یقینی اور غیر یقینی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ویسے تو زندگی ہی غیر یقینی ہے لیکن پاکستان میں بالعموم اور پی ٹی آئی کے دور حکومت میں بالخصوص ہر چیز اور ہر وقت غیر یقینی کی صورت حال ہے۔ ہمارے وزیر اعظم کو خود پر یقین نہیں کہ وہ وزیر اعظم ہیں اور اس سے بڑھ کر یہ بھی وزیر اعظم کو یقین نہیں ہے کہ وہ اس عہدے پر کتنا عرصہ رہیں گے۔ اپنے ”غیر یقینی“ ہونے بارے وزیر اعظم نے گزشتہ سات دن میں دو بار قوم کو یقین دلایا۔ سو دنوں کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میری اہلیہ مجھے اکثر یقین دلاتی ہیں کہ آپ وزیر اعظم ہیں۔

ملک میں غیر یقینی کی یہ بلند ترین سطح ہے۔ اصولی طور پر ہمارے ہاں سٹاک ایکسچینج اور ڈالر کی تازہ ترین صورت حال کے ساتھ ساتھ غیر یقینی صورت حال بھی ہر گھنٹے بعد ٹی وی چینلز کے ذریعے بتائی جانی چاہیے تاکہ لوگوں کو سٹاک ایکسچینج اور ڈالر کے ساتھ ساتھ یہ بھی معلوم ہوتا رہے کہ ملک میں غیر یقینی صورت اور ”یقینی صورت حال“ کا کیا عالم ہے؟ جس طرح ہمارے وزیر اعظم غیر یقینی کا شکار ہیں بلکہ ”شاہکار“ ہیں اسی طرح اب یہ وائرس وفاقی کابینہ میں بھی داخل ہو چکا ہے۔ وزیر خزانہ اسد عمر ملکی معیشت کی بہتری اور غیریقینی صورت حال پر بات کرنے کی بجائے دن میں دو تین بار یہ وضاحت کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں کہ ان سے وزارت خزانہ کا قلمدان واپس نہیں لیا جا رہا۔

وزیر اعظم کے معاون خصوصی افتخار درانی کی وضاحت کے باوجود کہ وزیر خزانہ کی تبدیلی کی خبریں بے بنیاد ہیں۔ وزارت خزانہ کی ”بنیادوں“ میں بھونچال آیا ہوا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے جمعرات کو وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ اور دیگر معاشی ماہرین کی ٹیم کی ”برادرانہ“ حوصلہ افزائی کی ہے۔ اس سے پہلے وہ اسی طرح وزیر اعلٰی پنجاب عثمان بزدار کی کارکردگی پر بھی اطمینان کا اظہار کر چکے ہیں۔ وزیر اعظم نے جس دن سے اجتماعی انٹرویو میں کہا ہے کہ وہ کچھ دنوں میں وزراء کے قلمدان تبدیل کرنے والے ہیں اس دن سے وزیر اعظم سیکرٹریٹ اور بنی گالہ کی دیواروں کے بھی کان کھڑے ہو گئے ہیں کیونکہ تمام وزراء میں اب یہ جاننے کی دوڑ لگی ہوئی ہے کہ کس کس کی چھٹی ہونے والی ہے اور کس کس نے سبق یاد کیا ہے اور اسے اس وجہ سے چھٹی نہیں ملے گی۔

سو دن پورے کرنے کے بعد وفاقی کابینہ اپنی کارکردگی مزید بہتر بنانے کی بجائے اپنی ”عزت“ بچانے میں لگی ہوئی ہے کیونکہ اس وقت وفاقی کابینہ سے جس کی بھی چھٹی ہوئی تو اس کے بارے میں کام چور اور ”ہڑیلو کٹے“ کے القابات فٹ ہو جائیں گے اس لئے تمام وزراء اپنی چھٹی سے بچ جانے کا یقین حاصل کرنے میں لگے ہوئے ہیں لیکن سب کے لئے تاحال غیر یقینی حالات ہیں۔ غیر یقینی کے سائے سب سے زیادہ کاروباری طبقے کو نظر آ رہے ہیں۔ وزیر اعظم کے غیر ملکی دوروں سے جو ہلکی پھلکی ”یقینی صورت حال“ پیدا ہوئی تھی وہ ڈالر کی اونچی چھلانگوں کے باعث غائب ہو گئی ہے۔ کاروباری حضرات رات کو سونے سے پہلے ڈالر کی صورت حال دیکھ کر سوتے ہیں اور صبح بیدار ہوتے ہی ڈالر کی پوزیشن پر نظر ڈالتے ہیں۔

حالانکہ موجودہ حالات میں انہیں سوتے وقت بھی آیت الکرسی پڑھی چاہیے اور اٹھتے ہوئے بھی اسی کا ورد کرنا چاہیے لیکن ملک کی اہم ترین کرسیوں کے لئے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورت حال نے انہیں اس مقدس اور عظیم ترین کلام کی اہمیت سے غافل کر دیا ہے۔ حالات ایسے ہو گئے ہیں کہ کاروباری طبقہ اپنے کسی بیمار عزیز کی صحت بارے دن میں اتنی بار نہیں پوچھتا جتنی بار وہ دن میں فون کر کے ڈالر کے اتار چڑھاؤ کا معلوم کرتا ہے۔

غیر یقینی کی یہ صورت حال صرف وزیر اعظم سیکرٹریٹ یا وزراء کے دفاتر اور گھروں تک محدود نہیں ہے بلکہ اسلام آباد سے لے کر واں بچھراں کے ریڑھی اور چھابے والے بھی اس غیر یقینی مرض کا شکار ہو چکے ہیں۔ سبزی منڈی اور فروٹ منڈی سے گزر بسر کے لئے فروٹ اور سبزیاں خرید کر وہ بہت ہی محبت اور پیار سے انہیں اپنی ریڑھی پر سجاتے ہیں لیکن انہیں گاہک کے ملنے کا تو یقین ہوتا ہے مگر یہ یقین نہیں ہوتا کہ وہ اس دن تجاوزات آپریشن کی زد میں آئیں گے یا بچ جائیں گے؟

وفاقی دارالحکومت میں ریڑھی اور چھابے والے پہلے ایڑیاں اٹھا اٹھا کر گاہک کو دیکھا کرتے تھے لیکن اب وہ ہر وقت سی ڈی اے انفورسمنٹ کی گاڑیوں کو خوفزدہ ہو کر دیکھتے رہتے ہیں اور گاہکوں کو بھی مال دکھاتے ہوئے سہمے رہتے ہیں کیونکہ انہیں بھی غیر یقینی صورت حال کا سامنا ہے۔ اسی وائرس کا شکار اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ بھی ہے کیونکہ چیف کمشنر عامر احمد علی کے تیور بتا رہے ہیں کہ وہ عرصہ دراز سے اسلام آباد سے مالی مفادات بٹورنے والی کالی بھیڑوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے والے ہیں۔

ان کالی بھیڑوں میں کچھ ایسے افسران بھی ہیں جو کہ کریک ڈاؤن سے پہلے کسی دوسرے بدعنوانی کے دیس تبادلے کے لئے تگ و دو کر رہے ہیں۔ غیر یقینی کی یہ صورت حال گریڈ ون سے لے کر گریڈ 22 تک برقرار ہے۔ اس غیر یقینی نے پورے پاکستان کو اس طرح لپیٹ میں لیا ہے جیسے گزشتہ برس سموگ نے لاہور اور گرد و نواح کو دھندلا کر دیا تھا۔ وزیر اعظم عمران خان چونکہ مسلسل بیان بازی کے عادی ہو چکے ہیں۔ اس لئے ان کے بیانات بھی اس غیر یقینی کی سموگ کو بڑھاوا دے رہے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان کے ایک بیان نے مڈٹرم الیکشن کا عندیہ دے کر پارلیمنٹ اور تمام سیاستدانوں کو بھی غیر یقینی کا شکار کر دیا ہے۔

وزیر اعظم کے بیان کے بعد ہارے ہوئے سیاستدان سرگرم ہونا شروع ہو گئے اور جیتے ہوئے سیاستدان جولائی میں ہونے والے الیکشن اخراجات اور آئندہ ہونے والے متوقع اخراجات کا حساب کتاب لگانے بیٹھ گئے ہیں جب تک وزیر اعظم کی گفتگو پر یقین اور ٹھہراؤ سے بھرپور نہیں ہوتی اس وقت یہ مرض اور بھی بڑھتا جائے گا۔ سیاستدانوں کو ایک طرف اسمبلیاں تحلیل ہونے کی غیر یقینی صورت حال کا سامنا ہے اور دوسری طرف نیب کی ”یقینی“ کارروائیوں کا خوف ہے۔ البتہ عوام کو یقین ہے کہ مہنگائی کے طوفان آکر رہے گا اور بیروزگاری کی آندھیاں اور تیز ہوں گی اور انصاف کا حصول اور مہنگا ہو گا۔ یقین کی حالت غیر یقینی سے زیادہ خوفناک ہے۔ کاش ارباب اختیار کو اس بات کا یقین آ جائے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

شمشاد مانگٹ

شمشاد مانگٹ گذشہ 25برس سے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ساتھ منسلک ہیں۔اس وقت بطور گروپ ایڈیٹر روزنامہ جناح اور آن لائن نیوز ایجنسی کے ساتھ کام کر رہے ہیں

shamshad-mangat has 28 posts and counting.See all posts by shamshad-mangat