میل فی میل ڈاکٹرز سمیت دیگربنیادی طبی سہولیات سے محروم ٹی ایچ کیو نوکنڈی

ایک صحت مند جسم سے ہی ایک صحت مند معاشرہ تشکیل پاسکتا ہے۔ اگر کسی انسان کی صحت خراب رہے تو معاشرہ سمیت ملک و قوم کی تعمیر وترقی میں میں کبھی بھی بحیثیت معاشرے کے ایک فرد کے وہ اپنا کردار ادا نہیں کرسکتا۔ روٹی، کپڑا، مکان سمیت صحت کے بنیادی سہولیات کی فراہمی…

Read more

یوم تکبیر اور سابق وزیراعظم کے وعدے

کسی بھی ملک کو اپنی بقاء و سالمیت کو قائم و دائم رکھنے کے لئے اس کا ناقابل تسخیرہونا لازمی ہے۔ اور یہ اس صورت میں ممکن ہے جب اس ملک کی دفاعی صلاحیت بھی مضبوط ہوں۔ جب ہمسایہ ملک بھارت نے 11 مئی 1998 کو ایٹمی دھماکے کرکے بعد میں اپنی جارحیت کا اظہار کیا تو ہمیں خطرہ ہوا کہ ایٹمی ہتھیار رکھنے کے گھمنڈ میں بھارت مبادا کوئی جارحیت نہ کرے۔ پاکستان کے اس وقت کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے دور حکومت میں ایٹمی سائنسدانوں کی نگرانی میں پاکستان کی جانب سے بھارت کی برتری کاغرور اور اس کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملانے کے لئے 28 مئی 1998 کو 3 بج کر 16 منٹ پر بلوچستان کے ضلع چاغی کے راسکوہ کے پہاڑوں پر یکے بعد دیگرے پانچ ایٹمی دھماکے کرکے ملک کو ہمیشہ کے لئے ناقابل تسخیر بنادیا گیا اور دفاع وطن کو بیرونی جارحیت سے مکمل طور پر محفوظ بنا دیا گیا۔

Read more

جہد مسلسل سے ممکن ہے کامیابی

محترم قارئین! آج جس موضوع پر مجھ ناچیز نے چند الفاظ لکھنے کے لئے اپنی قلم کو جنبش دی ہے وہ ہے ”کامیابی کا حصول“ قارئین! کسی بھی محنت و لگن سے کام کرنے والے شخص کی یہ دلی خواہش اور سوچ ہوتی ہے کہ وہ اپنی زندگی کی منزلیں پا تا ہوا کامیابی کے بام عروج پر پہنچ جائے اور کامیاباں ہی سمیٹتا جائے۔ اور یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ محنت کیے بغیر کامیابی کے حصول کی تگ و دو میں مضطرب رہنا غیر دانشمندی کے ساتھ ساتھ احمقوں کی دنیا میں رہنے کے مترادف ہے۔

Read more

چاغی میں میرٹ کا قتل اور ہنرمند نوجوانوں کی بیروزگاری

قارئین! وہ کون سا شخص ہے جو کہ ”چاغی“ نام سے آشنائی نہ رکھتا ہو۔ یوں تو اسے ہر لحاظ سے حقیقی طورپر سونے کی چڑیا جیسے لقب سے نوازا گیا جس سے کوئی انکاری نہیں۔ صوبہ بلوچستان کے چاغی جس کے راسکوہ کے پہاڑوں نے 28 مئی 1998 کو کالی چادر اوڑھتے ہوئے ایٹمی تجربات کو اپنے سینے میں سموکر ارض پاک کو ناقابل تسخیر بنا دیا۔ رقبے کے لحاظ سے چاغی پاکستان کا سب سے بڑا ضلع ہے جس کی آبادی حالیہ مردم شماری کے مطابق 226000 ہے۔

نہ صرف اس ضلع میں 2 ہمسایہ ممالک ایران اور افغانستان کی سرحدیں کھلتی ہیں۔ بلکہ قومی شاہراہ اس کے تین شہروں دالبندین، نوکنڈی اور تفتان سے گزر کر پاک ایران سرحد تک جا کے ختم ہوجاتی ہے۔ علاوہ ازیں اس ضلع کو خالق کائنات نے مختلف قسم کی معدنیات سے مالامال کیاہے۔ اور گولڈمیگا پروجیکٹ سیندک اور ریکوڈک بھی اس کے قلب میں پیوست ہیں۔ جبکہ ہمسایہ ملک ایران کے ساتھ سرحدی شہر تفتان میں واقع 1958 کے ہونیوالے د و طرفہ معائدے کے تحت پاک ایران دوستانہ گیٹ ) زیروپوائنٹ) سے دو طرفہ رسمی وغیررسمی تجارتی سرگرمیاں جاری ہیں۔

Read more

اعلیٰ کھجور، بین الاقوامی مارکیٹ سے دور

تحصیل نوکنڈی ضلع چاغی بلوچستان کا علاقہ ہے۔ ضلع چاغی رقبے کے لحاظ سے بلوچستان اور پاکستان کا سب سے بڑا ضلع ہے۔ ضلع چاغی رقبے کے لحاظ سے 47 ہزار مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ ہمسایہ ممالک ایران اور افغانستان کے سرحدی علاقے بھی چاغی میں ہیں۔ راسکوہ کی سر زمین بھی اسی…

Read more