بیرون ملک شادی کرنے والے بھائیوں کے نام ایک خط

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حالیہ خبر کے مطابق جرمنی کی چالیس سالہ خاتون نے پنڈی بھٹیاں کے تیس سالہ مرد سے پاکستان آکر شادی کر لی۔ حالیہ دنوں میں ایسی ملتی جلتی کئی خبریں ہمارے میڈیا پر گردش کر رہی ہیں جس کے بعد میں نے اپنے مستقبل کے پیارے جرمنی والے بھائی کے نام ایک مختصر خط لکھنا ضروری سمجھا۔

پیارے بھائی، پاکستان میں مردم شماری کے نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ عورتوں کی آبادی مردوں کے مقابلے میں پانچ سے چھ فیصد زیادہ ہے مگر پھر بھی تم نے اپنے وطن عزیز کی کسی عورت سے شادی کرنے کا نہیں سوچا۔ شاید درست بولتے ہیں کہ جوڑے آسمانوں پر بنتے ہیں۔ اگر زمین پر بن نے ہوتے تو شاید تمہارا جوڑا اپنی ہی زمین پر بنتا۔ مگر تمہارا جوڑا موبائل اور انٹرنیٹ کی مدد سے جرمنی میں بن چکا جس کے لیے میں تمہیں بہت مبارک باد دینا چاہوں گا۔

مجھے معلوم ہے کہ تم ابھی بہت خوش ہو رہے ہو گے کیونکہ اب تو تمہاری بیگم تمہیں پاکستان سے اڑا کر جرمنی لے جائے گی جہاں تم بے پناہ مزے کرو گے۔ پھر تمہاری خوشگوار زندگی میں سکون ہی سکون ہوا کرے گا۔ مگر پیارے بھائی زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ تمہارے اندر وہ خون ہے جس میں عورت پر حکمرانی کی جاتی ہے۔ عورت کو چار دیواری میں بند کر کے پردے میں رکھا جاتا ہے۔ غیر مرد سے ہنستے ہوئے بات کرنے پر اپنے ہاتھ میں سخت سزا دینے کا حق بھی ہوتا ہے۔

مگر میرے بھائی اب تمہیں اپنی سوچ میں تبدیلی لانا پڑے گی۔ تمہیں برداشت کرنا ہوگا جب تمہاری بیگم تمہیں اپنے سابقہ بوائے فرینڈ کے قصے کہانیاں سنایا کرے گی۔ تمہیں اپنے دوستوں سے بھی ملایا کرے گی۔ یاد رکھنا کہ جب تم کام سے تھک کر گھر آیا کرو گے تو تم اپنی بیگم کو یہ بولنے کی ہمت بھی نہیں رکھ سکو گے کہ ”بیگم ذرا ٹانگ تو دبا دو“ یا ”بیگم ذرا گرما گرم کھانا تو لے آو“۔ البتہ تمہاری بیگم یہ بولنے کا حق ضرور رکھتی ہوگی۔

میرے بھائی گھر کی صفائی کرنا اور کھانا بنانا بھی سیکھ لو کیونکہ یہ پاکستان نہیں اس لیے یہ تمام کام تمہیں بھی کرنا ہوں گے۔ پیارے بھائی یہ تمام عمل تمہیں تب تک تو لازمی برداشت کرنے ہوں گے جب تک تم جرمنی کی شہریت حاصل نہیں کر لیتے۔ البتہ شہریت حاصل کرنے کے بعد یہ سب لازم نہیں ہوگا۔ پھر تمہاری مرضی پر ہوگا۔

میرے بھائی یہ میری بد دعا تو نہیں ہے مگر تم ابھی جتنا خوش ہورہے ہو کہ میں جرمنی جانے والا ہوں جب تم جرمنی پہنچ جاؤ گے پھر تم یہ سوچ رہے ہوگے کہ ”یار میں کسی زمانے میں اتنا خوش کیوں ہوا کرتا تھا“؟

فقط تمہارا پاکستانی بھائی،
ا۔ ب۔ ج

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں