نو دسمبر: شہرِ کراچی کا شجرِ ممنوعہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پانچ برس کی جفا کش محنت، اربوں روپے اخراجات، عدلیہ، میڈیا، مقننہ، اور عسکریہ، ایک صفحہ پر ہونے کے بعد بھی نو دسمبر کا کراچی ایسا لگا جیسے کہ تھا۔ یعنی جیسا بائیس اگست سے بھی پہلے تھا، غضب ہو گیا یہاں تو سب کچھ ویسا ہی ہے۔ ، بس اداروں کی انتھک محنت، اربوں روپے، نیشنل ایکشن پلان اور ہر دلعزیز منصوبہ مائنس ون وغیرہ سب کے سب ”تھے“ ہو گئے۔ پتہ نہیں یہ ”تھے“ والی بد دعا بھی کس فقیر نے دی تھی اب تک ہر بات ہی سچ ثابت ہوتی جا رہی ہے۔

اگر آپ نے ہالی ووڈ کی مشہور فلم سیکوئل Purge دیکھ رکھی ہے تویاد ہوگا کہ اس میں شہریوں کو صدر امریکہ کی جانب سے ایک دن کی کھلی چھوٹ دی جاتی تھی جس میں وہ کچھ بھی کر سکتے تھے۔ یعنی اگر کسی کو جان سے مارنے کا دل چاہ رہا ہے تو اس کی بھی قانونی طور پر اجازت تھی۔ یہی صورتِ حال کراچی کی لگی۔ یومِ شہدا نو دسمبر کی فاتحہ خوانی پر اپنے پیاروں کے ایصالِ ثواب کے لئے مرد، عورت بچے، بزرگ سبھی بلا خوف نکل آئے، البتہ یہاں مارنے کا ارادہ نہیں تھا، وہ مرنے کا خوف دل میں ضرور لئے ہوئے تھے۔

ان کی یہ خواہش ویسے پوری نہیں ہونے دی گئی، بڑے آئے سڑکوں پر احتجاج کرنے والے پُر امن، آئین کے دائرے میں رہ کر جدو جہد کرنے والے، ڈرپوک کہیں کے، پڑھے لکھے باشعور ٹیکس ادا کرنے والے عوام۔ یہ بے چارے سمجھ رہے تھے کہ مووی Purge چل رہی ہے اور وہ بھی باقی شہروں کی عوام کی طرح اپنی ہر آئینی اور مذہبی ذمہ داری ادا کرنے میں مکمل آزاد ہیں۔ انہیں پتہ نہیں کہ سوائے ان کے باقی ملک کے شہریوں کو یہ فوائد حاصل ہیں ان پر کسی شِق کا اطلاق نہیں ہوتا اور یہ متفقہ طور پر ملک کی تمام بڑی جماعتوں نے مل کر نیکٹا کے تحت صرف ان کے لئے ہی طے کر دیا ہے۔ نیشنل ایکشن پلان کوئی مذاق نہیں ہے۔

لیکن یہ کیا؟ ان لوگوں نے تو زمین پر جائے نماز بچھا کر وہیں قرانِ پاک کی تلاوت شروع کر دی، ایصال ثواب میں مصروف خواتین کو جب لاٹھیاں پڑِیں اور ڈنڈے کھانے کو ملے تو سب کچھ لپیٹ کر موٹر سائیکل پر شوہر کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بچے گو د میں لئے گھر روانہ ہو گئیں۔ ہنگامہ آرائی پھر بھی نہ ہوئی۔ ایک پولیس افسر البتہ پیچھے پیچھے بہادری سے ڈنڈا لئے نستعلیق سی گالیاں ”اِن لوگوں“ کو دیتے سنائی دیے۔ لیکن مکتی باہنی یا پھر را کی ان ایجنٹ خواتین کو بھی جلدی تھی گھر جا کر سالن چولہے پر چڑھانا تھا اور پھر وہی معمولی کی زندگی۔

اب تو لوگوں کو بھی عادت نہیں رہی نا اس طرح کے مناظر کی، ایک عرصہ سے میڈیا اور لوگوں نے ”دیکھو کراچی کیسا پُر امن ہو گیا ہے“ کا اتنا راگ الاپا ہے کہ یقین ہو چلا تھا کہ اب اس شہر میں وہ والے حالات پھر نہ ہوں گے۔ ہم تو کیا، ’ہم نہ ہوں ہمارے بعد بھی‘ ۔ اس لئے ایک لمحے کو تو ایسا لگا جیسے بہت سے را کے ایجنٹس شہر میں گھوم رہے ہیں اور کسی بھی لمحے شہر تاج محل ممبئی کی طرح، اچانک مشین گنوں، ڈائنامائٹ اور بم دھماکوں سے گونج اٹھے گا ۔

لیکن ان میں سے ایک بھی اجمل قصاب، احسان اللہ احسان اور ملا عمر نہیں نکلا۔ ہاں البتہ ایک دہشت گرد کی ویڈیو واٹس ایپ پر دیکھنے کو ملی، جس کے ہاتھ زخمی تھے اور وہ رو رہا تھا، عمر یہی کوئی دس بارہ سال کی ہوگی، اپنے لاپتہ ابا، ماموں اور بڑے بھائی کو تلاش کر رہا تھا کہ شاید وہ کہیں نظر آجائیں۔ ویسے اس بات پر مجھے پورا یقین ہے کہ سوشل میڈیا پر لوگ بہت برا بھلا کہنے والے ہیں، لیکن جب اُسامہ بن لادن بھرے شہر میں ایک چھاونی میں یادِ الہی میں زندگی بِتا سکتا تھا تو یہ بھی ممکن سا ہی لگاکہ اتنے سارے را کے ایجنٹس عائشہ منزل، عزیز آباد، نمائش، سخی حسن، نیو کراچی، وغیرہ میں گُھس آئے ہیں۔

ویسے بھی اس وقت ملک میں زیادہ ترشریف لوگ یا تو ایجنٹس ہیں یا لاپتہ۔ باقی لوگ کیمپ لگا کر اپنا فارغ وقت وہاں گزارتے ہیں، بچیوں نے تو اسکول تک چھوڑ کر کیمپ میں ہی پڑھائی جاری رکھی ہوئی ہے، اُدھرحکومتی وزرا لندن اور امریکہ کے دوروں میں کوئی انتہائی ”اہم“ معاملات طے کرنے میں مصرو ف ہیں۔ برطانیہ میں پروفیسروں کی قلت کے باعث آکسفورڈ نے کرائے کے عالم فاضل ہم سے اُدھار مانگ لئے ہیں۔ اللہ کرے کسی ملک میں وزیر خزانہ کی قلت ہو تو ہمارے پاس اس کے لئے بھی ایک بندہ نظر میں ہے کہیں گے تو پارسل کر دیا جائے گا۔

پوچھنا یہ تھا کہ، دروغ بر گردن راوی، شہری سندھ کے کروڑوں عوام نے تو جولائی والے انتخابات میں خالد مقبول اور عامر کو اپنا متفقہ ہردلعزیز رہنما چن لیا تھا، اور اِن بہادرآبادی رہنماؤں کا راوی تو چین ہی چین لکھتا تھا، تو یہ کون لوگ بچ گئے تھے اٹھائے جانے سے، وہ بھی اتنی بڑی تعداد میں، شاید یہ چین نہیں تھا بلکہ کچھ لوگ تو یوں بھی کہتے ہیں کہ راوی چِین ہی چِین زیر لگا کے لکھتا ہے آج کل۔ ہر شے میڈاِن چائنا تو یہ رہنما بھی کچھ دن کے لئے چائنا سے اُدھار منگوائے گئے تھے۔

لیکن اتنی بڑی تعداد میں اِن ایجنٹو ں کو دیکھ کر میں اب بھی یہ سمجھتا ہوں کہ اِن لوگوں نے کسی بھی نتیجے کی پرواہ کیے بغیر، ہالی ووڈ کی فلم کے جیسے اس دن کو بھی بہادری سے منا لیا۔ یا پھر ان کے میڈ اِن چائنا والوں کی معیاد ختم ہو چلی تھی، اور بالاخر اصلی پری کے دھاگے والے اشتہار کے مانند، میڈ اِن لنڈن والے اصلی پیر فقیرکے ُمریدانِ نے اپنا رخ اُسی آستانے کی جانب رکھا ہوا ہے جو انہیں عزیز آباد کی طرح عزیز ہے۔

ریاست نے سبق سکھانے کے لئے، خواتین، بزرگوں، اور لڑکوں کو گرفتار کیا ہے جن کی رہائی جلد از جلد ہونی چاہیے کیونکہ عوام تو اپنا آئینی حق مانگنا بھول چکے ہیں، دنیا نہیں۔ ہمیں اُمید ہے کہ اِس سے قبل کہ معاملہ انسانی حقوق کے اداروں کی دہلیز تک پہنچے ان بے گناہ شہریوں کو فوری رہا کر دیا جائے گا۔ ہاں البتہ پکڑے گئے کچھ شرارتی لڑکے لاک اپ سے جب زندہ باہر آئیں گے انہیں ربڑ والی ہرے رنگ کی پانی کی بوتل میں گرم پانی کی سِکائی کی ضرورت جسم کے مختلف علاقوں میں محسوس ہو گی جو انہیں اگلے نو دسمبر تک یاد لائے گی کہ اپنے ہی بنائے گئے وطن کے جس شہر میں وہ رہتے ہیں اس شہر کے کچھ علاقوں میں ان کا داخل ہونا اب بھی شجرِ ممنوع جیسا ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

انیس فاروقی، کینیڈا

انیس فاروقی ایک منجھے ہوئے جرنلسٹ، ٹی وی ہوسٹ، شاعر اور کالم نگار ہیں، اور کینیڈا میں مقیم ہیں۔

anis-farooqui has 4 posts and counting.See all posts by anis-farooqui