اوور سیز پاکستانی اور فون: تیری یاد آئی تیرے جانے کے بعد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اب تو پتہ نہیں کیا حالات ہیں مگر ہمارے بچپن اور جوانی میں ہائی وے ان ٹرکوں سے بھری ہوتی تھی جن کے پیچھے فیلڈ مارشل ایوب خان کی دیو قامت تصویر ہوتی تھی اور نیچے نہایت دلگیر انداز میں لکھا ہوتا تھا ”تیری یاد آئی تیرے جانے کے بعد“۔

ایوب خان کا ٹرک کچھ یوں یاد آیا کہ اب دوسرے فون پر ائرپورٹ پر بھاری ٹیکس لگنے کے بعد اب اوورسیز پاکستانی کہیں اپنی ڈی پی پر گرین چینل بنانے والے نواز شریف کی تصویر لگا کر نیچے یہ کیپشن نہ دینے لگیں ”تیری یاد آئی تیرے جانے کے بعد“۔

کیا زمانہ ہوتا تھا۔ جیسے ہی بیرون ملک سے جہاز پاکستان اترتا تھا تو کسٹم والے کمائی کرنے کے لیے ٹوٹ پڑتے تھے۔ سامان سے نئے کپڑوں کا جوڑا بھی نکل آئے تو اس پر کسٹم ڈیوٹی لگانے کی نیت سے سارا سامان ضبط کرنے کو تیار ہو جاتے تھے۔ نجی کسٹم ڈیوٹی کا ریٹ بڑھانے کی خاطر وہ بیرون ملک سے آنے والے پاکستانی کو اچھی طرح ذلیل و خوار کرتے تھے اور بالآخر باہمی افہام و تفہیم یعنی مک مکا کے بعد ایک مناسب ریٹ پر وہ جوڑا نجی استعمال کا تسلیم کر کے کسٹم فری قرار دے دیا جاتا تھا۔

پھر نواز شریف نے بیرون ملک سے آنے والے پاکستانیوں کی عزت کرنے کا شور مچایا۔ گرین چینل کا اجرا ہوا کہ میاں خود ہی فیصلہ کرو کہ کچھ ڈیکلیئر کرنا ہے یا نہیں، اور نہیں کرنا تو گرین چینل سے نکل آؤ ورنہ ریڈ چینل پر بتاؤ کیا دینا ہے۔ مسافر اپنا سامان سکیننگ مشین میں ڈال کر خجل خوار ہوئے بغیر گرین چینل سے نکل جاتا تھا۔

لیکن نواز شریف کی نا اہلی اور کرپشن وغیرہ وغیرہ سے پریشان ہو کر اوور سیز پاکستانیوں نے نواز شریف کے گرین چینل کو مسترد کر دیا اور عمران خان کے سبز باغوں کو اس پر ترجیح دی۔ اوور سیز کی بے پناہ حمایت نے عمران خان کو وزیراعظم بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

اسی حمایت کو دیکھتے ہوئے عمران خان کو یقین تھا کہ وزیراعظم بنتے ہی ہر بیرون ملک مقیم پاکستانی ان کے آگے اپنے ڈالروں کے ڈھیر لگا دے گا۔ انہوں نے پہلی تقریر میں ہی بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے ہزار ہزار ڈالر مانگ لیے۔ لیکن اوور سیز پاکستانی عموماً اپنے خرچے بمشکل پورے کر سکتے ہیں۔ ان کے پاس فالتو ڈالر ہوں گے ہی نہیں۔ یا ہوں گے بھی تو اپنے کسی برے بھلے وقت کے لیے اسی ملک میں رکھے ہوں گے جہاں وہ رہتے ہیں۔ نئے پاکستان کے وزیراعظم کی اپیل کو لفٹ نہ کروائی گئی۔ بلکہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دلوانے کے لیے رجسٹریشن کی گئی تو انہوں نے اپنی روزی روٹی کے دھندے سے وقت نکال کر رجسٹر ہونا بھی پسند نہیں کیا۔

لیکن ظاہر ہے کہ نئے پاکستان میں پیسوں کی کمی تو ہے۔ اس لیے قانون بنایا گیا کہ اب بیرون ملک سے آنے والے کسی شخص کے پاس اگر دوسرا فون ہو گا تو اس پر ڈیوٹی دینی ہو گی۔ آج کل سوشل میڈیا پر ایک صاحب کی رسید گردش کر رہی ہے جن سے سیمسنگ گلیکسی جے سکس مالیتی چوبیس ہزار پر دس ہزار ڈیوٹی وصول کی گئی ہے۔ ویسے 2006 کے کسٹم قانون کے مطابق پہلے بھی آنے والا صرف ایک ڈیوٹی فری فون ہی لا سکتا تھا لیکن موبائل فون ہر شخص کی زندگی کا حصہ بننے کے بعد عملی طور پر اس فرسودہ قانون پر عمل نہیں کیا جاتا تھا۔

اب غیر ملک آنے جانے والے چاہے لاکھ چلاتے رہیں کہ دوسرے ملک جاتے ہوئے مسافر دو فون رکھتا ہے، ایک اپنے ملک کی سم والا اور دوسرا اس ملک کی سم کے لیے جہاں وہ جا رہا ہے تاکہ ایک منٹ کی کال وصول کرنے کے ہزار دو ہزار روپے ادا کرنے سے بچ سکے، لیکن اسے ڈیوٹی تو دینی ہو گی۔ ریٹ لسٹ موجود ہے جس میں استعمال شدہ یا نئے فون کی تخصیص کیے بغیر ایک ہی مالیت لکھی گئی ہے جس پر ٹیکس وصول کیا جائے گا۔

اس سلسلے میں ترکی کا سسٹم بہتر ہے۔ اسے اختیار کیا جانا چاہیے تھا۔ ترکی میں فون آنے کے بعد وہ مہینے بھر کارآمد رہتا ہے۔ اس کے بعد وہ خریداری رسید دے کر رجسٹر نہ کروایا جائے تو خود بخود بلاک ہو جاتا ہے۔ مسافروں کو خواہ مخواہ ائیر پورٹ پر نیا کاؤنٹر بنا کر وہ تنگ نہیں کرتے اور نہ ہی دو تین فون لانے پر پریشان کیا جاتا ہے۔

حکومت نے پکڑنا کھیپیوں کو تھا جو کسٹم اہلکاروں سے سیٹنگ کر کے کئی سو فون اکٹھے سامان میں لے آتے ہیں، لیکن پکڑ اس نے بیرون ملک سے آنے والے عام افراد کو لیا جو یہ دو فون اپنے ذاتی استعمال کے لیے لاتے ہیں۔ کہیں اب یہ عمران خان کے چاہنے والے اوور سیز بھی گرین چینل والے نواز شریف کی تصویر اپنے پروفائل پر لگا کر نیچے یہ نہ لکھ رہے ہوں ”تیری یاد آئی تیرے جانے کے بعد“۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1110 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar