کرسی کا نشہ

دن ہی کتنے ہوتے ہیں یہ اقتدار کا نشہ ہرن ہوجاتا ہے، کرسی کی طاقت بلاشبہ زیادہ ہے لیکن یہ صدا نہیں رہتی، چکا چوند اور روشنیاں ایک دن مدھم پڑ جاتی ہے اور وہی باقی رہتا ہے جس نے عدل کیا، انصاف کا دامن تھامے رکھا، مظلوم کی آس بنا اور ظالم کو تہس نہس کر دیا۔ کچھ لوگوں کو جب اختیارات ملتے ہیں تو وہ آپے سے باہر ہو جاتے ہیں، اوقات کا لبادہ اتار پھینکتے ہیں اور

Read more

نفرت کے بیج اور محبت کی ہوا

جو بویا جاتا ہے وہی کاٹا جاتا ہے اور سچ یہی ہے جیسا کرو گے ویسا بھرو گے، یہ دنیا مکافات عمل ہے لیکن کچھ ایسا بھی ہوتا ہے کہ بیج بویا جاتا ہے لیکن کھیت کو اجاڑ دیا جاتا ہے تو فصل حاصل نہیں ہوتی لیکن نتیجہ پھر بھی نکلتا ہے۔ نفرت کا بیج نہایت زہریلا ہوتا ہے، کوشش یہی کی جاوے کہ ایسی نوبت نہ آوے، اگر غلطی ہو جائے تو حتی الامکان یہی کرنا چاہیے کہ فصل

Read more

تیرا لیڈر، میرا قائد

شعور سے کوسوں دور ہو کر خود کو عقل کل سمجھنا نری بے وقوفی ہے اور ہمارے یہاں ایسے لوگوں کی اکثریت ہے جو آگاہی نہیں رکھتے مگر نہایت ڈھٹائی سے خود کو عقلمند اور باشعور گنواتے ہیں تاہم قصور ان کا بھی نہیں کیونکہ پاگل خود کو کبھی ایب نارمل نہیں سمجھتا بلکہ وہ اوروں کو ہی بے وقوف گردانتا ہے۔ ہمارے یہاں ایسے لوگوں کی تعداد لاکھوں میں ہے جو ان کے لیے دوسروں سے جھگڑتے ہیں جو

Read more

کھلاڑی سرکار اور معجزے کی منتظر قوم

سب کچھ الٹا شروع ہو جائے تو پھر کسی کو دوش دینے کی قطعاً ضرورت نہیں رہتی، جہاں آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہو تو وہاں کسی چیز کا درست نظر آنا ناممکنات میں سے ہوتا ہے۔

ہمارے یہاں نظام بھی عجب ہے، یہاں کا دستور بھی نرالا ہے، رسم و رواج بھی انوکھے ہیں اور روایات سے یکسر دور اپنی لاٹھی گھمائے چلے جا رہے ہیں اور لاٹھی سے یاد آیا کہ یہاں جس کے پاس لاٹھی ہے اسی کا سکہ رائج ہے۔

Read more

تبدیلی سرکار قدم بڑھاؤ

نعرے لگے، دعوے ہوئے اور پھر غبارے سے ہوا نکل گئی، اس ٹیکنالوجی کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ انسان کا ماضی فوراً سے پیشتر یوں سامنے لا کھڑا کرتی ہے کہ انسان چاہتے ہوئے بھی راہ فرار اختیار نہیں کر سکتا، جو اقتدار میں آنے سے قبل کے دعوے تھے ، جو نعرے تھے وہ کرسی پر بیٹھتے ہی ذہن سے محو ہو گئے مگر ٹیکنالوجی کی بدولت ایک ایک بیان محفوظ ہے، ذرا حالات حاضرہ اور

Read more

اداروں کا دائرے سے تجاوز

کائنات کی ہر شے ایک نظام کے تحت ہے اور وہ اپنے مدار میں حرکت کر رہی ہے، ہر چیز کا ایک دائرہ ہے اور وہ اپنی روٹین کے مطابق اسی میں اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ ہر شے ایک نظام کے تابع ہوتی ہے اور وہ اسی میں اپنا سفر جاری رکھے ہوتی ہے، اسی طرح انسان کی ترتیب دی گئی سلطنت بھی وہاں کے نظام یا قانون کے تابع ہوتی ہے اور وضع کیے گئے طریقہ کار

Read more

وقت کی رفتار اور زندگی

 وقت کے پہیے کتنی تیز رفتاری سے گھومتے ہیں کہ انسان نہ چاہتے ہوئے بھی ان کے ساتھ چل پڑتا ہے۔ کچھ ذرا سا ٹھہراؤ آتا ہے وہاں زندگی کا حسین سفر شروع ہونے ہی لگتا ہے کہ نہ چاہتے ہوئے بھی وقت کے ساتھ دوڑنا پڑ جاتا ہے۔ معاشرے میں زندہ رہنے کے لیے سماج کے وضع کیے گئے اصولوں پر رہنا پڑتا ہے، سماج کے بنائے گئے قوانین و ضوابط پر عمل پیرا ہونا پڑ جاتا ہے۔ بعض

Read more

ناصر محمود ملک کا مزاحِ کبیرہ

مزاحیہ مضمون نگاری ادبی صنف ہے، اس صنف پر طبع آزمائی وہی کرتے ہیں، جوزبان و بیان پر عبور رکھتے ہوئے حسِ مزاح سے آشنا بھی ہوں۔ مزاحیہ مضمون نگاری کوئی سہل نہیں، جیسا کہ بچوں کے لیے لکھنا کوئی بچوں کا کام نہیں، اسی طرح مزاح لکھنا ہر لکھاری کا کام نہیں، یہ کارنامہ وہی تخلیق کار ہی انجام دے سکتا ہے جو عام واقعے کو مزاحیہ پیرایے میں شگفتگی سے قلمبند کر سکے۔ مزاحیہ مضمون نگاری اور پھکڑ پن میں

Read more

علم سسرال اور آئینی پیچیدگیاں

کئی رشتوں کے مرکب کو سسرال کہتے ہیں، اجزائے ترکیبی میں ساس، سسر، سالا، سالی، نند، دیور اور دیورانی وغیرہ شامل ہیں۔ میرا دوست ملک کہتا ہے کہ ضروری نہیں کہ سبھی رشتے ہوں، تبھی سسرال بنتا ہے بلکہ شوہر اور بیوی کی ایک اولاد کی موجودگی اسے عظیم رشتے تک پہنچا سکتی ہے جسے سسرالی گھرانہ کہتے ہیں۔

داماد کی جس گھر میں سب سے زیادہ عزت کی جاتی ہے، وہ سسرال ہوتا ہے اس لیے شوہر حضرات دبے لفظوں اس خواہش کا اظہار کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ ایسے گھروں کی تعداد زیادہ ہو جنہیں وہ سسرال کہہ سکیں مگر بے چارے صرف سوچ سکتے ہیں کر کچھ نہیں سکتے کیونکہ اگر اس خواہش کو عملی جامہ پہنالیا تو پھر شاید یہ گھر کے رہیں گے نہ گھاٹ کے۔

Read more

خوشخبریاں

معلومات کو خبر کہتے ہیں، بنیادی طور پر اس کی دو اقسام ہیں، اچھی خبر اور دوسرا بری خبر، مگر ان میں سے ہی ایک قسم کو مزید وجود ملتا ہے، جسے اہم خبر کہا جاتا ہے۔ یہ اہم خبر اچھی بھی ہوسکتی ہے اور بری بھی مگر دور حاضر میں بڑی خبر کو ہی اہمیت حاصل ہوتی ہے اور میڈیا ئی زبان میں اسے ایکسکلوزو بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ دور حاضر میں اچھی خبر کو خوش خبری کہا جاتا ہے جبکہ بری خبر کو ’بیڈ نیوز‘ بولا جاتا ہے اور بڑی خبر کو ایکسلوزو یا خاص خبر کہا جاتا ہے۔

Read more

شوہر مارچ ضروری ہے

ایک تحقیق کے مطابق دنیا میں پائی جانے والی مخلوقات میں پہلے نمبر پہ مظلوم ترین شوہر ہیں، اس کے بعد بھی مظلومیت کے درجے پر فائز خاوند ہی ہیں۔بے عزتی سے باعزتی تک کا سفر سوچتا ہر کوئی ہے مگر اسے عملی جامہ پہنانا خاصا سہل ہوتا ہے، اور باہمت لوگ ہی کر گزرتے ہیں۔ہمارے معاشرے کے خاوند حضرات بھی بے عزتی سے با عزتی کی جانب رخت سفر باندھنے کا صرف سوچتے ہیں مگر عملی جامہ پہنانے کی ہمت نہیں کر پاتے، وہ چاہتے تو یہی ہیں کہ معاشرے میں جس طرح ان کی تکریم ہے، اسی طرح کا عزت و مرتبہ انہیں گھر میں بھی ملے مگر وہ کیسے ملے گا؟ یہ سوچتا ہر شوہر ہی ہے مگر بے چارہ کر کچھ بھی نہیں پاتا اور وہ ٹھنڈی آہیں ہی بھرتا رہتا ہے، تدابیر کرتا رہتا ہے اور جب ان پر عمل در آمد کا سوچتا ہے تو سہم جاتا ہے۔

Read more

سردی مفید ہے

ہمارے یہاں کئی اقسام کے موسم ہوتے ہیں، بنیادی طور پر پانچ ہوتے ہیں مگر سال میں ان کی تعداد چار ہوتی ہے، سٹھیا نہیں گیا، میں بالکل صحیح بیان کر رہا ہوں، جس طرح اگر کہوں کہ سال میں تین سو چھیاسٹھ دن ہوتے ہیں تو آپ پکار اٹھیں گے کہ اس کے دماغ کی چولیں ہل چکی ہیں مگر جب وضاحت کردوں کہ لیپ کا سال تین سو چھیاسٹھ دن کا ہوتا ہے، تو آپ میری بات سے

Read more

بیوی ہزار نعمت ہے

قدرت کی جانب سے اپنے بندوں کو دنیا فانی میں جو انعامات عطا کیے گئے ہیں، ان میں سے ایک خوبصورت تحفہ بیوی کی صورت میں بھی ہے اور یہ انعام ہر کسی کو نہیں ملتا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جس خدا کے بندے کو یہ انعام مل گیا وہ بھی گریہ زاری کرتا دکھائی دیا اور جسے یہ تحفہ نہیں ملا، وہ بھی آہیں بھرتا نظر آیا۔ بیوی قدرت کی طرف سے خوبصورت انعام ہے، کچھ خدا کے بندے

Read more

میں باغی ہوں، جو چاہے مجھ پر ظلم کرو

سچ لکھنا اور کلمہ ء حق کہنا بہادری ہے، یہاں گنے چنے لوگ ہیں جو سیدھی اور سچی بات کہتے ہیں اور اکثر تو جی حضوری و خوشامدی ٹولہ ہے جو حقائق کو مسخ کرتا ہے اور من مرضی کی تصویر دکھا کر واہ واہ کے ڈونگرے برساتا ہے مگر پھر بھی چند لوگ ہیں جو کلمہ ء حق کہتے ہوئے سچ کا علم بلند کیے ہوئے ہیں جو کہ آسان نہیں ہے کیونکہ جس دور میں حق بات لکھنے

Read more

کھسیانی بلی کھمبا نوچے

بیان بازیاں ہیں وہ بھی ایسے کہ جیسے دشمن پر میزائل داغے جا رہے ہوں، کبھی نفرت کی زبان تو کبھی مضکہ خیز انداز گفتگو ہے اور کبھی تو ایسے جملے بھی نظر سے گزرتے ہیں کہ انسان سوچتا ہے کہ اس پر قہقہہ مارنا چاہیے یا کپڑے پھاڑ کا دیوانگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے استفسار کرنا چاہیے جناب مذاق کی حد ہوتی ہے، آپ ہیں کہ سنجیدگی سے کیے جا رہے ہیں اور اتنا سنجیدہ مذاق کہ جسے سن کر رنجیدگی طاری ہو جائے مگر جب غور کیا جاوے تو معلوم ہووے کہ بس یہ یاں سارے ڈرامے باز ہیں اور یہ ان کی نرے شعبدہ بازیاں ہیں۔

کچھ نمونے آپ بھی ملاحظہ کیجئے اور فیصلہ کریں کہ ایسی بیان بازی پر کیسا ردعمل دیا جا سکتا ہے۔

Read more

کسے یاد رہے گا کہ بابے رحمتے نے کیا کارنامے انجام دیے تھے

گنتی کے دن رہ گئے ہیں معدودے چند، یہ بھی گزر جائیں گے اور ویسے بھی سدا کس نے رہنا سوائے اس پاک ذات کے، جو سب کل کا مالک ہے اور جو سب سے عظیم بادشاہ ہے۔ للکارنے والے بھی چلے جائیں گے، بلانے والے بھی گزر جائیں گے اور وہ بھی اپنی کرسی سے اتر جائیں گے جو ہر کس و نا کس کو جب چاہتے بیک جنبش قلم اپنے سامنے لا حاضر کیا کرتے۔ وقت محدود تھا جو سمجھدار تھے، انہوں نے غنیمت جانا، جو کم ظرف تھے وہ صرف گرجتے رہے، شور مچاتے رہے، خبروں کی زینت تلک ہی محدود رہے، کوئی نمایاں کارنامہ انجام دینے سے یکسر دور، باتیں اور صرف باتیں، بیان در بیان بس۔

عظیم بننا اور عظیم کہلوانے میں فرق ہوتا ہے مگر نادان ایسے کہ بس اسی کو حقیقت جان بیٹھے کہ اگر عظیم کہنے والے موجود ہیں تو یہی کافی ہے مگر یہ بات بھول بیٹھے کہ خوشامدی ٹولے نے اس وقت تک آپ کو عظیم پکارنا ہے جب تک آپ کا اقتدار کا سورج غروب نہیں ہو جاتا۔ ایسے تاریخ میں بھلا تھوڑا ہی رقم ہوا جاتا ہے، ریاضت چاہیے ہوتی ہے، اپنے کام میں مہارت اور پھر اسی میں جتے رہنا اور اس وقت تک لگے رہنا کہ جب زمانہ بھی پکار اٹھے کہ یہ واقعی منصب کے لائق تھا جس نے حق منصبی پوری ذمہ داری سے ادا کر دیا، پھر مؤرخ بھی عظیم لکھے گا اور آنے والا زمانہ بھی عظیم پکارے گا۔

Read more

ہم سب کا دم توڑتا معاشرہ

جب کوئی معاشرہ تنزلی کی جانب گامزن ہوتا ہے تو اس کی کئی وجوہات ہوتی ہیں مگر سردست اس معاشرے سے اخلاق روٹھتا ہے تو انصاف کا جنازہ بھی اٹھ جاتا ہے اور ظالم کا ظلم پوری آب و تاب سے جاری و ساری رہتا ہے، مظلوم کی کراہیں اور آہ زاریاں جاری رہتی ہیں مگر اس زوال پذیر معاشرے میں وہ کسی کو سنائی دیتی ہیں اور نہ ہی دکھائی۔ پھر یہ ہوتا ہے کہ وہاں دلیل دم توڑ

Read more

ہتھکڑی لگی لاش پوچھتی ہے

انسان کو بناتے وقت اللہ اور اس کے فرشتوں کے درمیان مکالمہ ہوا، جس میں نوری مخلوق نے کہا تھا کہ یہ زمین پہ جا کر فتنہ فساد کرے گا اور خون بہائے گا مگر باری تعالیٰ نے فرمایا کہ جو میں جانتا ہوں وہ آپ کو معلوم نہیں چنانچہ اس پاک ذات نے انسان کو زمین پر اپنا نائب مقرر کر دیا۔ آج انسانیت کے زوال کو تکتے ہوئے دنگ ہوں کہ یہ اشرف المخلوقات کا ٹائٹل لگائے درندوں سے بدتر مخلوق خود کو اس پاک ذات کا خلیفہ کیسے کہلوا سکتی ہے۔

وحشت کی انتہا دیکھیے تو سر شرم سے جھک جاتا ہے کہ یہی وہی مخلوق ہے کہ جسے فرشتوں نے سجدہ کیا تھا اور جس نے انکار کیا تھا وہ لعین ہو گیا اور پھر مخلوق کی اکثریت اسی لعین ابلیس کی پیروکار بن کر انسانیت کی تذلیل کے لیے کمر بستہ ہے۔ ظلم نظر آتا ہے تو بجائے اسے روکنے کے ہم ظالم کے ساتھی بن کر انسانیت کے بخیے اکھاڑ کر اس سفاک کا ساتھ دیتے ہیں کہ قدم بڑھائیے ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ کل اک تصویر نظر سے گزری، وہ تصویر کیا تھی ظلم کی اک داستان تھی کہ انسانیت کے ترانے گانے والو دیکھو جو دیدہ ء عبرت نگاہ ہو۔

تصویر پہ نگاہ جمی تو ایسے محسوس ہوا کہ وہ مجھ سے پوچھ رہی ہو، غور کیا تو وہ اس معاشرے سے سوال کر رہی تھی۔ زندگی و موت کی

Read more

فلاحی ریاست میں سانس لینے پہ ٹیکس

فلاحی ریاست کتنا خوبصورت تصور ہے اور ایسی ریاست کے بارے سوچتے ہوئے عام شہری کو تحفظ کا احساس ہوتا ہے۔ فلاحی ریاست ایسی ریاست ہوتی ہے جس میں سبھی کو یکساں حقوق حاصل ہوتے ہیں، جس میں تمام شہریوں کو تحفظ اور ان کی بہتری کے لیے اقدامات ریاست کے ذمہ ہوتے ہیں۔ کیا اسلامی جمہوریہ پاکستان ایک فلاحی ریاست ہے؟ جی بلاشک و شبہ یہ فلاحی ریاست کے سفر پر گامزن ہو چلی ہے اور اس فلاحی ریاست

Read more

اس انوکھے دیس میں تو شراب بھی حلال ہے

یہ ہمارا ملک ہے، ہم ہی محافظ، ہم ہی سیاستدان، ہم ہی عالم دین، ہم ہی بادشاہ اور ہم ہی سیاہ و سفید کے مالک ہیں۔ اسی ملکیت کی بنا پر ہم سینہ تان کر فخریہ انداز میں کہہ سکتے ہیں کہ ہمارا دیس، ہماری مرضی۔ چاہے تو انڈا دیں یا بچہ؟ آپ کو اس سے کیا؟ کیونکہ ہم ہی ہیں پاسبان اس کے، تم ہو خوامخواہ اس میں۔ ہمارے دیس میں ہماری پھرتیاں دیکھیے اور پھر مان جائیے کہ ہم ہی لمبر ون ہیں، کرشمے ایسے دکھائیں کہ آپ بھی عش عش کر اٹھیں۔

Read more

مذہبی چورن کے سٹالز

کیسی عجیب بات ہے کہ ہم مذہب کو مانتے ہیں مگر دینی احکامات سے کنی کتراتے ہیں، دین کے پیروکار ہیں مگر احکامات کی پیروی کرنے سے ایسے اجتناب جیسے دور رہنے میں ہی عافیت ہو۔

اس سے بھی عجیب بات یہ کہ میرے دیس میں عجیب رواج رائج ہیں، ہم دین سے کوسوں دور مگر ہمارے بازاروں میں اسلامی دکانوں پہ لگا رش دیکھ کر ہنسی آتی ہے کہ جس چیز پہ مذہبی سٹکر چسپاں ہو تو اس کی اہمیت بڑھ جاتی ہے، اس کی مانگ میں اضافے کا سبب بھی ہم جیسے مذہب بیزار ہی بنتے ہیں۔

جذباتیت کی انتہا دیکھئے، جس چیز کو یہ قوم حرام سمجھتی ہو، جب اسی پر لگا اسلامی لیبل دیکھتی ہے تو نہ صرف وہ چیز حلال ہو جاتی ہے بلکہ اس کی مانگ میں بھی اضافہ دیکھنے کو ملتا ہے۔

Read more

دماغ کا دہی بن گیا ہے صاحب۔

کچھ سمجھ نہیں آنے کا یارا ،کیا چکر چل رہا ہے ،عجیب گورکھ دھندہ ہے ،کس کونے کو پکڑیں اور کس کنارے سے شروعات کریں ۔ تبدیلی کی ہوا ایسی تیز کہ مانند طوفان ہے ،ایسا لگے کہ شہر کے ساتھ سونامی ٹکرا گیا ہو،اور ٹاکرا بھی ایسا کہ واضح ایکسیڈنٹ بھی نہیں اور بچت کے آثار بھی نہیں ،بس طوفان آیا ،ساحل سے ٹکرایا اور جلدی سے یوٹرن لیا مگر کچھ لہریں فصیل شہر سے ٹکرا گئیں اور شدت

Read more

لاپتہ چاند کیسا ہو گا؟

درد کی انتہا کے بارے جانتے ہو کیا؟ جب کوئی پیارا دنیا سے منہ موڑ جائے تو یہ درد ہو گا، اس کی اخیر نہیں، آپ اس کو دفنا کر مٹی ڈال کر کچھ دن بعد پھر سے دنیا میں مگن ہو جاؤ گے۔ جب کسی ایسے اچانک حادثے سے دوچار ہوجائیں، جس میں آپ کا جسم و جان لہو لہان ہو جائے تو پھر بھی یہ درد کی کیفیت ہو گی اس کی انتہا نہیں، اس کا بھی ازالہ ممکن ہے۔ کیونکہ زخم وقت کے ساتھ ساتھ مندمل ہو جایا کرتے ہیں۔ قیامت سے پہلے قیامت تو دیکھی ہی ہو گی، جب کسی کا کوئی بہت پیارا اس دنیا کو گڈ بائے کہتا ہے تو پھر چاہنے والے پہ قیامت گزر جاتی ہے۔

Read more

تالے خرید لو

گھروں میں خود کو قید کر لو اور باہر سے تالا لگا لو، کیونکہ زمانہ ایسا ہے کہ کوئی آئے گا اور تجھے زندگی کی قید سے بھی آزاد کر دے گا۔ سوچ کی لہروں کو بند کردو ان پر ایسا تالا لگا دو کہ وہ لہریں باہر کھڑے پہرے داروں سے نہ ٹکرائیں اگر ٹاکرا ہو گیا تو آپ کے حق میں برا ہو گا اور وہ بڑا بھیانک ہو گا۔ زبان میں مچلتے گستاخانہ سوالات کو جنم لینے

Read more