چاغی میں میرٹ کا قتل اور ہنرمند نوجوانوں کی بیروزگاری


قارئین! وہ کون سا شخص ہے جو کہ ”چاغی“ نام سے آشنائی نہ رکھتا ہو۔ یوں تو اسے ہر لحاظ سے حقیقی طورپر سونے کی چڑیا جیسے لقب سے نوازا گیا جس سے کوئی انکاری نہیں۔ صوبہ بلوچستان کے چاغی جس کے راسکوہ کے پہاڑوں نے 28 مئی 1998 کو کالی چادر اوڑھتے ہوئے ایٹمی تجربات کو اپنے سینے میں سموکر ارض پاک کو ناقابل تسخیر بنا دیا۔ رقبے کے لحاظ سے چاغی پاکستان کا سب سے بڑا ضلع ہے جس کی آبادی حالیہ مردم شماری کے مطابق 226000 ہے۔

نہ صرف اس ضلع میں 2 ہمسایہ ممالک ایران اور افغانستان کی سرحدیں کھلتی ہیں۔ بلکہ قومی شاہراہ اس کے تین شہروں دالبندین، نوکنڈی اور تفتان سے گزر کر پاک ایران سرحد تک جا کے ختم ہوجاتی ہے۔ علاوہ ازیں اس ضلع کو خالق کائنات نے مختلف قسم کی معدنیات سے مالامال کیاہے۔ اور گولڈمیگا پروجیکٹ سیندک اور ریکوڈک بھی اس کے قلب میں پیوست ہیں۔ جبکہ ہمسایہ ملک ایران کے ساتھ سرحدی شہر تفتان میں واقع 1958 کے ہونیوالے د و طرفہ معائدے کے تحت پاک ایران دوستانہ گیٹ ) زیروپوائنٹ) سے دو طرفہ رسمی وغیررسمی تجارتی سرگرمیاں جاری ہیں۔

جس سے دونوں ممالک کی پیداواری سبزیوں اور پھلوں کے علاوہ دیگر اشیائے ضروریہ کی درآمدات و برآمدات ہورہی ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق ریونیو کی مد میں تفتان سے ماہانہ کی بنیاد پر 8 ارب روپے قومی خزانہ میں جمع ہورہاہے جس سے قومی خزانے کو بھرپور توانائی مل رہی ہے۔ مگر سالانہ اربوں روپے قومی خزانے میں جمع کرانے والے بلوچستان کے اس ضلع کے عوام کی کسمپرسی کی داستان سنائی جائے تو اوسان خطا ہو جائیں گے۔ ضلع بھر کے مختلف اداروں میں سینکڑوں آسامیاں خالی ہیں جن کو مشتہر کرانے کے لئے صوبائی حکومت تاحال سنجیدہ نہیں۔

چاغی کے تعلیمی اداروں کی خالی آسامیاں سر فہرست ہیں۔ تعلیمی حوالے سے ایک رپورٹ کے مطابق چاغی کے لگ بھگ 30 سے زائد سرکاری سکولز بند ہیں۔ جن میں دیگر سہولیات کے فقدان سمیت اساتذہ کی کمی سرفہرست ہے۔ ایک مشہور محاورہ ہے جس کا یہاں تذکرہ کیے بنا میں اس بلاگ کو نا مکمل سمجھتا ہوں کہ ”زمین نے اتنا سونا نہیں اگلا جتنا انسانی ذہن نے“ اور چاغی اس محاورے کا مصداق ٹہرتا ہے۔

زرعی حوالے سے بنجر زمین نے زر خیزی کا کام سر انجام دیاہے اس ضلع میں انجینئیرز، جیالوجسٹ دیگر شعبوں میں کام کرنیوالے ہونہار افراد کی کمی نہیں۔ اچنبھے کی بات تو یہ ہے کہ فارغ التحصیل حامل افراد کے ہوتے ہوئے بھی اس ضلع کی فضاء کوبیروزگاری اور احساس کمتری نے آلودہ کر دیاہے۔ ماضی بعید ا ور موجودہ صوبائی حکومت سینکڑوں سے بڑھ کر ہزاروں تعلیم یافتہ بیروزگار افراد کوکھپانے اور روزگار کے مواقع کی فراہمی کے لئے تاحال سنجیدہ اقدامات کرتی ہوئی نظر نہیں آتی۔

چاغی سے سالانہ ملازمت کے اہل افراد کی تعداد سینکڑوں سے زیادہ ہوتی ہے۔ مگر پیشانی سے جھلکتی ہوئی ذہانت کے باوجود یہاں کے نوجوانوں کا سرکاری ملازمتوں کی حصول کے لئے سرگرداں و پریشان رہنا مقدر بن چکا ہے۔ چاغی کے بیروزگار انجینئیر، جیالوجسٹس، سمیت دیگر تعلیم یافتہ بیروزگار افراد معاشی حالت خراب ہونے کے باعث آپ کو یا تو نجی سکولوں، این جی او، دیگر نجی کمپنی یا موٹر گیراج سمیت مستریوں کے ساتھ دیہاڑی لگا کے قلیل رقم کے عوض زیر عتاب ملیں گے یہ ا فراد جوکہ درجہ چہارم کی ملازمت کے حصول کے لئے بھی ترس رہے ہیں۔

چاغی میں روز افزوں بیروزگاری کی بڑھتی ہوئی شرح کا اندازہ اس سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ سال 2017 میں ضلع بھر کے جونئیر کلرک کے 8 آسامیوں کے لئے 190، جبکہ B&R محکمہ کے 102 آسامیوں کے لئے جہاں درخواستیں جمع کرنے کے لئے درخواست کے ساتھ قومی شناختی کارڈ کی فوٹی کاپی کی منسلکی لازمی قرار دی گئی تھی۔ کہ میٹرک، FSC، BSC پاس سمیت مجموعی طور پر 3500 امیدواروں نے درخواستیں جمع کرکے ہمت آزمائی کی جو بے سود ثابت ہوئی، ڈیڑھ سال کا طویل عرصہ بیت جانے کے بعد بھی ماضی اور موجودہ صوبائی حکومت کی ناکامی کے باعث مذکورہ درخواستیں زیر التواء ہے۔

چاغی میں بیروزگاری کی بڑھتی ہوئی شرح کی ایک وجہ ایک عشرے سے زائد کے عرصے سے ملازمتوں کواقرباء پروری کی بھینٹ چڑھانے کی ہے۔ آسامیوں کی بندربانٹ اور اقربا پروری کی کے باعث پیدا ہونیوالی احساس محرومی اور احساس کمتری ضلع بھر کے تعلیم یافتہ بیروزگار افراد میں بُری طرح سرائیت کرچکی ہے۔ آسامیوں پر میرٹ کا عدم نفاذ تاریخ کے سیاہ حروف میں لکھا جائے گا۔ سفارشی کلچر کی بدولت ہم معاشرے میں تعلیمی پسماندگی اور تعلیمی شرح خواندگی میں کمی جیسے خمیازے کوبھگتنے پر مجبور ہیں۔ جس کے بارے میں ادراک کرنا ناگزیر بن چکا ہے۔

اگر اس جانب توجہ نہ دی گئی تو یہ خمیازہ نہ صرف آج کے ان ہزاروں نوجوانوں تک محدود رہے گا بلکہ آنے والی نسلوں کے تابناک مستقبل کواپنی لپیٹ میں لے لیگا۔ لہٰذا حکومت وقت کوجھنجھوڑنے کی ذمہ داری متعلقہ صوبائی اور قومی اسمبلی کے ارکان کی بنتی ہے کہ وہ ضلع کی بند آسامیوں کو مشتہر کرانے کے لئے ہنگامی بنیادوں پراقدامات کریں۔ تاکہ بیروزگاری سے بنے ذہنی مریض افراد میں پائے جانے والی بے چینی کاخاتمہ ہوسکے۔

Facebook Comments HS