کیا بی جے پی کی شکست مودی دور کا خاتمہ ثابت ہو گی؟


بھارت میں تین اہم ریاستوں راجستھان، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کی سنسی خیز ناکامی کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت اور مذہب کے نام پر سیاست کی حکمت عملی کے بارے میں سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔ بی جے پی کی شکست اس لحاظ سے بھی قابل ذکر ہے کہ ان تین میں سے دو ریاستوں مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں یہ پارٹی 2003 سے حکمران رہی ہے۔ یہ ناکامی اپریل میں ہونے والے قومی انتخابات سے چند ماہ پہلے اس بات کا اشارہ دے رہی ہے کہ نریندر مودی کا 2019 میں بدستور وزیر اعظم کے عہدے پر برقرار رہنے کا خواب شاید پورا نہ ہوسکے۔

ان تین ریاستوں کے انتخابی نتائج نے جہاں نریندر مودی کی قیادت اور بی جے پی کی انتخابی حکمت عملی پر سوالیہ نشان لگایا ہے تو اس کے ساتھ ہی انہیں گزشتہ برس اپنی ماں سونیا گاندھی سے کانگرس پارٹی کی قیادت لینے والے راہول گاندھی کی کارکردگی اور قائدانہ صلاحیتوں کے حوالے سے بھی اہم سمجھا جارہا ہے۔ راہول گاندھی نے ایک طرف کامیاب انتخابی مہم چلا کر ان تینوں ریاستوں میں بی جے پی کی شکست کو یقینی بنایا ہے تو دوسری طرف چھوٹی علاقائی پارٹیوں کے ساتھ اشتراک اور اتحاد کی حکمت عملی اختیار کرکے یہ واضح کیا ہے کہ وہ بھارتی سیاست میں جوڑ توڑ کے ہتھکنڈوں سے بھی آشنا ہورہے ہیں اور اس میدان میں نریندر مودی کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان ریاستی انتخابات کے نتیجہ میں کانگرس پارٹی چھتیس گڑھ میں خود حکومت بنانے کے قابل ہو چکی ہے جبکہ باقی دو ریاستوں مدھیہ پردیش اور راجستھان میں اسے واضح اکثریت سے صرف ایک ایک نشست کم حاصل ہوئی ہے۔ تاہم وہ آسانی سے چھوٹی علاقائی پارٹیوں کے تعاون سے ان دونوں ریاستوں میں بھی حکومت قائم کرلے گی۔

نریندر مودی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی ناکامی ا س لحاظ سے بھی اہم ہے کہ 2014 کے عام انتخابات میں ان تینوں ریاستوں نے بی جے پی کو کامیابی دلوانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ چھتیس گڑھ سے بی جے پی نے 2014 میں لوک سبھا کی کل 65 میں سے 62 نشستیں حاصل کی تھیں جبکہ اب وہ یہ ریاست کانگرس سے ہار چکی ہے۔ بھارتی مبصر اور سیاست دان ریاستی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی ناکامی اور کانگرس کی پیش قدمی کا جائزہ لینے اور نتائج اخذ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

یہ بات بھی یقین سے نہیں کہی جاسکتی کہ ان ریاستوں میں ہزیمت کے بعد بی جے پی اگلے برس کے شروع میں ہونے والے عام انتخابات بھی ہار جائے گی ۔لیکن یہ بات واضح ہے کہ نریندر مودی کو نہ تو پہلے جیسی بڑی اکثریت حاصل ہوگی اور نہ ہی یہ انتخابات جیتنا اتنا آسان ہوگا جتنا ریاستی انتخابات سے پہلے سمجھا جارہا تھا۔ اس کامیابی کی وجہ سے کانگرس کے اعتماد میں اضافہ ہوگا اور راہول گاندھی کی قیادت پر اٹھنے والے سوالات کی شدت بھی کم ہو گی۔ اگرچہ ان انتخابات میں اپوزیشن کی اکثر پارٹیوں نے کانگرس کے ساتھ تعاون کیا تھا لیکن جو پارٹیاں کسی نہ کسی وجہ سے کانگرس اور راہول گاندھی کے ساتھ مل کر سیاسی سفر طے کرنے سے گریز کررہی تھیں ، اب اپریل میں ہونے والے عام انتخابات سے قبل انہیں اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کرنا پڑے گی۔ اس کے برعکس بی جے پی کے لئے سیاسی اشتراک تلاش کرنا زیادہ مشکل ہوجائے گا۔

ریاستی انتخابات کو جزوی طور سے نریندر مودی کی قیادت سے مایوسی کا اظہار سمجھا جارہا ہے۔ اور کسی حد تک بی جے پی حکومت کی مجموعی کارکردگی کی وجہ سے بھی اس کے ووٹ بنک میں کمی واقع ہوئی ہے ۔ لیکن بنیادی طور پر علاقائی مسائل کو نظر انداز کرنے اور خاص طور سے کسانوں کی صورت حال کو تبدیل کرنے میں ناکامی بی جے پی کی ناکامی کی وجہ بنی ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ بی جے پی کے مقابلے میں اپوزیشن کے درمیان بہتر تعاون و اشتراک بھی بھارتیہ جنتا پارٹی کی ناکامی کا سبب بنا ہے ۔لیکن ناکامی کی سب سے بڑی وجہ نریندر مودی اور بی جے پی کی طرف سے مذہبی کارڈ کھیلنے کی حکمت عملی کو بتایا جارہا ہے۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ ان انتخابات سے یہ واضح ہؤا ہے کہ ہندو توا کی سیاست کرتے ہوئے بھارت جیسے سیکولر معاشرہ میں بعض انتہاپسند گروہوں کو ضرور متاثر کیا جاسکتا ہے لیکن اگر حکومت عام طور سے لوگوں کے اقتصادی مسائل اور روزمرہ مشکلات حل کرنے میں کامیاب نہ ہو تو صرف ہندو عظمت کا نعرہ لگاتے ہوئے سیاسی کامیابی ممکن نہیں ہو سکتی۔ ماہرین کا خیال ہے کہ نریندر مودی ان انتخابات میں مہم جوئی کے دوران اسی غلطی کے مرتکب ہوئے ہیں۔

ان تینوں ریاستوں میں انتخابی مہم کی قیادت اتر پردیش کے ہندو انتہا پسند وزیر اعلیٰ یوگی ادتیاناتھ کو سونپی گئی تھی۔ انہوں نے ہندو ازم کی سربلندی کا نعرہ لگاتے ہوئے قدیم شہروں کے نام تبدیل کرنے اور ہندو توا کی سیاسی بنیاد پر انتخابات لڑنے کی کوشش کی جو کہ بظاہر ناکام ہو گئی ہے۔ یہ بھارتی معاشرہ کے لئے عمومی طور سے ایک اچھی خبر کہی جارہی ہے۔ لیکن اس کے برعکس بعض مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو اپنے انتخابی وعدوں میں ناکامی کے باوجود اگر اب بھی قابل قدر انتخابی کامیابی نصیب ہوئی ہے تو اس کی وجہ یہی ہے کہ اس نے ہندوتوا کا نعرہ بلند کیا ہے اور انتہا پسند لیڈروں کو آگے کرکے دوسرے عقائد اور مذاہب کے خلاف نعرے بازی کے ذریعے ہندو ووٹر کو ووٹ دینے پر آمادہ کیا ہے۔ آنے والے مہینوں میں اس بات کا جائزہ لیاجائے گا کہ یوگی ادتیا ناتھ کے نظریات اور حکمت عملی سے بی جے پی کو فائدہ ہؤا ہے یا اس سے نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ اور کیا نریندر مودی عام انتخابات تک ایک نئے اعتماد کے ساتھ میدان میں اترنے والی کانگرس پارٹی اور اس کے حلیفوں کے مقابلے میں اپنی ہندو توا پالیسی کو تبدیل کریں گے؟

 راجستھان ، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں بیک وقت ناکامی اگرچہ بی جے پی اور نریندر مودی کے لئے ایک بڑا سیاسی دھچکہ کہا جاسکتا ہے لیکن انتخابات کے نتائج پر نظر ڈالنے سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے کہ بی جے پی اب بھی بھارت کی اہم اور کسی حد تک ناقابل شکست سیاسی قوت کے طور پر موجود ہے۔ اسے عام انتخابات میں شکست دینے کے لئے کانگرس اور اس کی حلیف پارٹیوں کو سخت محنت کرنا پڑے گی۔ شکست کے باوجود بی جے پی کی سیاسی پوزیشن تمام ریاستوں میں مضبوط ہے اور حکمت عملی اور انتخابی ہتھکنڈے تبدیل کرتے ہوئے پارٹی مرکز میں اپنا اقتدار بچانے کی پوزیشن میں ہے۔ مثال کے طور پر مدھیہ پردیش میں کانگرس کو 230 کے ایوان میں 115 نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔ یعنی وہ ایک رکن کو ساتھ ملاکر آسانی سے حکومت بنا سکتی ہے۔ لیکن اسے ریاستی اسمبلی میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے 108 ارکان کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اسی طرح راجستھان میں 199 میں سے کانگرس نے 101 نشستیں حاصل کی ہیں تو بی جے پی کو 73 سیٹیں ملی ہیں۔ البتہ چھتیس گڑھ میں کانگرس کو 90 میں سے 68 نشستیں ملی ہیں جبکہ بی جے پی صرف سولہ سیٹوں پر کامیابی حاصل کرپائی ہے۔

بھارت کے ریاستی انتخابات میں کانگرس کی کامیابی اور اس امکان کے بعد کہ اپریل 2019 میں ہونے والے انتخابات کے بعد شاید نریندر مودی وزیر اعظم نہ رہ سکیں، پاکستان کے حوالے سے بھارتی پالیسی میں کسی بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ نہیں بن سکیں گے۔ بھارت میں پاکستان دشمنی کا ایک خاص طرح کا مزاج پروان چڑھایا گیا ہے۔ بی جے پی اگر اپوزیشن میں بھی ہوئی تو بھی وہ اپنے انتہا پسندانہ نعروں سے پاکستان کے معاملہ میں کانگرس کو دفاعی پوزیشن پر رکھنے میں کامیاب رہے گی۔ یوں بھی کانگرس موقع ملنے پر مذہبی انتہا پسندی کے علاوہ پاکستان دشمنی کا ہتھکنڈا استعمال کرنے میں دیر نہیں کرتی۔ مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے کانگرس کی پالیسی بھی بی جے پی سے زیادہ مختلف نہیں ہے۔ البتہ راہول گاندھی اگر وزیر اعظم بننے میں کامیاب ہوئے تو ان سے مودی کے مقابلے میں بہتر لب و لہجہ کی توقع کی جاسکے گی۔

کشمیر کے علاوہ افغانستان میں اثر و رسوخ اور علاقائی سیاست کے اشاریے بدستور دونوں ملکوں کے تعلقات پر اثر انداز ہوں گے۔ کسی ملک میں سیاسی تبدیلی سے اگرچہ بہتری کی امید کی جاسکتی ہے لیکن پاکستان اور بھارت دو ایسے ہمسایہ ملک ہیں کہ ان میں کوئی بھی پارٹی برسر اقتدا رآجائے وہ ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے کوئی انقلابی اقدام کرنے کا حوصلہ نہیں کرسکتی۔ اس مقصد کے لئے دونوں ملکوں میں فوجی اسٹبلشمنٹ کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کے علاوہ عوامی سطح پر دشمنی کی بجائے دوستی کا ماحول پیدا کرنے کی ضرورت ہوگی۔

پاکستان ہو یا بھارت جب تک ان دونوں ملکوں میں قیادت کو یہ احساس نہیں ہوتا کہ جنگ اور نفرت کی باتیں کرنے اور ایک دوسرے کی مقابلے بازی کا رویہ ترک کئے بغیر نہ تو لوگوں میں محبت کی جوت جگائی جاسکتی ہے اور نہ ہی علاقے کے مسائل حل ہوسکتے ہیں ، اس وقت تک برصغیر کی سیاست میں آنے والی تبدیلیاں دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان تناؤ کو کم کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1071 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali