حضرت سلیمان کا سلیمان سے معاملہ


اللہ کے نبی حضرت سلیمان 970 قبل مسیح سے 931 قبل مسیح تک 39 برس فلسطین کے علاقے کے حکمران رہے ۔ ان کی حکمرانی انسانوں کے علاوہ جنات ، چرند و پرند پر ہی نہیں بلکہ ہوا بھی ان کے زیر نگیں تھی۔ جنات سمندر سے قیمتی موتی ڈہونڈ ڈہونڈ کر ان کی خدمت میں پیش کرتے تو انسان ہر سال25 ٹن سونا ان کی خدمت میں پیش کرتے ان کی حکومت کو ٹیکس کی صورت میں جو رقم وصول ہوتی ماہرین نے اس کا اندازہ 297 ٹریلین روپے سالانہ لگایا ہے۔

واقعہ ہے کہ حضرت سلیمان اپنے لاو لشکر کے ساتھ ایک جنگل میں اترے۔ اہلکار خیمے زنی اور خوردووش کے انتظامات میں مصروف ہو گئے تو حضرت خود گھوڑے پر سوار ہو کر نکلے۔ انھوں نے ایک کمزور و لاغر بوڑہے کو دیکھا جو لکڑیوں کا گٹھا سر پر اٹھائے ہوئے تھا۔ حضرت سلیمان نے اسے اپنے پاس بلایا ۔ نام پوچھا تو اس نے اپنا نام سلیمان بتایااور کہا کہ وہ جنگل سے لکڑیاں چن کر اور بیچ کر اپنے خاندان کا پیٹ پالتا ہے۔ حضرت سلیمان نے اس کے بڑہاپے پر ترس کھا کر اسے ایک قیمتی لعل عطا کیا۔سلیمان لعل پا کر بستی کی طرف روانہ ہو گیا۔ راستے میں وہ لعل کی چمک و دمک سے لطف اندوز ہو رہا تھا کہ ایک چیل نے گوشت کا ٹکڑا سمجھ کر جھپٹا مارا اور لعل اٹھا کر اڑ گئی۔ سلیمان کی دیہاڑی ضائع ہو چکی تھی دوسرے دن اس نے لکڑیون کا گٹھا اٹھایا اور بستی کی طرف چل پڑا۔ حضرت سلیمان کے سپاہیوں نے بوڑہے کو لعل پانے کے باوجود لکڑیاں اٹھائے دیکھا تو پکڑ کر اسے حضرت سلیمان کی خدمت میں پیش کیا۔بوڑہے نے سارا قصہ سنا دیا ۔ حضرت سلیمان مسکرائے اور اسے ویسا ہی دوسرا لعل عطا کر دیا۔ اب بوڑہے نے اس لعل کو حفاظت سے کمر بند میں باندھا اور بستی کی طرف تیز تیز قدموں سے چل پڑااسے احسا س تھا اس کا خاندان دو دنوں سے بھوکا ہو گا۔ راستے میں ایک ندی جس کا پانی گھٹنوں سے بھی کم تھا ، میں اس کا کمربند کسی شے سے الجھا اور کھل کر پانی میں بہہ گیا۔ بوڑہے نے لعل تلاش کرنے کی بہت کوشش کی مگر لعل اس کو نہ ملا۔اس کی دوسری دیہاڑی بھی ضائع ہو گئی۔تیسرے دن وہ لکڑیوں کا گٹھا سر پر رکھے گھر کی طرف چلا جا رہا تھا کہ حضرت سلیمان کے سپاہیوں نے اسے روکا احوال دریافت کیا اور پکڑ کر حضرت سلیمان کی خدمت میں پیش کیا۔ حضرت کو اس کا قصہ سن کر حیرت بھی ہوئی اور اس پر ترس بھی آیااور تیسری بار اسے ویسا ہی ایک اور لعل عطافرما دیا۔ اس بار بوڑہے نے لعل کو بہت احتیاط سے اپنی پگڑی میں چھپایا اور اپنے گھر سے چند قدم ہی دور تھا کہ ایک گھڑ سوار اس کی پگڑی اچک کر بھاگ گیا۔ وہ واپس حضرت سلیمان کے پاس آیا اور کہا میں اپنے نصیب ہر راضی تھا۔ آپ کے چاہنے سے میں امیر نہیں ہو سکتا البتہ میرے گھر والے تین دن سے فاقے سے ہیں ۔ حضرت سلیمان نے فرمایا سلیمان کیا کرے جب خدا ہی نہ چائے۔۔۔

بادشاہ کا یہ قصہ انسان کا دوسرے انسان سے ایثار اوررحم کامظہر ہے۔ رحم خدا کی ایسی صفت ہے جو بنی آدم کے علاوہ حیوانات میں بھی موجود ہے۔ماں کی ممتا، باپ کی شفقت حیوانات میں بھی ہے۔اپنی اولاد کی حفاظت کا جذبہ، گھر بنانے کی لگن، انتقام لینے کا جذبہ۔ بھوک پیاس اور خوشی و غم کے احساس کو جانوروں میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔معاف کرنا اور ایثار کرنا بھی حیوانات میں معدوم نہیں ہے بلکہ بعض قوتیں تو انسان کی نسبت حیوانات میں زیادہ ہیں جیسے بصارت، سماعت اور سونگھنے کی حس ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ بعض حیوانات مستقبل کے خطرات کو قبل از وقت جان لیتے ہیں تو پھر ْ بنی آدم کی اشرفیت کہاں ہے ْ

فرمان خالق ہے ْ میں چھپا ہوا خزانہ تھا۔ میں نے چاہا کہ پہچانا جاوں تو میں نے محبت سے ساری مخلوق کو تخلیق کیا ْ

محبت ایک جذبہ ہے جو کسی جاندار، بے جان شے یا نظریے سے ہوتا ہے۔ محبت سدا سے بے لوث ہوتی ہے۔اہل محبت کا مقولہ ہے کہ محبت پانے کا نام نہیں بلکہ کھونے کا نام ہے۔ محبت خدا کا ہی نہیں اس کی مخلوق کا بھی پسندیدہ ہے۔ خود خدا نے تخلیق کر کے مخلوق پر اپنی محبت اس طرح نچھاور کی ہے کہ مخلوق کا رویہ کیسا ہی کیوں نہ ہو اس کی محبت میں کمی نہیں ہوتی۔ انسان کی دوسری مخلوق پر اشرفیت کا راز بھی اسی خدائی صفت محبت میں پوشیدہ ہے۔ انسان اشرف المخلوقات اس لیے ہے کہ وہ صلہ کی لالچ کے بغیر اللہ کی مخلوق سے محبت کرتا ہے۔ کتاب اٹھا کے دیکھ لیں روشن نا م وہی ہے جس نے خدا کی مخلوق سے محبت کی۔

حضرت سلیمان کا سلیمان سے معاملہ بھی ایک صاحب علم ، پیغمبری کے مقام پر فائز، دولت مند اور صاحب اقتدار کا اللہ کی مخلوق سے محبت کا مظہر ہے

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں