پیرزادہ سلمان کے ’وقت‘ کی بات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اردو ادب کی ابتدائی، کلاسیکی اور جدید روایت، اس کے ذولسانی اور بعض اوقات کثیر لسانی ہونے کی گواہی دیتی ہے۔ اردو کی ابتدائی اور کلاسیکی روایت کے تمام ممتاز مصنفین فارسی پر عبور اور عربی کا علم رکھتے تھے۔ نو آبادیاتی عہد کے آنے کے بعد فارسی کی جگہ انگریزی نے لے لی۔ بیسویں صدی کا شاید ہی کوئی اہم اردو ادیب ہو جس نے انگریزی اور دیگر یورپی زبانوں کے ادب کا راست مطالعہ نہ کیا ہو اور اس مطالعے کے اثرات اس کی تحریروں پر مرتب نہ ہوئے ہوں۔ تاہم گزشتہ دو تین دہائیوں میں سامنے آنے والے اکثر اردو ادیب (مستثنیات بہ ہر حال ہیں)، ایک طرف کلاسیکی فارسی و عربی سے کٹ گئے ہیں تو دوسری طرف انگریزی سے۔ یہی صورت پاکستان کے نئے انگریزی لکھنے والوں کی ہے جو کلاسیکی و جدید اردو ادب کی روایت سے واقف نظر نہیں آتے۔

ذولسانیت کا ایک پہلو تو یقینا ’ثقافتی سیاست ‘ کا حامل نظر آتا ہے، مگر دوسرا اور شاید اہم پہلو ادبی وجمالیاتی ہے۔ اردو ادب کے سب اہم رجحانات کے پس پردہ فارسی، سنسکرت، عربی، انگریزی، فرانسیسی، روسی اور اب لاطینی و افریقی ادب کے اثرات کہیں نہ کہیں نظر آتے ہیں۔ واضح رہے کہ اثرات کا مطلب، نقل و تقلید نہیں، بلکہ ان سے ایک مکالماتی و جدلیاتی رشتہ قائم کرکے، اپنی مقامی صورت حال کو لکھنا ہے۔ یہ تمہید پیرزادہ سلمان کے اولین اردو شعری مجموعے ”وقت “ کے ضمن میں ہے تاکہ اسے، اس کے بنیادی سیاق میں رکھ کر دیکھا جا سکے۔ کراچی میں مقیم پیر زادہ سلمان مﺅقر انگریزی اخبار ”ڈان“ سے وابستہ ہیں۔ گزشہ برس ان کی انگریزی نظموں کا مجموعہ  Bemused کے نام سے شایع ہوا تھا۔ انگریزی میں کہانیاں بھی لکھتے ہیں۔ جدید اردو شاعری اور فکشن کا وسیع مطالعہ کر رکھا ہے۔ راشد اور جون ایلیا کو خاص طور پر پسند کرتے ہیں، حالاں کہ ان دونوں میں شاید ہی کوئی مماثلت ہو۔ میر اور غالب کے عاشق بھی نظر آتے ہیں۔ محمود درویش بھی ان کے پسندیدہ شاعروں میں شامل ہیں۔ معاصر مغربی فکشن کے مطالعے کا گہرا شغف بھی رکھتے ہیں۔

محض سو صفحات پر مشتمل شعری مجموعے ”وقت “ کی جس خصوصیت کا سب سے پہلے ذکر مناسب ہے، وہ ہے، اس کا اختراعی مفہوم میں نیا ہونا اور معاصر اردو شاعری کے تناظر میں مختلف ہونا۔ جدید شعریات، نئے ہونے پر شدت سے اصرار کرتی ہے: موضوع اور اسلوب دونوں سطحوں پر نیا ہونا۔ کچھ جدید شعرا محض زبان کے ذریعے نیا بننے کی کوشش کرتے ہیں، کبھی وہ رائج شعری پیرایوں کی توڑ پھوڑ کرتے ہیں اور کبھی رائج لفظیات کے نئے، استعاراتی استعمال سے۔ اگرچہ پیرزادہ سلمان نے اپنے ایک صفحے کے دیباچے میں لفظوں کو جوڑنے اور توڑنے کو اپنا سب سے اہم مشغلہ قرار دیا ہے اور اپنی صحافت کو بھی اسی ذیل میں رکھا ہے مگر اکثر شاعر اپنی شاعری میں خود اپنی منشا یا اپنی طے کردہ تنقیدی حدوں کو توڑتے ہیں۔ یہی کچھ پیرزادہ سلمان نے بھی کیا ہے۔ وہ اپنی شاعری میں لفظوں کو نہیں توڑتے؛ان کی شاعری میں شاید ہی کوئی نو ساختہ لفظ ہو جسے پرانے لفظ یا لفظوں کو توڑ کر بنایا گیا ہو۔ اس کے باوجود ان کی شعری زبان نئی، تازہ اور قاری کی توجہ کو فی الفور گرفت میں لینے والی ہے۔ اس کا راز، ان کے ’وجودیتی رویے‘ میں ہے۔ اوّل وہ اپنے خیال، احساس، جذبے اور تصور کو پہلے سے موجود نظریے، روایت اور پیرایہ بیان (جسے جوہر کہا جاسکتا ہے ) پر فوقیت دیتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ان کی نظموں میں خصوصاً کسی اور کا عکس، اثر یا سایہ نظر نہیں آتا۔ ان کے اپنے دست خط دکھائی دیتے ہیں۔ انھیں احساس بھی ہے کہ نظریہ (جسے کوئی دوسرا ہی گھڑتا ہے) تخلیقی تجربے کے استناد کو چیلنج کرسکتا ہے۔ اسی لیے وہ اپنی شاعری میں اعلان کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ وہ کسی نظریے کے پیرو نہیں (اگرچہ اس اعلان کی ضرورت نہیں تھی)۔ نظم ’نظریہ ‘ میں لکھتے ہیں:

مجھ کو میرا وجود کافی ہے

سب نظریوں کے جو منافی ہے

لیکن ایک اور نظم میں وہ اس تھیم کوقدرے مختلف اور تجزیہ ذات کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ یعنی اعلان کے بجائے، اپنی کیفیت کی صورت ظاہر کرتے ہیں۔

جس کو بھی یاد کے قابل سمجھا

کسی روداد کے قابل ہی نہ تھا

یہ بہت لوگ ہوائیں یہ حوادث یہ الم

کوئی بھی حافظہ پیمائی کو واجب نہ ہوا

ہاے یہ دل کسی سمت بھی راغب نہ ہوا

خاص بات یہ ہے، عام وجودی رویے کے برعکس ان کے یہاں تنہائی کا جاں لیوا احساس نہیں، بلکہ اپنے وجود (اور اس سے جڑی تقدیر) کے ایک طرح کے جشن کا احساس نمایاں ہے، مگر کسی تفاخر کے بغیر۔ ان کے وجودیتی رویے کے سلسلے میں دوسری اہم بات یہ ہے کہ وہ اپنے خیال، احساس، تصور کو اس زبان میں لکھتے ہیں، جسے وہ تخلیق شعر کے دوران ہی میں تخلیق کرتے ہیں۔ بہ طور شاعر ان کی کامیابی یہ ہے کہ وہ خیال واحساس کاممکنہ لسانی مساوی وضع کرلیتے ہیں۔ مبادا غلط فہمی ہو، واضح کرنا ضروری ہے کہ کسی خیال کا مکمل لسانی مساوی سرے سے موجود ہوتا ہے نہ اختراع کیا جاسکتا ہے، ایک طرح کا تناﺅ یا خلاخیال اور اس کے ممکنہ مساوی کے درمیان نظر آتا ہے۔ تاہم یہ تناﺅ یا خلا ہی شاعری میں معانی کی تخم ریزی کا مقام ہوتاہے۔

وہ جس نئی زبان کو شاعری میں اختراع کرتے ہیں، وہ دو طرح کے پیرایوں سے عبارت ہے۔ بیانیہ اور تمثالی۔ کہیں وہ انھیں الگ الگ بروے کار لاتے ہیں اور کہیں ملا کر۔ لیکن ہر جگہ وہ کم سے کم لفظوں میںزیادہ سے زیادہ کہنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ ہنر لفظ شناسی کی طویل ریاضت کے بعد ہی ہاتھ آتاہے۔ اس کے علاوہ وہ غنائیت سے بھی خاصا کام لیتے ہیںجو کہیں تو رواں بحر سے پیدا ہوتا ہے اور زیادہ تر قوافی و اندرونی قوافی سے۔ لیکن کہیں یہ احساس نہیں ہوتا کہ اس کے لیے انھیں اہتمام کرنا پڑا ہے۔ اچھی شاعری، شاعر کی محنت اور کرافٹ کو نمایاں نہیں ہونے دیتی۔

”وقت“ میں نظموں کے علاوہ سہ سطریاں اور غزلیں شامل ہیں۔ اس تبصرے میں صرف نظموں پر بات کی جاسکتی ہے۔ مجموعے کی پہلی نظم بیانیہ پیرائے میں لکھی گئی ہے، آج کے، اکیسویں صدی کے انسان کی صورت حال کو بیان کرتی نظم۔ نظم سادہ مگر پر اثرہے جس میں ایک کردار یا اپنے ہی ہمزاد کو مخاطب کیا گیا ہے، مدد کے لیے نہیں (کوئی کسی کی کیا مدد کرسکتا ہے!) بلکہ intimacyکے احساس کے ساتھ اپنا حال بیان کرنے کی غرض سے۔

نظام الدین

میں اب تھک گیا ہوں

تھک گیا ہوں

یہ دیکھو

گھر بدلتے، رزق چنتے، راہ تکتے

تھک گیاہوں

دیگر نظموں میں بھی روزمرہ کی حد درجہ مصروف اس شہری زندگی کو پیش کیا گیا ہے، جو آدمی سے اس کا وقت، خود کو یاد کرنے اور خود سے ملنے کا وقت، چھین لیتی ہے۔ نظم ’نوکری ‘ اس ضمن میں قابل ذکر ہے۔ شہری ندگی کے ساتھ ساتھ، سرمایہ داریت، سفیدنسل پرستی، ملکی فرقہ واریت، تشدد، عدم رواداری، پابندصحافت ان کی نظموں کے اہم موضوعات ہیں۔ ان موضوعات کو ایک خاص مﺅقف یا پوزیشن کے ساتھ ظاہر کرتے ہیں، جو دراصل طنزیہ رمزاور کہیں کہیں سیدھے سادے طنز سے عبارت ہے۔

چند گدھے اور اتنی کتابیں

کب تک بوجھ کو ڈھوتے جائیں

کوئی تو ہو جو ان کی خاطر

دریا برد کتابیں کر دے

اور گدھے بس چین سے بیٹھے

بین بجائیں اور چارہ کھائیں

طنزیہ رمز اور طنز دونوں ان کے اسی ’وجودیتی رویے‘ سے پھوٹتے ہیں جس کا ذکر گزشتہ سطور میں آچکا ہے۔ اپنی زندگی کو ’دوسروں ‘ کے ’پیدا ‘ کیے ہوئے بوجھ تلے بسر کرنا اور اپنے وجود و بدن کی شعریت سے بیگانگی اختیار کرنا”وقت “ کے شاعر کو کھلتا ہے۔ ان کی کئی نظمیں بدن کی جمالیات و شعریت سے متعلق ہیں۔ بدن ان کے لیے جنس کا منبع بھی ہے، جنس مخالف سے تعلق کی اساس بھی، کہانیوں (محبت سے لے کر جنگوں کی کہانیوں ) کا ایک کردار بھی اور ایک استعارہ بھی جسے وقت توڑ ڈالتا ہے۔

بدن کے کچھ تقاضے تھے مری جاں

بدن کی بات سننا تھی گوارہ

بدن تھا استعارہ

جن نظموں میں پیرزادہ سلمان نے تمثالوں سے کام لیا ہے، وہ گہری اور تہ دار ہیں۔ نیز یہی وہ نظمیں ہیں جن میں لفظ اور خیال و احساس میں ایک طرح کا تناﺅ اور خلا ظاہر ہوتے ہیں۔ ان میں چھپکلی، سہ نیم، موت، کافر، غریب کا بچہ خاص طور پر اہم ہیں۔ مثلاً ’موت ‘ کے عنوان کی نظم دیکھیے جس میں چھوٹی چھوٹی لسانی تمثالوں سے ایک منظر تخلیق کیا گیا ہے۔

پرندوں کے غول

دہکتی عمارت

عمارت کے اندر چمکتی کتاب

سرکتا سا خواب

قدم تو بڑھاﺅ عمارت کی جانب

عمارت کی جھوٹی عبارت کی جانب

 یہ کون سی عمارت آگ سے دہک رہی ہے جس کے اوپر پرندوں کے غول تو بد حواسی سے اڑرہے ہیں، مگر آدم زاد اس کی طرف قدم بڑھانے (یعنی آگ بجھانے )سے گریزاں ہیں حالاں کہ اسی عمارت میں وہ کتاب بھی (آگ کے شعلوں کے سبب یا اپنے لفظوں کی بنا پر) چمک رہی ہے، جو انھی گریزاں آدم زادوں کے گریز پاخواب کی حامل ہے؟ اس کا جواب اس نظم میں راست موجود نہیں، مگر اس کے اشارے نظم ہی میں موجود ہیں۔ عمارت اور کتاب، دونوں انسان کی تخلیق ہیںمگر انسان انھی سے بے تعلق ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ شاعر اپنی بیانیہ نظموں میں سماجی رویوں پر طنز کرتے ہیں، مگر اپنی تمثالی نظموں میں وہ چیزوں، تاریخ، صورت حال کو ایک جمالیاتی فاصلے سے دیکھتے ہیں۔ یہ تسلیم کرتے نظر آتے ہیں کہ ہاں دنیا میں چیزیں بس اسی طرح واقع ہوتی ہیں۔ ہم خواب د ر خواب کی صورت حال میں گرفتار ہیں، ایک کنارے سے دوسرے کنارے کی پرچھائیں چمٹی ہیں۔ اس جہاں میں (سماج میں نہیں)ہماری اصل حالت یہ ہے:

ہم جہاں آگئے

خواب میں ڈوبتے

اس کنارے پر اک اور ہی خواب ہے

یہ شاعری کا جہاں ہے، انسانی وجود کی اصل صورتِ حال کا جہاں ہے، جس سے ہمیں شاعری اور آرٹ ہی آگا ہ کرسکتے ہیں اور جس سے آگا ہ ہوئے بغیر ہم تقدیر کے جبر سے آزادی کا دعویٰ نہیں کرسکتے۔ مقبول شاعری ہمیں سماج کے جبر کا مقابلہ کرنا سکھا سکتی ہے یا سماجی مقتدرہ کا ساتھ دینے پر مائل کرسکتی ہے، مگر اس نوع کی سنجیدہ، تہ دار اور گہری شاعری ہمیں کائناتی قوتوں کے مقابل اپنی فنا پذیر، موم بتی کی مانند لرزتی صورتِ حال کا عرفان بخش کر، ان کی دہشت سے محفوظ ہونے کا راستہ دکھاتی ہے۔

وقت کے عنوان سے غزل کی ہیئت میں لکھی گئی نظم میں شاعر کہتا ہے:

وقت آئے گا مرے پاس کہانی ہوگی

جس میں راجا نہ پری زاد نہ رانی ہوگی

وقت آئے گا مرے لفظ بھی گویا ہوں گے

ایک محفل سی مرے گرد دوانی ہوگی

اس مجموعے کے مطالعے کے بعد آپ بھی کہیں گے کہ وہ وقت دور نہیں!!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •