وقت کی رفتار اور زندگی

 وقت کے پہیے کتنی تیز رفتاری سے گھومتے ہیں کہ انسان نہ چاہتے ہوئے بھی ان کے ساتھ چل پڑتا ہے۔ کچھ ذرا سا ٹھہراؤ آتا ہے وہاں زندگی کا حسین سفر شروع ہونے ہی لگتا ہے کہ نہ چاہتے ہوئے بھی وقت کے ساتھ دوڑنا پڑ جاتا ہے۔ معاشرے میں زندہ رہنے کے لیے…

Read more

ناصر محمود ملک کا مزاحِ کبیرہ

مزاحیہ مضمون نگاری ادبی صنف ہے، اس صنف پر طبع آزمائی وہی کرتے ہیں، جوزبان و بیان پر عبور رکھتے ہوئے حسِ مزاح سے آشنا بھی ہوں۔ مزاحیہ مضمون نگاری کوئی سہل نہیں، جیسا کہ بچوں کے لیے لکھنا کوئی بچوں کا کام نہیں، اسی طرح مزاح لکھنا ہر لکھاری کا کام نہیں، یہ کارنامہ وہی…

Read more

علم سسرال اور آئینی پیچیدگیاں

کئی رشتوں کے مرکب کو سسرال کہتے ہیں، اجزائے ترکیبی میں ساس، سسر، سالا، سالی، نند، دیور اور دیورانی وغیرہ شامل ہیں۔ میرا دوست ملک کہتا ہے کہ ضروری نہیں کہ سبھی رشتے ہوں، تبھی سسرال بنتا ہے بلکہ شوہر اور بیوی کی ایک اولاد کی موجودگی اسے عظیم رشتے تک پہنچا سکتی ہے جسے سسرالی گھرانہ کہتے ہیں۔

داماد کی جس گھر میں سب سے زیادہ عزت کی جاتی ہے، وہ سسرال ہوتا ہے اس لیے شوہر حضرات دبے لفظوں اس خواہش کا اظہار کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ ایسے گھروں کی تعداد زیادہ ہو جنہیں وہ سسرال کہہ سکیں مگر بے چارے صرف سوچ سکتے ہیں کر کچھ نہیں سکتے کیونکہ اگر اس خواہش کو عملی جامہ پہنالیا تو پھر شاید یہ گھر کے رہیں گے نہ گھاٹ کے۔

Read more

خوشخبریاں

معلومات کو خبر کہتے ہیں، بنیادی طور پر اس کی دو اقسام ہیں، اچھی خبر اور دوسرا بری خبر، مگر ان میں سے ہی ایک قسم کو مزید وجود ملتا ہے، جسے اہم خبر کہا جاتا ہے۔ یہ اہم خبر اچھی بھی ہوسکتی ہے اور بری بھی مگر دور حاضر میں بڑی خبر کو ہی اہمیت حاصل ہوتی ہے اور میڈیا ئی زبان میں اسے ایکسکلوزو بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ دور حاضر میں اچھی خبر کو خوش خبری کہا جاتا ہے جبکہ بری خبر کو ’بیڈ نیوز‘ بولا جاتا ہے اور بڑی خبر کو ایکسلوزو یا خاص خبر کہا جاتا ہے۔

Read more

شوہر مارچ ضروری ہے

ایک تحقیق کے مطابق دنیا میں پائی جانے والی مخلوقات میں پہلے نمبر پہ مظلوم ترین شوہر ہیں، اس کے بعد بھی مظلومیت کے درجے پر فائز خاوند ہی ہیں۔بے عزتی سے باعزتی تک کا سفر سوچتا ہر کوئی ہے مگر اسے عملی جامہ پہنانا خاصا سہل ہوتا ہے، اور باہمت لوگ ہی کر گزرتے ہیں۔ہمارے معاشرے کے خاوند حضرات بھی بے عزتی سے با عزتی کی جانب رخت سفر باندھنے کا صرف سوچتے ہیں مگر عملی جامہ پہنانے کی ہمت نہیں کر پاتے، وہ چاہتے تو یہی ہیں کہ معاشرے میں جس طرح ان کی تکریم ہے، اسی طرح کا عزت و مرتبہ انہیں گھر میں بھی ملے مگر وہ کیسے ملے گا؟ یہ سوچتا ہر شوہر ہی ہے مگر بے چارہ کر کچھ بھی نہیں پاتا اور وہ ٹھنڈی آہیں ہی بھرتا رہتا ہے، تدابیر کرتا رہتا ہے اور جب ان پر عمل در آمد کا سوچتا ہے تو سہم جاتا ہے۔

Read more

سردی مفید ہے

ہمارے یہاں کئی اقسام کے موسم ہوتے ہیں، بنیادی طور پر پانچ ہوتے ہیں مگر سال میں ان کی تعداد چار ہوتی ہے، سٹھیا نہیں گیا، میں بالکل صحیح بیان کر رہا ہوں، جس طرح اگر کہوں کہ سال میں تین سو چھیاسٹھ دن ہوتے ہیں تو آپ پکار اٹھیں گے کہ اس کے دماغ…

Read more

بیوی ہزار نعمت ہے

قدرت کی جانب سے اپنے بندوں کو دنیا فانی میں جو انعامات عطا کیے گئے ہیں، ان میں سے ایک خوبصورت تحفہ بیوی کی صورت میں بھی ہے اور یہ انعام ہر کسی کو نہیں ملتا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جس خدا کے بندے کو یہ انعام مل گیا وہ بھی گریہ زاری کرتا دکھائی…

Read more

میں باغی ہوں، جو چاہے مجھ پر ظلم کرو

سچ لکھنا اور کلمہ ء حق کہنا بہادری ہے، یہاں گنے چنے لوگ ہیں جو سیدھی اور سچی بات کہتے ہیں اور اکثر تو جی حضوری و خوشامدی ٹولہ ہے جو حقائق کو مسخ کرتا ہے اور من مرضی کی تصویر دکھا کر واہ واہ کے ڈونگرے برساتا ہے مگر پھر بھی چند لوگ ہیں…

Read more

کھسیانی بلی کھمبا نوچے

بیان بازیاں ہیں وہ بھی ایسے کہ جیسے دشمن پر میزائل داغے جا رہے ہوں، کبھی نفرت کی زبان تو کبھی مضکہ خیز انداز گفتگو ہے اور کبھی تو ایسے جملے بھی نظر سے گزرتے ہیں کہ انسان سوچتا ہے کہ اس پر قہقہہ مارنا چاہیے یا کپڑے پھاڑ کا دیوانگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے استفسار کرنا چاہیے جناب مذاق کی حد ہوتی ہے، آپ ہیں کہ سنجیدگی سے کیے جا رہے ہیں اور اتنا سنجیدہ مذاق کہ جسے سن کر رنجیدگی طاری ہو جائے مگر جب غور کیا جاوے تو معلوم ہووے کہ بس یہ یاں سارے ڈرامے باز ہیں اور یہ ان کی نرے شعبدہ بازیاں ہیں۔

کچھ نمونے آپ بھی ملاحظہ کیجئے اور فیصلہ کریں کہ ایسی بیان بازی پر کیسا ردعمل دیا جا سکتا ہے۔

Read more

کسے یاد رہے گا کہ بابے رحمتے نے کیا کارنامے انجام دیے تھے

گنتی کے دن رہ گئے ہیں معدودے چند، یہ بھی گزر جائیں گے اور ویسے بھی سدا کس نے رہنا سوائے اس پاک ذات کے، جو سب کل کا مالک ہے اور جو سب سے عظیم بادشاہ ہے۔ للکارنے والے بھی چلے جائیں گے، بلانے والے بھی گزر جائیں گے اور وہ بھی اپنی کرسی سے اتر جائیں گے جو ہر کس و نا کس کو جب چاہتے بیک جنبش قلم اپنے سامنے لا حاضر کیا کرتے۔ وقت محدود تھا جو سمجھدار تھے، انہوں نے غنیمت جانا، جو کم ظرف تھے وہ صرف گرجتے رہے، شور مچاتے رہے، خبروں کی زینت تلک ہی محدود رہے، کوئی نمایاں کارنامہ انجام دینے سے یکسر دور، باتیں اور صرف باتیں، بیان در بیان بس۔

عظیم بننا اور عظیم کہلوانے میں فرق ہوتا ہے مگر نادان ایسے کہ بس اسی کو حقیقت جان بیٹھے کہ اگر عظیم کہنے والے موجود ہیں تو یہی کافی ہے مگر یہ بات بھول بیٹھے کہ خوشامدی ٹولے نے اس وقت تک آپ کو عظیم پکارنا ہے جب تک آپ کا اقتدار کا سورج غروب نہیں ہو جاتا۔ ایسے تاریخ میں بھلا تھوڑا ہی رقم ہوا جاتا ہے، ریاضت چاہیے ہوتی ہے، اپنے کام میں مہارت اور پھر اسی میں جتے رہنا اور اس وقت تک لگے رہنا کہ جب زمانہ بھی پکار اٹھے کہ یہ واقعی منصب کے لائق تھا جس نے حق منصبی پوری ذمہ داری سے ادا کر دیا، پھر مؤرخ بھی عظیم لکھے گا اور آنے والا زمانہ بھی عظیم پکارے گا۔

Read more