لِسانی نفرت کا ذمہ دار وفاق

 آئیے جانتے ہیں کہ یہ نفرت کا معاملہ ہے کیا؟ کیا ایوب خان نے الیکشن جیتنے کی طمع میں اہلِ کراچی کی ہر دلعزیز فاطمہ جناح کو اُس وقت کی اخلاقی گراوٹ کا شکار بنا کر وفاقی پاکستان کی بنیادوں میں نفرت کی دراڑ ڈالی؟ کیا پیپلز پارٹی نے اپنے ایک دورِ حکومت میں سِندھ اسمبلی میں لِسانی بل پاس کرواکر سِندھی کو سرکاری زبان قرار دے کر اردو کو مکمل نظر انداز کرنے کے عمل کا آغاکیا یا پھر جنرل ضیا الحق نے کوٹہ سسٹم کی وفاقی نا منصفانہ تلوار کا نشانہ بھی اسی اُردو بولنے والی آبادی کو بنا کر نفرت کی آگ بھڑکائی گئی؟

Read more

نو دسمبر: شہرِ کراچی کا شجرِ ممنوعہ

پانچ برس کی جفا کش محنت، اربوں روپے اخراجات، عدلیہ، میڈیا، مقننہ، اور عسکریہ، ایک صفحہ پر ہونے کے بعد بھی نو دسمبر کا کراچی ایسا لگا جیسے کہ تھا۔ یعنی جیسا بائیس اگست سے بھی پہلے تھا، غضب ہو گیا یہاں تو سب کچھ ویسا ہی ہے۔ ، بس اداروں کی انتھک محنت، اربوں…

Read more

مجھ کو پھر نغموں پہ اُکسانے لگا مُرغِ چمن

”ہر وہ لیڈر جو یو ٹرن لیتا ہے وہ عظیم لیڈر ہوتا ہے“، یہ وہ بازگشت ہے جو اب تک ذہن ودل میں گونجتی رہتی ہے۔ جب بات عظیم شخصیات کی ہو رہی تھی تو علامہ اقبال شدت سے یاد آئے جن کے شاہین آج کل اونچی اُڑان بھرنے کے بجائے چھوٹے چھوٹے ڈیم بھرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس کے لئے جب جہاں موقع ملتا ہے، تیز پرواز کے د وران ہی یوٹرن لے لیتے ہیں۔

موجودہ حکومت کے بیانات دیکھ کر بچپن یاد آگیا جب ہر عید سے قبل ہی آدم جی آڈیٹوریم میں عمر شریف کا نیا مزاحیہ اسٹیج ڈرامہ ریلیز کیا جاتا تھا۔ اب عمر شریف کا بکرا قسطوں پر تو ڈرامہ سمجھ کر لطف اٹھایا جا سکتا ہے لیکن ایک ریاست کے امیر یعنی وزیر اعظم کا مرغی اور انڈے قسطوں پر کسی کو بھی ہضم نہیں ہو رہے۔ اس قدر مزاحیہ کلمات، بیانات و تقاریر تواتر سے جاری ہیں کہ کوئی عدالت از خود نوٹس ہی نہ لے لے کہ عوام کو اتنا مت ہنسائیں، آپ نے تو رلانے کا وعدہ کیا تھا جو صرف لاکھ دو لاکھ خاندانوں کے گھر اور دوکانیں گرانے سے پورا نہیں ہو گا۔

Read more

ریحام خان سے آف دی ریکارڈ گفتگو

گزشتہ دنوں ٹیگ ٹی وی کینیڈا پر اپنے ٹی وی ٹاک شو کے سلسلے میں پاکستانی نژاد برطانوی صحافی اور وزیر اعظم پاکستان کی سابقہ اہلیہ ریحام خان سے اہم بات چیت ہوئی۔ قریب ایک گھنٹہ اسکائپ کے ذریعے ان سے اسٹوڈیو میں ریکارڈنگ چلتی رہی اور بہت کچھ کھل کر انہوں نے کہا۔

یہ شو، اب یو ٹیوب پر موجود ہے اگر آپ کے پاس وقت ہو ضرور دیکھیے، سب سے پہلے تو اُن کے معاون بلال عظمت کا شکریہ کہ جنہوں نے اس سلسلے میں تعاون کیا اور تکینیکی مراحل سے لے کر دیگرتمام اُمور کو بھی سنبھالا۔ اس شو کی تیاری کے سلسلے میں قبل از شو بھی بہت سی آف دی ریکارڈ گفتگو ہوئی جس میں پردہ نشینوں کی بے پردگی کا خدشہ ہے اس لئے احتیاط لازم ہے۔

اس انٹرویو کے سلسلے میں نہ تو بلال عظمت نے اور نہ ہی ریحام خان نے کوئی فرمائش کی، یعنی کہ فلاں سوال کر سکتے ہیں اور فلاں نہیں۔ نہ ہی انہوں نے کسی قسم کی موضوعاتی ممانعت فرمائی۔ ویسے تو کسی بھی طرح کے عادل و منصف کے از خود نوٹس کا خدشہ ہمیں درپیش نہ تھا تاہم ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے ہم خود ہی محتاط رہے۔ ویسے تو آئی ڈیم کئیر، آج کل اس کا ترجمہ لوگ کچھ یوں بھی کر رہے ہیں کہ ”مجھے بھی ڈیم کی فکر ہے“۔

Read more