انسان کو بناتے وقت اللہ اور اس کے فرشتوں کے درمیان مکالمہ ہوا، جس میں نوری مخلوق نے کہا تھا کہ یہ زمین پہ جا کر فتنہ فساد کرے گا اور خون بہائے گا مگر باری تعالیٰ نے فرمایا کہ جو میں جانتا ہوں وہ آپ کو معلوم نہیں چنانچہ اس پاک ذات نے انسان کو زمین پر اپنا نائب مقرر کر دیا۔ آج انسانیت کے زوال کو تکتے ہوئے دنگ ہوں کہ یہ اشرف المخلوقات کا ٹائٹل لگائے درندوں سے بدتر مخلوق خود کو اس پاک ذات کا خلیفہ کیسے کہلوا سکتی ہے۔
وحشت کی انتہا دیکھیے تو سر شرم سے جھک جاتا ہے کہ یہی وہی مخلوق ہے کہ جسے فرشتوں نے سجدہ کیا تھا اور جس نے انکار کیا تھا وہ لعین ہو گیا اور پھر مخلوق کی اکثریت اسی لعین ابلیس کی پیروکار بن کر انسانیت کی تذلیل کے لیے کمر بستہ ہے۔ ظلم نظر آتا ہے تو بجائے اسے روکنے کے ہم ظالم کے ساتھی بن کر انسانیت کے بخیے اکھاڑ کر اس سفاک کا ساتھ دیتے ہیں کہ قدم بڑھائیے ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ کل اک تصویر نظر سے گزری، وہ تصویر کیا تھی ظلم کی اک داستان تھی کہ انسانیت کے ترانے گانے والو دیکھو جو دیدہ ء عبرت نگاہ ہو۔
تصویر پہ نگاہ جمی تو ایسے محسوس ہوا کہ وہ مجھ سے پوچھ رہی ہو، غور کیا تو وہ اس معاشرے سے سوال کر رہی تھی۔ زندگی و موت کی
Read more