اس انوکھے دیس میں تو شراب بھی حلال ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ ہمارا ملک ہے، ہم ہی محافظ، ہم ہی سیاستدان، ہم ہی عالم دین، ہم ہی بادشاہ اور ہم ہی سیاہ و سفید کے مالک ہیں۔ اسی ملکیت کی بنا پر ہم سینہ تان کر فخریہ انداز میں کہہ سکتے ہیں کہ ہمارا دیس، ہماری مرضی۔ چاہے تو انڈا دیں یا بچہ؟ آپ کو اس سے کیا؟ کیونکہ ہم ہی ہیں پاسبان اس کے، تم ہو خوامخواہ اس میں۔ ہمارے دیس میں ہماری پھرتیاں دیکھیے اور پھر مان جائیے کہ ہم ہی لمبر ون ہیں، کرشمے ایسے دکھائیں کہ آپ بھی عش عش کر اٹھیں۔

آمریت کو جمہوریت کے لبادے میں ایسے اوڑھ دیتے ہیں کہ وہ احتجاج کرنے سے بھی قاصر ہوتی ہے اور جمہوریت کو بادشاہت کا پہناوا ایسے پہنایا جاتا ہے کہ ظل الہی بھی حیران کہ واہ میرے ”آقا“ تیری شان اور تو واقعی عظیم ہے۔ اس دیس میں جمہور کو سبھی حقوق حاصل ہیں، وہ سانس آزادی سے لے سکتے ہیں، کھانے کی آزادی ہے، پینے پر بھی کوئی پابندی نہیں، رہنے کے لیے بھی جگہ ہے مگر لبوں کو وا کرنے سے پہلے پوچھنا پڑتا ہے، حضور والا کیا میں بول سکتا ہوں کیونکہ یہاں لب آزاد نہیں اور آزادی اظہار رائے حاصل نہیں کیونکہ یہاں شرپسند عناصر بڑے غلط اور الٹے قسم کے سوال پوچھتے ہیں جس سے قومی سلامتی کو خطرہ ہوتا ہے۔

اگر جان کی امان پاؤں تو یہ عرض کیے دیتا ہوں کہ یہاں عدلیہ منصفی کا رول ادا کرنے کی بجائے ڈیم بنانے میں مگن ہے، ایک طاقتور ادارہ سیاست کر رہا ہے، علمائے کرام خاموش ہیں، مولوی حضرات محبت کی بجائے انتشار پھیلانے میں مصروف ہے، سیاستدان مداری بنا ہوا ہے اور جمہور تالیاں پیٹے جا رہا ہے کہ جہاں پناہ! آپ عظیم ہیں۔ اس دیس میں ایسی ”کرامات“ دیکھنے کو ملتی ہیں کہ ابلیس بھی کہتا ہو گا کہ مائی باپ میرا سلام ہو۔

دودھ شراب بن جاتا ہے اور شراب کو شہد میں ایسے تبدیل کیا جاتا ہے کہ دنیا بھی سر پکڑ کر بیٹھ جاتی ہے کہ یہ قوم پھر بھی ترقی پذیر کیوں نہیں ہوتی۔ اس قوم کے سرکردہ لوگوں کے کارنامے اور شوق دیکھیں کہ شہد کو شراب کی بوتل میں ڈال کر پیتے ہیں اور شراب صرف سادہ پانی کی بوتل میں ڈال کر پی جاتی ہے۔ نشہ آور اشیا کی منڈیوں پر مکمل پابندی مگر پھر بھی ان کا کاروبار زور و شور سے ایسے چل رہا ہے جیسے ڈالر کا ریٹ بڑھ رہا ہے۔

پابندی سے یاد آیا کہ گزشتہ دنوں ایک غیر مسلم نے شراب کی پابندی کا مطالبہ کیا کہ یہ سبھی مذاہب میں حرام ہے مگر غیرت مسلم زندہ تھی جس نے اس پابندی کی بیانگ دہل مخالفت کی اور پھر اس ہندو کو منہ کی کھانا پڑی، اور اس دیس میں ثابت کر دکھایا کہ یہاں سب کو آزادی ہے ہم رندوں کے ساتھ ہیں ان کی حق تلفی نہیں ہونے دیں گے۔ اور پھر ثابت کر دکھایا کہ شراب کی خریدوفروخت پر پابندی نہیں لگے گی جو پینا چاہے وہ پی سکتا ہے کیونکہ یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے اور یہاں حکمرانوں کے لئے حلال چیز کو یوں حرام قرار نہیں دے سکتے، اس لیے آپ جام ٹکرائیے، جشن منائیے کہ شراب حلال ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •