ن م دانش کے ”بچے، تتلی، پھول“

دنیا میں جینا اور شاعری میں اسی دنیا کو برتنا، یکساں نہیں ہے۔ دنیا کے اصول و قاعدے اور شاعری کی دنیا کے اصول و قاعدے جدا ہیں۔ نیز شاعری کے قاعدے کے تحت، معمول کی زندگی نہیں گزاری جا سکتی۔ ن م دانش نے یہ خیالات اپنے شعری مجموعے ”بچے، تتلی، پھول“ کی دوسری اشاعت کے پیش لفظ میں ظاہر کیے ہیں۔ لیاری سے تعلق رکھنے والے، اور آج کل امریکا میں مقیم نقاد اور شاعر ن م دانش

Read more

ٹیڑھا لگا ہے قط، قلم سرنوشت کو

(نوٹ : ادارہ تالیف و ترجمہ، پنجاب یونیورسٹی، لاہور میں پروفیسر زاہد منیر عامر کی طرف سے میرے لیے ایک تقریب کا انعقاد کیا، اس تقریب میں پڑھی گئی تحریر پیش کر رہا ہوں۔) میرے لیے یہ ایک خاص الخاص لمحہ، بلکہ نادر و نایاب لمحہ ہے۔ میری سبک دوشی پر منعقد کی گئی یہ تقریب کئی لحاظ سے نادر و نایاب ہے۔ یہ کسی اور زمان و مکان میں بھی ہو سکتی تھی مگر اے بسا آرزو کہ خاک

Read more

میرا جی: نگری نگری پھرا مسافر

"چلو تم ادھر کو ہواہو جدھر کی”۔ یہ حالی کا منشور تھا۔ "اک پل میں منسوخ کیے دیتا ہوں/ اس دنیا کو اپنی انگلی کی مستانہ جنبش سے/اپنے ذہنی ساز کی بہکی لرزش سے”۔یہ میراجی تھے۔ حالی —اور ان کا زمانہ بہ قول حسن عسکری استعارے سے خوفزدہ تھا۔ استعارے کا ڈر کب پیدا ہوتا ہے؟ جب آدمی اپنی نفسی دنیا سے بیگانہ ہو جائے اور خود کو باہر کے سپرد کردے۔ شاعر اگر خود کو باہر کے سپرد کردے

Read more

کچھ ملکوں میں تاریخ خود کو دہراتی ہے

  سوگ کے چند دن تو گزر گئے۔ شروع میں تو جس نے سنا، سکتے میں آ گیا۔ اگلے کئی دن سب نے دلوں میں گہرا الم محسوس کیا۔ سب بار بار افسوس کرتے۔ سوچتے : یہ بھی ہونا تھا۔ یہ ہوا کیسے؟ بے یقینی کی کیفیت محسوس کرتے۔ پھر سوچتے : یہاں وہ سب بھی ہوجاتا ہے، جو کسی نے سوچا نہیں ہوتا، البتہ کسی شریر بچے یا کسی داستان گو کے تخیل میں آ سکتا ہے۔ وہ جھنجھلا

Read more

اپنی بستی کا قصہ گو

ڈاکٹر شاہد صدیقی بہ یک وقت ماہر تعلیم و لسانیات، ناول نگار اور کالم نویس ہیں۔ ان کی تازہ کتاب ”پوٹھوہار: خطہ دلربا“ میں ان کی علمی و تخلیقی شخصیت کے کچھ نئے پہلو بھی ظاہر ہوئے ہیں۔ اپنے خطہ ارضی کی ثقافتی روح کو گرفت میں لیتے لیتے، خود وہ اپنی ذات کے بعض نادریافت خطوں سے بھی متعارف ہوئے ہیں۔ اس کتاب کو کسی ایک صنف میں رکھنا مشکل ہے۔ یہ جانی پہچانی صنفی حدود کو شکست دیتی

Read more

اردونصابات: غریب کی جورو سب کی بھابھی

پاکستانی تعلیمی اداروں میں اردو، غریب کی جورو سب کی بھابھی بنی ہوئی ہے۔ ریاستی آئیڈیالوجی، مذہب، اخلاقیات، تاریخ غرض کیا کچھ نہیں ہے جسے اردو کے نصابات میں ٹھونسا نہیں جاتا۔ اردو، غریب کی جورو کی طرح سب کی ہاں میں ہاں ملاتی ہے، اور وہ سب بوجھ اٹھاتی ہے جو حقیقت میں دوسرے مضامین کے ہیں۔ اردو نصابات کی اس بوالعجبی کا علم سب کو ہے، مگر گزشتہ کئی دہائیوں سے اس کے چلن نے، اس کی طرفگی

Read more

بوڑھے جنگی سپاہی کی ڈائری کا ایک ورق

میں ان چند بد قسمت لوگوں میں سے ہوں، جو دشمن کی گولی کا نشانہ بننے سے محفوظ رہے۔ ان گنہگار آنکھوں نے جنگ سے پہلے، جنگ کے دوران میں اور جنگ کے بعد جو کچھ دیکھا، اسے یاد رکھنے کے لیے انسانی کھوپڑی میں ودیعت صلاحیتیں قطعی ناکافی ہیں۔ باقی سب کی طرح میں نے بھی پڑھ اور سن رکھا تھا کہ انسانی کھوپڑی میں اربوں نیورونز ہیں، جو انسان کو اربوں باتوں سمجھنے، یاد رکھنے اور نئی نئی

Read more

ماہ محرم، چودہ اگست، مینار پاکستان اور عائشہ اکرم

بہت عرصہ پہلے کسی ہندوستانی شاعرہ کی ایک نثری نظم پڑھی۔ میں آدھی رات کو اکیلی گھر جا رہی تھی میں نے دیکھا کہ سامنے باگھ ہے میں نہیں ڈری چند قدم بعد میں نے دیکھا سامنے مرد ہے میں ڈر گئی یہ نظم ذہن سے چپک کر رہ گئی۔ ہر بار جب وطن عزیز میں کسی بچی کی عصمت دری ہوتی ہے اور پھر سنگدلی سے اسے قتل کر دیا جاتا ہے، کسی لڑکی سے اجتماعی زیادتی ہوتی ہے

Read more

”کھو گئی دشت فراموشی میں آواز خلیل“ :چند باتیں، جدید شاعری کے باب میں

جدید شاعر جس دنیا کا خاکہ اور تخیل پیش کرتا ہے، وہ انسانی دنیا ہے۔ صرف اس معروف مقولے کی رو سے نہیں کہ ’انسان ہی اشیا کا پیمانہ ہے‘ ، بلکہ اس مفہوم میں بھی کہ یہاں کوئی شے، کوئی وجود، کوئی تصور، کوئی قدر انسانی پیمانے سے بلند نہیں ؛انسانی پیمانے کا تعین بھی انسان ہی کرنے کا مجاز ہے ؛وہ زوال اور کمال، بلندی اور پستی کو بھی انسانی آدرشوں، خوابوں، اعمال کی روشنی میں دیکھتا ہے

Read more

ادب میں فحاشی کا مسئلہ

فحاشی کا مسئلہ، بلاشبہ مذہبی اصلاح پسندوں اور ریاست کو طاقت کے اندھے استعمال کی غیر معمولی ترغیب دیتا ہے، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ اخلاقی اصلاح کے طوفانی جوش اور ریاستی جبر کو کسی ردّعمل کا سامنا نہیں ہوتا اور انھیں اپنی طاقت کے یک طرفہ استعمال کی کھلی چھٹی ملتی ہے۔ اصل یہ ہے کہ ادب کے خلاف فحاشی کی فردِ جرم، ادیبوں کے لیے ایک آزمائش تو ثابت ہوتی ہی ہے، انھیں ادب کی نہاد

Read more

آدمی کائناتی ابتری کی روح ہے: زاہد ڈارکی یاد میں

زاہد ڈار ( 1936ء۔ 2021ء) نے اپنے پیچھے چند سوگوار احباب کے علاوہ نظموں کے تین مجموعے ( ”درد کا شہر“ ، ”تنہائی“ اور ”محبت اور مایوسی کی نظمیں“ ۔ ”آنکھ میں سمندر“ انتخاب ہے) ادب کے ان تھک قاری کا امیج اور کچھ سوال چھوڑے ہیں۔ یہ سوال ان کی نظموں سے بھی متعلق ہیں اور ان کے طرز حیات سے بھی۔ اکثر ادیب یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کے لیے ادب طرز حیات ہے۔ یعنی ان کی

Read more

انسانی ذات کا اندھا غار: ڈاکٹر اظہر کی بیٹی کا قتل اور خود کشی

ہماری یادوں میں شاید ہی کوئی دن ایسا ہو، جب کوئی نہ کوئی واقعہ ہماری پہلے سے نحیف و رنجور روحوں کو رنج مزید میں نہ مبتلا کرتا ہو۔ لیکن کسی دن ایسا واقعہ رونما ہوتا ہے کہ اس سے وابستہ رنج، ملال اور اذیت کو سہنے کی تاب صرف انھی کو ہوتی ہے جن کے سینوں میں پتھر ہوتے ہیں یا جو دنیاے دوں کی سب باتوں سے بے نیاز، کسی ابدی امن کو حاصل کرچکے ہوتے ہیں۔ ملتان

Read more

نئے نقاد کے نام دوسرا خط

عزیزم! مجھے تمھاری تشویش سمجھ میں آتی ہے۔ ذرا غور کرو گے تو تمھیں تشویش کے اسباب بھی سمجھ آ جائیں گے۔ اپنی ہر حالت کو، اس حالت سے باہر نکل کر دیکھو گے تو تمھیں کئی مشکل سوالوں کے جواب ملنے لگیں گے۔ تشویش کو کچھ دیر معطل کر و اور پھر اس پر غور کرو۔ ( یہ مشکل کام ہے مگر تمھاری بساط سے باہر نہیں ہے ) تم پر کھلے گا کہ چیزیں بجائے خود مشکل نہیں

Read more

عمیرہ احمد کیوں مقبول ہیں؟

جناب مسعود اشعر نے اپنے ہفتہ وار کالم میں اردو نقادوں اور جامعات کے اردو کے پروفیسروں کو جھنجھوڑا اور شر مندہ بہ یک وقت کیا ہے۔ بجا کیا ہے۔ انہوں نے عائشہ صدیقہ کے ایک انگریزی مضمون (جو 29 جون کے فرائیڈے ٹائمز میں چھپا ہے) کو بنیاد بنایا ہے جس میں اردو کے عام پسند فکشن کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ عائشہ صدیقہ نے اس مضمون کا عنوان”اردو ہیروز، ولنز اور وکٹمز“ رکھا۔ عائشہ صدیقہ کا بنیادی استدلال

Read more

افریقی مصنفین اور جنسی تشدد

ایمی سیزارے (Aime Cesaire) فرانسیسی میں لکھنے والے افریقی مصنف تھے۔ شاعر تھے، سیاست دان تھے اور سب سے بڑھ کر زبانِ غیر میں اپنی افریقی اصل کو مسخ کیے جانے کا استغاثہ پیش کرنے و الے۔ اردو میں فرانز فینن کا ذکر خاصا ہوا ہے، لیکن سیزارے نے فینن سے پہلے، مغرب کے استعماری جبرو استحصال پر لکھا۔ فینن سمیت باقی ردّ نو آبادیاتی مصنفوں نے محکوموں کی نفسیاتی اور ثقافتی حالت کو لکھا جب کہ سیزارے نے اس

Read more

کعبہء ارباب ِ فن : علامہ اقبال کی "مسجد قرطبہ "

’مسجد قرطبہ‘ ،جدید اردو شاعری میں کلاسیک کا درجہ رکھتی ہے۔اسے اکثر نقادوں نے اردو نظم کی مجموعی روایت میں بھی عظمت کا حامل سمجھا ہے۔جس عظمت و شکوہ کا تصوراموی سلطنت کی قرطبہ کی مسجد کے سلسلے میں کیا جاتا ہے،اسی عظمت وشکوہ کاعکس اقبال کی ’مسجد قرطبہ‘میں دیکھا جاتاہے؛ایک کے فنِ تعمیر کا مثل دوسری کے فن ِ شاعری میں دیکھا جاتاہے۔نظم کا یہ شعر،مسجد اور نظم کے آرٹ کے مشترک نکتے کی ترجمانی کرتا ہے: تیری فضا

Read more

نئے نقاد کے نام خط

عزیز مکرم! میں تم سے عمر میں بڑا ضرور ہوں، میرا علم بھی تم سے زیادہ ہو، یہ ہر گز ضروری نہیں۔ علم کا ماخذ دو چیزیں ہیں۔ کتاب سے کلام اور خود سے کلام۔ اسے تم دو طرح کا تفکر بھی کہہ سکتے ہو۔ دوسروں کے ساتھ مل کر تفکر کرنا اور تنہائی میں تفکر کرنا۔ کچھ بیس سال کی عمر میں پچاس برس کی عمر والوں سے زیادہ یہ دونوں طرح کا تفکر کر لیتے ہیں اور کچھ

Read more

شہر زاد: دانشور عورت کی علامت اور مرد مصنفین

فکشن میں حدوں کو پہچاننے اور پھران کی شکست کرنےکا ملکہ پایا جاتا ہے۔ سب سے بڑی حد ہمارا مجروح تجربہ ہے۔ اس وضع کے تجربے کی اسیری آدمی کوخود نگر و خود پرست ہی نہیں، متشدد بھی بناتی ہے۔ اسےحتمی سچ سمجھ کر دنیا سے معاملہ کرنا حقیقی تشدد اوراسے دنیا کے سامنا لاناعلمیاتی تشدد ہے۔ "میرا تجربہ یہ ہے” ایک پر تشدد جملہ ہے اوران لوگوں سے ڈرنا چاہیے جو اپنے تجربے کو قانون بنانے کی استطاعت رکھتے

Read more

چوہیا کیسے گا سکتی ہے؟

فنکار کا سماج ،فرد اور دوسرے فنکاروں سے کیا رشتہ ہے؟ اس پر کوئی نئی بات کہنا آسان نہیں۔ لیکن ہمارے آس پاس کچھ نئے واقعات رونما ہوتے ہیں اور ہمیں اس سوال کو نئے سرے سے سمجھنے پر مجبورکرتے ہیں۔ہم اس سوال کو کوئی سو سال پہلے کی ایک تحریر کی مدد سے سمجھنے کی کوشش کریں گے۔ ادب کی دنیا میں سو سال معمولی مدت ہے۔ دنیا میں اگر کوئی شے وقت کو مات دینے کی جرآت کرتی

Read more

میرا جی: نگری نگری پھرا مسافر

"چلو تم ادھر کو ہواہو جدھر کی”۔ یہ حالی کا منشور تھا۔ "اک پل میں منسوخ کیے دیتا ہوں/ اس دنیا کو اپنی انگلی کی مستانہ جنبش سے/اپنے ذہنی ساز کی بہکی لرزش سے”۔یہ میراجی تھے۔ حالی —اور ان کا زمانہ بہ قول حسن عسکری استعارے سے خوفزدہ تھا۔ استعارے کا ڈر کب پیدا ہوتا ہے؟ جب آدمی اپنی نفسی دنیا سے بیگانہ ہو جائے اور خود کو باہر کے سپرد کردے۔ شاعر اگر خود کو باہر کے سپرد کردے

Read more

کچھ پڑھنے کے بارے میں

انسانی متون کیسے پڑھیں جائیں؟ اس سوال کی سیاسی جہت واضح ہے۔ قاری کو حق حاصل ہے کہ وہ کیا پڑھے اور کیسے پڑھے۔ قاری سے مراد ایک بالغ نظر شخص ہے جو دنیا کو اپنی نظر سے دیکھنے میں یقین رکھتا ہے اور اپنی نظر کو معتبر بھی جانتا ہے۔ جب ہم اس بالغ نظر شخص کو یہ بتانے کی کوشش کریں کہ وہ فلاں کتاب پڑھے اور اس کے لیے ایک مخصوص طریقہ اختیار کرے تو گویا ہم

Read more

بورخیس: خاتم سلیمان اور شیکسپیئر کی یاد

غالب اور کافکا کی مانندبورخیس کو پڑھنا بھی آسان نہیں۔ گوئم مشکل و گرنہ گوئم مشکل جیسی صورت حال کا سامنا بورخیس کو بھی تھا۔ اس نے ”بورخیس اور میں“ کے عنوان سے ایک تحریر لکھی۔ اپنے قاری کو مخاطب کرکہاکہ بھئی اگر مجھے پڑھنا ہے تو پہلے تین کام کرو۔ اوّل دنیا بھر کے سنجیدہ ادب کا مطالعہ کرکے آؤ۔ واضح رہے، عام اور مقبول عام ادب نہیں کہا۔ پھرزمانے میں جو یہ طرح طرح کے اتفاقات ہوتے ہیں،

Read more

وبا: آج، کل اور ڈسٹوپیائی فکشن

آنے والے کل کے بارے میں تجسس انسان کو ابتدا ہی سے رہا ہے لیکن اس کے سلسلے میں باقاعدہ تشویش اور اضطراب آدمی کو جدید عہد میں لاحق ہوئے۔ جب جدید انسان نے اس سچائی کو تسلیم کر لیا کہ اسے اپنے سماجی مسائل اور مصائب کو سمجھنے اور حل کرنے میں دیوتائوں سے مدد نہیں ملے گی تو اس نے اپنے آج اور کل کی تعمیر خود کرنے کا فیصلہ کیا۔ ننگے سر، ننگے پیر، تپتے صحرا، سنگلاخ

Read more

عالمی یوم کتاب پر کچھ عالمی تنقیدی کتابوں کا ذکر

(یہ تحریر چار سال پہلے عالمی یوم کتاب پر ایک ہندوستانی دوست کی فرمائش پر، خط کی صورت لکھی تھی۔ آج اسے اتفاقاً پڑھا تو مجھے لگا، اس میں لکھی گئی باتیں پرانی نہیں ہوئیں۔ آج عالمی یوم کتاب ہے۔ اس موقع پر کتابوں کے ذکر سے زیادہ اچھی بات کیا ہو سکتی ہے۔ آخر میں ان کتابوں پر اختصار سے لکھ دیا ہے جو گزشتہ چار برس میں بہ طور خاص اچھی لگی ہیں۔ )   آپ نے لکھا ہے

Read more

کرونا کرونیکل: معزول آدم کے ابتدائی تاثرات

مارچ کا تیسرا ہفتہ تھا۔ ٹی وی اور سوشل میڈیا سے معلوم ہوا کہ پاؤں توڑ کر گھر بیٹھنا ہوگا۔ فوری تاثر چھٹی کا تھا۔ مسلسل کام کے بعد گھر میں گھروالوں کے ساتھ آرام کریں گے۔ مرضی سے اٹھیں گے، مرضی سے سوئیں گے؛ جب جی چاہا کتابیں پڑھیں گے، فلمیں دیکھیں گے، نہیں جی چاہا تو بیڈ، صوفے پر دراز یا نیم دراز ہوکر پرانی باتوں کو یاد کریں گے، پرانے گانے سنیں گے، پرانی تصویریں دیکھیں گے۔

Read more

پروفیسر خالد حمید کا قاتل کون؟

دنیا میں سب سے بھیانک جرم قتل ہے اوراپنے ہی شاگرد کے ہاتھوں استاد کا قتل بھیانک ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی دہشت انگیز اور وحشت خیز بھی ہے۔  صرف اس لیے نہیں کہ یہ اس رشتے کو انتہائی متشدد انداز میں الٹ دیتا ہے جو شاگرد اور استاد میں ہے ؛ شاگرد، استاد کو اس کی جان کی قیمت پر باور کراتا ہے کہ وہ اس سچائی کا علمبردار ہے، جس سے استاد نہ صرف محروم ہے، بلکہ سچائی

Read more

کوئی روشنی، کوئی روشنی: بلراج مین را کی یاد میں

دو برس قبل جنوری کی یہی دن تھے۔ جب نئے سال کے پہلے مہینے ہی میں کئی بری خبریں ملی تھیں۔ سلمان حیدر اور کچھ دوسرے بلاگر کو ’غائب ‘ کردیا گیا۔ اس بری خبر کا مزید برا پہلو یہ تھا کہ ان کی گم شدگی کو متنازع بنا دیا گیا ہے، اس طرح جن لوگوں نے انھیں’ غائب ‘کیا ہے، انھیں باقاعدہ جواز مل گیا ۔ لوگ قانون توڑ سکتے ہیں،  مگر وہ کسی عمل کو تادیر جاری نہیں

Read more

نندتا داس کی ’منٹو‘

اگر پاکستان میں نندتا داس کی فلم ”منٹو“ کی نمائش پر پابندی نہ لگتی تو واقعی حیرت ہوتی! ان دنوں وطن عزیز میں مختلف و منحرف آوازوں کو خاموش کرانے کی نئی لہر آئی ہوئی ہے۔ منٹو اپنے زمانے کی سب سے منحرف آواز تھے، جسے نوزائیدہ مملکت کے بزرجمہروں نے خاموش کرانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ نندتا داس نے منٹو کی انحراف پسندی کے کئی مناظر فلم میں دکھا دیے ہیں۔ ان سب کا راست یا بالواسطہ

Read more

پیرزادہ سلمان کے ’وقت‘ کی بات

اردو ادب کی ابتدائی، کلاسیکی اور جدید روایت، اس کے ذولسانی اور بعض اوقات کثیر لسانی ہونے کی گواہی دیتی ہے۔ اردو کی ابتدائی اور کلاسیکی روایت کے تمام ممتاز مصنفین فارسی پر عبور اور عربی کا علم رکھتے تھے۔ نو آبادیاتی عہد کے آنے کے بعد فارسی کی جگہ انگریزی نے لے لی۔ بیسویں صدی کا شاید ہی کوئی اہم اردو ادیب ہو جس نے انگریزی اور دیگر یورپی زبانوں کے ادب کا راست مطالعہ نہ کیا ہو اور

Read more

اپالو کے فرزند اور اساتذہ کو ہتھکڑیاں

کیا ڈی جی نیب، لاہور کی تحریری معافی سے اس اہانت کے زخم مندمل ہوجائیں گے جو ڈاکٹر مجاہد کامران، ڈاکٹر راس مسعود، ڈاکٹر اورنگ زیب عالمگیر، ڈاکٹر لیاقت علی اور ڈاکٹر کامران عابد کی عزت نفس کو لگے اور جنھیں اساتذہ، طالب علموں نے خاص طور پر اور سماج کے دوسرے طبقات نے عام طور پر محسوس کیا اور اپنا ردّعمل سوشل میڈیا پر ظاہر کیا؟ اس سے پہلے یہی زخم ڈاکٹر محمد اکرم چودھری اور ڈاکٹر خواجہ علقمہ

Read more

دھوپ کے ساتھ گیا ساتھ نبھانے والا: سلیم آغا قزلباش کی یاد میں

پرسوں سہ پہر سلیم آغا قزلباش کے انتقال کی خبر ملی۔ اب تک یقین نہیں آیا۔ حالاں کہ دنیا میں اگر کوئی بات واقعی یقینی ہے ؛ہر طرح کے شک و شبہے سے بالاتر ہے تو وہ موت ہے،مگرہم فانی انسان یہ تصور کرنے پر خود کو تیار نہیں کرپاتے کہ ہم اور ہمارے قریب کے لوگ بھی مر جائیں گے۔ موت ہمیشہ ہمیں خود سے دور نظر آتی ہے۔ ان کی بیماری کی اطلاع تھی مگر یہ قطعی معلوم

Read more