عائشہ منزل پر جو کچھ دیکھا


 

ذرائع ابلاغ سے وابستہ ہونے کی وجہ سے ہمیشہ یہی پہلی کوشش ہوتی ہے کہ جائے وقوعہ پر پہنچا جائے اور وہاں کے حالات کو اپنی ہی آنکھوں سے دیکھ کر کوئی تجزیاتی رپورٹ، بلاگ یا رپورٹ مرتب کی جائے۔

دو روز قبل عائشہ منزل سے لیاقت علی خان چوک (مکا چوک) جانے والی شاہراہ پر ایک دوست کی دکان ہے جس نے تذکرہ کیا کہ اُسے مقامی تھانے کی طرف سے ہفتے کی رات سے دکان بند کرنے کی ہدایت موصول ہوئی، ایک پرچہ اُس نے دکھایا جو دراصل جوہر آباد تھانے کی طرف سے جاری کیا گیا۔

دکان داروں کو ہدایت کی گئی کہ ’آپ کو بذریعہ نوٹس ہذا پابند کیا جاتا ہے کہ بسلسلہ یوم شہدا مورخہ 08 دسمبر 2018 بوقت 2 بجے تا مورخہ 09 دسمبر 2018 رات 12 بجے تک اپنی دکان بالا بند رکھیں، خلاف ورزی کی صورت میں آپ کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی‘۔

 آٹھ (8) دسمبر کی رات عائشہ منزل سے گلشن چورنگی جانے والی سڑک پر پولیس کی بھاری نفری تعینات ہوگئی تھی، علاقہ مکینوں کو بھی خاموشی سے ہدایت کی گئی کہ وہ 9 دسمبر کو گھر سے باہر نہ نکلیں، رات سے ہی گلیاں بند کرنے کا سلسلہ شروع ہوا، جناح گراؤنڈ سے متصل شہدا یادگار جانے والے تمام راستے، گلیوں پر رکاوٹیں، ٹرک اور قناتیں لگا دی گئیں، ساتھ میں اضافی نفری بھی تعینات ہوئی۔

مذکورہ بالا انتظامات دراصل ایم کیو ایم لندن کے کارکنان کو شہدا یادگار جانے سے روکنے کے لیے کیے گئے تھے، یاد رہے کہ متحدہ قومی موومنٹ 9 دسمبر کو یومِ شہدا کے طور پر مناتی ہے، یہ سلسلہ 2014 کے بعد سے شروع ہوا جس کے تحت ظہر تا عصر جناح گراؤنڈ میں قرآن خوانی ہوتی تھی، پھر شہدا قبرستان پر فاتحہ اور ایم کیو ایم اپنے کارکنان کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے شہدا کے نام کی یادگار پر پھولوں کے گلدستے پیش کرتی تھی۔

ایک وقت تھا جب 9 دسمبر کو نہ صرف جناح گراؤنڈ بلکہ اطراف کے راستے اور دیواروں سے بھی پھولوں کے گلدستے نظر آتے تھے، یہ ہزاروں کی تعداد میں دیگر کارکنان اور اہل خانہ لے کر آتے تھے، پہلے آنے والے یادگار کے احاطے میں اور بعد والے باہر رکھتے تھے۔

گزشتہ تین برس سے یعنی بائیس اگست کے بعد سے (جب لاتعلقی ہوئی) ایم کیو ایم کی مقامی قیادت شہداء یادگار جانے کے بجائے اپنے مرکز بہادر آباد یا پی آئی بی میں مرکزی تعزیتی پروگرام کرتی ہے جبکہ لندن کے کارکنان تین سال سے اسی بات پر بضد ہیں کہ وہ 9 دسمبر کو ماضی کی طرح منائیں گے، گزشتہ برس بھی اسی کوشش کے نتیجے میں کچھ گرفتاریاں عمل میں آئیں تھیں جنہیں کچھ دیر تفتیش کے بعد رہا کردیا گیا تھا جبکہ پہلے سال حراست میں لیے جانے والے کچھ نوجوانوں کو تین روز بعد عدالت سے باعزت بری کردیا گیا تھا۔

آج صبح جب عائشہ منزل کی طرف سے تقریباً 2 بجے دوپہر گزر ہوا تو دیکھا کہ آگے جانے والے راستے بند ہیں اور وہاں بزرگ خواتین جمع ہیں، صحافتی جراثیم نے اس بات پر زور دیا کہ ویڈیو بنائی جائے، اب جب ویڈیو بنانے کا سلسلہ شروع کیا تو وہاں چبوترے پر کچھ خواتین بیٹھی قرآن مجید پڑھ رہی تھیں، کچھ پولیس افسران سے آگے یعنی شہدا یادگار پر جانے کی ضد کررہے تھے۔

اسی دوران ایک شور ہوا اور فضا میں نعرے گونجنے لگے، پولیس اور دیگر اداروں کی بھاری نفری تھی انہوں نے منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا، سڑک پار کر کے دوسری طرف سے نعرے لگنے لگے، خواتین نے نعرے لگائے انہیں بھی اسی طرح منتشر کیا گیا، ڈیوٹی کے لیے آئے اہلکاروں کو اتنی سخت ہدایت تھی کہ انہوں نے بچوں، بوڑھوں کو بھی اُسی طرح مخصوص جملوں اور ایکشن سے منتشر کیا۔

بھاگم دوڑی کا سلسلہ کافی دیر چلتا رہا ، اب صورت حال بگڑی تو قرآن مجید پڑھنے والی خواتین کو بھی اٹھا دیا گیا، جبکہ ایک ایسا 12 سالہ بچہ بھی نظر آیا جو اپنی والدہ کے ہمراہ اپنے ہی گھر کے تین لاپتہ لوگوں کا انصاف مانگنے آیا ہوا تھا۔ اُس سے جو بات چیت ہوئی اسے چھ ماہ تک مثبت رپورٹنگ کی وجہ سے اس تحریر کا حصہ نہیں بنایا جاسکتا۔

میں تو خیر اپنے دفتر آگیا مگر یہ سلسلہ مغرب تک چلتا رہا، میرے عزیز جو عائشہ منزل پر رہتے ہیں انہوں نے بتایا کہ نعرے لگانے والوں میں سے کچھ کو حراست میں بھی لیا گیا جن میں خواتین بھی شامل تھیں ان تمام لوگوں کو پولیس موبائل میں بیٹھایا گیا البتہ پولیس حکام نے گرفتاریوں کے حوالے سے کوئی تصدیق یا تردید نہیں کی۔

وہاں موجود ایک خاتون جو اپنے خاوند کو سلیوٹ کرنے کے لیے پہنچی ہوئی تھیں انہوں نے گفتگو کے دوران ایک بات کی کہ ’ہم بھی ویسے ہی پاکستانی ہیں جیسے دیگر ہیں، ہمیں دعا مانگنے کی تو اجازت دے دیں، یہاں کسی نے ایک پتھر بھی نہیں اٹھایا ہوا نہ ہم کسی کو دھکے دے رہے ہیں، بس ہمیں اپنے پیاروں کا دن منانے دیں پھر چلے جائیں گے‘۔

سارا دن یہ تماشہ چلتا رہا، کہیں کوئی خبر نظر نہیں آئی حتیٰ کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان بھی کراچی میں ہی موجود تھے، انہوں نے پورٹ قاسم کے ملازمین کے احتجاج کا نوٹس لے لیا اور مسئلہ حل کرنے کی ہدایت بھی کی مگر قرآن خوانی اور نعروں کی وجہ سے گرفتار یا لاٹھی چارج کا نشانہ بننے والوں سے کسی نے کوئی حتی کہ ایم کیو ایم کی مقامی قیادت نے بھی کوئی ہمدردی نہیں کی۔

اگر شرکاء قانون کو ہاتھ میں لیتے، کوئی شرپسندی کرتے یا پھر مخالف نعرے لگاتے تو اُن کے خلاف ایکشن پر میں کچھ لکھنے کی جسارت ہی نہ کرتا کیونکہ ریاست کا ساتھ نبھانا ہی میری ریاستی ذمہ داری ہے۔

 

 

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں