میں باغی ہوں، جو چاہے مجھ پر ظلم کرو

سچ لکھنا اور کلمہ ء حق کہنا بہادری ہے، یہاں گنے چنے لوگ ہیں جو سیدھی اور سچی بات کہتے ہیں اور اکثر تو جی حضوری و خوشامدی ٹولہ ہے جو حقائق کو مسخ کرتا ہے اور من مرضی کی تصویر دکھا کر واہ واہ کے ڈونگرے برساتا ہے مگر پھر بھی چند لوگ ہیں…

Read more

کھسیانی بلی کھمبا نوچے

بیان بازیاں ہیں وہ بھی ایسے کہ جیسے دشمن پر میزائل داغے جا رہے ہوں، کبھی نفرت کی زبان تو کبھی مضکہ خیز انداز گفتگو ہے اور کبھی تو ایسے جملے بھی نظر سے گزرتے ہیں کہ انسان سوچتا ہے کہ اس پر قہقہہ مارنا چاہیے یا کپڑے پھاڑ کا دیوانگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے استفسار کرنا چاہیے جناب مذاق کی حد ہوتی ہے، آپ ہیں کہ سنجیدگی سے کیے جا رہے ہیں اور اتنا سنجیدہ مذاق کہ جسے سن کر رنجیدگی طاری ہو جائے مگر جب غور کیا جاوے تو معلوم ہووے کہ بس یہ یاں سارے ڈرامے باز ہیں اور یہ ان کی نرے شعبدہ بازیاں ہیں۔

کچھ نمونے آپ بھی ملاحظہ کیجئے اور فیصلہ کریں کہ ایسی بیان بازی پر کیسا ردعمل دیا جا سکتا ہے۔

Read more

کسے یاد رہے گا کہ بابے رحمتے نے کیا کارنامے انجام دیے تھے

گنتی کے دن رہ گئے ہیں معدودے چند، یہ بھی گزر جائیں گے اور ویسے بھی سدا کس نے رہنا سوائے اس پاک ذات کے، جو سب کل کا مالک ہے اور جو سب سے عظیم بادشاہ ہے۔ للکارنے والے بھی چلے جائیں گے، بلانے والے بھی گزر جائیں گے اور وہ بھی اپنی کرسی سے اتر جائیں گے جو ہر کس و نا کس کو جب چاہتے بیک جنبش قلم اپنے سامنے لا حاضر کیا کرتے۔ وقت محدود تھا جو سمجھدار تھے، انہوں نے غنیمت جانا، جو کم ظرف تھے وہ صرف گرجتے رہے، شور مچاتے رہے، خبروں کی زینت تلک ہی محدود رہے، کوئی نمایاں کارنامہ انجام دینے سے یکسر دور، باتیں اور صرف باتیں، بیان در بیان بس۔

عظیم بننا اور عظیم کہلوانے میں فرق ہوتا ہے مگر نادان ایسے کہ بس اسی کو حقیقت جان بیٹھے کہ اگر عظیم کہنے والے موجود ہیں تو یہی کافی ہے مگر یہ بات بھول بیٹھے کہ خوشامدی ٹولے نے اس وقت تک آپ کو عظیم پکارنا ہے جب تک آپ کا اقتدار کا سورج غروب نہیں ہو جاتا۔ ایسے تاریخ میں بھلا تھوڑا ہی رقم ہوا جاتا ہے، ریاضت چاہیے ہوتی ہے، اپنے کام میں مہارت اور پھر اسی میں جتے رہنا اور اس وقت تک لگے رہنا کہ جب زمانہ بھی پکار اٹھے کہ یہ واقعی منصب کے لائق تھا جس نے حق منصبی پوری ذمہ داری سے ادا کر دیا، پھر مؤرخ بھی عظیم لکھے گا اور آنے والا زمانہ بھی عظیم پکارے گا۔

Read more

ہم سب کا دم توڑتا معاشرہ

جب کوئی معاشرہ تنزلی کی جانب گامزن ہوتا ہے تو اس کی کئی وجوہات ہوتی ہیں مگر سردست اس معاشرے سے اخلاق روٹھتا ہے تو انصاف کا جنازہ بھی اٹھ جاتا ہے اور ظالم کا ظلم پوری آب و تاب سے جاری و ساری رہتا ہے، مظلوم کی کراہیں اور آہ زاریاں جاری رہتی ہیں…

Read more

ہتھکڑی لگی لاش پوچھتی ہے

انسان کو بناتے وقت اللہ اور اس کے فرشتوں کے درمیان مکالمہ ہوا، جس میں نوری مخلوق نے کہا تھا کہ یہ زمین پہ جا کر فتنہ فساد کرے گا اور خون بہائے گا مگر باری تعالیٰ نے فرمایا کہ جو میں جانتا ہوں وہ آپ کو معلوم نہیں چنانچہ اس پاک ذات نے انسان کو زمین پر اپنا نائب مقرر کر دیا۔ آج انسانیت کے زوال کو تکتے ہوئے دنگ ہوں کہ یہ اشرف المخلوقات کا ٹائٹل لگائے درندوں سے بدتر مخلوق خود کو اس پاک ذات کا خلیفہ کیسے کہلوا سکتی ہے۔

وحشت کی انتہا دیکھیے تو سر شرم سے جھک جاتا ہے کہ یہی وہی مخلوق ہے کہ جسے فرشتوں نے سجدہ کیا تھا اور جس نے انکار کیا تھا وہ لعین ہو گیا اور پھر مخلوق کی اکثریت اسی لعین ابلیس کی پیروکار بن کر انسانیت کی تذلیل کے لیے کمر بستہ ہے۔ ظلم نظر آتا ہے تو بجائے اسے روکنے کے ہم ظالم کے ساتھی بن کر انسانیت کے بخیے اکھاڑ کر اس سفاک کا ساتھ دیتے ہیں کہ قدم بڑھائیے ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ کل اک تصویر نظر سے گزری، وہ تصویر کیا تھی ظلم کی اک داستان تھی کہ انسانیت کے ترانے گانے والو دیکھو جو دیدہ ء عبرت نگاہ ہو۔

تصویر پہ نگاہ جمی تو ایسے محسوس ہوا کہ وہ مجھ سے پوچھ رہی ہو، غور کیا تو وہ اس معاشرے سے سوال کر رہی تھی۔ زندگی و موت کی

Read more

فلاحی ریاست میں سانس لینے پہ ٹیکس

فلاحی ریاست کتنا خوبصورت تصور ہے اور ایسی ریاست کے بارے سوچتے ہوئے عام شہری کو تحفظ کا احساس ہوتا ہے۔ فلاحی ریاست ایسی ریاست ہوتی ہے جس میں سبھی کو یکساں حقوق حاصل ہوتے ہیں، جس میں تمام شہریوں کو تحفظ اور ان کی بہتری کے لیے اقدامات ریاست کے ذمہ ہوتے ہیں۔ کیا…

Read more

اس انوکھے دیس میں تو شراب بھی حلال ہے

یہ ہمارا ملک ہے، ہم ہی محافظ، ہم ہی سیاستدان، ہم ہی عالم دین، ہم ہی بادشاہ اور ہم ہی سیاہ و سفید کے مالک ہیں۔ اسی ملکیت کی بنا پر ہم سینہ تان کر فخریہ انداز میں کہہ سکتے ہیں کہ ہمارا دیس، ہماری مرضی۔ چاہے تو انڈا دیں یا بچہ؟ آپ کو اس سے کیا؟ کیونکہ ہم ہی ہیں پاسبان اس کے، تم ہو خوامخواہ اس میں۔ ہمارے دیس میں ہماری پھرتیاں دیکھیے اور پھر مان جائیے کہ ہم ہی لمبر ون ہیں، کرشمے ایسے دکھائیں کہ آپ بھی عش عش کر اٹھیں۔

Read more

مذہبی چورن کے سٹالز

کیسی عجیب بات ہے کہ ہم مذہب کو مانتے ہیں مگر دینی احکامات سے کنی کتراتے ہیں، دین کے پیروکار ہیں مگر احکامات کی پیروی کرنے سے ایسے اجتناب جیسے دور رہنے میں ہی عافیت ہو۔

اس سے بھی عجیب بات یہ کہ میرے دیس میں عجیب رواج رائج ہیں، ہم دین سے کوسوں دور مگر ہمارے بازاروں میں اسلامی دکانوں پہ لگا رش دیکھ کر ہنسی آتی ہے کہ جس چیز پہ مذہبی سٹکر چسپاں ہو تو اس کی اہمیت بڑھ جاتی ہے، اس کی مانگ میں اضافے کا سبب بھی ہم جیسے مذہب بیزار ہی بنتے ہیں۔

جذباتیت کی انتہا دیکھئے، جس چیز کو یہ قوم حرام سمجھتی ہو، جب اسی پر لگا اسلامی لیبل دیکھتی ہے تو نہ صرف وہ چیز حلال ہو جاتی ہے بلکہ اس کی مانگ میں بھی اضافہ دیکھنے کو ملتا ہے۔

Read more

دماغ کا دہی بن گیا ہے صاحب۔

کچھ سمجھ نہیں آنے کا یارا ،کیا چکر چل رہا ہے ،عجیب گورکھ دھندہ ہے ،کس کونے کو پکڑیں اور کس کنارے سے شروعات کریں ۔ تبدیلی کی ہوا ایسی تیز کہ مانند طوفان ہے ،ایسا لگے کہ شہر کے ساتھ سونامی ٹکرا گیا ہو،اور ٹاکرا بھی ایسا کہ واضح ایکسیڈنٹ بھی نہیں اور بچت…

Read more

لاپتہ چاند کیسا ہو گا؟

درد کی انتہا کے بارے جانتے ہو کیا؟ جب کوئی پیارا دنیا سے منہ موڑ جائے تو یہ درد ہو گا، اس کی اخیر نہیں، آپ اس کو دفنا کر مٹی ڈال کر کچھ دن بعد پھر سے دنیا میں مگن ہو جاؤ گے۔ جب کسی ایسے اچانک حادثے سے دوچار ہوجائیں، جس میں آپ کا جسم و جان لہو لہان ہو جائے تو پھر بھی یہ درد کی کیفیت ہو گی اس کی انتہا نہیں، اس کا بھی ازالہ ممکن ہے۔ کیونکہ زخم وقت کے ساتھ ساتھ مندمل ہو جایا کرتے ہیں۔ قیامت سے پہلے قیامت تو دیکھی ہی ہو گی، جب کسی کا کوئی بہت پیارا اس دنیا کو گڈ بائے کہتا ہے تو پھر چاہنے والے پہ قیامت گزر جاتی ہے۔

Read more