں عالم لوہار اور اللہ رکھی (نورجہان) سے جان چھڑائی، بھلے سندھ کے شہری بابو ٹائپ لوگوں کو میرے کلام اچھے نہ لگیں مگر سندھ کے گاؤں پر میرا راج ابھی ایک یا دو سو سال تک چلے گا، شہری بابو میرے مرنے بعد مجھے یاد رکھیں گے کہ جلال چانڈیو بھی کوئی چیز تھا۔ “ چپڑی

Read more

نیلم دریا واقعی جنت سے ہی نکلتا ہے کیا؟

بچپن سے کشمیر کو جنت نظیر خطہ سنتا آیا تھے، اب تک کئی بار اس خوبصورت ترین سرزمین کو دیکھ کر بھی ہمارا دل نہیں بھرتا۔ یقین کیجئے کشمیر واقعی جنت ہے۔ وہاں پریاں اور حورین رہتی ہیں اور وہاں سے صاف شفاف پانی، شہد اور دودھ کی نہریں بہتی ہیں۔ ان میں سے اک نہر ”نیلم“ ہے، جس کے لئے البیرونی نے 1030 ع میں لکھا تھا کہ ”شاردا دیوی کے مندر اور بدھ یونیورسٹی کے قریب اک نہر بہتی ہے جس کا پانی صاف شفاف اور نیلے رنگ کا ہے، اس میں ’نیلم پتھر‘ بھی بہتے رہتے ہیں۔“

اس کے بعد شہنشاہ اکبر کے وزیر خاص ابوالفضل ابن مبارک نے 16 ویں صدی میں لکھا کے ”بدھ یونیورسٹی جس دریا کے کنارے آباد ہے اس دریا کا نام ’مدھو متی‘ (شہد کی ندی) ہے اور اس ندی میں سونے اور ہیرے اور دوسرے قیمتی پتھروں کے ٹکڑے بھی بہتے رہتے ہیں۔“ سناتن دھرم کے مطابق نیلم وادی کا پورا علاقہ ہزاروں سالوں سے ”شاردا دیوی کی ملکیت اور امان میں ہے“ شاردا دیوی کو ”سرسوتی دیوی“ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے، اور وادی سے اوپر پہاڑوں کی طرف دیکھا جائے تو پہاڑوں کی چوٹیاں ایسے نقشہ بناتی ہیں کے جیسے کوئی انتہائی الھڑ جوان حور یا پری جیسی عورت اپنے پورے شباب اور جوبن کے ساتھ سبز رنگی تخت پر سو رہی ہے۔

Read more

جاوید لاہوری ”میراثی“ نہیں کہلانا چاہتا تھا

جاوید کے والد محمد عمر عرف بلھے خان صاحب کا شمار لاہور کے مشہور طبلہ نواز استادوں میں ہوتا تھا۔ ہیرامنڈی کے قریب ”گلی جوہریاں“ میں ہی رہنے کی وجہ سے استاد بلھے خان کا طبلہ اکثر ہر رات کسی نہ کسی محفل میں بجتا رہتا اور اسی وجہ سے ان کے گھر کا چولہا بھی جلتا رہتا تھا۔ کہتے ہیں کہ استاد بلھے خان کے ہاتھ میں بھی جادو تھا، طبلہ سننے والے دور سے تھاپ سن کر سمجھ جاتے تھے کے یہ انگلیاں استاد بلھے خان کی ہیں، ورنہ طبلے تو سب ایک جیسے ہوتے ہیں۔

مگر اس کے بیٹے جاوید کا دل طبلہ بجانے اور سننے سے بالکل خائف تھا۔ ”لوگ ہمیں میراثی کہتے تھے، اور میراثی لفظ مجھے زہر لگتا تھا، اعتراض اس لفظ سے نہیں تھا مگر یہ لفظ ’میراثی‘ ادا کرتے لوگوں کے لہجے مجھے ماردیتے تھے۔ میں کچھ بھی بننا چاہتا تھا مگر میراثی نہیں۔ اس لئے میں نے فیصلہ کیا کہ گلی میں بیٹھ کر سیخ کباب اور تکہ بوٹی لگاؤں گا مگر طبلہ نہیں بجاؤں گا، مطلب میراثی نہیں بنوں گا۔“ جاوید اب یہ بات کرتے ہوئے خود بار بار ”میراثی“ لفظ ادا کر رہا تھا۔ ”یہ بات 1992 ع کی ہے جب میراثی کو آرٹسٹ لفظ میں بدلنے کو ابھی 25 سال پڑے تھے۔ جاوید مسکرانے لگا۔

Read more

آصف زرداری کی ممکنہ گرفتاری: احتجاج تو ہو گا

سندھ میں سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کے ساتھیوں کی مبینہ مالی کرپشن کے خبروں اور جے آئی ٹی رپورٹ کے بعد زیادہ تر لوگ کرپشن، سندھ کی معاشی ابتری اور خاص طور پر پی پی پی پی کی نظریاتی تباہی کے بجائے اپنی دانشورانہ توانائیاں صرف اس بات پر صرف کرنے میں جٹے ہوئے ہیں کہ آصف زرداری کی گرفتاری کی صورت میں ”سندھ اور پاکستان“ میں احتجاجی تحریک چلے گی یا نہیں!؟ یہ بات سچ ہے

Read more

گجرات کے ڈیرے حقے کے بنا ادھورے ہیں

پنجاب کی محنت کش برادری "گجر” ویسے تو پورے پنجاب میں گجر اور سندھ میں "گجرانی” کے نام میں آباد ہے مگر اس برادری کا مرکز گجرانوالہ ڈویژن کو سمجھا جاتا ہے۔ گجرانوالہ اور گجرات کے "گجر” اپنی بہادری، مہمان نوازی، دراز قد اور وجاھت کے لئے بھی مقبول ہیں۔ آپس میں اختلافات کے باوجود دوسری برادریوں کے مقابلے میں گجروں کا آپس میں خاص انسیت والا رشتہ اتنا مضبوط ہے کہ پنجاب میں یہ کہاوت کافی مقبول ہے کہ

Read more

یہ کنہاڑ دریا ہے یا ہیروں کا ہار

اس نے ”ملکہ پربت“ کی کوکھ سے جنم لیا ہے، بابوسر کے سامنے جنت نظیر وادیوں میں رڑہنا شروع کیا ہے اور جب حسین و جمیل ”لولوسر جھیل“ کے میٹھے پانیوں میں پہنچا ہے تو یکایک جوان ہوگیا ہے۔ ”جلکھنڈ وادی“ کو کراس کرتے ہی رفتار کو تھوڑا تیز پکڑتا ہے، اب اس کے سامنے پہاڑ بھی رائی ہیں۔ یہ ہمیشہ جوان رہنے والا دریا ہے اور اسے ”کنہاڑ“ کہتے ہیں۔ ہاں یہ کنہاڑ ہے، شہزادہ دریاء، سوہنا دریا۔ کنہاڑ دریا جس حصے سے جنم لیتا ہے، جغرافیائی طور پر اس علاقے کو ”سندھو کا آبی علاقہ“ (Indus Watershed Area) کہتے ہیں۔

Read more

”دمڑی والی سرکار“ کے کروڑ پتی مجاور

پنجابی زبان کے عظیم شاعر حضرت میاں محمد بخش رح کے مرشد کریم ”حضرت پیرا شاہ غازی رح“ کے مزار پر حاضری اس لئے بھی ضروری تھی کہ ”جو ہمارے محبوب کا مرشد ہو پھر وہ تو اپنا بھی مرشد ہوا“ منگلا ڈیم کے ریسٹ ہاؤس سے میرپور ضلعے کے گاؤں ”چک ٹھاکرا“ تک کا راستہ اور منظر کافی خوبصورت اور دل آویز ہے۔ راستے میں منزل تک ساتھ دینے والے جہلم دریا کے چینل کا کنارہ، تیز بہتا پانی،

Read more

مہاراجہ چندر گپت موریہ کی جی ٹی روڈ اور سی پیک

پاکستان کو چین سے ملانی والے پاک چائنا اکانامک کاریڈور (سیپیک) کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں پاکستان میں معاشی استحکام کے واسطے کمال اور دنیا کے لئے سی پیک اک عجوبہ ہوگا، مگر پاکستان کو ایک وقت میں افغانستان، ہندوستان اور بنگلہ دیش سے جوڑنے والے تاریخی راستے گرانڈ ٹرنک روڈ (جی ٹی روڈ) بھی سی پیک سے کسی صورت کم نہیں۔

مجھے جی ٹی روڈ اس لئے بھی مرعوب کرتا ہے کہ یہ روڈ واہگہ سے لاہور، شاہدرہ، مریدکے، وزیرآباد، گجرانوالہ، گجرات سے لے کر کھاریاں تک مسلسل آباد ہے، اک مسلسل شہر ہے جو ختم ہی نہیں ہوتا۔ یقیناً پنجاب کے لئے جی ٹی روڈ اک لائف لائن کی حیثیت رکھتا ہے، پنجاب اگر جسم ہے تو اس کی ”شہہ رگ“ جی ٹی روڈ ہے۔

Read more

مثبت خبر: کراچی، کیلگری اور لاہور میں ایک ساتھ ”ہو جمالو“۔

ویسے تو دسمبر آتے ہی عاشق، کنوارے، ویلے اور خاص طور پر ان ہی دنوں میں کسی رقیب کا شکار بنے نوجوان شاعری کا سہارا لیتے ہوئے جو کچھ نہیں کہہ پاتے کسی شاعر کے کاندھے پر بندوق رکھ کر فائر کر دیتے ہیں۔ مطلب دسمبر بچھڑنے اور دکھ کا استعارہ ہے۔ سندھ میں مگر ڊسمبر کو اک نئی جہت دی گئی ہے جس وجہ سے سندھ کے لوگ دسمبر کا شدت سے انتظار کرتے ہیں۔ جب سے سندھ اسمبلی نے دسمبر کے پہلے اتوار کو سندھی ثقافتی دن کے طور پر منانے کی قرارداد پاس کی ہے، سندھ میں اک اور عید کا اضافہ ہوگیا ہے۔ یہ دن پوری دنیا میں میں رہنے والے سندھی جوش و خروش سے مناتے ہیں۔

Read more

موسیقی معجزہ ہے

ویسے واقعی یہ کمال کی بات ہے کہ دنیا کے اکثر مذاہب نے راگ اور موسیقی کو حرام یا ناپسندیدہ کام اور صنف قرار دیا ہے، مگر تمام مذاہب کا پیغام ہمیشہ سر، قرات، لے اور موسیقانہ انداز میں ہی پیش کیا جاتا ہے، تاکہ لوگوں کے دل اور روح میں گھر کر جائے۔ اس سے بڑھ کر خدائوں کو راضی کرنے کے لئے بھی راگ، موسیقی اور رقص کا سہارا لیا جاتا رہا ہے۔ وقت نے سمجھایا کہ دل

Read more

کرتارپور راہداری تو اولیاء، سنتوں اور گروؤں کی مرضی سے کھلی ہے.

کچھ لوگ ابھی تک اس بات پر قائم ہیں کہ برصغیر پر اصل حکمرانی اولیاء، سنتوں اور گروؤں کی ہے۔ یہ کرتارپور راہداری کھولنا کوئی وزیر اعظم عمران خان یا بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے بس کا کام تھوڑی تھا، اگر یہ کام کسی حکمران کا ہوتا تو بھٹو اور اندرا گاندھی، نواز شریف اور اٹل بہاری واجپائی یا پھر پرویز مشرف اور واجپائی سرکار کچھ نہ کچھ کرلیتے۔ جس طرح کافی مسلمانوں کا ایمان ہے کہ جب تک بلاوہ

Read more