فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے ) کی جانب سے مورخہ 3 جنوری کو ایم کیو ایم کے ماتحت چلنے والے فلاحی ادارے خدمت خلق فاؤنڈیشن پر دائر ہونے والے منی لانڈرنگ کیس میں اہم پیشرفت سامنے آئی۔ ایف آئی اے نے خدمت خلق فاؤنڈیشن (کے کے ایف) کی ساڑھے تین ارب روپے مالیت کی جائیدادیں ضبط کیں اور انکشاف کیا کہ تمام عمارتیں اور جائیدادیں بھتے کی رقم سے بنائی گئیں۔
وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے ) انسداد دہشت گردی ونگ اسلام آباد کی جانب سے خدمت خلق فاؤنڈیشن کے خلاف منی لانڈرنگ کیس کی تحقیقات ایک ٹیم کررہی ہے جس کی سربراہی انسداد دہشت گردی ونگ کے سربراہ مظہر کاکا خیل کے پاس ہے۔ ایف آئی اے کے مطابق 29 جائیدادیں ساڑھے تین ارب سے زائد مالیت کی ہیں جو کراچی کے مختلف علاقوں میں بھتے کی رقوم جمع کر کے بنائی گئیں۔
حکام کے مطابق ان جائیدادوں سے حاصل ہونے والی رقوم سے دو بڑے کام کیے جاتے تھے، کرائے کی مد میں آنے والی رقم سے ایم کیو ایم شہداء اور اسیران کے خاندانوں میں ماہانہ رقوم تقسیم کی جاتی تھیں جبکہ بقیہ رقم 6 کے قریب سہولت کاروں (بابر غوری، خواجہ سہیل منصور اور سینیٹر احمد علی و دیگر) کے ہاتھوں لندن بھیجی جاتی تھیں۔ ایف آئی اے نے یہ بھی انکشاف کیا کہ جائیدادوں میں جعلی ناموں کے ذریعے بھی ٹرانزیکشنز کی جاتی رہیں۔
Read more