چھوٹا بچہ اور پٹھان معما


لالہ نے مجھے سمجھایا کہ یہ اس کا کام ہے، اس کی ذمہ داری ہے۔ اس طرح سے لوگ اگر ان بچوں کواُٹھا اٹھا کر اپنے اپنے گھروں میں سجا سجا کر اپنا فردِ خانہ بناتے رہے تو پھر ان کا تو کارخانہ بند ہی ہوجائے گا۔ اس نے بڑے دھیمے لہجے میں بات کی تھی، ”دیکھئے، میں آپ کے گھر پہنچ گیا، آخر کوئی ہمارا بھی سسٹم ہے، سارے شہر میں یہ بچّے کام کرتے ہیں، ان کی نگرانی ہوتی ہے، کس سے مل رہے ہیں، کس سے بات کررہے ہیں ان سے پیسے اکٹھے کیے جاتے ہیں، ان کا خیال رکھا جاتا ہے، یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ آپ جیسا کوئی بڑا آدمی اس طرح سے ہمارے کام میں کھنڈت ڈال دے۔ باقی رہا پولیس وغیرہ تو اس کی ہمیں کوئی فکر نہیں ہے۔ اگر آپ بچّہ ابھی نہیں دیں گے تو پھر ہم خود ہی لے جائیں گے اور لے جانے میں بہت کچھ ہو بھی سکتا ہے۔ “

کچھ ہوا تو نہیں لیکن وہ لوگ کامران کو لے گئے، اسی رات لالہ کے جانے کے دس منٹ کے بعد۔ ابھی میں سوچ ہی رہا تھا کہ کس سے بات کروں، کس طریقے سے اس مسئلے کو حل کروں میں نائلہ کو احتیاط کرنے کے بارے میں بتانے ہی جارہا تھا کہ یکایک کمرے میں چوکیدار داخل ہوا اور اس کے پیچھے کم از کم پانچ چھ پٹھان اپنے اپنے ہاتھوں میں اسلحہ لیے ہوئے آئے تھے۔ انہوں نے سارا کام تین چار منٹ میں ختم کرلیا، دو میرے پاس ٹھہرے اور دو نے کامران کو جھپٹ کر اٹھایا، نائلہ کو دھکا دے کر زمین پر گرادیا اور باہر کھڑی ہوئی سوزوکی پک اپ میں آناً فاناً غائب ہوگئے۔

ہمارے گھر میں جیسے میّت ہوگئی، نائلہ کا رو رو کر بُرا حال ہوگیا، میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اگر میں پولیس میں رپورٹ کروں تو کیا کروں، بچّہ تو ہم نے ایک طرح سے اغوا ہی کیا تھا۔ میری کچھ سمجھ میں نہیں آیا کہ میں کیا کروں۔ تین دن سوچنے میں اور نائلہ کو سمجھانے میں گزرگئے میں سمجھاتا رہا ہر طرح کی بات کرتا رہا مگر مجھے پتہ تھا کہ سب کھوکھلی باتیں ہیں میری۔ وہ اس بات کو قبول کرنے کو تیار نہیں۔ وہ روتی رہی، بلکتی رہی اور میں صرف سوچتا ہی رہا پھر نہ جانے کیوں میں ایک بار پھر صابری نہاری کے سامنے پہنچ گیا۔

میری توقع کے مطابق اس دن والا بڑا بچّہ مجھے مل گیا۔ میں نے اس سے لالہ کا پتہ پوچھنے کی کوشش کی تو وہ مجھے فٹ پاتھ پر ہی بیٹھے ہوئے ایک اور آدمی کے پاس لے کر آگیا کہ یہ سب کچھ بتاسکتا ہے۔ اس آدمی نے میری بات سنی پھر کہا کہ وہ شام کومجھے بتائے گا کہ لالہ مجھ سے ملے گا کہ نہیں۔

شام کو وہ مجھے میری ہی گاڑی میں سائٹ لے کر آگیا۔ بنارس کالونی کی ٹیڑھی میڑھی گلیوں اور کچے پکے مکانوں کے درمیان سے نکلتی ہوئی گندی نالیوں کو پھلانگتے ہوئے ہم لوگ لالہ کے ڈیرے پر پہنچے تھے۔

وہ میرا انتظار کررہا تھا۔ میں نے بھی اس سے زیادہ باتیں نہیں کی تھیں اسے صاف صاف بتادیا کہ کامران کتنا ضروری ہے، میرے لیے اور میری بیوی کے لیے۔ میں نے اسے بتایا کہ نائلہ پر غشی کے دورے پڑرہے ہیں جیسے اس کا اپنا بچّہ مرگیا ہے۔ میں اس بچّے کو پالوں گا، پڑھاؤں گا، بڑا کروں گا، اس کی وجہ سے جو خوشیاں ہمارے گھر میں آئی تھیں ان کا اس طرح سے گلا نہ گھونٹے۔ میں نے اسے کہا۔ ”کچھ رقم بھی دینے کو تیار ہوں، لاکھ، دودلاکھ، پانچ لاکھ، مگر وہ بچّہ ہمیں دیدے۔ “

لالہ نے میرے لیے چائے منگوائی میری بات سنتا رہا پھر اس نے مجھے بتایا کہ اس کے پاس بہت سارے بچّے ہیں کچھ افغانی، کچھ پٹھان، کچھ کے ماں باپ مرچکے ہیں اور بہت سوں کے ماں باپ زندہ ہیں جنہیں ہر چھ مہینے بعد ان بچوں کی نوکری کے پیسے ان کے گھروں میں پہنچائے جاتے ہیں۔ اس کاروبار کو سمجھیں، یہ کوئی گائے بکری گھوڑا بیچنے خریدنے کا دھندہ تھوڑی ہے۔ یہ تو سارے ملک میں ہورہا ہے، ہر بڑے شہر میں منظم طریقوں سے اور اس دھندے میں خریدوفروخت نہیں ہوتی ہے۔

ان بچوں کے والدین نے انہیں نوکری پر بھیجا ہے کام کرنے کے لیے۔ اس کے بدلے میں انہیں تنخواہ ملتی ہے، ایک معاہدے کے مطابق۔ اس معاہدے میں ان بچوں کی خریداری کی گنجائش نہیں ہے۔ یہ بچّے بکاؤ مال نہیں ہیں۔ ان کا گھر ہے، ان کے والدین ہیں۔ یہ صرف کم عمری میں نوکری پر لگ گئے ہیں۔ ان میں سے چند ایک لا وارث ہیں، ان کا میں دھیان رکھنے والا ہوں، ان کا نیلام نہیں کیا جاسکتا ہے۔

میں اپنے ساتھ پچاس پچاس ہزار روپوں کی دو گڈیاں لے کر آیا تھا۔ میں نے یہی سوچا تھا کہ صرف روپوں کے زور پر ہی میں ان لوگوں کوخریدسکوں گا اور کوئی طریقہ نہیں تھا میرے پاس۔ میں نے روپوں کی دونوں گڈیاں نکال کر اس کے پیروں کے پاس رکھ دیں۔

”دیکھیں، آپ کی بات صحیح ہے، لیکن صرف ایک بچّے کا مسئلہ ہے صرف ایک بچّے کا۔ تھوڑی سی مدد کرلیں اپنا بھائی سمجھ کر۔ یہ لاکھ روپے ہیں اور بھی لادوں گا اس کے ماں باپ کے تو اور بھی بچّے ہوں گے، انہیں دے دیں پیسے مگر کامران ہمیں دے دیں۔ “ میں نے بڑی بے رحمی سے اپنے اندر کے انسان کو کچل کر اس سودے بازی میں ماں باپ کو خریدنے کی پیشکش کردی تھی۔

لالہ نے مجھے بڑی حیرت سے دیکھا اور ایک بار پھر سمجھانے کی کوشش کی۔ میں نے بھی اس کی ساری باتیں سنی تھیں اور ایک بار پھر نائلہ کی حالت، گھر کی حالت اسے سمجھائی۔ مجھے رونا بھی آگیا تھا۔ رونا مجھے کامران کی وجہ سے نہیں بلکہ نائلہ کی حالت کا سوچ کر آیا تھا۔

وہ بار بار اپنی بات دھراتا رہا اور میں بار بار اسے اپنی حالت سمجھانے کی کوشش کرتا رہا تھا۔ دو گھنٹے کی تکرار کے بعد میں یہ کہتے ہوئے اُٹھ گیا تھا کہ ”میں یہ روپے چھوڑ کر جارہا ہوں اور دوبارہ آؤں گا۔ پولیس اور سرکاری وارنٹ کے ساتھ نہیں صرف نائلہ کو لے کر آؤں گا۔ لالہ، تم خود دیکھ لینا اس کی کیا حالت ہے۔ تمہارا کچھ نہیں جائے گا مجھے میری بیوی واپس مل جائے گی، کامران کو ماں مل جائے گی، میرا گھر ویران ہے لالہ میرے گھر میں جیسے میّت ہوگئی ہے۔

” میں پھر نہ چاہتے ہوئے بھی رو دیا تھا۔ میں نے روتے روتے اس سے کہا تھا“ لالہ لگتا ہے تمہاری کوئی ماں، کوئی بہن، کوئی بیوی، بیٹی نہیں ہے، شاید تم کو پتہ ہی نہیں ہے کہ رشتے کیا ہوتے ہیں، محبت کیا ہوتی ہے، قربانی کیا ہوتی ہے؟ تم توانسانی مجبوریوں کے تاجر ہو صرف سوداگر۔ ایک بیوپاری ایک اسمگلر۔ انسانوں کے اسمگلر، خوشیوں کے قاتل۔ ”میں بہت کچھ کہتا رہا تھا اسے۔

نہ جانے کس طرح کے ذہنی انتشار کا شکار تھا میں کہ لالہ مجھے لاکھ روپے واپس دینے کی کوشش کرتا رہا اور میں اس کو جھڑک کر پیسے لیے بغیر واپس آگیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں آج تک اس ذہنی کشمکش اور اپنے اس موڈ کی تشریح نہیں کرسکا ہوں۔

واپس میں دیر سے پہنچا تھا، تھکا ہوا اور مکمل طور پر نڈھال، نائلہ اپنے کمرے میں خاموش لیٹی ہوئی تھی جیسے کسی جنازے سے واپس آئی ہو۔ میں پہلی دفعہ اس کا ہاتھ پکڑ کر بیٹھا رہا، پہلے وہ روتی رہی تھی، اس دفعہ میں روتا رہا۔

تین دن کے بعد یکایک دو پٹھان مجھ سے ملنے آئے تھے۔ چوکیدار انہیں لے کر میرے پاس آگیا۔ انہوں نے مجھ سے زیادہ بات نہیں کی۔ مجھے دیکھ کر مسکرائے تھے اور نوٹوں کی دونوں گڈیاں مجھے دے دیں کہ یہ لالہ نے بھیجی ہیں۔ میں انہیں سمجھنے کی کوشش ہی کررہا تھا کہ دروازے سے ایک اور پٹھان کامران کو لے کر اندر آیا۔ کامران پہلے دن ہی کی طرح گندہ تھا اور اس کے چہرے سے صاف ظاہر تھا کہ وہ مسلسل روتا رہا ہے۔ میں نے ایک نظر سے ہی اندازہ کرلیا کہ اس کا وزن بھی بہت تیزی سے کم ہوا ہے۔

میں نے کامران کو بڑھ کر پکڑا ہی تھا کہ آنے والے پٹھان کی آواز آئی۔ ”لالہ نے کہا ہے پیسے بھی تمہارے ہیں بچّہ بھی تمہارا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “
میں آج تک اس پٹھان معمے کو سلجھا نہیں سکا ہوں۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2