طارق جمیل صاحب کی چبھتی باتیں!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بہت سارے دوستوں نے سوال اٹھایا ہے کہ جناب طارق جمیل صاحب نے مداہنت سے کام لے کر کھل کر حکومت پہ تنقید نہیں کی۔ کسی حد تک یہ بات درست ہے مگر جمیل صاحب کوئی سیاست دان نہیں بلکہ ایک مبلغ ہے جو اپنے لیے راستے بچا کے رکھتا ہے۔ اگر اس تقریر کو غور سے سنا جائے تو بالکل واضح ہے کہ درحقیقت بڑی حکیمانہ انداز میں انھوں نے بنیادی باتیں رکھی ہے گویا کہ ”شکر میں زہر دیا ہے“

اول؛ قران وحدیث کی روشنی میں انسانی تخلیق کی وضاحت کرتے ہوہے دراصل انہوں نے تو وہاں بیٹھے ہوئے ”دانشوروں“ کی دم پہ پاؤ رکھا کہ کس طرح اللہ تعالی پانی کے ایک نطفے سے انسان کی پیدائش فرماتا ہے، ماں کی پیٹ میں اسے پالتاہے اور انتہائی ناتوانی، کمزوری، بے بسی اور محتاجی کی صورت میں اس کی نگہداشت فرماتے ہیں۔ مقصود یہ تھا کہ خالق بھی اللہ اور رازق بھی اللہ تو انسانوں کی پیدائش اور رزق کے حوالے سے اپ پریشان کیوں؟

دوم: چیف جسٹس صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ ”ہمارے جج صاحبان تو وہ کام بھی کرلیتے ہیں جو ان کے کرنے کے نہیں ہوتے“ طنز بھرا یہ مختصر جملہ تو درحقیقت اپنے اندر دنیا جہاں کی معنے لیے ہوا ہے۔ ہونا چاہیے تھا کہ چیف صاحب سر کو جھکا کر وہاں سے ”باعزت“ رخصت ہوکر اپنی اصل ڈیوٹی پر تشریف لے جاتے، جس جانب مولانا نے اشارہ فرمایا کہ عدل وانصاف کی کتنی اہمیت اور فضیلت ہے۔ دراصل انہوں نے تو چیف پہ ہتھوڑے برسائے کہ جناب اپ کو کس نے ہاتھ سے پکڑ کرمنصفی کی مقدس کرسی سے اٹھاکر سیاست کے وادی پرخار میں دھکیل دیا ہے؟

اپ کا کام تو اللہ تعالی کے بندوں کے درمیان عدل وانصاف سے فیصلے کرکے اس معاشرے کو پرسکون بنانے میں اپنا کردار نبھانا ہے نہ کہ اللہ تعالی کے رازقیت کی صفت کو چیلنج کرکے انسانوں کو ”زندہ درگور“ کرنا ہے۔ معاشرے کے تنظیم میں اپنی حثیت کے مطاطق حصہ ڈالنا ہے جو کہ بنیادی ہے اور سب سے اہم ہے تاکہ وسائل کی درست تقسیم ہوپایے اور حق دار کو اپنا حق مل جائے۔ معاشرے میں امن و امان ہوگا تو تخلیق کی صلاحتیں عروج پایے گی اور زمین اپنی تمام تر خزانوں کو باہر لاکے دے گی اور اسمان سے رحمتوں وبرکتوں کا نزول ہوگا یعنی رزق کی پروانی ہوگی۔

سوم: بلاشبہ انہوں نے وزیراعظم کے ریاست مدینہ کے ارادے اور عزم کو سیلوٹ ضرور مارا مگر بہت معنی خیز انداز میں ان کی طرف دیکھ دیکھ کر متنبہ کیا کہ ایسا کچھ کرنے کے لیے عملی اقدامات کی ضروت یوگی۔ کیا نیت کی خرابی پہ نسبتا طویل گفتگو انہوں نے یونہی فرمائی؟ معاشرتی خرابیوں کے اصلاح کا مطلب ہی دراصل یہ تھا کہ ریاست مدینہ کے قیام کے لیے پہلے تطہیر معاشرہ لازمی ہوگا۔ یعنی امر با المعروف ونہی عن المنکر کے نظام کو قایم کرنا ہوگا۔ کتنا معنی خیز، جامع اور جاندار جملہ انھوں نے بولا کہ ریاست مدینہ کے قیام کی اہم ترین شرط سودی نظام کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ یعنی اسلامی نظام معیشت کو نافذ کرکے معاشرے میں خوشحالی لائی جاسکتی ہے۔

خلاصہ ان کی گفتگو کا یہ یے کہ

*اللہ تعالی ہی خالق اور مالک ہے اور ساتھ رازق بھی ہے۔
*عدل وانصاف پہ مبنی نظام کے قیام ہی سے تمام انسانوں کو جینے کے یکساں مواقع مل سکتے ہیں۔
*سود سے پاک اسلامی نظام معیشت کے نفاذ سے ہی معاشرتی ترقی وخوشحالی ممکن ہے۔

*ابادی کو کنٹرول کرنے یعنی انسانیت کے راستوں کے بندش سے زیادہ اللہ تعالی کی رازقیت پہ ایماں کو مضبوط کرنے اور وسائل کی تلاش اور اس کی درست اور موثر تقسیم ہی سے مسائل تمام مسائل کو حل کیا جانا ممکن ہے۔

موقع و محل کی مناسبت سے انہوں نے انداز بیان جو بھی مناسب سمجھا اپنایا مگر متعلقہ موضوع پر بڑی حکمت کے ساتھ گفتگو ضرور فرمائی جس کا اثر سامعین پر دیکھنے کو ملا جس کے ردعمل کا اظہار انھوں نے کیا۔ وزراء کی ہوائیوں کا اڑنا، وزیراعظم کی باڈی لینگویج یعنی اپنی بے قراری، تشویش، اضطراب کو چھپانے کیلے بار بار پہلو بدلنا اور چیف صاحب کی پھیکی پھیکی مسکراہٹیں دیکھنے کی لائق تھیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں