ریاستِ مدینہ اور نیا پاکستان


وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ نیا پاکستان، ریاست مدینہ کے نمونے پر از سر نو تعمیر کیا جائے گا۔ بیس اگست کی افتتاحی تقریر سے اب تک وہ کم از کم گیارہ بار مختلف موقعوں پر اس کا اعادہ کر چکے ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ تمام مسلمانوں کے لئے یہ ساتویں صدی عیسوی کی ریاست ایک مقدس حیثیت رکھتی ہے، لیکن ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ریاست مدینہ اور نیا پاکستان میں کہاں کہاں مشابہت ہو گی۔ کیا عمران خان کا مقصد ریاست مدینہ کی مثالی مساوات اور فلاح و بہبود کی تقلید ہے؟ کیا وہ اُس نظام کے سیاسی اور عدالتی قواعد و ضوابط بھی یہاں پر لاگو کرنا چاہتے ہیں؟

ایک خوشحال اور فلاحی ریاست کی تشکیل یقینا قابل تحسین مقصد ہے۔ دور حاضر میں کچھ ممالک پہلے ہی ایک ایسا نظام قائم کر چکے ہیں، جہاں بغیر کسی امتیاز اور تعصب کے تمام شہریوں کی ضروریات کوپورا کیا جاتا ہے۔ ان ممالک کی صفوں میں کھڑے ہونے کے لئے ہمیں کیا کچھ کرنا ہوگا؟ اس کے لئے محض پانچ منٹ کا غور و خوض کافی ہے۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ اس پر عمل در آمد کے لئے بڑے پہاڑ توڑنے ہوں گے۔

مختصراَ: مناسب قانون سازی کے ذریعے جاگیرداری نظام کا خاتمہ کر دیا جائے۔ رائج الوقت قیمت کی بنیاد پر پراپرٹی ٹیکس وصول کیا جائے۔ عدلیہ کو شفاف بنایا جائے اور انصاف کی فراہمی تیز تر کی جائے۔ سرکاری محکموں میں تقرریاں فقط قابلیت کی بنیاد پر کی جائیں۔ تعلیم میں ضروری تبدیلیاں لائی جائیں تاکہ ہنرمندی اور خرد افروز ی کو فروغ دینا اس کا بنیادی مقصد ہو؛ پڑوسی ممالک کے ساتھ تنازعات ختم کیے جائیں اور فوج کی بجائے منتخب نمائندے ملک چلائیں۔

ان اقدامات پر عمل کرنا کوئی آسان کام نہیں لیکن ریاست مدینہ کی سیاسی تقلید اور زیادہ کٹھن ہوگا۔ اس قدیم ریاست کی کوئی طے شدہ سرحدیں نہ تھیں۔ وطنیت کوئی اہمیت نہ رکھتی تھی اور اس کی اساس صرف ایمان تھا۔ ریاست کو قبائل کے مابین معاہدے یعنی میثاق مدینہ کی بنیاد پر قائم کیا گیا تھا، جس کی واحد شرط یہ تھی کہ تمام افراد رسول اکرم ﷺ کی حاکمیت تسلیم کریں گے۔ غالباً اس کے پیش نظر کہ مسلمان مستقبل میں مکہ اور مدینہ کے نخلستانوں سے آگے پھیلیں گے، رسول اکرم ﷺ نے انتہائی دور اندیشی اور فراست سے کام لیتے ہوئے دارالاسلام کے لئے مخصوص حد بندی کا تعین نہیں کیا۔ آج کا زمانہ اس سے بالکل مختلف ہے۔ 1648 ءمیں یورپی طاقتوں کے مابین ہونے والے ویسٹ فیلیا کے معاہدے کے نتیجے میں آج ہر ریاست اپنی جغرافیائی حدود رکھتی ہے۔

قرون وسطیٰ کے زمانے سے مسلمان علماء دو متضاد تصورات میں مصالحت کی کشمکش میں مشغول رہے ہیں، یعنی سرحدوں سے م اور اء امہ اور سرحدوں میں مقید اسلامی ریاست۔ ان معاملات میں دو بڑے عالم المواردی اور ابن خلدون کے خیالات بہت مختلف تھے۔ اسی طرح تقسیم ہند سے قبل حیدر آباد (بھارت) میں مقیم مولانا ابو الاعلیٰ مودودی بھی اسی مسئلے پرغلطاں و پیچاں رہے۔ 1930 ء کی دہائی میں ان کا موقف یہ تھا کہ پاکستان کو ایک علیحدہ مملکت کے طور پر تشکیل دینا اسلامی تعلیمات اور روایات کے منافی ہوگا۔ ان کے نزدیک اس کے برعکس پورے ہندوستان کو مشرف بہ اسلام کرنا ضروری ہے۔ لیکن چونکہ یہ ممکن نہ تھا، اس لئے آخر کار انہوں نے بھی پاکستان کے حق میں آواز بلند کی۔

وقت کے ساتھ ساتھ اس دشواری میں کمی کی بجائے اضافہ ہوا ہے۔ آج کی دنیا میں بڑی بڑی افواج قومی سرحدوں کی نگہبان ہیں اور قوم پرستی، مذہب کے مقابل ایک جذباتی قوت کے طور پر ابھری ہے۔ عمران خان کا ڈیڑھ ملین افغان پناہ گزینوں کو شہریت دینے کا عہد ریاست مدینہ کی طرف پہلا اہم قدم ہو سکتا تھا، یعنی ایسی ریاست قائم ہو سکتی جس میں تمام مسلمانوں کے لئے اپنی راہیں کھلی ہوتیں۔ انسانی حقوق کے کارکنوں نے اس اعلان کا بھرپور خیر مقدم کیا۔ مگر جب منفی ردعمل سامنے آیا تو انہیں یو ٹرن لینا پڑا۔ اس پر عمران خان کو تنہا مورد الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا: گزشتہ حکومت نے بنگالی پناہ گزینوں اور برما کی مظلوم روہنگیا اقلیت کو شہریت دینے سے انکار کیا تھا۔ قوم پرستی تب بھی مذہبی یکجہتی پر حاوی رہی۔

قانون سازی اور عدلیہ کے معاملات پر کیا موقف اختیار کیا جائے گا؟ کیا ریاست مدینہ کے قوانین، نئے پاکستان میں لاگو ہوں گے؟ اگر تاریخ کے عدسے سے دیکھا جائے تو بین القبائلی جنگوں کے زمانے میں رسول اکرم ﷺ کی سرپرستی میں ریاست مدینہ ایک بہترین ممکنہ انتظام تھا۔ جو قارئین اس موضوع میں دلچسپی رکھتے ہیں، وہ ڈاکٹر طاہر القادری کا میثاق مدینہ پر پی ایچ ڈی کے مقالہ کا مطالعہ کر سکتے ہیں جہاں میثاق مدینہ کی ان مسائل کے ضمن میں 63 شقیں درج ہیں: دیت (خوں بہا) کا تعین؛ قبائلی جھگڑوں کے تصفیے کے لئے جرمانہ، مسلمانوں اور یہودیوں کی زندگیوں کا تحفظ اور جنگی اخراجات کی تقسیم وغیرہ۔ ان اقدامات نے قبائلی انصاف اور رواج کے دائرے میں رہتے ہوئے امن کا حصول یقینی بنایا۔

تاہم دنیا کے تمام معاشروں میں عدل و انصاف کا تصور ثقافت اور مذہب سے جڑا ہوا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ یہ بھی بدلتا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر قریباً دو ہزار برس قبل ارسطو کا کہنا تھا کہ کچھ افراد اور نسلیں ”فطری غلام“ ہیں، جنہیں بہتر یہ ہے کہ غلام ہی رکھا جائے۔ دو سو برس پہلے تک بھی سماجی طور پر معزز امریکی، غلاموں کو رکھنا معیوب نہ سمجھتے تھے۔ ان میں رحم دل افراد وہ تھے جو ان کے ساتھ اچھا سلوک کرتے تھے۔ تاہم آج کے دور میں غلامی کوانتہائی گھناؤنا تصور کیا جاتا ہے۔

مسلمانوں کے مابین داعش یا اس جیسی انتہا پسند تنظیموں کے علاوہ آج کوئی بھی غلامی کے حق میں نہیں ہے۔ اگر غلاموں کے ساتھ بہت اچھا سلوک کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی جائے، تب بھی یہ قانونی طور پر ممنوع رہے گی۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں غلامی کوآج ایک مجرمانہ فعل سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح خواتین کی خرید و فروخت اور انہیں لونڈیاں بنانا پاکستان میں خلاف قانون ہے۔ کسی اور انسان کو اپنی ملکیت سمجھنا اب جائز نہیں سمجھا جاتا۔

وقت کے ساتھ ساتھ انسانی مساوات کے تصورات بھی پختہ ہوئے ہیں۔ آج قریباً تمام معاشرے یہ قبول کرتے یا کم از کم زبانی طور پر یہ تسلیم کرتے ہیں کہ قانون کی نظر میں تمام لوگ برابر ہیں۔ ابتداءمیں یہ برابری محض مردوں کی حد تک تھی، لیکن بعد ازاں اس میں خواتین کو بھی شامل کر لیا گیا اور یوں مساوی انسانی حقوق کا دائرہ بتدریج وسیع ہو رہا ہے۔ پاکستان میں قانونی طور پر خواجہ سراؤں کو ایک علیحدہ جنس کے طور پر 2009 ء میں تسلیم کر لیا گیا، اور رواں برس کچھ خواجہ سراؤں نے انتخابات میں بھی حصہ لیا ہے۔

خوں بہا پچھلے وقتوں میں معمول کی بات تھی، لیکن آج اسے ایک مختلف زاویے سے دیکھا جاتا ہے۔ پاکستانی شہریوں میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی جب بیس سالہ شاہ زیب خان کا قاتل شاہ رخ جتوئی فاتحانہ انداز میں جیل سے رہا ہوا۔ جتوئی کے مالدار والدین نے خان کے گھرانے کو غالباَ ڈرا دھمکا کر دیت کے ذریعے معافی خریدی۔ کچھ برس قبل سی آئی اے کنٹریکٹر ریمنڈ ڈیوس بھی ان دو افراد کے گھرانوں کو 2.4 ملین ڈالر خوں بہا ادا کر کے رہائی کمانے میں کامیاب رہاجنہیں اس نے دن دیہاڑے قتل کر دیا تھا۔

کل کی اور آج کی دنیا کا آپس میں کوئی موازنہ ممکن نہیں۔ جنگجو قبائل کے مابین امن قائم کرنے پر رسول اکرم ﷺ کی معاملہ فہمی اور تدبر قابل تحسین ہے، تاہم ہمیں یہ بھی مد نظر رکھنا چاہیے کہ آج کی دنیا بہت بدل چکی ہے۔ اُس وقت مکہ اور مدینہ کی مشترکہ آبادی، آج کراچی کے نواح میں موجود کھارادر سے بھی کم تھی۔ ملازمتوں اور رہائشی مکانوں کی کمی کے مسائل درپیش نہ تھے۔ آلودگی اور لوڈشیڈنگ کا کوئی تصور نہ تھا؛ وائٹ کالر جرائم بھی صدیوں بعد کی اختراع ہیں۔ ریاست مدینہ میں پولیس اور مستقل فوج کا وجود نہ تھا۔ اس وقت کوئی جیل بھی نہ ہوا کرتی تھی۔

یہ سمجھنا آسان ہے کہ مذہبی نعرے ہمارے لوگوں میں کیوں اتنا جوش و ولولہ پیدا کرتے ہیں۔ ایک ایسے ملک میں، جو سماجی ناہمواریوں اور طبقاتی تقسیم میں جکڑا ہوا ہو، یہ ناقابل فہم نہیں کہ لوگ کسی بے عیب اور مثالی ماضی میں پناہ ڈھونڈیں۔ لیکن سیاسی رہنماؤں کے ایسے نعروں اور وعدوں پر کہاں تک بھروسہ کیا جائے؟ جب جنرل ضیاءالحق نے اس سے ملتا جلتا نعرہ بلند کیا اور نظام مصطفیٰ قائم کرنے کا دعویٰ کیا تو لوگ وقتی طور پر خوش ہوئے تھے۔ یہ اور بات کہ جلد ہی انہیں شدید مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ کیا اب کی بار اس سے کچھ مختلف ہوگا؟

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں